خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامایہام گوئی کی تحریک
آپ کا سلاماردو پیڈیااردو تحاریرسلام اردو سپیشلمقالات و مضامین

ایہام گوئی کی تحریک

از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2026 0 تبصرے 92 مناظر
93

ایہام سے مراد یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنی پیداکرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوایہام کہلاتا ہے۔بعض ناقدین نے ایہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چا ر معنی ہوتے ہیں جب کہ ایہام میں ایسا نہیں ہوتا۔

اردو شاعری میں ایہام گوئی
ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراءکے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسباب
ایہام گوئی کے بارے میں رام بابو سکسینہ اور محمد حسین آزاد دونوں کا خیال ہے کہ اردو کی ابتدائی شاعری میں ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اہم سبب ہندی دوہوں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی کے نزدیک اس زمانے میں فارسی شعراءکا دربار اور شعر و ادب کی محفلوں میں بہت اثر تھا۔ یوں بھی ادب میں دہلی والے فارسی روایات برتتے تھے۔ اس لیے یہ بہت ممکن ہے کہ متاخرین شعرائے فارسی کے واسطے یہ چیز عام ہوئی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک سبب ایہام گوئی کا ہندی دوہے ہیں اور دوسرا سبب متاخرینشعرائے فارسی سے متاثر ہو کر اس دور کے شعراءنے اپنی شاعری کی بنیاد ایہام پر رکھی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک ہر بڑے شاعر کی طرح دیوان ولی میں بھی بہت رنگ موجود تھے۔ خود ولی کے کلام میں ایہام گوئی کا رنگ موجود ہے۔ اگرچہ ولی کے ہاں یہ رنگ سخن بہت نمایاں نہیں لیکن ہر شاعر نے اپنی پسند کے مطابق ولی کی شاعری سے اپنا محبوب رنگ چنا۔ آبرو ، مضمون ، ناجی اورحاتم ولی کے ایہام کے رنگ کو چنا۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایہام کی ایک بڑی وجہ ولی کے کلام میں موجود ایہام گوئی کا رنگ بھی تھا۔

ان تین اسباب کے علاوہ ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اور اہم سبب محمد شاہی عہد کے درباری اور مجلسی زندگی تھی۔ یہ دور بر صغیر کا نہایت بحرانی دور رہا۔ محمد شاہ گو بادشاہ تو بن گیا تھا لیکن اس میں وہ صلاحیتیں موجود نہ تھیں جو گرتی ہوئی حکومت کو سنبھال سکتیں۔ یوں اس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے عیش و عشرت اور رقص و سرور کاسہارا لیا۔یوں طوائفوں اوربھانڈوں کی محفلیں جمنے لگیں۔ اس قسم کی مجلسی فضا میں جہاں حسن و عشق کاتصور انفرادی کے بجائے اجتماعی جذبے کی صورت اختیار کر لے تو پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے پیرائے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایہام ، رعایت لفظی ، ذومعنی اور پہلو دار معنی ، ضلع جگت ، چٹکلے اور پھبتیاں وغیرہ ایسی محفلوں میں سب کو مزا دینے لگیں۔ یوں اس دور کے تہذیبی موسم اور معاشرتی زمین ایہام گوئی کے پھلنے پھولنے کے لیے نہایت مناسب تھی۔
مختصرا ان اسباب کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ ہندی دوہوں کا اثر ،فارسی کے شعرائے متاخرین کی روایت دیوان ولی میں ایہام گوئی کے رنگ کی موجود گی اور محمد شاہی عہد کی مجلسی اور تہذیبی زندگی ایہام گوئی کے رجحانات کے عام کرنے میں معاون و مدگار ثابت ہوئی۔
ایہام گو شعراء
ایہام گو ئی کے سلسلے میں آبرو ، ناجی ، مضمون ،یکرنگ ، فائز اور حاتم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
آبرو
شاہ مبارک آبرو گوالیار کے مضافات میں 1095ھ کوپیدا ہوئے۔ عالم شباب میں دلی آئے۔ شاہی ملازمت سے وابستہ رہے مگر عہد محمد شاہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قلندری اور درویشی اختیار کر لی۔ان کی ابتدائی شاعری محمد شاہی دور کی آئینہ دار ہے۔ چونکہ مزاجاً وہ حسن پرست تھے۔ لہٰذا خوبصورت چیزوں سے انہیں دلچسپی تھی۔ ایہام گوئی کے باوجود ان کی شاعری میں خلوص ، سچائی اور سادگی سے اظہار جذبات کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ فارسی شاعر ی کے اثرات بھی نمایاں محسوس ہوتے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ ہندی کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں ان کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔
قول آبرو کا تھا کہ نہ جائوں گا اس گلی
ہو کر کے بے قرار دیکھو آج پھر گیا
بوسہ لبوں کا دینے کہا کہہ کے پھر گیا
پیلا بھرا شراب کا افسوس گر گیا!
شاکر ناجی
محمد شاکر نام ناجی تخلص کرتے تھے۔ دہلی کے رہنے والے سپاہی پیشہ تھے۔ طبیعت میں سنجیدگی اور مزاح کا خوبصورت امتزاج تھا۔ دوسروں کو خوب ہنساتے مگر مطلق نہ ہنستے تھے۔ کبھی کبھار مسکراتے تھے۔ ان کا دیوان ناپید ہے آبرو کے ہمعصر تھے۔ ایہام گوئی میں نمایاں ہوئے ۔
ترے رخسار کے پرتو سے اے شوخ
پری خانہ ہوا گھر آرسی کا
خط کی خبریں عبث اڑائی ہیں
باتیاں اس کی سب ہوائی ہیں

شرف الدین مضمون
اکبر آباد کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوئے ابتدائے جوانی میں دہلی آئے ۔ ابتداءمیں سپاہ گری کے پیشے کواختیار کیا لیکن بعد میں دینوی علائق سے آزاد ہو کر درویشی اختیار کر لی۔ ماحوال اور زمانے کی عام روش کے مطابق ایہام گوئی میں بھی دلچسپی لیتے تھے میر تقی میر کے خیال میں ان کے اشعار کی تعداد دوسو بنتی ہے۔ نمونہ کلام یہ ہے:

ہم نے کیا کیا نہ ترے ہجر میں محبوب کیا
صبر ایوب کیا گریہ یعقوب کیا
کوئی اس جنس کا دہلی میں خریدار نہیں
دل تو حاضر ہے ولیکن کہیں دلدار نہیں

مصطفیٰ خان یک رنگ
دہلی کے رہنے والے تھے۔ بڑے ہنس مکھ ، زندہ دل ، رنگین مزاج اور خوش مزاج تھے۔ شاعری کی اصلاح خان آرزو اور مرزا مظہر جان جاناں سے لیتے تھے۔ صاحبِ دیوان شاعر تھے۔ پانچ سو کے قریب اشعار کی تعداد بتائی جاتی ہے۔ رواج عام کے مطابق ایہام گوئی کرتے تھے مگر اس کے باجود سادگی اور جذبات نگاری کا وصف ان کے ہاں ملتا ہے۔

ہاتھ اُٹھا جور جفا سے تیرا
یہی گویا سلام ہے تیرا
پارسائی اور جوانی کیونکر ہو
اک جاگہ آگ اور پانی کیونکر ہو

شاہ حاتم
شیخ فتح الدین کے بیٹے تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ سپاہی پیشہ اور شاہ محمد امین کے مرید تھے۔ کچھ عرصہ الہ آباد کے صوبے دار نواب امیر خاں کی رفاقت میں رہے۔ اس کے بعد ہدایت علی خاں ، مراد علی خاں ، فاخر علی خاں ، جیسے امرا کبھی ان کی مدد کرتے رہے۔ آخر عمر میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔
فارسی اور اردو میں شعر کہتے تھے۔ فارسی میں مرزا صائب اور ریختے میں ولی دکنی کو استاد مانتے تھے۔ رفتہ رفتہ ریختے میں وہ خود استاد ہوگئے۔ سودا انھی کے شاگرد تھے۔ اصلاح زبان کا کام سب سے پہلے انھی نے شروع کیا۔ بہت سے نامانوس الفاظ ترک کرکے فصیح الفاظ داخل کیے۔ دہلی میں وفات پائی اور دلی دروازے کے باہر دفن ہوئے۔ تصانیف میں ایک دیوان فارسی ہے۔ اردو میں ایک ضخیم دیوان جمع کر لیا تھا آخر عمر میں اس سے ایک چھوٹا دیوان تصنیف کیا اور دیوان زادہ اس کا نام رکھا۔ حقے پر ایک مثنوی محمد شاہ بادشاہ کی فرمائش پر لکھی۔ ایک دیوان قدیم رنگ میں تھا جو نادر شاہ کی تاخت و تاراج میں ضائع ہوگیا۔

اے قدرداں کمال حاتم دیکھ
عاشق و شاعر و سپاہی ہے
کئی دیوان کہہ چکا حاتم
اب تلک پر زباں نہیں درست

اردو شاعری پر اثرات
ایہام گوئی کی بدولت شاعری پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات پڑے۔ ایہام گویوں کی کوشش سے سینکڑوں ہندی اورمقامی الفاظ اس طور سے استعمال ہوئے کہ اردو زبان کا جزو بن گئے۔ نہ صرف الفاظ بلکہ ہندی شاعری کے مضامین ، خیالات اور اس کے امکانات بھی اردو شاعر ی کے تصرف میں آگئے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ ایہام گوئی کے رجحان سے جہاں اردد زبان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اس کے کچھ منفی اثرات بھی ظاہر ہوئے۔
جب ایک مخصوص فضا میں ایہام کا رواج ہوا جہاں الفاظ کی بازیگری کو استادی سمجھا جانے لگا تو شاعری صرف الفاظ کے گورکھ دھندے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ لفظ تازہ کی تلاش میں متبذل اور بازاری مضامین بھی شاعری میں گھس آئے۔ نیز جب شاعر لفظوں کو ایہام کی گرفت میں لانے کی کوشش میں مصروف رہے تو پھر شاعری جذبہ و احساس سے کٹ کر پھیکی اور بے مزہ ہو جاتی ہے اور یہی حال اس دور میں شاعری کا ہوا۔
ایہام گوئی کے خلاف ردِعمل
ایہام گو شعراءکے بعد جو نیا دور شروع ہوااس میں مظہر ، یقین ، سودا ،میر تقی میر، خواجہ میر درد،وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے ایہام کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ اس دور میں ان لوگوں نے ایہام گوئی کی بندشوں کو شدت سے محسوس کیا ان کے سبب خیالات کے اظہار میں رکاوٹ آجاتی تھی۔ یوں ایہام گوئی میں زیادہ شعر کہنا مشکل تھا۔ لیکن ایہام گوئی ترک کرنے کے بعد شعراءکے دیوان خاصے ضخیم ہونے لگے۔ شعراءکی تعداد میں بھی بہت اضافہ ہوا۔ اس نئے دور میں ایہام گوئی کے خلاف اس قدر احتجاج کیا گیا کہ شاہ حاتم جو ایہام گو شاعر تھے انہوں نے اس روش کو ترک کر دیا اور اپنے دیوان سے ایہام کے شعر نکال دیئے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بائی فوکل کلب
  • حقیقی حفاظت
  • روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”
  • کہیں تھی راکھ کہیں تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کشتی اُلٹتا، موجِ مہ و سال کھینچتا
پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ سے مصاحبہ(انٹرویو)

متعلقہ پوسٹس

فن ایسا ہو کہ کوزے میں

دسمبر 7, 2025

پھوار کا موسم

جولائی 5, 2024

ہم عظیم ، تم حقیر

نومبر 5, 2019

آئیے خود سے سوال کریں

اپریل 7, 2020

نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

دسمبر 16, 2020

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

ایسا عجیب غصہ تھا کہ آ گ لگ گئی

دسمبر 12, 2025

مریدپور کا پیر

دسمبر 12, 2019

نظام عدل

جولائی 19, 2020

مالٹے کی خوشبو اور پانی کا قطرہ

دسمبر 10, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں اللہ کا شکر ادا کرتی...

اکتوبر 16, 2025

وقت مرہم ہے

دسمبر 28, 2024

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں