خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانے‫ایرانی پلاؤ
اردو افسانےاردو تحاریرکرشن چندر

‫ایرانی پلاؤ

کرشن چندر کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020 0 تبصرے 500 مناظر
501

‫ایرانی پلاؤ

‫آج رات اپنی تھی، کیونکہ جیب میں پیسے نہیں تھے، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں رات مجھے اپنی نہیں معلوم ہوتی، اس وقت رات میرین ڈرائیو پر تھرکنے والی گاڑیوں کی معلوم ہوتی ہے، جگمگاتے ہوئے فلیٹوں کی معلوم ہوتی ہے، ایمبسڈر کی چھت پر ناچنے والوں کی معلوم ہوتی ہے، لیکن آج رات بالکل اپنی تھی، آج رات آسمان کے سارے ستارے اپنی تھے اور بمبئی کی ساری سڑکیں اپنی تھیں ، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں تو سارا شہر اپنے اوپر مسلط ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے، ہر شے گھورتی ہے ڈانٹتی ہے، اپنے آپ سے دور بیٹھنے پر مجبور کرتی اونی پتلون سے لے کر خوش نما ریڈیو پروگرام تک ہر چیز کہتی ہے، مجھ سے دور ہو، لیکن جب جیب میں ایک پائی نہ ہو تو سارا شہر اپنا بنا ہوا معلوم ہو تا ہے، اس کے ہر کھمبے پر گویا لکھا ہوتا تھا تعمیر کیا گیا برائے بشن ایک فاقہ مست صنف، اس دن نہ حوالات کا کارڈ ہوتا ہے نہ گاڑی کی لپٹ میں آ جانے کا، نہ ہوٹل میں کہانے کا، ایک ایسی وسیع بے فکری اور بے کنار فاقہ مستی کا نشہ آور موڈ ہوتا ہے، جو میلوں تک پھیلتا چلا جا رہا ہے، اس رات میں خود نہیں چلتا ہوں اس رات بمبئی کی سڑکیں مجھے اٹھائے اٹھائے چلتی ہیں اور گلیوں کے موڑ پر اور بازاروں کے ٹکڑ اور بڑی بڑی عمارتوں کے تاریک کونے مجھے خود دعوت دیتے ہیں ادھر آؤ ہمیں بھی دیکھو ہم سے ملو، دوست تم آٹھ سال سے اس شہر میں رہتے ہوں ، لیکن پھر بھی اجنبیوں کی طرح کیوں چل رہے ہو، ادھر آؤ ہم سے ہاتھ ملاؤ یہاں بھی ایک امتحانی لمحے کی جھجک کے بعد وہ لوگ میری طرف دیکھ کر مسکرائے، ایک لڑکے نے مجھ سے کہا، آؤ بھائی تم بھی یہاں بیٹھ جاؤ اور اگر گانا چاہتے ہو تو گاؤ۔ اتنا کہہ کر اس نے دبلے پتلے لڑکے نے اپنے سر کے بال جھٹک کے پیچھے کر لئیے اور اپنا لکڑی کے بکس کا طبلہ بجانے لگا، ہم سب لوگ مل کر پھر گانے لگے۔ تیرا میرا میرا تیرا پیار ہو گیا یکایک اس دبلے پتلے لڑکے نے طبلہ بجانا بند کر دیا اور اپنے ایک ساتھی کو جو اپنی گردن دونوں ٹانگوں میں دبائے اکڑوں بیٹھا تھا، ٹہوکا دے کے کہا، ابے مدہو بالا تو کیوں نہیں گاتے۔ مدہو بالا نے اپنا چہرہ ٹانگوں میں بڑی وقت سے نکالا، اس کا چہرہ مدہو بال ایکٹرس کی طرح جسین نہیں تھا، ٹھوڑی سے لے کر دائیں ہاتھ کی کہنی تک آگ سے جلنے کا ایک بہت بڑا نشان یہاں سے وہاں تک چلا گیا تھا، اس کے ‫چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے، اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں جو اس کے گول چہرے پر دو کالی درزیں معلوم ہوتی تھیں انتہائی پریشانی جھلک رہی تھی، اس نے اپنے ہونٹ سیکڑ کر طبلے والے سے کہا سالے مجھے رہنے دے میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔ کیوں درد ہوتا ہے، سالے تو نے آج پھر ایرانی پلاؤ کھایا ہو گا؟ مدھو بالا نے بڑے دکہ سے سر ہلایا، ہاں وہی کھایا تھا۔ کیوں کھایا تھا سالے کیا کرتا، آج صرف تین جوتے بنائے تھے جو عمر میں ان سب سے بڑا معلوم ہوتا ہے تھا، جس کی ٹھوڑی پر تھوڑی داڑھی اگی تھی اور کنپٹیوں کے بال رخساروں کی طرف بڑھ رہے تھے

اپنی ناک کھجاتے ہوئے کہا، اے مدہو بالا، اٹھ میدان میں دوڑ لگا، چل میں تیرے ساتھ دوڑتا ہوں ، دو چکر لگانے سے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔ نہیں بے رہنے دے نہیں بے سالے اٹھ، نہیں تو ایک جھانپڑ دوں گا۔ مدہو بالا نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ککو رہنے دو، میں تیری منت کرتا ہوں ، یہ پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔ اٹھ بے، کیوں ہماری سنگت خراب کرتا ہے۔ ککو نے ہاتھ بڑھا کر مدہو بالا کو اٹھایا اور وہ دونوں یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں چکر لگانے لگے، پہلے تو تھوڑی دیر تک ان دوڑتے ہوئے لڑکوں کی طرف دیکھتا رہا، پھر جب میرے قریب بیٹھے ہوئے لڑکے نے سر کھجا کے کہا، سالی کیا مصیبت ہے ایرانی پلاؤ، کھاؤ تو مصیبت اور نہ کھاؤ تو مصیبت۔ میں نے کہا بھائی پلاؤ تو بڑے مزے کی چیز ہے، اسے کھانے سے پیٹ درد کیسے ہو سکتا ہے ؟ میری بات سن کر وہ ہنسے، ایک لڑکے نی جس کا نام بعد میں مجھے کلدیپ کور معلوم ہوا اور جو اس وقت ایک پٹھی ہوئی پنڈی اور ایک پھٹی نیکر پہنے ہوئے ہے، مجھ سے ہنس کر کہا، معلوم ہوتا ہے تم نے ایرانی پلاؤ کبھی نہیں کھایا۔ کلدیپ کور نے اپنی بنڈی کے بٹن کھولتے ہوئے مجھے بتایا کہ ایرانی پلاؤ ان لوگوں کی خاص اصطلاح ہے، اسے ایسے لوگ روز روز نہیں کھا سکتے لیکن جس دن لڑکے نے جوتے بہت کم پالش کئے ہوتے ہیں یا جس دن اس کے پاس بہت کم پیسے ہوتے ہیں اس دن اسے ایرانی پلاؤ ہی کھانا پڑتا ہے اور یہ پلاؤ سامنے کے ایرانی ریستوران سے رات کے بارہ بجے کے بعد ملتا ہے، جس سب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں ، دن بھر میں لوگ ڈبل روٹی کے ٹکڑے اپنی پلیٹوں میں چھوڑ جاتے ہیں ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے گوشت اور ہڈیاں چچوڑی ہوئی، چاول کے دانے،آملیٹ کے ریزے، آلوؤں کے قتلے، یہ سارا جھوٹا کھانا ایک جگہ جمع کر کے ایک ملغوبہ تیار کر لیا جاتا ہے اور ملغوبہ دو آنے پلیٹ کے حساب سے بکتا ہے، پیچھے کچن کی دروازے پر اسے ایرانی پلاؤ کہا جاتا ہے، اسے عام طور پراس علاقے کے غریب لوگ بھی نہیں کھاتے پھر بھی ہر روز دو تین سو پلیٹیں بک جاتی ہیں ، خریداروں میں زیادہ تر جوتے پالش کرنے والے، فرنیچر ڈھونے والے، گاہکوں کیلئے ٹیکسی لانے والے ہوتے ہیں یا آس پاس کے بلڈنگوں میں کام کرنے والے مزدور بھی ہوتے ہیں ۔ میں کلدیپ کور سے پوچھا تمہارا نام کلدیپ کور کیوں ہے ؟ کلدیپ کور نے اپنی بنڈی بالکل اتار دی اور اب وہ بڑے مزے سے لیٹا ہوا ہے اپنا سیاہ پیٹ سہلا رہا تھا، وہ میرا سوال سن کر وہیں گھاس پر لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر ہنس چکنے کے بعد اپنے ایک ساتھی سے کہنے لگا ذرا میرا بکسا لانا۔ ساتھی نے کلدیپ کور کو بکسا دیا، کلدیپ کور نے بکسا کھولا، اس میں پالش کا سامان تھا، پالش کی ڈبیوں پر کلدیپ کور کی تصویر بنی ہوئی تھی، پھر اس نے اپنے ایک ساتھی سے کہا، تو بھی اپنا بکسا کھول اس نے بھی اپنا بکسا کھولا، اس بکس میں پالش کی جتنی چھوٹی بڑی ڈبیاں تھیں ان پر نرگس کی تصویریں تھیں ، جو رسالوں اور اخباروں کے صفحوں سے کاٹ کر لگائی گئی تھیں ۔ کلدیپ کور نے کہا یہ سالا نرگس پالش مارتا ہے، وہ نمی کا وہ ثریا کا، ہم میں جتنا پالش والا ہے، کسی نہ کسی فلم ایکٹریس کی تصویریں کاٹ کر اپنے ڈبوں پر لگاتا ہے اس کا پالش مارتا ہے۔

سالا گاہک ان باتوں سے بہت خوش ہوتا ہے، ام اس سے بولتا ہے، صاحب کون سا پالش لگاؤں ، نرگس کہ ثریا کہ مدہو بالا؟پھر جب گاہک جس فلم کی ایکٹریس کو پسند کرتا ہے، اس کا پالش مانگتا ہے، ہم اس کو اس لڑکے کے جوالے کر دیتا ہے جو نرگس کا پالش یا نمی کا یا کسی دوسری فلم ایکٹرس کا پالش مارتا ہے، ہم آٹھ لڑکے ہیں ، ادھر سامنے چرچ گیٹ پر سے بس اسٹینڈ کے پیچھے بیٹھتے ہیں ، جس کے پاس جس ایکٹرس کا پالش ہے وہ ہی اس کا نام لے گا، اسی سے ہمارا دھندا بہت اچھا چلتا ہے اور کام میں مجا آتا ہے۔ میں نے کہا تم اور بس اسٹینڈ کے نیچے فٹ پاتھ پر ایرانی ریستوران کے سامنے بیٹھے ہوں تو پولیس والا کچھ نہیں کہتا؟ کلدیپ کور اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا، اب سیدھا ہو گیا، اس نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کو ایک انگلی سے دبا کر اسے یکایک ایک جھٹکے سے یوں نچایا جیسے وہ فضا میں اکنی اچھال رہا ہوں ، بولا وہ سالا کیا کہے گا؟۔ اسے پیسہ دیتا ہے اور یہاں اس میدان میں جو سوتا ہے اس کا بھی پیسہ دیتا ہے، پیسہ؟ اتنا کہہ کر کلدیپ کور نے پھر انگوٹھے سے ایک خیالی اکنی ہوا میں اچھالی اور فضا میں دیکھنے لگا، اور پھر دونوں ہاتھ کھول کر دیکھا، مگر دونوں خالی تھے کلدیپ کور بڑی مزے دار اور تلخی سے مسکرا دیا، اس نے کچھ نہیں کیا چپ چاپ اوندھا لیٹ گیا۔ نرگس نے مجھ سے پوچھا تم ادھر داور میں پالش مارتے ہوں ؟ میں نے تم کو ‫ویزاں ہوٹل کے سامنے دیکھا ہے۔ میں نے کہا، ہاں مجھ کو بھی ایک پالش والا ہی سمجھو۔ ایک طرح سے کیا؟ کلدیپ کور اٹھ کر بیٹھ گیا، اس نے میری طرف گھور کر دیکھا، سالہ سیدھے بات کرو نا، تم کیا کام کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں بہت خوش ہوا، کوئی اور کہتا تو میں اسے ایک جڑ دیتا، مگر جب اس لڑکے نے مجھے سالا کہا تو میں بہت خوش ہوا کیونکہ سالا گالی کا لفظ نہیں تھا، برادری کا لفظ تھا، ان لوگوں نے مجھے اپنی برادری میں شامل کر لیا تھا، اس لئے میں نے کہا، بھائی ایک طرح سے میں بھی پالش والا ہوں ، مگر میں لفظ پالش کرتا ہوں اور کبھی کبھی پرانے میلے چمڑوں کو کھرچ کے دیکھتا ہوں کہ ان کی بوسیدہ تہوں میں کیا ہے۔ نرگس اور نمی ایک دم بول اٹھے، تو سالہ پھر گڑ بڑ گھوٹا لا کرتا ہے، صاف صاف کیوں نہیں بولتا کیا کام کرتا ہے۔

میں نے کہا۔ میرا نام بش ہے، میں کہانیاں لکھتا ہوں ۔ اوہ تو بابو ہے نمی بولا، نمی ایک چھوٹا سا لڑکا تھا، یہاں دائرے میں جتنے لڑکے تھے ان سب میں سب سے چھوٹا، مگر اس کی آنکھوں میں ذہانت تیز چمک تھی اور چونکہ وہ اخبار بھی بیچتا تھا، اس لئیے اسے مجھ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی، اس نے میرے قریب قریب آرک کیا، کون سے اخباروں میں لکھتے ہو؟ پھری ریس،سنٹل ٹایم، بمبئے کرانیکل، میں اب اخباروں کو جانتا ہوں ۔ وہ بڑھ کر میرے قریب آگیا۔ میں نے کہا میں شاہراہ میں لکھتا ہوں ۔ ساہرہ؟ کون نوز پیپر ہے ؟ دہلی سے نکلتا ہے۔ دلی کے چھاپے خانے سے وہ؟ نمی کی آنکھیں میرے چہرے پر پھیل گئیں ۔ اور اب ادب لطیف میں لکھتا ہوں ، میں نے رعب ڈالنے کیلئے کہا۔ کلدیپ کور ہنسنے لگا۔ کیا کہا بدبے خلطیف میں لکھتا ہے،سالے یہ تو کسی انگلش فلم ایکٹریس کا نام معلوم ہوتا ہے،بدبے خلطیف آہا آہا آہا، ابے نمی تو اپنا نام بدل کر خلطیف رکھ لے، بڑا اچھا نام مالوم ہو گا،ہاہاہاہا جب سب لڑکے ہنس چکے تو میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا، بدبے خلطیف نہیں ، ادب، ادب، لطیف، لاہور سے نکلتا ہے، بہت اچھا پیپر ہے۔ نرگس نے بے پرواہی سر ہلا کے کہا، ہاں سالے ہو گا ادب لطیف ہی ہو گا ہم کو کیا، ہم اس کو بیچ کے ادھیر پیسہ تھوڑی کماتے ہیں ۔ تقریباً اتنا ہی جتنا تمہیں ملتا ہے، اکثر کچھ بھی نہیں ملتا جب میں لفظوں پر پالش کر چکتا ہوں تو اخبار والے شکریہ کہہ کر مفت لے جاتے ہین اور اپنی رسالے یا اخبار کو چمکا لیتے ہیں ۔ تو خالی مغز ماری کیوں کرتا ہے۔ ہماری طرح پالش کیوں نہیں کرتا، سچ کہتا ‫‫ہوں تو بھی آ جا ہماری برادری میں ، بس تیری ہی کسر تھی، اور تیرا نام ہم بد بے خلطیف ہی رکھ دیں گے، لا ہاتھ میں نے کلدیپ کور سے ہاتھ ملایا۔ کلدیپ کور کہنے لگا، مگر چار آنے روز پولیس والے کو دینے پڑیں گے۔ اور اگر کسی روز چار آنے نہ ہوئے تو؟ تو ہم کو مالوم نہیں ، کسی سے مانگ، چوری کر ڈاکہ ڈال، مگر سنتری کو چار آنے دینے پڑیں گے اور مہینے میں دو دن حوالات میں رہنا پڑے گا۔ ارے وہ کیوں ؟ یہ ہم نہیں جانتے، سنتری کو ہم ہر روز چار آنے دیتے ہیں ہر ایک پالش والے دیتا ہے، پھر بھی سنتری ہر مہینے میں دو دفعہ ہم کو پکڑ کے لے جاتا ہے، ایسا اس کا قاعدہ ہے، وہ بولتا ہے، ام کیا کریں ۔ میں نے کہا، اچھا دو دن حوالات میں بھی گزار لیں گے۔ اور کلدیپ کور نے کہا، تم کو مہینے میں ایک بار کورٹ بھی جانا پڑے گا، تمہارا چالان ہو گا، کمیٹی کے آدمی کی طرف سے، تم کو کورٹ میں بھی جانا پڑے گا دو روپے یا تین روپے وہ بھی تم کو دینا پڑے گا۔ وہ کیوں ؟جب میں چار آنے سنتری کو دیتا ہوں ، پھر ایسا کیوں ہو گا؟ ارے یار سنتری کو بھی تو اپنی کار گزاری دکھانی ہے کہ نہیں ، تو سمجھتا نہیں ہے سالے بد بے خلطیف؟ میں نے آنکھ مار کر کلدیپ کور سے کہا، سالے سمجھتا ہوں ، ہم دونوں ہنسنے لگے، اتنے میں مدہو بالا اور ککو دونوں میدان کے چکر لگا کر پسینے میں ڈوبے ہوئے واپس آئے۔ مین نے مدہو بالا پوچھا، تمہارا پیٹ کا درد غائب ہو گیا۔

ڪرشن چندر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خالی بوتلیں خالی ڈبے
  • مہندی کے نقش و نگار
  • اچھی کتاب
  • سونے کی انگوٹھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
‫‫خمیازہ
پچھلی پوسٹ
پیا سا

متعلقہ پوسٹس

جنون لطیفہ

جنوری 2, 2020

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول

مئی 21, 2024

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

دسمبر 29, 2019

رشتوں کی حقیقت

مارچ 25, 2026

مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک

فروری 1, 2020

نیکی و امانت

اگست 12, 2025

اللہ کی مدد، تاریخی فتح

مئی 13, 2025

ہندوستانی فلموں کے سو سال

مئی 25, 2024

لاہور پارٹی اور ہماری نسل کا مستقبل

اگست 20, 2025

کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!

ستمبر 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ویلنٹائن ڈے منانے کا بتایا کس...

فروری 12, 2020

بدین میں رضا اللہ نظامانی کا...

ستمبر 2, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – دوسری...

جنوری 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں