خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامعجزاتی ملک اور کرشماتی لوگ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

معجزاتی ملک اور کرشماتی لوگ!

شیخ خالد زاہد کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 15, 2020 0 تبصرے 346 مناظر
347

معجزاتی ملک اور کرشماتی لوگ!

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی تخلیق کسی معجزے سے کم نہیں اور اس بات کی گواہی اس ملک کے حکمرانوں کی کارگردگی ہے کہ جنہوں نے اس ملک سے ناصرف نام کمایا بلکہ روپیہ پیسہ بھی اتنا بنایا کہ اپنے ملک کے علاوہ دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں جائدادیں بنائیں اور کاروبار جمائے (یہ ان ملکوں میں ہیں کہ جہاں کے مقامی لوگوں کیلئے اپنا گھر بنانا آسان نہیں ہے)، لیکن یہ ملک چلتا رہا ہے اور الحمدوللہ چل رہا ہے ۔ جیساکہ عنوان میں قوم کو کرشماتی لکھا ہے جس کی وجہ مذکورہ بالا حکمرانوں کو بار بار حکومت میں لانے والی یہ قوم ہی ہے کہ جن کے پاس اپنے کھانے کیلئے روٹی نہیں ،پینے کیلئے صاف پانی نہیں ، تن ڈھاپنے کیلئے کپڑا نہیں ،علاج معالجے کی سہولیات نہیں ، لیکن یہ ووٹ انہیں کو دیتے آئے ہیں کہ جنہوں نے ان سے زندگی گزارنے کی بنیادی اشیاء بھی چھین رکھیں ۔ یہ کرشماتی لوگوں کا امتیاز تھا کہ انہوں نے ایک معجزاتی ملک کی تخلیق کو یقینی بنایا ۔ تخلیق پاکستان سے ملک کے معجزاتی ہونے اور عوام کے کرشماتی ہونے کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں لیکن مجال ہے کہ کسی نے دھیان دینے کی کوشش کی ہو، کسی نے ہوش کے ناخن لینے کی تلقین کی ہو یا پھر کسی نے شکر کی جانب رغبت دلانے کی راہ دیکھائی ہو، جو بھی آتا گیا اپنے اپنے مفادات کا بیج بوتا گیا اور عوام کو تقسیم در تقسیم کرتا چلا گیا ۔ کتنے ہی جہاں دیدہ لکھنے والوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان ایک اللہ کا ایک معجزہ ہے اور یہ پاکستانی قوم کرشمے دیکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

معجزاتی مملکت کی کرشماتی قوم نے ہمیشہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھا اور اسکے سربراہ کو سر آنکھوں پر بٹھایا گوکہ سربراہ کا کام ہوتا ہے کہ وہ عوام کے کھانے پینے کا بندوبست کرے ، جیسا کہ ساری دنیا میں ہوتا ہے لیکن پاکستانیوں نے ہمیشہ اپنے جان سے پیارے گھر کے سربراہوں کو نا صرف کھلایا پلایا بلکہ انکے خاندانوں کو ابتک پال پوس رہے ہیں ۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کی فکر نا ہو ۔ حادثے سانحے اس قوم کو پیش آتے رہے اور یہ قوم کرشمے دیکھاتی رہی اور بڑے سے بڑے حادثے اور سانحے سے سرخ روح ہوکر نکلتی رہی ۔ قوم کا کرشماتی ہونا قوم کو نہیں پتہ چل سکا لیکن قوم کے سربراہوں کو سمجھ آگیا کہ وہ ایک ایسی کرشماتی قوم پر مسلط ہوئے ہیں جو آپس میں تو لڑے گی ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے گریز کرے گی لیکن ہم (سربراہ) پر آنچ نہیں آنے دے گی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے اپنے کرشموں سے سیلابوں کے رخ موڑے ہیں ، زلزلے سہے ہیں اور کتنی ہی آفات کا سامنا سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کیا ہے ۔

اتنے گناہوں ، اتنی نافرمانیوں ، اتنی بدعنوانیوں ، اتنی بے قاعدگیوں ، اتنا جھوٹ ، اتنی بے ایمانی ، اتنی نا انصافی، کون سے ایسے گناہ ہیں جو اس قوم سے بچ گیا ہو ۔ لیکن کیا ہوا;238; کیا پاکستان کی زمین نے اناج اگانا بند کردیا ، کیا پھلوں سے مٹھاس کم ہوگئی ، کیا دریاءوں کا پانی نمکین ہوگیایا پھرکم ہوگیا، ہر سال یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک نے پانی روک دیا تو خشک سالی ہوجائے گی لیکن ہر سال قدرت اتنی برسات کرتی ہے کہ ہ میں اپنا پانی سمندر کی نظر کرنا پڑ جاتا ہے پڑوس ملک والے پانی چھوڑ دیتے ہیں تو سیلاب آجاتا ہے ،کیا زمین سے نکلنے والی مدنیات میں کمی آگئی بلکہ نئی نئی دریافت کا سلسلہ جاری ہے ، غور تو کریں کیا یہ سب معجزے نہیں ہیں ۔ ہ میں قرآن مجید فرقان حمید کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ ہم سے پہلی اقوام پر انکے کئے گئے گناہوں کی وجہ سے کیسے کیسے غضب ناک عذابوں میں مبتلاء کیا گیا اور صفہ ہستی سے ہی مٹا دیا گیا، آج ہم میں (صرف پاکستان کی بات ہورہی ہے )بھلا کون سا ایسا گنا ہ نہیں موجود نہیں جن کی وجہ سے قوموں کو نیست و نابود کردیا گیا ۔ یوں تو بطور امت ہمارا حال ایسا ہی ہے لیکن غنیمت یہی ہوتا ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے گھر میں دیکھیں تو پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم اسکے فرد ہیں ۔

پچھلے چار مہینوں میں جدید ترین دنیا ،روشنیوں سے جگمگاتی دنیا، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دنیا ، آسائشوں سے مزین دنیا ، لذتوں میں ڈوبی دنیا ، طاقت کے نشے میں دھت دنیا کو ہم کس طرح سے ایڑیاں رگڑتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔ چین نے اپنے توازن کی وجہ سے اس کرونا نامی وبا سے بھرپور طریقے سے چھٹکارا حاصل کیا اور ثابت کیا کہ یہ وہی قوم ہے کہ جس نے اپنے انقلابی رہنماء ماءو زےڈونگ تربیت کا حق ادا کیا اور ایک مشہور کہاوت ہے ایک ساتھ رہینگے تو کھڑے رہینگے ، تقسیم ہوگئے تو گر جائینگے، چین کی قوم نے اپنے عمل سے زندہ مثال قائم کردی ۔ اب باری تھی دنیا کی دوسری قوموں کی کہ وہ چین سے سبق سیکھتے اور کرونا کے وار سے محفوظ رہتے لیکن قوموں کاتکبر درمیان میں آگیا ۔ آج امریکہ ، اٹلی ، اسپین ، جرمنی جیسے ممالک بری طرح سے اس جان لیوا وباء کی زد میں ہیں ۔ کچھ ممالک نے تو بروقت فیصلے کئے اور بروقت اس وباء کے چنگل میں پھنسے سے قبل ہی محفوظ ہوگئے ، لیکن جدید یت کی چادر اوڑھے، بری طرح سے پھنستے ہی چلے گئے ۔ پاکستان جوکہ جہاں یہ مرض ابھی تک اس طرح سے نہیں پھیل سکا جیسا کہ تصور کیا جا رہا تھا اور جتنا ابتک پھیلا ہے اس میں بھی ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک سے کہیں زیادہ ہے جوکہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ ایسا نہیں کہ پاکستان کی حکومت اور خصوصی طور پر صوبائی حکومتوں نے بروقت اقدامات کئے جس میں سب سے آگے سندھ کے وزیر اعلی جناب مراد علی شاہ صاحب ہیں (گوکہ اس کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں )، جنہوں پہلے ہی مریض کے سامنے آتے ہی تعلمی اداروں سمیت دیگر ایسے ادارے جہاں لوگوں کے ہجوم ہوتا ہے بند کرنے کے احکامات صادر کر دئے اور اسکے بعد صوبے میں لاک ڈاءون بھی کرا دیا ، اس سے ملتی جلتی صورت حال پنجاب ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں بھی دیکھی گئیں ۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان جیسا ملک اس وبا ء کی شدید کیفیت سے گزر چکا ہے کیونکہ مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، لیکن بر وقت اقدامات جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار ہمیشہ کی طرح اہمیت کا حامل ہے ۔ سڑکوں پرجا بجا رکاوٹیں لگی ہیں قانون کے رکھوالے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ٹریفک کا رش اپنی جگہ ہے ، جہاں کہیں بازار کھلے ہیں لوگوں کے ہجوم وہاں بھی ہیں ، بڑے بڑے اسٹور پر باہر تو سماجی فاصلہ دیکھا جاسکتا ہے لیکن اندر کی صورت حال عام حالات کی صورت حال سے مختلف نہیں ہے ۔ پھر ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس کرونا نامی وباء کو بھی مغرب کی سازش قرار دے رہی ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ساری دنیا کی خبریں سننے کے بعد بھی اس قسم کی باتیں کرشماتی قوم ہی کرسکتی ہے ۔

اگر زندگی نے اجازت دی اور اس قیامت کی جھلک کو برداشت کر گئے تو دیکھنا ہے کہ معجزاتی ملک اور کرشماتی قوم کتنے احسن طریقے سے اس وباء سے جان چھڑالے گی اور چین سمیت ساری دنیا کو حیران و پریشان کر کے رکھ دے گی، لیکن کیا پھر پاکستان اور اپنی اہمیت اور افادیت کو سمجھ سکے گی ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کودک و برگِ فرو افتاده
  • عدالت عظمیٰ کا عوامی سہولت پورٹل
  • ڈوبتے چاند کا آخری منظر ایک مطالعہ
  • شِکستہ دِل، تہی دامن، بچشمِ تر گیا آخر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
پچھلی پوسٹ
حاصل ہوا نہ کچھ کبھی تقدیر کے بغیر

متعلقہ پوسٹس

شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے

جنوری 9, 2020

میاں، بیوی اور واہگہ

اپریل 9, 2018

رنگ برنگے لوگ

دسمبر 28, 2019

دل کو کسی سے کوئی سروکار اب نہیں

جنوری 24, 2020

نا مکمل تحریر

جنوری 15, 2020

دنیا کے مشکل ترین حالات

جولائی 15, 2020

میرے آجر مجھکو مت روکو

مئی 18, 2020

سوچتا ہوں کہ اب مَیں حد کر دوں

ستمبر 20, 2020

کوئی غم رہا نہیں

دسمبر 17, 2021

کپاس کا پھول

مئی 10, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نظر آتی ہے اب بھی خواب...

جون 8, 2020

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025

شاخ سے شاخ جڑی رہتی ہے

جون 26, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں