خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادل نہیں کرتا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

دل نہیں کرتا

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025 0 تبصرے 68 مناظر
69

دنیا میں ازل سے کچھ بیماریاں لاعلاج تھیں ، لاعلاج ہیں اور لاعلاج رہیں گی۔ میڈیکل سائنس، حکمت، ہومیو پیتھک، روحانیت، کالا جادو، عملیات اور علم نجوم جتنی بھی ترقی کرلے اور جیسی بھی ممکن ہو ایڈوانس ریسرچ کرلے مگر افسوس کہ یہ لاعلاج بیماریاں لاعلاج ہی رہیں گی اور ان بیماریوں کے شکار مریض مایوسی و ناکامی کے ساتھ یہاں سے واپس چلے جائیں گے۔ ان میں سب سے مہلک اور لاعلاج بیماری کا نام ہے ” دل نہیں کرتا”۔میں جب ایسے لاعلاج مریضوں کو دیکھتا ہوں اور ان کے شکستہ چہروں پر نگاہ دوڑاتا ہوں تو دل یہ سوچ کر خون کے آنسو روتا ہے کہ کاش! کوئی چارہ گر ایسا بھی ہوتا جو اس لاچاری کا مسیحا بن کر ان کی زندگیوں کو مسرت اور شادمانی سے لبریز کردیتا، جو در در پہ جاکر اپنے دکھڑا سناکے عاجز آگئے اُن کا ایک ہی چٹکی میں کام کردیتا اور افق کے ساتھ نظریں گاڑھے کہیں کسی دوسری دنیا سے مدد کی آمد کے منتظر مشتاق نگاہوں کی آس کو اپنی طلسمی پھکی سے پورا کردیتا۔
آپ دور کیوں جاتے ہیں کسی بے کارنوجوان سے پوچھیے کہ سارا دن موبائیل پہ بیٹھ کر وقت ضائع کرتے ہو ، اس کی بجائے سٹڈی کیوں نہیں کرلیتے تو جواب ملتا ہے” آپ کا ارشاد بجا مگر دل نہیں کرتا”۔اور ” دل نہیں کرتا” والی بیماری چونکہ لاعلاج ہے اس لئے ایسا مریض بھی لاعلاج ہے جس کیلئے آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے سوائے درگزر کرنے اور خاموشی اختیار کرنے کے۔ اس لئے کہ اگر آپ نے ایسے لاعلاج مریض کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ کرکے بیماری کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی تو اغلب امکان ہے کہ مریض اپنا ذہنی توازن کھو کر آپ کے توازن کو بھی غیر متوازن کردے گا اور آپ شام تک کسی سرکاری ہسپتال میں درد کی شدت سے ” ہائے میں مرگیا” کہتے ہوئے پائے جائیں گے۔
ہمارے حلقہ ارباب کے ایک اہم رکن اور دیرینہ شناسا قبلہ ” پتلے میاں آٹھوں پہر والے” کا شمار بھی اُن مریضوں میں ہوتا ہے جو ” دل نہیں کرتا” جیسی بیماری کا شکار ہیں۔ آپ کے اپنے بقول آپ پر اس خطرناک وائرس کا حملہ کب ہوا یہ تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ پہلی مرتبہ یہ بیماری اُس دن آپ پر ظاہر ہوئی تھی جب آپ اپنے ہی گھر کے ماہانہ خوراک کے بجٹ کا توازن تباہ و برباد کرتے ہوئے چھ عد پراٹھے، چار انڈے اورتین پیالے چنے کے ہڑپ کرگئے۔ آپ کا ارادہ چونکہ اگلی چوکی بھی تباہ کرنے کا تھا لہذا تازہ دم ہوکر لڑنے اور مورچے کو خالی کرنے کی غرض سے آپ ٹوائلٹ تشریف لے گئے جہاں محتاط اندازے کے مطابق آدھا گھنٹہ آپ نے تابڑ توڑ گولہ باری کی اور باہر نکل کر دوبارہ دستر خوان پر اُسی آن بان شان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔آپ کی اماں جان نے جب آپ کے خطرناک تیور دیکھے تو چمٹا آگ میں گرم کرکے بہت لاڈ سے پچکارتے ہوئے پوچھا ” پتلےبیٹے! میرے رستم ِ خوارک !چمٹا ہاف فرائی کھاؤ گے یا فل فرائی؟”۔آپ نے مگر یہ کہہ کر ماں کا دل توڑ دیا کہ ” نہیں بس۔ اب دل نہیں کرتا”۔ اُس چمٹے کا مگر کمال دیکھیے کہ وہ وائرس اب گھر میں سویا رہتا ہے لیکن جیسے ہی پتلے میاں کہیں خوشی کی دعوت پر جائیں یا فوتگی کے سوگ پر ، وہ فورا بیدار ہوکر پتلے میاں کے پتلے معدے کو سگنل بھیج دیتا ہے اور بس پھر وہ گھڑمس مچتا ہے کہ کوئی ڈونگا، پرات یا روٹی سلامت نہیں بچتی اور جب دھول بیٹھتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ پتلے میاں ہیں اور وہ اُن کے آگے خالی پلیٹوں کا لشکر جرار شکست کھا کے نیم مردہ عالم میں پڑا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود پتلے میاں جہاں بھی جائیں ، اپنی روایت اور پرم پورہ نبھانے کے بعد یہی کہتے ہیں ” اب نہ وہ خوراک رہی نہ وہ خوراک کھلانے والے۔ اسی وجہ سے اب میرا دل نہیں کرتا”۔
مجھے ایک ایسے ڈاکٹر صاحب سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا ہے جو معمولی سے سر درد کیلئے بھی مریض کو آٹھ سے دس ہزار کے ٹیسٹس کروانے کا کہہ کر اُنہیں اپنے کلینک کے ساتھ ملحقہ لیب میں پرچی دے کر” ریفر” کر دیتے ہیں جس کے ایک کونے میں بہت ہی باریک لکھائی میں ” م-19، م-20″ وغیرہ لکھا ہوتا ہے جس کا مطلب مریض نمبر 19 اور مریض نمبر 20 ہے۔ میں نے وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ ایک مرتبہ لیب والے اور ڈاکٹر صاحب کا مریضوں کی تعداد پر جھگڑا ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول اُن کی دیہاڑ نو ہزار بنتی تھی مگر لیب والا آٹھ ہزار نو سو پچاس روپے دینے پر مصر تھا۔ اُس وقت تو ڈاکٹر صاحب نے پیٹ پر پتھر رکھتے ہوئے پچاس روپے کا بھاری نقصان برداشت کرلیا مگر مستقبل میں ایسے ہولناک حادثات سے بچنے کیلئے پریس سے نئی پرچیاں چھپوائیں جن پر ایک کونے میں ” م۔۔۔۔۔۔۔” لکھو ادیا۔اُس کے بعد سے اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ میں نے اُن سے اپنا چیک اپ کرواتے ہوئے پوچھ ہی لیا کہ سر! کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ معمولی امراض کے مریضوں کو صرف میڈیسنز دے کر آپ بھیج دیا کریں۔ اُنہوں نے میری بات کو بہت توجہ سے سن کر جواب دیا کہ ” آپ کی بات تو بہت معقول ہے مگر کیا کروں دل نہیں کرتا”۔
ایک مرتبہ اپنے عزیز کے ولیمے پر ایک ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے منسلک ” صاحب” سے ملاقات ہوگئی، جہاں بین الاقوامی سیاست سے لیکر ” ہوم سیاست” تک تمام موضوعات زیرِ بحث آئے جن میں تمام شرکائے محفل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی سیاست کو سمجھنا اور اُس کے متعلق پیشن گوئی کرنا ” ہوم سیاست” کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہے۔ اثنائے گفتگو میں نے اُن صاحب کے کان میں یہ مسئلہ بھی ڈال دیا کہ شناختی کارڈ بنوانے والے حضرات پہلے نادرا کے دفتر جا کر فارم بنواتے ہیں اور پھر اُس فارم کو ” تصدیق” کرنے کیلئے اُنہیں چار پانچ میل کا سفر کرکے واپس شہر میں جاکر ہائی سکول کے درجہ چہارم کی منت کرنا پڑتی ہے مگر وہ آگے سے ایک ہی جواب دیتا ہے کہ ” ہیڈ ماسٹر صاحب دورے پر ہیں”، تو کیا ایسے ممکن نہیں کہ تصدیق کا عمل بھی نادرا کے اندر ہی شروع کروادیا جائے تاکہ عوام کیلئے سہولت پیدا ہوا۔اُنہوں نے کمال شفقت اور مہربانی سے سارے امور سے توجہ موڑ کر میری بات پر توجہ فرمائی، سر بھی ہلایا اور آخر میں مجھے اس جواب سے مشرف فرمایا،” آپ کہتے تو ٹھیک ہیں۔ اس میں عوام کیلئے تو واقعی سہولت ہے اور ہمیں ایسا قانون بنانے کی فوری ضرورت بھی ہے مگر دل نہیں کرتا”۔

گمی کڑچھا نام کے ایک صاحب ہمارے محلے میں کرائے دار بن کر آئے اور ” اچھو ڈیپارٹمنٹل سٹور” سے سودا سلف لینے کا کھاتہ کھلوا کر باقاعدگی سے ہر ماہ کی یکم کو راشن اپنی نگرانی میں تلوا کر لے جاتے۔ اچھو بھائی کیونکہ شریف آدمی تھے اوپر سے اقلیتی برادری سے اُن کا تعلق تھا اس لئے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تھے اور بس اتنا پوچھ لیتے تھے کڑچھا جی ! پھر کیا نئی تازی ہے۔ اس بار کچھ نیا ہوگا یا وہی نپا تلا سامان ِ کریانہ۔ گمی جی کیونکہ ایک سیدھے سادھے بھولے بھالے انسان ہیں اس لئے اچھو کے اشاروں کنایوں کی زبان کو کیا خاک سمجھتے ، بس جواب میں اتنا ہی کہتے ” ارے نہیں اچھو میاں! نیا ملک بنا کر دیکھ لیا اُس سے کچھ نہیں ہوا تو نیا سامان لے جانے سے کیا ہوگا بھلا۔ تم مجھے وہی پرانی لسٹ والا سامان ہی دے دو”۔ اور یوں کرتے کرتے اچھی خاصی ادھار کی رقم بن گئی جس کے بعد ایک دن چپکے سے رات کو گاڑی منگوائی اور بمع ساز و سامان محلے سے آسانی اور سہولت کے ساتھ منتقل ہوگئے۔ ایک دن مجھے بازار میں سرِ راہ مل گئے تو میں نے جھک کر مصافحہ کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہوں نے پہچاننے سے انکار کردیا۔ میں نے اس پر اچھو کریانے والے کی دکان یاد دلائی تو بہت مسرور ہوئے اور سُن کر فرمایا کہ ” بھئی! خدا لگتی کہوں تو اچھو جیسا شریف سخی اور ادھار کھاتے داروں کو بھولنے والا انسان مجھے پھر کبھی نہیں ملا۔ بس کچھ نامساعد حالات نے مجبور کردیا تھا ورنہ میں اچھو کے محلے سے کبھی نہ نکلتا”۔ میں نے جواب میں عرض کرتے ہوئے کہا کہ اُس کے ادھار کی واپسی کا ہی کچھ سوچ لیں۔ میری بات سُن کر رنجیدگی اور افسردگی کے ساتھ سر جھکا کر کچھ دیر کیلئے سوچا اور پھر سر اٹھاکے فرمایا” میاں تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میرا دماغ بھی یہی کہتا ہے کہ اچھو کے بارے میں سوچوں۔ مگر کمبخت دل نہیں کرتا”۔
سو صاحبان! میرے ساتھ آپ بھی مل کر میڈیکل، حکمت ، ہومیو ، کالے جادو، عملیات ، سفلی علم ،علم جفر اور علم نجوم کی تمام کتابوں کا مطالعہ کرکے اس لاعلاج بیماری کا علاج دریافت کریں جس کا نام ہے ” دل نہیں کرتا”۔

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اُردو ادب میں بانو قدسیہ کا مقام
  • گِلہ کرنے پہ بھی مَیں
  • ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں
  • منتظر ہے شام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تنہائی
پچھلی پوسٹ
آؤ

متعلقہ پوسٹس

والدہ مرحومہ کی یاد میں

نومبر 14, 2025

سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے

نومبر 28, 2021

نظر آتی ہے اب بھی خواب میں

جون 8, 2020

ہے بحرِ بے کَنار سے اَفزُود تیری یاد

اکتوبر 27, 2025

لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی

جنوری 8, 2022

حالات نے ذرا بھی سنورنے نہیں دیا

اکتوبر 24, 2025

سبحان الذی خلق الازواج میں چھپی حکمت

نومبر 6, 2025

ہم نے مل کر جناب لوگوں سے

جنوری 12, 2025

روشنی بھی سرِ افلاک مجھے ڈھونڈے گی

مارچ 26, 2020

برسات کی خشک شام

مارچ 6, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محبسِ خواب میں تعبیر نہیں کھلتی...

اپریل 5, 2022

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

جون 21, 2020

یوم عہد وفا – 14 اگست

اگست 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں