خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریررونا رُلانا
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

رونا رُلانا

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 390 مناظر
391

رونا رُلانا

ایک امریکن ادبی نقاد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ مرد ایک ہنسوڑا جانور ہے اور عورت ایک ایسا حیوان ہے جو اکثر رونی شکل بنائے رہتا ہے۔

مصنف کی خوش طبعی نے اس فقرے میں مبالغے اور تلخی کی آمیزش کر دی ہے اور چونکہ وہ خود مرد ہے اس لئے شاید عورتوں کو اس سے کلی اتفاق بھی نہ ہو لیکن بہرحال موضوع ایسا ہے جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

میرے ایک دوست کا مشاہدہ ہے کہ عورتوں کی باہمی گفتگو یا خط و کتابت میں موت یا بیماری کی خبروں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے واقعات کے بیان کرنے میں عورتیں غیر معمولی تفصیل اور رقت انگیزی سے کام لیتی ہیں۔ گویا ناگوار باتوں کو ناگوار ترین پیرائے میں بیان کرنا ان کا نہایت پسندیدہ شغل ہے۔ ان سے وہ کبھی سیر نہیں ہوتیں۔ ایک ہی موت کی خبر کے لئے اپنی شناساؤں میں سے زیادہ سے زیادہ سامعین کی تعداد ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہیں ایسی خبر جب بھی نئے سرے سے سنانا شروع کرتی ہیں ایک نہ ایک تفصیل کا اضافہ کر دیتی ہیں اور ہر بار نئے سرے سے آنسو بہاتی ہیں اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ موت یا بیماری کسی قریبی عزیز کی ہو۔ کوئی پڑوسی ہو، ملازم ہو، ملازم کے ننھیال یا سہیلی کے سسرال کا واقعہ ہو، گلی میں رو زمرہ آنے والے کسی خوانچہ والے کا بچہ بیمار ہو، کوئی اُڑتی اُڑتی خبر ہو ، کوئی افواہ ہو۔ غرض یہ کہ اس ہمدردی کا حلقہ بہت وسیع ہے:

’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘

نہ صرف یہ بلکہ رقت انگیز کہانیوں کے پڑھنے کا شوق عورتوں ہی کو بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس بارے میں سب ہی اقوام کا ایک ہی سا حال ہے۔ غیر ممالک میں بھی رلانے والی کہانیاں ہمیشہ نچلے طبقہ کی عورتوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ گھٹیا درجے کے غم نگار مصنفین کو اپنی کتابوں کی قیمت اکثر عورتوں کی جیب سے وصول ہوتی ہے۔ وہ بھی عورتوں کی فطرت کو سمجھتے ہیں۔ کہانی کیسی ہی ہو اگر اس کا ہر صفحہ غم و الم کی ایک تصویر ہے تو اس کی اشاعت یقینی ہے اور عورتوں کی آنکھوں سے آنسو نکلوانے کے لئے ایسے مصنفین طرح طرح کی ترکیبیں کرتے ہیں۔ کبھی ایک پھول سے بچے کو سات آٹھ سال کی عمر میں ہی مار دیتے ہیں اور بستر مرگ پر توتلی باتیں کرواتے ہیں۔ کبھی کسی یتیم کو رات کے بارہ بجے سردی کے موسم میں کسی چوک پر بھوکا اور ننگا کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور بھی رقت دلانی ہو تو اسے سید بنا دیتے ہیں۔ یہ کافی نہ ہو تو اسے بھیک مانگتا ہوا دکھا دیتے ہیں کہ ’’میری بوڑھی ماں مر رہی ہے۔ دوا کے لئے پیسے نہیں۔ خدا کے نام کا کچھ دیتے جاؤ۔ کبھی کسی سگھڑ خوب صورت نیک طینت لڑکی کو چڑیل سی ساس کے حوالے کرا دیا۔ یا کسی بدقماش خاوند کے سپرد کر دیا۔ اور کچھ بس نہ چلا تو سوتیلی ماں کی گود میں ڈال دیا اور وہاں دل کی بھڑاس نکال لی۔ پڑھنے والی ہیں کہ زار و قطار رو رہی ہیں اور بار بار پڑھتی ہیں اور بار بار روتی ہیں۔

خود عورت کی تصنیفات اکثر ہچکیوں میں لپٹی ہوئی اور آنسوؤں میں لتھڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں جو کتابیں عورتوں نے لکھی ہیں۔ اکثر میں نزع، بیماری، دق، سل، خودکشی، زہر، ظلم و تشدد، ایک نہ ایک چیز کا سماں باندھ دینا گویا فرض جانا۔ ہاں کوئی کروشیا یا کھانا پکانے کی کتاب ہو تو اور بات ہے۔

آخر یہ مصیبت کیا ہے۔ یہ بات بات پر صفِ ماتم بچھ جانا کیا معنی؟ بار بار سوچتا ہوں کہ آخر اس امریکن نقاد نے کیا غلط کہا؟ جل کے کہا سہی۔ لیکن بڑی بات کیا کہی

کسی گھر میں موت واقع ہو جائے تو زنانے اور مردانے کا مقابلہ کیجئے۔ مردوں کا ماتم تو صاف دکھائی دیتا ہے۔ بیچارے گھر کے باہر بیٹھے ہیں۔ سر نیچا کئے چپ چاپ۔ آنکھیں سرخ ہیں۔ کبھی کبھی آنسو بھی ٹپک پڑتے ہیں یا کسی نہ کسی انتظام میں مصروف ہیں۔ چہرے پر تھکن اور اداسی بنی ہے اور قدم ذرا آہستہ آہستہ اٹھتے ہیں۔ اور زنانے کا ماتم تو دور دور سے موت کے گھر کا پتہ دیتا ہے۔ اور جب کوئی نئی فلاں بی بی ڈولی سے اتر کر اندر جاتی ہے تو ماتم کی بھنبھناہٹ میں از سر نو ایک لہر اٹھتی ہے۔ جیسے یک لخت کوئی ہوائی جہاز سے گر پڑے۔ مرد تو دوسرے تیسرے دن کام میں مشغول ہو جاتے ہیں لیکن عورتوں کے ہاں مہینہ بھر کو ایک کلب قائم ہو جاتی ہے۔ گلوریوں پر گلوریاں کھائی جاتی ہیں اور چیخوں پر چیخیں ماری جاتی ہیں۔

کہیں بیمار پرسی کو جاتی ہیں تو بیمار میں وہ وہ بیماریاں نکال کر آتی ہیں جو ڈاکٹر کے وہم و گمان میں نہ تھیں۔ جتنی دیر سرہانے بیٹھی رہیں، بیمار کی ہر کروٹ پر ہاتھ ملتی ہیں۔ بے چارہ کہیں گلا صاف کرنے کو بھی کھانسے تو یہ سورة یٰسین تک پڑھ جاتی ہیں۔ رنگت کی زردی ، بدن کی کمزوری، سانس کی بےقاعدگی، ہونٹوں کی خشکی، ہر بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ حتیٰ کہ بیمار کو بھی اپنی یہ خطرناک حالت دیکھ کر چار و نا چار منحنی آواز میں بولنا پڑتا ہے۔ جوں جوں بیمار پرس عورتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے موت قریب آتی جاتی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ بعض عورتوں کو مریض کے بچ جانے پر صدمہ ہوتا ہو گا کہ اتنی تو بیمار پرسی کی اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔

عورتیں نہ صرف دوسروں کے غم میں مزے لے لے کر روتی ہیں۔ بلکہ دوسروں کی اشک باری کے لئے خود بھی سامان مہیا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتیں۔ ایک پرانے زمانے کے بزرگ اپنی اہلیہ کے متعلق فرمایا کرتے ہیں کہ ہماری گھر والی بھی اپنا جواب نہیں رکھتیں کہ کوئی پڑوسن آ کے کہہ دے  کہ اے بوا ماشا اللہ آج تو تمہارے چہرے پر رونق برس رہی ہے تو جھنجھلا کر بول اٹھتی ہیں کہ تیرے دیدوں میں خاک۔ میں تو مری جا تی ہوں اور میرا برا چاہنے والوں کو ابھی میں ہٹی کٹی نظر آتی ہوں۔ اور کوئی آ کے کہہ دے کہ اے ہے بیٹی تجھے کیا ہو گیا۔ تُو تو دن بدن گھلتی جاتی ہے۔ نہ جانے تجھے کیا غم کھا گیا؟ تو ایسی پڑوسن کو فوراً خالہ کا لقب مل جاتا تھا۔ بڑی خاطر تواضع ہوتی تھی۔ گھر کا کام کاج چھوڑ کر شام تک ان کو اپنے دکھڑے سنائے جاتے تھے اور چلتے وقت وہ پانچ روپے قرض بھی لے جایا کرتی تھیں جن کی ادائیگی کے لئے کبھی تقاضا نہ کیا جاتا تھا۔

اپنے اوپر رحم دلانے کا مرض جس کسی میں بھی پایا جائے۔ بہت ذلیل مرض ہے لیکن عورتوں میں یہ اس قدر عام ہے کہ خوش حال گھرانے کی بہو بیٹیاں بھی گفتگو میں چاشنی پیدا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی دکھ وضع کر لیتی ہیں۔ اور موقع موقع پر سنا کر داد لیتی ہیں۔

اس تحریر سے میرا مطلب ان بہنوں کا مذاق اڑانا ہرگز نہیں جو فی الواقع غمگین یا مصیبت زدہ ہیں۔ ان کی ہنسی اڑانا پرلے درجے کی شقاوت ہے۔ جو خدا مجھے نصیب نہ کرے۔ کسی کا غم ایسی بات نہیں جو دوسرے کی خوش طبعی کا موضوع بنے۔ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ زندگی کا بہت سا دکھ، ضبط، تحمل، اور خندہ پیشانی سے دور ہو سکتا ہے۔ کسی مصیبت زدہ شخص کے ساتھ سب سے بڑی ہمدردی یہ ہے کہ اس کا غم غلط کرایا جائے۔ کسی بیمار کی سب سے بڑی تیمار داری یہ ہے کہ اس کی طبیعت کو شگفتہ کرنے کا سامان پیدا کیا جائے۔ غم کو برداشت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کو ضبط کرنے کی کوشش کی جائے۔ مہذب شص کی یہی پہچان ہے۔ اپنے دکھ کے قصے کو بار بار دہرا کر کسی دوسرے شخص کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا گویا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔ خود بھی ہنسو اور دوسروں کو بھی ہنساؤ۔ دنیا میں غم کافی سے زیادہ ہے اس کو کم کرنے کی کوشش کرو، ہنسنا اور خوش رہنا دماغ اور جسم کی صحت کی نشانی ہے۔ غم نگار مصنفین کو میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ وہ شخص انمول ہے جو اپنی تحریر سے ہزارہا لوگوں کو خوش کر دیتا ہے اور وہ شخص خدا کے سامنے جواب دہ ہو گا جو اپنے زور قلم سے ہزارہا جوان، معصوم، خوش مزاج عورتوں اور مردوں کو رُلاتا ہے۔ اور رُلاتا بھی اس طرح ہے کہ نہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے نہ کوئی دل میں امنگ پیدا ہوتی ہے۔ اور ہزار قابل افسوس ہے وہ شخص جو یہ سب کچھ کر کے بھی اپنی انشا پردازی پر ناز کرتا ہے۔

پطرس بخاری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خاص بندوں پر خاص کرم
  • کفن دفن​
  • اللہ دتا
  • سفرنامہ بھارت – پانچویں قسط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں
پچھلی پوسٹ
غمِ دوراں سےفرصت کا کوئی لمحہ چرالینا

متعلقہ پوسٹس

خوابوں کے شہسوار

دسمبر 25, 2024

دو سیاح

جنوری 11, 2020

معدہ (طب نبویﷺ کی روشنی میں)

اپریل 29, 2026

معاشرہ پھول بنائیں انگار نہیں !

جنوری 2, 2021

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

مکینوں کے دْکھ

دسمبر 12, 2025

یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے ہمارا

مئی 25, 2024

ذائقے کی لطیف حقیقت

دسمبر 25, 2024

لالچ

مارچ 25, 2022

ایک سپاہی کے خواب

اگست 20, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مدینہ منورہ کے کبوتر

مئی 25, 2024

غیر متوقع آفت یا سیاسی انتقام؟

ستمبر 6, 2020

روشنی کی پناہ

دسمبر 13, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں