خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان بچوں اور پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔ طلاق سے مراد ازواجی رشتے کا باقاعدہ خاتمہ ہے جو بظاہر ایک قانونی اور مذہبی عمل ہے مگر اس کے پیچھے کارفرما عوامل نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہیں۔ اگر اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اسباب مذہبی فہم کی کمی معاشرتی، دباؤ سیاسی ، معاشی ناہمواری اور نجی جذباتی ناپختگی وغیرہ ہیں۔

مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام میں طلاق کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے اور اسے آخری حل کے طور پر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاق کا طریقہ کار اکثر جہالت اور غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ بہت سے لوگ غصے یا وقتی جذبات میں آ کر طلاق دے دیتے ہیں جبکہ انہیں اس کے شرعی تقاضوں کا علم نہیں ہوتا۔ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا یا عدت کے احکام کو نظر انداز کرنا نہ صرف دینی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں خاندان ٹوٹتے ہیں اور بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کی صحیح سمجھ نہ ہونے کے باعث لوگ شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں ۔ علماء سے رہنمائی کی بجائے غیر مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر طلاق کی ایک بڑی وجہ خاندانی نظام میں بگاڑ ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں ساس بہو کے جھگڑے یا دیگر رشتہ داروں کی مداخلت اکثر میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کر دیتی ہے۔ والدین کا بے جا دباؤ اور بہن بھائیوں کی زبردستی بھی اس رشتے میں دراڑ ڈالتی ہے۔ بعض اوقات لڑکی یا لڑکے کو اپنی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ بعد میں علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پسندی نے بھی ازواجی تعلق کو ایک بوجھ بنا دیا ہے جہاں محبت اور برداشت کی بجائے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

سیاسی اور سماجی حالات بھی اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، مہنگائی اور عدم استحکام نے گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جب ایک شخص معاشی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کا اثر اس کے رویے پر پڑتا ہے اور وہ اپنے قریبی رشتوں میں بھی چڑچڑا پن اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح معمولی تنازعات بھی سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سماجی میڈیا نے بھی اس مسئلے کو ایک نئی جہت دی ہے جہاں غیر حقیقی توقعات اور دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ ازواجی تعلقات میں بے اطمینانی پیدا کرتا ہے۔

اقتصادی عوامل طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کم آمدنی اور بے روزگاری ازواجی زندگی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے نہ ہوں تو میاں بیوی کے درمیان جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔ بعض اوقات خواتین کو بھی معاشی مجبوری کے تحت کام کرنا پڑتا ہے جسے بعض مرد اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں خواتین خودمختار ہوتی ہیں وہاں وہ ظلم اور ناانصافی کو برداشت کرنے کی بجائے علیحدگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں معاشی عدم توازن دونوں صورتوں میں طلاق کا سبب بن سکتا ہے۔

نجی اور جذباتی عوامل بھی اس مسئلے کی جڑ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو شادی سے پہلے ازواجی زندگی کے بارے میں کوئی عملی تربیت نہیں دی جاتی۔ جذباتی ناپختگی اور برداشت کی کمی کے باعث وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کی بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اَنا پرستی اور ضِد بھی تعلقات کو خراب کرتی ہے۔ بعض لوگ شرافت کے نام پر خاموشی اختیار کرتے ہیں جبکہ دوسرے چالاکی سے حالات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں جس سے عدم اعتماد بڑھتا ہے اور رشتہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

طلاق کے بعد سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔ ان کی ذِمہ داری کا تعین ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور اکثر وہ والدین کی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعلیم تربیت اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں بچے ماں یا باپ میں سے کسی ایک سے دور ہو جاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طلاق کے بعد بچوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس سے ایک نئی نسل مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔

ایک اور تشویشناک پہلو عدت کے دوران اور اس کے بعد غیر اخلاقی تعلقات کا بڑھتا ہوا رُجحان ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی اُصولوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ بعض افراد طلاق کو آزادی سمجھ کر غیر ذِمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے۔ یہ رُجحان خاص طور پر شہری علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے جہاں روایتی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔

اکیسویں صدی میں جہاں شعور اور تعلیم میں اضافہ ہونا چاہیے تھا وہاں طلاق کے مسائل نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ تعلیم کی کمی اور جہالت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ بھی برداشت اور سمجھداری کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ جدید طرز ِزندگی نے سہولتیں تو فراہم کی ہیں مگر رشتوں کی مضبوطی کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ فوری فیصلے کرنے کے عادی ہو گئے ہیں ، صبر و تحمل جیسی اقدار کم ہوتی جا رہی ہیں۔

اس صورتحال کا حل صرف قانونی اقدامات میں نہیں بلکہ سماجی اور فکری اصلاح میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے مذہبی تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ نکاح سے پہلے تربیتی پروگرام متعارف کروائے جائیں تاکہ نوجوان ازواجی زندگی کی ذِمہ داریوں کو سمجھ سکیں۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ میاں بیوی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گُریز کریں۔ معاشی استحکام کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور مہنگائی پر قابو پایا جائے تاکہ گھریلو دباؤ کم ہو۔

تعلیم کو عام کرنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تعلیم انسان کو برداشت اور سمجھداری سکھاتی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مثبت کردار ادا کرے اور طلاق کو ایک عام یا آسان حل کے طور پر پیش نہ کرے بلکہ رشتوں کی اہمیت کو اُجاگر کرے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین اور ان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس عمل کا شکار نہ بنیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طلاق ایک حل تو ہو سکتی ہے مگر یہ آخری حل ہونا چاہیے نہ کہ پہلا قدم۔ اگر ہم اپنے رویوں میں توازن، برداشت اور ذِمہ داری پیدا کر لیں تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ ابھی بھی خاندانی نظام کی مضبوطی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اکسیر
  • سنترپنچ
  • بزمِ نشاطِ خاص میں ان کا وقار، زین
  • دیوالی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زندگی! تجھے کیا چاہیے؟
پچھلی پوسٹ
اللہ کی محبت کے رنگ

متعلقہ پوسٹس

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری قسط

جنوری 19, 2025

بنام شاہزادہ بشیر الدین صاحب

دسمبر 8, 2019

بلوچستان کی آزمائش

اکتوبر 10, 2025

یہ سال بھی آخر بیت گیا

دسمبر 29, 2019

منٹو مغربی استعمار کے خلاف ایک توانا آواز

اپریل 7, 2026

مسلمانوں کالباس (پہلاحصہ)

مئی 12, 2024

جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء

جولائی 1, 2020

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

سنگم کا ٹینڈوا

نومبر 21, 2019

رحمۃللعالمین ﷺ

جون 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اللہ کو بھولنے سے لے کر...

نومبر 9, 2020

شبنما

جون 14, 2020

ساری دنیا دیکھ رہی ہے، دیکھو...

فروری 21, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں