120
ہمارے سجود بھی ایسے ہیں قرض جیسے چکانا ہے
ہمارا سجدہ ابھی سجدوں کی لذت سے ناآشناء ہے
خدا کو مانتے ہیں مگر خدا کی مانتے نہیں یاروں
امید پھر بھی لگارکھی ہے ہمیں جنت میں جانا ہے
سجدہ تو ہے اک بہانہ رب سے گفتگو کا اگر سمجھو
کچھ رو رو کے کچھ ضد کر کے بس اسے منانا ہے
اک بارجاکر سجدے میں زرا گڑگڑاکر تو دیکھو بس
آنکھوں سے اپنے آنسو کا ایک قطرہ تمہیں گرانا ہے
جو سکون مئیسر ہوگا اپنے دل کو تمہارے یاروں
محسوس ہوگا رب کو جیسے بس یہیں پہچانا ہے
مل گئی جسے یوسف سجدوں کی لذت اک بار
سجدے میں پڑے سر کو پھر کہاں اس نے اٹھانا ہے
یوسف برکاتی
