خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 1, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 1, 2025 0 تبصرے 78 مناظر
79

پاکستان ایک بار پھر پانی کے سمندر میں ڈوب رہا ہے۔ یہ منظر ہم میں سے ہر ایک کے سامنے ہے: گاؤں اجڑ رہے ہیں، شہر جل تھل ہو گئے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، مائیں دہائی دے رہی ہیں، اور کسان اپنی فصلوں کو بہتے پانی میں دیکھ کر اپنے ہاتھ سر پر رکھ کر بیٹھ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب تماشائی ہیں؟ کیا ہم صرف اس قیامت کو ٹی وی سکرینوں اور موبائل فون کی ویڈیوز میں دیکھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟ یا پھر اس بار ہم بطور قوم وہ ذمہ داری نبھائیں گے جس کی کسر ہمیشہ رہ جاتی ہے؟

آج پنجاب کے دریا اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ چناب، راوی اور ستلج نے اپنے کنارے توڑ ڈالے ہیں۔ ماہرین اسے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب قرار دے رہے ہیں۔ صرف اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو دل دہل جاتا ہے: دو ملین سے زائد انسان متاثر، سات لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے دخل، دو ہزار سے زائد دیہات زیرِ آب، درجنوں ہلاکتیں اور سیکڑوں زخمی۔ لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہر بارشوں اور سیلابی پانی کی زد میں ہیں۔ چھتیں گر رہی ہیں، سڑکیں بہہ رہی ہیں، اسپتال زیرِ آب ہیں۔ بونیر میں ایک ہی دن کے اندر نایاب "کلاؤڈ برسٹ” نے تین سو سے زائد زندگیاں چھین لیں۔ گلگت بلتستان میں گلیشئر لیک پھٹنے سے بستیاں اجڑ گئیں۔ یہ صرف خبر نہیں، یہ انسانی المیے ہیں۔ یہ وہ صدائیں ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔

ہر طرف تباہی کا ایک منظرنامہ ہے۔ ایک طرف وہ کسان ہے جس نے سارا سال پسینہ بہا کر زمین کو سنوارا، اور اب کھڑے کھڑے اپنی محنت کو پانی میں ڈوبتے دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف وہ ماں ہے جس کے بچے خیمے کے اندر بھوک اور بیماری کے ہاتھوں بلک رہے ہیں۔ وہ بچی جس نے پہلی بار اسکول جانے کا خواب دیکھا تھا، اب مٹی کے ڈھیر پر بیٹھی ہے، اس کی کتابیں پانی لے گیا۔ وہ نوجوان جو مستقبل کا سہارا تھا، اب اپنے والدین کی لاشیں کندھوں پر اٹھائے رو رہا ہے۔ یہ سب صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ کہانیاں ہیں، یہ کرب ہیں، یہ چیخیں ہیں۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ کیا کر رہے ہیں۔ حکومت اپنی بساط کے مطابق ریسکیو آپریشن کر رہی ہے، فوج اور رینجرز کے جوان کمر بستہ ہیں، امدادی سامان بانٹا جا رہا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ حکومتی کوششیں ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ اگر اس وقت ہم نے بطور قوم اپنی ذمہ داری نہ سمجھی تو آنے والے دنوں میں یہ آفت اور بڑی شکل اختیار کر لے گی۔

ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری بے حسی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ سب دیکھ کر افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ہمدردی کے چند جملے لکھ دیتے ہیں، تصویریں شیئر کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کو تصویری ہمدردی کی ضرورت نہیں، انہیں عملی مدد چاہیے۔ انہیں خیمے چاہئیں، راشن چاہیے، صاف پانی چاہیے، دوائیں چاہیے۔ ایک ماں کے لیے اپنے بچوں کو بھوکا دیکھنا سب سے بڑی اذیت ہے۔ کیا ہم یہ اذیت برداشت کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہم وطن ایسے حالات میں ہوں اور ہم خاموش رہیں؟

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو پہچانیں۔ اگر ہم صاحبِ حیثیت ہیں تو ہمیں دل کھول کر عطیات دینے چاہئیں۔ اگر ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو ہم کپڑے، خشک راشن، بستر یا ادویات اکٹھے کر کے کسی امدادی کیمپ تک پہنچا سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی توانائیاں بطور رضاکار استعمال کریں۔ مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں آگے بڑھیں۔ میڈیا صرف دکھانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی طور پر بھی عوامی شعور کو جگائے۔ کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وقتی منافع بھول کر انسانیت کے منافع پر سرمایہ کاری کرے۔

تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جو قومیں آفات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتی ہیں۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب، جب عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تو ہزاروں زندگیاں بچ گئیں۔ لیکن جب ہم نے لاپرواہی برتی، تو انسانی المیے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ اگر آج ہم نے پھر وہی بے حسی دکھائی تو آنے والے کل میں صرف متاثرین نہیں بلکہ ہم سب اس کے اثرات بھگتیں گے۔ غربت بڑھے گی، بے روزگاری پھیلے گی، بیماریوں کا جال مزید وسیع ہو گا اور سماجی انتشار میں اضافہ ہو گا۔

سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں ہے، یہ ایک آئینہ بھی ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم نے زمین کے ساتھ کیا کیا۔ جنگلات کاٹ دیے، دریاؤں کے کناروں پر ناجائز آبادیاں بسائیں، نکاسیٔ آب کے نظام کو نظر انداز کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور ہم ابھی تک کان لپیٹے بیٹھے ہیں۔ یہ سیلاب ہماری اجتماعی غفلت کی سزا بھی ہے۔ اس سزا کو کم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔

انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ عبادت صرف مسجدوں میں نہیں، بلکہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی بے سہارا کو چھت دینا، کسی بیمار کو دوا پہنچانا بھی سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ وہ نیکی ہے جو نہ صرف دنیا میں انسانیت کو سنوارتی ہے بلکہ آخرت کے سفر میں بھی چراغ بنتی ہے۔

آج اگر ہم نے سیلاب متاثرین کی مدد کر دی تو کل جب ہم خود کسی آزمائش سے گزریں گے تو انسانیت ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ یہ وقت ہمدردی کے نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ عملی کردار ادا کرنے کا ہے۔ یاد رکھیں، قومیں آفات سے نہیں مرتیں، وہ بے حسی، نااتفاقی اور تقسیم سے ختم ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں آئے سیلاب نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ دولت اور آسائش سب عارضی ہیں۔ اصل دولت وہ ہے جو ہم دوسروں پر خرچ کریں۔ اصل عبادت وہ ہے جو انسانیت کے لیے ہو۔ اگر ہم نے آج اپنے ہم وطنوں کا ہاتھ تھام لیا تو کل ہمیں کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فلک سے نکلا ہوں شجرے میں لکھ دیا جائے
  • علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون
  • کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
  • خوشبو کی کوئی منزل نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
منٹو – ادبی قصے
پچھلی پوسٹ
بھارتی آبی جارحیت

متعلقہ پوسٹس

لذتِ نفس کی غلام عورت

نومبر 27, 2024

تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے زندگی بھر

مئی 3, 2026

پاکستانی یونیورسٹیوں کی بقا کا واحد راستہ

دسمبر 22, 2025

آئیں آزادی سے ملیں !

اگست 13, 2021

نفسیات شناس

مئی 12, 2015

پاکستانی افسانہ

مئی 23, 2026

سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں...

مئی 18, 2020

عہد

مارچ 1, 2020

تمنا کا دوسرا قدم

اکتوبر 24, 2025

خوابوں کی سیاست اور زمینی حقیقت

اکتوبر 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

 موٹھی​

دسمبر 10, 2019

شعبان کی پندرہویں

مارچ 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں