خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعورت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمقالات و مضامیننعمان حیدر حامی

عورت

از سائیٹ ایڈمن جولائی 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن جولائی 7, 2026 0 تبصرے 53 مناظر
54

عورت ربِّ لم یزل کا وہ حسین شاہکار ہے جس کے وجود میں ایک پوری داستان پوشیدہ ہے۔ آپ جس لمحے بھی، جس زاویے سے بھی عورت کے وجود پر غور کریں، ہر بار ایک نئی سوچ، نیا ولولہ اور نیا مفہوم سامنے آتا ہے۔ عورت دنیا کی سب سے زیادہ کشش رکھنے والی تخلیق ہے۔ خدا نے اس کے وجود میں ایسی دلکشی رکھ دی ہے جو نہ صرف رنگ و روپ سے ماورا ہے بلکہ اس کی خوبیاں دلوں کو مسخر کر لیتی ہیں۔ جس دل نے عورت کو قبول کر لیا، اس کے لیے عورت خود بخود خوبصورت ہو جاتی ہے۔
عورت کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، جیسے عورت، زن، نساء وغیرہ، مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ بیشتر زبانوں میں عورت کے لفظ کے معنی ”چھپانے” سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی ایسی ہستی جسے تحفظ میں رکھا جائے۔ بعض مقامات پر عورت کو کمزوری کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے، مگر میرے نزدیک کمزوری سے مراد وہ نازک شے ہے جسے سنبھال کر رکھا جائے، نہ کہ حقیر سمجھا جائے۔ جو چیز نازک ہو، اسے چھپایا اور محفوظ کیا جاتا ہے—یہ کمزوری نہیں، نزاکت ہے۔
میرے نزدیک عورت کی تخلیق کا مقصد کائنات کو خوبصورتی عطا کرنا تھا، اور ساتھ ہی مرد کو ایک ایسی رفیقِ حیات دینا جو سکونِ قلب بھی ہو اور تسلسلِ حیات کا سبب بھی۔ مگر افسوس کہ ہم عورت کی اصل حیثیت اور اس کے حقیقی مقصد سے ناآشنا ہیں۔
علامہ اقبال نے عورت کو کائنات کی رنگینی قرار دیا، اور ان کے اشعار میں بھی ایک گہرا شعور پوشیدہ ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
فریڈرک نطشے، انیسویں صدی کا جرمن فلسفی، شاعر اور ثقافتی نقاد، عورت کو خدا کی ”دوسری غلطی” قرار دیتا تھا۔ مگر تاریخ کا دلچسپ تضاد یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری گیارہ سال دو عورتوں کے سہارے گزارے۔ خود کو طاقت کا پیامبر کہنے والا یہ شخص، عورت کو کمزور اور محتاج سمجھتا تھا، مگر عمر کے آخری حصے میں خود بے بس ہو کر عورت ہی کا محتاج بن گیا۔
سن 1889ء میں ٹورین کی ایک گلی میں گھوڑے پر ظلم ہوتے دیکھ کر نطشے گھوڑے سے لپٹ کر رو پڑا، اور اسی لمحے اس کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔ وہ فالج کا شکار ہو گیا اور زندگی بھر صحت یاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹروں نے صاف کہا کہ اگر اسے زندہ رکھنا ہے تو دو عورتوں کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہوگی۔ یوں وہی عورت، جسے وہ کمزور کہتا تھا، اس کی زندگی کی ضامن بن گئی۔ آخرکار 1900ء میں وہ اس خدا کے حضور چلا گیا جسے وہ اپنی فلسفۂ حیات میں ”مردہ خدا” کہتا تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عورت نہ صرف مرد کی زندگی کی ضرورت ہے بلکہ کائنات کے وجود کے لیے بھی لازم و ملزوم ہے۔ شاعری ہو، ناول ہو، محبت ہو یا حسن—انسانی تہذیب کی تقریباً ہر خوبصورت چیز عورت کے وجود سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ خود انسان کا وجود بھی ایک عورت کا مرہونِ منت ہے۔
عورت معاشرے میں وہ کردار ادا کر سکتی ہے جو شاید مرد کے نصیب میں بھی نہ ہو۔ وہ نسلیں سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ اگر عورت کو معاشرے کی استاد کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔
میرے نزدیک عورت ایک مقدس ہستی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے صرف جسم تک محدود کر دیا ہے۔ اگر عورت فحاشی کے بازار میں کھڑی ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ وہاں کیوں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اس بازار کے گاہک کیوں بنتے ہیں؟ ہم اس کی عصمت کے خریدار کیوں بنتے ہیں؟ اگر معاشرہ چاہے تو پابندی، رہنمائی اور ہمدردی کے ذریعے اسے عزت کی راہ دکھا سکتا ہے، مگر ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے۔
جب بھی عزت کا سوال آتا ہے، اس کا بوجھ ہمیشہ عورت کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟
کہا جاتا ہے کہ اگر مرد اور عورت کے مقدر کے ستارے مل جائیں تو خدا کے سوا کوئی انہیں جدا نہیں کر سکتا، کیونکہ محبت دلوں کی قبولیت کا نام ہے۔
مشہور کولمبین مصنف گابریئل گارشیا مارکیز اپنی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کا شکار ہو گئے تھے۔ ایک دن ان کی اہلیہ نے ان سے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟” مارکیز نے جواب دیا: "میں یہ نہیں جانتا کہ تم کون ہو، مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔”
عورت دراصل محبت کا دوسرا نام ہے۔ مگر یہ اعزاز ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
اللہ نے عورت میں عقل بھی رکھی ہے اور عشق بھی، اور مرد میں بھی یہی دونوں عناصر رکھے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ عورت اپنی عقل سے خود کو سنبھال لیتی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ میں عورت کی محبت میں خودکشی کی مثالیں کم ملتی ہیں، جبکہ مرد اس معاملے میں کمزور ثابت ہوتا ہے۔
یقیناً عورت ایک بہادر، مضبوط اور فطری لیڈر ہے، مگر معاشرتی بے توجہی اور نظراندازی نے اسے کمزور بنا دیا ہے۔
لیڈی گوڈیوا کی مثال آج تک زندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر کی شرط پوری کرنے کے لیے خود کو ننگے ہو کر عزت کو قربان کیا تاکہ عوام کو ظالمانہ ٹیکس سے نجات ملے۔ چاہے یہ واقعہ حقیقت ہو یا روایت، عورت کی جرأت اور قربانی سے انکار ممکن نہیں۔۔
عورت وہ ہستی ہے جو کائنات کے وہ سب دکھ سہہ جاتی ہے جن کا تصور بھی ایک مرد شاید پوری شدت سے نہ کر سکے۔ وہ جتنی نازک دکھائی دیتی ہے، اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کی قوت شور میں نہیں، خاموشی میں پنہاں ہوتی ہے۔ یہ کتنا عجیب المیہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت زندگی کو جنم دیتی ہے، وہی معاشرہ اس کے لیے غلاظت بھرے الفاظ گھڑ لیتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں، اگر گالی ماں اور بہن کے نام پر دی جا سکتی ہے تو پھر باپ اور بھائی کو کیوں اس سے مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے؟ غلاظت اگر ہے تو اس کی ذمہ داری بھی برابر کی ہے۔
عورت کوئی گالی نہیں، کوئی کمزوری نہیں—وہ تو خود ایک مکمل کائنات ہے۔
اگر مرد، عورت کو صرف "عورت” سمجھ لے، ملکیت یا عزت کے تصور سے الگ ہو کر، تو شاید معاشرے میں فساد کی جڑیں خود بخود سوکھ جائیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی عزت صرف انہی چند عورتوں تک محدود ہو جاتی ہے جو اس کے گھر کی چار دیواری میں سانس لیتی ہیں۔ باقی عورتیں جیسے انسان ہی نہیں ہوتیں۔ عورت جب دل شکستہ ہوتی ہے تو وہ راتوں کو سڑکوں پر نہیں نکل سکتی، وہ اپنے دکھ سگریٹ کے دھوئیں میں تحلیل نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے غصے کو بھی کھل کر نہیں جتا سکتی، کیونکہ گھر کا سکون، گھر کی فضا—سب عورت ہی سے وابستہ کر دیے جاتے ہیں۔
وہ تو بس رات کا انتظار کرتی ہے، جب سب سو جائیں، اور وہ اپنے آنسوؤں کو تکیے کے حوالے کر دے۔ مرد کی دنیا اس کے بالکل برعکس ہے—اسے فرار کے کئی راستے میسر ہیں۔ معاشرے میں عورت کو ہمیشہ دبی ہوئی آواز سمجھا گیا ہے۔ نہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی ہے، نہ اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل کر پاتی ہے۔
اسی تلخ حقیقت کو عصمت چغتائی نے ایک سادہ مگر گہری مثال کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ایک دن ان کی والدہ نے انہیں کھانا بنانا سکھانا چاہا۔ انہوں نے انکار کر دیا اور سوال اٹھایا کہ بھائی کھانا کیوں نہیں بناتے؟
ماں نے جواب دیا: "ان کی بیویاں آئیں گی، وہ بنا دیں گی۔”
عصمت نے فوراً کہا: "اگر وہ مر گئیں یا بھاگ گئیں تو پھر بھائی کیا کھائیں گے؟”
جب والد صاحب آئے اور گفتگو سنی تو بولے:
"بیٹی، سسرال جا کر کیا کرو گی؟ کیا وہاں کچھ نہیں پکاؤ گی؟”
عصمت نے پورے اعتماد سے جواب دیا:
"اگر امیر گھر میں شادی ہوئی تو باورچی رکھ لوں گی، اور اگر غریب گھر میں ہوئی تو کھچڑی بنا لوں گی—مگر میں کھانا بنانا نہیں سیکھوں گی۔”
باپ سمجھ گئے کہ بیٹی کا فیصلہ اٹل ہے۔ پوچھا: "پھر کیا کرو گی؟”
جواب آیا: "میرے سب بھائی پڑھتے ہیں، میں بھی پڑھوں گی۔”
عصمت چغتائی کے نزدیک عورت کے لیے تعلیم محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک غیر تعلیم یافتہ عورت اکثر عمر بھر اپنے شوہر سے جہالت اور نادانی کے طعنے ہی سنتی رہتی ہے۔ عصمت کا ماننا تھا کہ عورت کو خودمختار ہونا چاہیے، اسے اپنی مرضی کے مطابق جینے کا حق ملنا چاہیے۔ مگر یہ ظالم معاشرہ اس حق کو کب تسلیم کرے گا—یہ فیصلہ شاید وقت ہی کرے گا۔
عورت صرف دکھ سہنے والی ہستی نہیں، وہ مرد کی زندگی میں علاج بھی ہے۔
نفسیات میں Entrainment Theory کے مطابق انسان کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہو، کتنی ہی مصیبتوں میں گھرا کیوں نہ ہو—ایک خاص آواز ایسی ہوتی ہے جو اس کے دل کی دھڑکن کو سکون میں بدل دیتی ہے، اس کی تھکن اتار دیتی ہے۔
میرے نزدیک مرد کی زندگی میں وہ آواز، عورت کی آواز ہوتی ہے۔
عورت ماں بن کر دعا ہے، بہن بن کر حوصلہ، بیوی بن کر رفاقت، اور بیٹی بن کر امید۔
عورت اگر کمزور ہوتی، تو یہ دنیا کبھی قائم نہ رہتی۔
مضمون کے سابقہ حصے میں عورت کی خوبصورتی پر بات ہو چکی ہے۔ بہت سے پہلو زیرِ بحث آ چکے ہیں، مگر ذرا یہ سوچو:
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شے خوبصورت ہو اور اس کی طلب رکھنے والا کوئی نہ ہو؟
یقیناً نہیں۔
پھر بازار کی مثال دیکھ لو۔ اگر کوئی نئی کوالٹی کا برانڈ آئے، کوئی چیز رکھی جائے جو خوبصورت بھی ہو، اعلیٰ خصوصیات کی حامل بھی ہو، تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی خریدار نہ ہو؟
آپ کا جواب بھی یہی ہوگا: نہیں۔
بالکل اسی طرح کائنات کی تصویر میں عورت بھی ایک خوبصورت رنگ ہے۔ عورت ہو اور اس سے، یا اس کے وجود سے، کسی بشر کو محبت نہ ہو—یہ تو بالکل سفید ہاتھی والی بات ہے۔
انسان تو ویسے ہی جذبات کا حسین مجسمہ ہے، اور ان جذبات میں عورت اور مرد دونوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
یہ کہ زیادہ خطرناک جذبات کس کے ہوتے ہیں—میں اس بحث میں نہیں پڑتا، کیونکہ جذبات کو ٹھیس پہنچانا میرے نزدیک ایک نہایت گندی حرکت ہے۔ دل تو کعبہ ہوتا ہے؛ اسے گرانا نہیں، اس کی قدر کی جاتی ہے۔
جذبات سے یاد آیا، نطشے نے کہا تھا:
"In Revenge and In love woman is more barbaric then man is”
عورت کی حساسیت تو ہر کوئی جانتا ہے، مگر اس کے جذبات کی وحشت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس تجربے سے گزر چکا ہو۔
جب عورت محبت کرتی ہے تو وہ روح کو روح سے جوڑتی ہے، جبکہ مرد اکثر جسمانی تعلق کے دائرے میں بندھا رہتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ جسمانی زخم سے کہیں زیادہ گہرا زخم روح کا ہوتا ہے۔
آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اگر عورت کسی مرد سے روحانی وابستگی چاہتی ہے تو اس کے جذبات کا زخم بھی اتنا ہی گہرا ہوگا۔
کیونکہ روح ہی جسم کی زندگی ہے—اور اگر روح نہ ہو تو جسم بے حس، بے حرکت، بالکل کسی بے جان شے کی مانند ہو جاتا ہے۔
اسی لیے جذبات سے جڑے بدلے میں عورت سے بچنا ہی بہتر ہے۔
جب مرد جسمانی طور پر عورت سے جدا ہوتا ہے تو اس کے سامنے کئی راستے کھلے ہوتے ہیں؛ وہ خود کو اچانک الگ کر سکتا ہے۔
مگر عورت—وہ جذبات کے قتل سے گزرتی ہے۔
اور جب عورت بدلہ لینے پر آتی ہے تو مرد دنیا کے محلات سے فٹ پاتھ پر،
محلات سے جھونپڑی میں،
اور کبھی محلات سے میخانے تک آ جاتا ہے۔
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
ذرا حوصلہ رکھیں… ابھی بتاتا ہوں۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے؟
جب عورت بدلہ لیتی ہے تو وہ شور نہیں مچاتی—وہ خاموش ہو جاتی ہے۔
وہ اسی شخص کے سامنے خاموش ہو جاتی ہے جو اس کے لیے پانی کی خاطر سلطنت کا سودا کرنے کو تیار تھا۔
وہ اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔
اور یہ نظراندازی ایسا گہرا زخم ہوتی ہے کہ انسان دوبارہ اپنے مقام تک نہیں پہنچ پاتا۔
یہ زخم اتنا گہرا ہوتا ہے کہ نہ وہ شخص خود کو پھر سے پا سکتا ہے،
اور نہ ہی وہ عورت کسی اور کی ہو پاتی ہے، یا کسی اور کو خود دے سکتی ہے۔
نظراندازی کے بعد المیہ یہ بھی ہے کہ وہ شخص اسے چھوڑ بھی نہیں پاتا۔
اسی لیے تو کہا گیا ہے:
"Man break bone in revenge but woman break soul.”
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
تمہاری قدر کرتا ہوں اس پر ناز مت کرنا
مجھے تم قتل کر دینا، نظر انداز مت کرنا

نعمان حیدر حامی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!
  • دودا پہلوان
  • مچھر
  • طلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گرمیٔ موسمِ گرما
پچھلی پوسٹ
ایک منظر سا ہوا کرتا تھا

متعلقہ پوسٹس

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020

پاکستان کا دوٹوک موقف

اکتوبر 14, 2025

جنتی بیوی

نومبر 25, 2025

میں تیرے دیدار کی

مارچ 15, 2026

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ

ستمبر 26, 2025

اللہ رب العزت کی زیارت

جنوری 9, 2025

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

اکتوبر 30, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

موت سے پہلے

اکتوبر 13, 2025

سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں

دسمبر 12, 2025

پاکستان کی ترقی کا راستہ

ستمبر 22, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں