خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسماج کی خدمت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

سماج کی خدمت

از واجد علی گوہر دسمبر 27, 2025
از واجد علی گوہر دسمبر 27, 2025 0 تبصرے 59 مناظر
60

میری طبیعت کچھ ایسے واقع ہوئی ہے کہ میرے اندر سماجی اٹھان ، معاشرتی فلاح و بہبود اور مفادِ عامہ جیسے اجتماعی کاموں کا جذبہ ” کوٹ کوٹ ” کر بھرا ہوا ہے ۔ یہ جذبہ عموما میرے سینے کے اندر ہی جوش کھاتا رہتا ہے لیکن برسات کے موسم میں یہ اتنی شدت اختیار کرلیتا ہے کہ امڈ کر باہر آجاتا ہے اور پھرپرنالوں کی صورت بہتا ہوا نالیوں سے ہوکر ندی نالے وہاں سے دریا اور آخر سمندر میں جاکر اُس کے پانی میں یوں ضم ہوجاتا ہےکہ "من تو شدم تو من شدی” والا معاملہ بن جاتا ہے۔ایسے میں اگر آپ سمندر کا جائزہ لیں تو آپ یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہتے ہیں کہ سمندر کے کھارے پانی کی حد کہاں پہ ختم ہوتی ہے اور میرے جذبے کی شیرینی کی ٹھاٹھیں مارتی موجوں کی یورش کہاں تک کارفرما ہے۔ میرے اندر کا یہی جذبہ تھا جس کی بدولت میں میٹرک سے بی اے تک لگاتار تھرڈ ڈویژن میں نہایت شاندار سپلیز کے ساتھ "امتحان بالاقساط” دے کر پاس ہوتا گیا تاوقتیکہ مجھے ایک یونیورسٹی میں ” تھرو ون ونڈو پراسیس” ایم اے سماجیات یعنی سوشیالوجی میں داخلہ مل گیا۔ میرا میٹرک سے بی اے پاس کرنے تک کے علمی سفر کا دورانیہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دس سال اور سات مہینے پر محیط ہے جو ماہرینِ تعلیم کے مطابق اُن ” جینئیس ” لوگوں کی نشانی ہے جو علم گھول گھول کر پیتے ہیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پھر علم بدہضمی نہیں کرتا بلکہ اچھی طرح ہضم ہوکر جسم میں خونِ صالح پیدا کرکےرگ رگ میں دوڑتا ہے اور انسان چلتے پھرتے جب علمی ڈکار مارتا ہے تو ہر علمی ڈکار سے علم کی ایسی خوشبو آتی ہے کہ پوراعلاقہ معطر ہوکر بقعہ گلزار بن جاتاہے۔
میں بی اے کی اعزازی ( آنریری) ڈگری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جامعہ کے در پر جا پہنچا اور عرض کی،” بی اے کی گھتیاں سلجھا چکا میں،،، میرے صاحب مجھے ماسٹر کی ڈگری عطا کر”، مگر دوسری طرف ایڈمن صاحب سے جواب آیا،” مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے” یعنی اوپن میرٹ پر تو آپ آنے سے رہے البتہ ” ڈونیشن ” یعنی عطیہ جات جمع کروانے والی کھڑکی سے آپ آئیں تو سوچا جا سکتا ہے۔ میرے اندر کیونکہ فلاح معاشرہ کا جذبہ اُس وقت لاوے کی طرح پک رہا تھا اور موسم بھی برسات کا تھا اس لئے ایک دوست سے سواری کیلئے موٹر سائیکل مانگ کر اُسے ایک ” خان صاحب” کے ہاتھوں نقد فروخت کیا اور جو مال ہاتھ آیا اُسے ” ڈونیشن” میں دے کر جامعہ میں اپنی سیٹ ” کنفرم” کرلی۔ میرا دوست اس دھوکہ بازی پر سخت پیچ و تاب کھاتا ہوا میرے پاس آیا تو میں نے اُسے یہ سمجھاتے ہوئے لاجواب کردیا کہ ” جنگ اور محبت میں سب جائز ہے”۔ میں بھی چونکہ معاشرتی ناہمواری کے خلاف جنگ کے ارادے سے نکلا تھا اس لئے میرا یہ اقدام بالکل جائز تھا۔
آپ جب کالج کی گھٹن فضا سے نکل کر رنگ برنگی یونیورسٹی کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو دل و دماغ کا معاملہ بالکل دوسرا ہوجاتا ہے۔ میں کیل کانٹوں سے لیس جب کلاس لینے کے ارادے سے ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوا تو سامنا ایک سینئر سے ہوگیا جس نے ابتدائی تعارف کے بعد مجھے بانہوں سے پکڑا اور ملحقہ گارڈن میں لے آیا جہاں رنگ برنگی تتلیوں اور اُن کے اردگردمنڈلاتے بھنوروں کو دیکھ کر دل گارڈن گارڈن ہوگیا۔ میں اس رنگین فضا کے مست ماحول میں ڈوبا مستقبل کے سماجی نقشے اور اُس کے عناصر کی باہمی ترتیب پر غور کر ہی رہا تھا کہ اُس نے مجھے ٹہوکا” اے سن! اس سے بچ کر رہنا۔ بڑا ہی کوئی ڈرائی قسم کا انسان ہے”۔ میں نے حیرت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے دیکھا تو ایک سفید شلوار قمیص میں ملبوس انسان نگاہیں جھکائے قدم سے قدم ملائے اندر جا رہے تھے جن کا نام مجھے” ڈاکٹر اللہ یار المعروف ڈاکٹر ڈرائی” بتایا گیا جو یہاں کے سینئر پروفیسر تھے۔وہ جب اندر داخل ہوگئے تو کچھ دیر بعد پھر ایک ” ینگ مین” قسم کے صاحب تشریف لاتے دکھائی دیے جن کے بارے میں ” راوی” نے بتایا کہ ان کا نام ” ڈاکٹر ماڈ شاٹ ” ہے اور کئی سالوں سے ” بھنورالوجی” میں ” پی ایچ ڈی” کرنے کی کوشش میں لگے ہیں مگر ابھی تک ” نشانہ” ٹھکانے پر نہیں بیٹھ رہا ۔اُن سے مل کر احساس ہوا کہ ” دل سے دل ملا زندگی مسکرا دی” ۔ میں چونکہ پہلے ہی کالج کی ” خشک” فضا سے اکتا چکا تھا اس لئے اپنے سینئر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے پورے دو سال ” ڈاکٹر اللہ یار” صاحب سمیت تمام اساتذہ سے اتنا دور رہا کہ اُن کے علمی افکار کے ایک ” چھینٹے” سے بھی اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیا ۔ اس کے برعکس سر ” ماڈ شاٹ” کی محافل میں ہمہ وقت خشو ع و خضوع کے ساتھ باجماعت حاضر رہتا اور اُن کی خدمتِ عالیہ میں رہ کر سماجی خدمت کے طریقے جیسے ،” تتلیوں کی اقسام، تتلیوں کو شکار کرنے کے طریقے، تتلیوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہنے کا ہنر، ایک سے زائد تتلیوں پر نظر رکھنے کے فوائد، بھنورا بازی کے ابتدائی اسباق، بھنورا بازی کی راہ میں حائل رکاٹیں اور اُن کا حل، بھنورا بازی اور سماجیات میں تعلق، بھنورا بازی میں سریلے گلے کا استعمال ،بھنورا بازی اور پولیس کی لاٹھی کا تقابلی جائزہ "وغیرہ شامل تھے جن میں ابتداء کے اندر مجھے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا جیسے ” ہائی ہیلز سے ٹھکائی ، کتابوں سے دھلائی” کے علاوہ ” تین چار مرتبہ تھانے شریف کی پابجولا حاضری” بھی شامل ہے۔

میں پہلی مرتبہ جب تھانے شریف ” پابجولا” حاضر ہوکر ” شب گزاری” کی نعمت سے سرفراز ہوا اُس وقت مزید تین ہم مکتب ” بھنورے” بھی میرے ساتھ تھے اور اگلے دن جب ” مسٹر ماڈ شاٹ” اپنی ٹیم کے ساتھ ملنے آئے تو ہم سب اپنے جسموں کو سہلا رہے تھے اور درد سے کراہ رہے تھے۔اُنہوں نے ہم سے کمال شفقت اور محبت سے پوچھا،” رات کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟”۔ ہم سب نے گریہ زاری کرتے ہوئے صرف اتنا شکوہ کیا،” حضور! ہمیں بس یہاں سے لے چلیے۔ بخدا کوئی تکلیف نہیں ہے سوائے آپ کی جدائی کے۔ آپ کی فرقت میں جو گھڑیاں گزر رہی ہیں اُن کا ملال ستائے جارہا ہے اور قلب ِ مضطر اب تقاضا کر رہا ہے کہ جلد سے جلد یہاں سے کوچ کرو۔ یہ منزل نہیں بلکہ عارضی پڑا ؤ ہے”۔ مسٹر ” ماڈ شاٹ” نے سُن کر تسلی دیتے ہوئے فرمایا،” راہِ بھنورا بازی میں یہ صعوبتیں قدم قدم پر درپیش آتی ہیں جوطالبِ صادق کی روحانی ترقی کا سبب بنتی ہیں ۔اگر یہ مسائل اور مشکلات نہیں آئیں گی تو جیل کی آنے والی منازل کو کیسے طے کروگے۔ پس عاشقِ صادق کیلئے لازم ہے کہ وہ استقامت اختیار کرے اور شکوہ شکایت سے اجتناب برتتے ہوئے لبوں کو یوں سی لے کہ چالیس چالیس ” چھتر” کھانے کے بعد بھی م” اوئی میں مرگیا” جیسے کلماتِ ناخوشگوار منہ سے ادا نہ ہونے پائیں”۔ ہم سب ” سالکانِ صادق ” نے اُن کی پند و نصیحت کو گرہ سے ایسا باندھا کہ پھر کئی کئی چھتر ، ہیلز اور چماٹ کھانے کے بعد بھی عزم و استقلال میں سرِ مو فرق نہ آیا۔ اسی استقلال ، جرات ، عزم اور لگن کا نتیجہ تھا کہ پانچویں مرتبہ ” تھانےشریف” کی ہوا کھانے اور روحانی منازل طے کرنے کیلئے ” چھتر شریف” سے ” تشریف شریف” کو رنگوانے کے بعد جب ڈیپارٹمنٹ پہنچے تو ” مسٹر ماڈشاٹ” سمیت پوری ” جماعتِ بھنوریہ” کا بوریا بستر گول کرنے کا نوٹس ” مناسب مقام پر آویزاں” تھا جسے دو مرتبہ پورے ہوش وحواس سے پڑھ کرگھر کی راہ لی اور اب اُس دوست کے موٹر سائیکل کا قرض اتارنے کیلئے ” بائیکیا” چلا رہا ہوں اور سماج کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ماسی
  • شہزادی کے بہ منت الفاظ
  • توبۃ النصوح – فصل پنجم
  • مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا ہونا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
واجد علی گوہر

اگلی پوسٹ
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر
پچھلی پوسٹ
بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری کہانی

متعلقہ پوسٹس

دھنک رنگ زندگی

دسمبر 1, 2019

دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر

مارچ 19, 2026

ہم نا ماننے والے لوگ!

اگست 5, 2021

کالی کلی

فروری 6, 2020

آدھے چہرے

جنوری 17, 2020

عید کی برکتیں اور محبت کا پیغام

مارچ 21, 2026

سینے میں کوئی آگ کا گولا ہے

مارچ 18, 2026

بی زمانی بیگم

جنوری 24, 2020

مِصری کی ڈلی

جنوری 16, 2020

سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

ستمبر 1, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جہنم سے زیادہ تکلیف دہ بستیاں!

جولائی 18, 2023

ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ

دسمبر 24, 2025

آزمائش یا سزا ( پہلا حصہ)

جون 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں