خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابالوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

لوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے!

از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2022 0 تبصرے 102 مناظر
103

ایک طرف تو دنیا کے بدلاءو کا ڈھنڈورا دونوں ہاتھوں سے نہیں بلکہ اربو ں کھربوں ہاتھوں سے پیٹا جا رہا ہے اور یہ بات باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ لوگ بلاتفریق ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہتے ہیں کسی قسم کی کوئی مذہبی منافرت نہیں ہے کہیں رنگ و نسل کا مسلۃ نہیں ہے ۔ دنیا کا یہ تیزی سے بدلتا ہوا رنگ  میں صرف سماجی ابلاغ پر دیکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ بڑی بڑی نظریاتی جنگیں بھی سماجی ابلاغ پر لڑی جارہی ہیں ۔ کم از کم اس ذراءع معلومات و مواصلات سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ آج دنیا میں کہیں بھی کچھ غیر معمولی ہوتا ہے تو لمحہ بھر میں بغیر توقف دنیا کے کونے کونے میں من و عن پہنچ جاتا ہے ۔ تقریباً دودہائیوں سے اسلام اور اسکے ماننے والے مسلمانوں پر شدت پسند ہونے کا خودساختہ الزام لگایا جاتا رہا ہے ، گوکہ اس سے اسلام کو مزید تقویت ملی ہے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے اسلام کا بغور جائزہ لیا ہے اور لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ اس عمل سے ایک طرف تو بین المذاہب ہم آہنگی کوکسی حد تک فروغ ملا تو دوسری طرف وہ لوگ یا انکا مذاہب بے نقاب ہوگیا ، جو حقیقی معنوں میں شدت پسندی کا برملا اظہار کرتے عملی طور پر دیکھائی دے رہے ہیں ۔

افغانستان کے بدترین موجودہ داخلی حالات کا ذمہ دار بھی یہی جھوٹا نظریہ رہا ہے کہ اسلام کی شدت پسندی افغانستان کی پسماندگی کی ذمہ دار ہے ۔ دنیا نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کے آج سچائی کس طرح سے چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ دنیا کی بد امنی اور اور بدترین بدنظمی کا حقیقی ذمہ دار کون ہے ۔ افسوس اس امر کا ہے کہ حق بات کہنے کی جراتِ گفتار ناپید ہوچکی ہے اور مفاد پرستی کا دور دورہ ہے ، انفرادیت سے شروع ہونے والی یہ مفاد پرستی اجتماعی سطح پر بھی واضح ہونا شروع ہوچکی ہے ۔ کشمیر کے مسلئے کو لے لیجئے روزانہ کی بنیاد پر ایسی ایسی خبریں منظر عام پر آتی ہیں جنہیں دیکھ کر روح تک کانپ جاتی ہے لیکن نرم گرم بستروں کی آسائش بہت جلد ہی کانپتی روح کو سنبھال لیتی ہے اس سے ملتی جلتی صورتحال فلسطین کی بھی ہے وہا ں کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، لیکن کیا کوئی عملی قد م اٹھانے کی جرات کرنے کیلئے تیا رہے نہیں وہ نہتے لڑ رہے ہیں ۔ ہماری ماءوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال ہورہی ہیں لیکن ہم حسب ِ معمول سماجی ابلاغ پر سینہ کوبی بھی کر رہے ہیں اور سامنے والوں کو برا بھلا بھی کہہ رہے ہیں ۔

سن ۸۱۰۲ میں فلسطین میں رزان النجار نامی نرس کے فراءض انجام دینے والی لڑکی کو شہید کیا گیا ،جسے سماجی ابلاغ پر بھرپور پذیرائی ملی اور خوب اسرائیلی فوجیوں کو لعن طعن کیا گیالیکن اسکا کوئی قاتل ناتو نامزد ہوا اور نہیں کسی کو کوئی سزا ملی اور سب سے بڑھ کر ناہی اسکے لواحقین کو کوئی تسلی دی گئی ، اسطرح سے رزان النجار امت کی شہادت ،امت کی بیداری میں ایک حقیر کنکر سا ارتعاش پیدا کرکے تاریخ میں کسی روشن ستارے کی طرح پیوست ہوگئی ۔ جہاندیدہ کہلائے جانے والے لوگوں نے رزان کی موت پر کسی محمد ابن ِ قاسم کی امد کی امیدوں کے چراغ بھی جلائے لیکن افسوس، ہاتھوں میں پکڑے ہوئے آسیب سے باہر نکلنا محال ہوگیا ہوچکا ہے ۔

کشمیر میں بھارتی درندگی روز بروز مستحکم ہوتی چلی جارہی ہے ، جسکی سب سے بڑی مثال تقریباً دوسال قبل پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر ظلم اور بربریت کے پہاڑ نسل کشی کی صورت میں توڑے جا رہے ہیں جسکا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔ یقینا بھارتی حکمت عملی اور منصوبہ سازوں نے اس کرفیو کی صورت میں ایک جال پھینکا کہ دیکھا جائے کہ دنیا کا اس پر کیا رد ِ عمل آتا ہے یا پاکستان کس طرح سے مزاحمت کرتا ہے ۔ تقریباً ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی شائد بھارتی منصوبہ سازوں نے توقع کی ہوگی، سوائے اسکے کے ابلاغ کے تمام ذراءع اس بات پر توجہ دلانے کیلئے استعمال کئے گئے ، دفتر خارجہ کی ذمہ داریوں میں بتدریج اضافہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کے دنیا اس مسلئے کے حل کیلئے بھارت پر ممکنہ دباءو ڈالے جوکہ نہیں ہوسکا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کو فائدہ پہنچا اور پاکستان اپنا موقف دنیا جہان کے ایوانوں میں پہنچانے میں کامیاب ہوگیا ساتھ ہی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں دھواں دار تقریر سے بھی پاکستان کے موقف کو بھرپور جلا ملی اور کسی حدتک پاکستان کا مضبوط پیغام دنیا کی سماعتوں نے سن لیا ۔ اب جب بھارتی منصوبہ ساز اپنی حکمت ِ عملی میں کامیاب ہوگئے تو انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کسی نا کسی طرح سے یہ باور کرانا شروع کردیا کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہے سکتے ہیں ۔ یہاں بھی سماجی ابلاغ اپنا کردار نبہاتا دیکھائی دیتا ہے اور پل پل ہونے والے جبر سے دنیا کو آگاہ کرتا رہتا ہے لیکن دنیا اپنی بے حسی کی بے بسی کے ہاتھوں مجبور ہے ۔ جیسا کہ لفظ ہندوتوا بارہا سرکاری سطح پراس لفظ کا بھرپور استعمال کیا جاتا رہا ہے کی جڑیں بہت مضبوط ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں ، جو لوگ وقت و حالات کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں جو لوگ زمانے کی انداز بدلنے کی بات کرتے ہیں کیا وہ بھارت کا عمومی رویہ نہیں دیکھ رہے ۔

گزشتہ دنوں بھارت کے شہر کرناٹکا میں اپنی نوعیت کا اہم ترین واقع رونما ہوا جب ہندو انتہاپسندوں کے ایک جتھے نے حجاب پہنے ہوئے مسکان نامی ایک لڑکی کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگانے شروع کردئے اور بری طرح ہراساں کرنے کی کوشش اسوقت قطعی دم توڑ گئی اس عملی صنف آہن نے اس کھوکھلے جھتے کے سامنے باقاعدہ کھڑے ہوکر نعرہ تکبیر اللہ اکبر تواتر سے بلند آواز میں بلند کیا اور اپنے عمل پر ڈٹی رہی ۔ یہ سماجی ابلاغ کا دورہے یہاں سارے کام ہاتھوں میں پکڑے تکنیکی آلات پر کئے جارہے ہیں ، لیکن اس دخترِ اسلام کی اللہ اکبر کی گونج نے اسلام کے نام لیوا چھپن ۶۵ ملکوں کے سربراہان کے ایوانوں میں ضرور ارتعاش پیدا کردیا ہوگا ۔ ایک طرف تومسکان نے بہادری کی ایک اعلی ترین مثال قائم کردی ہے اور بھارتی نظام پر اور عالم اسلام کو جھنجھوڑنے کی عملی کوشش کی ہے ۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو دیکھ کر یقین ہورہا ہے کہ اللہ تعالی نے کس طرح سے اس بہادر لڑکی کو برجستگی سے بلا خوف و خطر نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ہمت و حوصلہ عطاء کیا ۔ جسے دیکھ کر شاعر (نامعلوم)کے یہ الفاظ باربار گردان کر رہے ہیں کہ

ہم نے سیکھا ہے آذان ِ سحر سے یہ اصول !
لوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے!

اللہ تعالی مسکان کی حفاظت فرما ئیں اور اس دخترِ اسلام کی اللہ الکبر کی صداءوں سے عالم ِ اسلام میں نئی روح بیدار فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم نے اپنی زندگی جن میں گزاری
  • رفوگر
  • گھر پیش کیا سر پیش کیے
  • ” قلم کتاب “ دنیا کی ایک تاریخ ساز کتاب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!
پچھلی پوسٹ
جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

متعلقہ پوسٹس

میرے لفظوں میں جہاں لطف و معانی آئے

مئی 8, 2020

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

نومبر 14, 2021

نوجوان نسل اور روشن مستقبل

مارچ 9, 2026

شہری سہولیات پر حملے

ستمبر 23, 2025

ایموجیز اور سیکسٹنگ

اگست 20, 2023

تمہارا غم نہیں کافی ، ہمارا دل جلانے کو

نومبر 4, 2020

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

نومبر 29, 2019

بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے

نومبر 3, 2021

کچرے والا

دسمبر 23, 2021

ان کا کیا مقابلہ

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

منتر

مارچ 13, 2013

ثقافتی میل جول: روایت اور جدت...

ستمبر 13, 2025

سرخ ٹوپی کا رازدار

دسمبر 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں