خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان کرکٹ کی زبوں حالی کیوں!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

پاکستان کرکٹ کی زبوں حالی کیوں!

از شیخ خالد زاہد اکتوبر 18, 2024
از شیخ خالد زاہد اکتوبر 18, 2024 0 تبصرے 70 مناظر
71

یوں تو باقاعدہ کچھ لکھے ہوئے بہت دن گزر گئے ہیں، ایسا نہیں کہ لکھنے کی طلب ختم ہوگئی، دراصل حالات و وقعات تواتر سے اتنے خراب ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا لکھیں اور کیا نا لکھیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب ساری قوم اللہ کے فضل سے ہر ہر موضوع پر اپنا نقطہ نظر ناصرف رکھتی ہے بلکہ اس دفاع کرنے کی بھی بھر پور اہلیت رکھتی ہے۔ کرکٹ ہم پاکستانیو کیلئے قومی کھیل سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے اس سے بڑھ کر کھیل سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ ہمیں آزادی کیساتھ بطور وراثت ملا کیونکہ ہم پر مسلط رہنے والوں کا یہ قومی کھیل تھا، برصغیر میں کرکٹ کے جنون کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ ایشیائی ممالک ہی اس کھیل میں محارت حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا ئے کرکٹ کے میدانوں میں جہاں کہیں اور جس نوعیت کی بھی کرکٹ کھیلی جاتی ہے وہاں پاکستانی کھلاڑیوں نے پاکستان کے پرچم کو روشناس کرایا ہے اور اس کھیل میں اپنی قابلیت اور اہلیت سے خوب منوایا ہے۔ کرکٹ کا ذکر ہو اور کسی نا کسی پاکستانی کھلاڑی کا تذکرہ ہونا لازمی کیا جاتا ہے۔ جاویدمیاں داد کا چھکا، عبدالقادر کی گوگلی ثقلین مشتاق کا دوسرا،فضل محمود کی ہیٹ ٹرک، حنیف محمد کے ۷۳۳ رنز،وسیم باری تسلیم عارف راشد لطیف وکٹوں کے پیچھے، سرفراز نواز عمران خان کے کٹرز، مدثرنذر کی سست ترین سیکڑا،شاہد آفریدی کا تیز ترین سیکڑا، وسیم اکرم وقار یونس عاقب جاوید محمد آصف کی سوئنگ گیند بازی، شعیب اخترکی تیز ترین گیندیں، چشتی مجاہدافتخار احمد منیر حسین محمد ادریس کی جادوئی آوازیں جن کی آوازیں آج بھی میدانوں میں گونجتی سنائی دیتی ہیں۔ان سب سے بڑھ کر کٹ کے کھیل میں متنازعہ فیصلوں سے نجات کیلئے غیرجانبدار(نیوٹرل) امپائر بھی عمران خان کی مرہون منت ہیں۔ اگر کسی بڑے مقابلے میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نہیں تھی تو وہاں ہم نے علیم ڈار کو بطور امپائر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے دیکھا ہے۔ ایسے اور بہت سارے نادر و نایاب کھلاڑی ہماری کرکٹ کی تاریخ کو روشن کئے ہوئے ہیں بلکہ دنیائے کرکٹ میں جلی حروف سے لکھے ہوئے ہیں، جن کا اعتراف گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے۔
اداروں کی ترقی میں جہاں محنت کش افرادی قوت کا قلیدی کردار ہوتا ہے تو دوسری طرف ادارے کے سربراہ کی یہ قابلیت کہ کس محنت کے ذمہ کون سا کام لگایا جائے جسے وہ زیادہ خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے سرانجام دے اور باہمی نفع کا باعث بن سکے۔منظم حکمت عملی اور اس پر کاربند ہونا یا کرانا ادارے کی ترقی کی بنیادی اکائی سمجھی جاسکتی ہے۔حکمت عملی ایسا جز ہے کہ جس پر اگر کاربند ہوجائیں تو پھر قیادت کی تبدیلی سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس کی مثال ہم ترقی یافتہ ممالک سے لے سکتے ہیں جہاں اداروں اور اداروں کے ارادوں یا حکمت عملی پر کسی سیاسی ردوبدل کا کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اپنا کام تندہی اور یکسوئی سے سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس تیسری دنیا کے ممالک جہاں نا تو ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور نا ہی کوئی سیاسی نظام اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے اور یہی انکے تیسری دنیا میں رہنے یا رکھے جانے کا اہم ترین جز ہوتا ہے۔
ہمیں تو بات کرکٹ کی کرنی ہے اور وہ بھی پاکستانی کرکٹ کی، ہماری کرکٹ نے یوں تو بڑے بڑے کھلاڑی پیدا کئے جوکہ مندرجہ بالا سطور میں تحریر کئے گئے ہیں۔ان کھلاڑیوں میں کوئی بھی اپنے کھیل میں توازن نہیں رکھ سکا اور کارگردگی اتار چڑھاؤ کا شکا ر رہی جس کی وجہ سے کبھی واہ واہ سننے کو ملا تو کبھی ہائے ہائے سماخراچی کا باعث بنتا رہا۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ کھلاڑی کو منتخب کرنے کا نظام ہے جسے خود کار نہیں بنایا جاسکتا۔کسی بھی کھلاڑی کے چناؤ کیلئے ناتو کھلاڑی کی عمر کا تعین کیا جاتا ہے، نا ہی اسکی طبعی و ذہنی صحت کی کوئی جانچ کی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر کسی بھی ایک عمومی کارگردگی کی بنیاد پر اسے چن کر بین الاقوامی مقابلے کیلئے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ سونے پر سوہاگا ہمارا میڈیا اسے بغیر کھیلے ہی وہاں پہنچا دیتا ہے کہ اس میں اپنے آپ کو میدان میں منوانے کی صلاحیت ہی ثانوی ہوجاتی ہے۔ یقینا اس میں کسی قسم کی کوئی دانستہ اس کھلاڑی کیلئے سازش نہیں ہوتی ہوگی لیکن وہ بین الاقوامی مقابلے کے میعار پر پورا بھی اترتا ہے یا نہیں یہ دیکھناپرکھنا بھی ارباب اختیار کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔ بڑے بڑے فیصلے عوامی رائے جسے سماجی ابلاغ بھی کہتے ہیں کی بجائے جہاں دیدہ کھیل سے وابسطہ افراد کی مشاورت اور مباحثے اور باقاعدہ منظم جانچ پڑتال سے کئے جانے چاہییں۔ وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات کیساتھ آپ طبعی طور پر تو شائد پورے اتر رہے ہوں لیکن میدان میں اتر کر آپ یہ ثابت نہیں کر پارہے کہ آپ ایک منظم آزمائشی تربیت یا مراحل سے گزر کر دنیا کے ایک نامی گرامی میدان میں اپنے ملک کیلئے اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوانے کیلئے اتر رہے ہیں جہاں چھکے والی گیند پر بھی چھکا لگانا آسان نہیں ہوتا۔
ابھی یہ مضمون جاری تھا کہ خبر عام ہوئی ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کیلئے بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور سرفراز احمد کو ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ یہاں ہمیں فیصلہ سازی کا فقدان بہت واضح دکھائی دیا کہ جب آپ انگلینڈ سے سریز کی حکمت عملی تیار کر رہے تھے تو آپ کیلئے یہ فیصلہ کرنا کیوں مشکل تھا کہ آپ کسی ایسے کھلاڑی کو میدان میں نہیں اتاریں گے جس کی کارگردگی پچھلے ڈیڑھ دو سالوں سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور مسلسل کوششوں کے باوجود کارگردگی میں بہتری نہیں آپارہی، کیا ارباب اختیار کی سوچ بھی سطحی ہے کہ آپ بابر اعظم کو بٹھاہی نہیں سکتے پاکستان کی ٹیم بابر اعظم سے پہلے کتنے بڑے ناموں کو خدا حافظ کہہ چکی ہے کیا ان بڑے ناموں نے کبھی ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر میچ نہیں دیکھا کیا ان بڑے بڑے بلے بازوں نے فیلڈمیں آکر پانی نہیں پلایا۔اگر کھلاڑی کو کھیل سے زیادہ ترجیح دی جائے گی تو ایسے مسائل کھڑے ہونگے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شخصیت پرستی کا رجحان رہا ہے اور اس شخصیت پرستی میں ہم مقصد کو بھی نظر انداز بلکہ بالائے طاق رکھ چھوڑتے ہیں۔ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، محمد رضوان، سرفراز احمد ان میں سے کسی کی بھی قابلیت تکنیک یا کھیل کی صلاحیت پر کوئی شک نہیں ہے سب نے پاکستان کو میچز جتوائے ہیں،لیکن مسلسل مداح سراہی سے انسانی دماغ اپنی بنیادی پہچان سے شائد اوپر اٹھنا شروع ہوجاتا ہے اور اسے کچھ وقت کیلئے خود سے یا پھر ارباب اختیار کی حکمت عملی کے سبب میدان سے باہر ہوجانا چاہئے اور بہترین موقع ہوتا ہے جب آپ توقعات پر پورا نا اتر رہے ہوں ایسے میں آپ خود کو کھیل سے الگ کر لیں یہ کہہ کر کہ مجھے اپنے کھیل پر کچھ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ساری دنیا کے کھلاڑی کرتے ہیں اس سے آپ کی شان میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اس کے برعکس ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر میں نے اپنی جگہ چھوڑی تو پھر موقع ہی نہیں ملے گا۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عزت اور ذلت اللہ رب العز ت کے ہاتھ ہے، جس نے کل عزت دلائی تھی وہ آنے والے کل میں بھی عزت دلائے گا لیکن اپنی خامیوں پر دھیان دینے اور ان پر قابو پانے کے بعد۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو سیاسی میدان اورسیاسی مداخلت سے دور رکھا جائے ادارے کا سربراہ بے داغ کرادارکا مالک ہو اور آزاد حیثیت میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہواور اپنے فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ سربراہ کو اختیار ہو کہ وہ ادارے کی کمیٹیوں کا چناؤ خود کرے جس میں سب سے اہم کھلاڑیوں کے چناؤ کی کمیٹی ہے۔ ریٹائرمنٹ کی طے شدہ حد عبور کرنے والوں کو نئے اور پر عزم تجرباکار لوگوں سے تبدیل کیا جائے، جن کی میعاد ملازمت میں کارگردگی کی بنیاد پر اضافہ کیا جائے ناکہ کسی بیرونی مداخلت کے، سب سے بڑھ کر بہترین چنے گئے کھلاڑیوں کی مستحکم اور مضبوط ذہن سازی کو یقینی بنایا جائے اور ساتھ یہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کے ہر کھلاڑی قابل تبدیل ہے۔ کام کوئی بھی مشکل نہیں ہوتا اگر آپ کا جذبہ اور لگن سچی ہو۔ ہماری تعلیم میں اپنے بنیادی مقصد پرسمجھوتا نہیں کرنا سکھایا جانا چاہئے، جوکہ ملک کے نام کو سبز ہلالی پرچم کو ہرممکن بلند و بالا رکھنا ہونا چاہئے۔ جہاں ہمیں لگے کہ ہم سے نہیں ہو پارہا تو ہمیں فورا کسی بہترین نعملبدل کی طرف توجہ دلادینی چاہئے ا س سے ہمارے وقار میں مزید اضافہ ہوگا اور ہمارے ملک کیلئے اچھے نتائج رونما ہونگے اور جیت کا تسلسل برقرار رہے سکے گا۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی
  • نیپال میں سیاسی بحران
  • خیبر پختونخوا امن جرگہ کا اعلامیہ
  • کشمیر – عہد بہ عہد!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ
پچھلی پوسٹ
ایسا لگتا ہے

متعلقہ پوسٹس

ہم کہیں کے نہ رہے!

فروری 21, 2026

وبا جان لیوا , ادا جان لیوا

اگست 23, 2020

اس شور سخن میں ابھی خاموش رہوں گا

نومبر 27, 2021

سوچوں تو خیال اور بھی ہیں

دسمبر 7, 2021

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

جولائی 15, 2020

آئینے میں

مئی 21, 2020

میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں

دسمبر 15, 2019

حیاتِ رواں

دسمبر 13, 2021

تمہارے لوٹ کے آنے سے

ستمبر 27, 2023

انسانی حقوق کا ڈھونگ اور گورے رنگ کی پرچار

مئی 20, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک...

فروری 25, 2022

یہ حقیقت ہے مری ذات کا...

فروری 2, 2020

پاکستانی ریموٹ سیٹلایٹ

فروری 17, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں