خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو پیڈیااُردو منقبت کی روایت
اردو پیڈیااردو تحاریرتحقیق و تنقید

اُردو منقبت کی روایت

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2023
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2023 0 تبصرے 101 مناظر
102

اس کائناتِ رنگ و بو میں ایسی شخصیات قابلِ توصیف اور لائق تقلید ہوتی ہیں جو حق و صداقت کا عملی نمونہ بن جائیں۔ حق تو یہ ہے کہ ایسی عصمت مآب شخصیات ہی افراد کی کردار سازی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح عوام الناس ان پاکیزہ نفوس کی تقلید کر کے اپنی فطری آلائشوں کو پاک کرتے ہیں اور دنیا اور آخرت کے لیے مثالی زندگی کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ آپ عالمی ادب کا مطالعہ کیجیے تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں حق و صداقت کی علمبردار شخصیتوں کے لیے ہمیشہ تحسینی کلمات ہی ملتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہر قوم اپنے مذہبی معتقدات کو اہمیت دیتی ہے اور اعتقادات کی مضبوطی صرف نظریات ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے کچھ نفوس بھی درکار ہوتے ہیں۔ کسی بھی فرد کی ذات یا شخصیت کی تعمیر و تہذیب میں یہی نفوس طاہرہ ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اُردو شاعری کی روایت میں مذہبی شخصیات کے کارناموں کا ذکر بطریقِ احسن ملتا ہے۔ نعت کی ایک مضبوط اور توانا روایت ہماری شاعری کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ اسی طرح عمائدین ملت، فاتحین اور شہدائے ملت کے لیے منظومات کا ایک سلسلہ بھی ہماری شعری روایت کا حصہ ہے۔ سلاطین، ولیوں اور بادشاہوں کے قصائد بھی ہماری شاعری کا اہم جزو ہیں۔ اسی طرح سیدالشہدا امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کی کربلا کے میدان میں بے مثال قربانیوں کو ’’سلام‘‘ کی شکل میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ محمدؐ و آلِ محمدؑ کے خانوادے کے اکابرین اور ان سے منسلک احباب کی مدح سرائی کے لیے ’’مناقب‘‘ کی صنف کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ مختلف اصناف کے ذریعہ مقدس و برگزیدہ شخصیات کو اُردو شاعری میں محض اس لیے جگہ دی جاتی رہی ہے کہ اس صورت میں ’’قوم‘‘ کی ’’تعمیر نو‘‘ ہو سکے۔
سیّد وحیدالحسن ہاشمی نے مقدس شخصیات کے محاسن اُجاگر کرنے کے لیے نعت، سلام، قصائد، نظم اور منقبت کا سہارا لیا ہے۔ دوسری اصناف کی نسبت منقبت میں ان کے طبعی جوہر کھل کر ہمارے سامنے آئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری اصناف کی نسبت انہیں یہ صنف کیوں پسند ہے؟ اس کا بنیادی سبب تو یہ ہے کہ اس صنف میں موضوع کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں محمد ؐ و آلِ محمدؑ کے خانوادے کے کسی بھی فرد یا پہلو پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ وحید ہاشمی ایک پر تجمل اسلوب کے حامل شاعر ہیں اور ان کا مزاج قصیدے کے لیے موزوں ترین ہے۔ قصیدے کا یہی انداز جب منقبت کے روپ میں اُجاگر ہوتا ہے تو زیادہ با وقعت اور پر لطف ہو جاتا ہے۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی منقبتوں کو زادِ آخرت سمجھتے ہیں اور ان کا واضح موقف یہ ہے کہ ان کے یہی اشعار روز جزا ان کی شفاعت کا سبب بنیں گے۔ سب سے پہلے سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی منقبت نگاری کے حوالے سے خود ان کی رائے دیکھ لیجیے۔ وہ اپنی کتاب ’’معصومینؑ ‘‘ میں رقم طراز ہیں :
’’——–
میں نے ان منقبتوں میں زبان سے زیادہ خیال کو اہمیت دی ہے۔ اسی طرح صنائع بدائع سے بھی حتی الامکان گریز کیا ہے۔ منقبت کے لئے جذبۂ صادق اور گہری عقیدت درکار ہے۔ میری عقیدت اور میرے جذبات جہاں تک مجھے لے گئے، میں نے ان کی عکاسی کر دی ہے۔ عقیدت کو فن کی کسوٹی پر پرکھنا اور محبت کو فن کی ترازو پر تولنا میرے نزدیک بڑا مشکل کام ہے، لیکن میں نے پوری کوشش کی ہے کہ فنّی لوازمات کہیں مجروح نہ ہوں ، مگر میں بھی ایک بشر ہوں اور ہر بشر معصوم نہیں ہوتا۔
جس امر کا میں نے زیادہ خیال رکھا ہے وہ زبان کی سادگی ہے۔ جہاں تک ہو سکا عربی اور فارسی ترکیبوں سے گریز کیا ہے۔ ہلکے پھلکے انداز میں سادہ زبان استعمال کی گئی ہے تاکہ محمد ؐ و آلِ محمدؑ کے اوصاف اور ان کا پیغام عوام تک پہنچ سکے۔ اس میں کچھ میری عادت اور کچھ عوام الناس کے معیارِ سماعت کا دخل ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ تو ارد سے جہاں تک ہو سکے بچا جائے۔ طرحی منقبت کے علاوہ ساری زمینیں میری ہیں۔ میرا کلام سُن کر اگر کسی صاحب نے میری زمین پر طبع آزمائی کی ہے تو یہ ان کی سعادت مندی ہے۔
میں نے یہ تمام منقبتیں نہ مالی منفعت اور نہ شہرت کے لئے کہی ہیں ان کا مقصدِ وحید یہ تھا کہ کچھ ثواب مل جائے اور کچھ قارئین کو حاصل ہو۔ مدحتِ محمدؐ و آلِ محمدؑ ایک ایسا خزانہ ہے، جو ہمیشہ بھرا رہتا ہے جو شخص خلوصِ دل سے کوشش کرے اُسے اس خزانے سے بہت کچھ عطا ہو جاتا ہے۔
——–‘‘
سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی منقبتوں کی اہم ترین خصوصیت ان کی اہلِ بیت کے خانوادے سے ’’والہانہ عقیدت‘‘ ہے۔ وہ محض حضور اکرم ؐ اور ان کی آلؑ سے ہی محبت نہیں کرتے بلکہ اس فرد سے بھی عقیدت رکھتے ہیں جو ان سے منسلک ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ
کس طرح اہلِ بیتؑ کا گھر چھوڑ دیں وحیدؔ
پل کر بڑے ہوئے ہیں یہیں کے نمک سے ہم
عقیدت کے اظہار کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ ایک سطح پر انسان محض رسماً اپنی عقیدت کا اعلان کرتا ہے۔ دوسری سطح وہ ہے جہاں انسان دل سے کسی فرد کی توقیر تو کرے لیکن اس کا عمل اس کی فکر کا ہمنوا نہ ہو۔ عقیدت کی بہترین صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان کے رگ و پے میں ممدوح کی محبت لہو بن کر گردش کرنے لگے۔ وحیدالحسن ہاشمی کے خیال میں محمد ؐ و آلِ محمدؑ کے عاشق کو نہ صرف دل میں ان کی محبت کی شمع روشن کرنا چاہیے بلکہ اس کے عمل سے بھی ان حضرات کی مہک آنا چاہیے یعنی وحید ہاشمی کے نزدیک باکمال عاشق وہ ہوتا ہے جو فطری اور عملی ہر سطح پر اپنے محبوب کا آئینہ ہو۔ ان کا واضح موقف یہ ہے کہ
تم میری عقیدت کو نجف میں کہیں ڈھونڈو
وہ میرا محلہ ہے وہیں میری گلی ہے
سیّد وحیدالحسن ہاشمی کے منقبتی اشعار بحرِ عقیدت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان میں عقیدت کی تپش بھی ہوتی ہے اور مودّت کی مہک بھی۔ آپ ان کے درج ذیل اشعار دیکھیے کہ اُن میں محمد ؐ و آلِ محمدؑ سے والہانہ عقیدت کے کیسے کیسے نادر گہر ملتے ہیں :

ہو نہ جاگزیں جب تک اُلفتِ علیؑ دل میں
طے یہاں سے محشر کا راستہ نہیں ہوتا
……
علیؑ کی دید کا غل ہو تو اِک جہان، رُکے
سنے جو نام تو جاتی ہوئی یہ جان، رُکے
……
چلے تو ہو سوئے فردوس چھوڑ کر دنیا
علیؑ کے عشق کا دریا بھی درمیان میں ہے
……
بندگانِ حق کو دینِ حق پیمبرؐ سے ملا
دین کو مشکل کشا اللہ کے گھر سے ملا
……
ہو گا نہ کم علیؑ کی شجاعت کا تذکرہ
تاریخ چپ رہے گی تو خیبر بتائے گا
……
تفسیر کسی غیر سے کیوں پوچھنے جاؤں
قرآن تو مجھ کو درِ حیدرؑ سے ملا ہے
……
میں ان پہ جان دے کے لحد تک تو آ گیا
اب اس کے بعد میرا نہیں ان کا کام ہے
……
مریمؑ کا فاطمہؑ سے بھلا کیا مقابلہ
مریم تو عابدہ ہیں عبادت ہیں فاطمہؑ
……
نبیؐ کی سیرت و کردار ہیں حسینؑ و حسنؑ
سوال ایک تھا دنیا کا، دو جواب آئے
……
وفا در در بھٹکتی پھر رہی تھی صحن عالم میں
ہوئی تکمیل جب عباسؑ کی دہلیز پر آئی
……
تمام عُمر علیؑ کو یہی رہی حسرت
کہ ذوالفقار کے آگے کوئی جوان رُکے
……
کہیں یہی تو نہیں خلقتِ علیؑ کا سبب
اِک آئینہ بھی ہو اوصافِ انبیاء کے لیے
……
کس کس کو لاؤں مدحِ شہؑ ذی وقار میں
لفظوں کی ایک فوج کھڑی ہے قطار میں

سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی منقبتوں میں تاریخی حقائق کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں تاہم ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ان واقعات کو شعری پیرائے میں بیان کر دیتے ہیں۔ تاریخی واقعات کو منظوم کرنا کوئی دشوار عمل نہیں ہوتا لیکن کسی تاریخی سچائی اور واقعاتی صداقت کو شعری اسلوب میں اُجاگر کرنا ایک دشوار عمل ہوتا ہے اگر وحید ہاشمی چاہتے تو ان تاریخی موضوعات پر نظمیں بھی تخلیق کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ہر واقعہ کو ایک شاعر کی آنکھ سے دیکھا اور اس میں شعری جاذبیت پیدا کر کے منقبت کا شعر بنا دیا ہے۔
ان کی منقبتوں میں واقعۂ شب ہجرت، واقعۂ غدیر خم، شعب ابی طالب میں محصوری، واقعۂ عقدِ نبیؐ، حضرتِ خدیجہؑ کی والہانہ امداد، واقعۂ شبِ ہجرت، جوفِ کعبہ میں ولادت حضرت علیؑ کا واقعہ، واقعۂ جنگِ خیبر و خندق، نزول ذوالفقار کا قصہ، قصۂ صلح حدیبیہ، قصۂ باغِ فدک، واقعۂ حدیثِ کسائ، کعبہ میں دوشِ نبیؐ پر حضرت علیؑ کی بُت شکنی کا واقعہ، درِ زہراؑ پر ستارے کے اُترنے کا واقعہ، واقعۂ مباہلہ، صلحِ امام حسنؑ کا واقعہ، فطرس کو بال و پر ملنے کا واقعہ، واقعۂ رجعتِ خورشید اور اسی قبیل کے دیگر واقعات کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں لیکن آپ درج ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے کہ ان میں کسی مقام پر بھی شعریت کی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ وہ وصف خاص ہے جو خاص وحید ہاشمی کے لیے وقف ہے۔
آ نہیں سکتے پیمبرؐ تک پیمبرؐ کے عدو
ان کی نظروں میں تھا اِک لشکر ابوطالبؑ کا نام
……
ہم اس لیے تعظیم خدیجہؑ کے ہیں قائل
ایمان سے وابستہ ہے عرفانِ خدیجہؑ
……
یہ بھی اِک فخر ہے علیؑ کے لیے
تیغ نازل ہوئی انہی کے لیے
……
عزت یہ کہ آئے ہیں اسی در پہ فرشتے
رفعت یہ کہ اُترا ہے ستارہ اسی گھر میں

سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی منقبتوں میں صرف اظہارِ عقیدت اور بیانِ مودّت ہی نہیں بلکہ ان میں عصری حقائق کی پیش کش بھی ملتی ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی بھی قسم کی شاعری میں عصری حسّیت اور معاشرتی رویوں کی نگہداری نہیں ہو گی تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتی۔ وحید ہاشمی نے اپنی منقبتوں میں جہاں محمد ؐ و آلِ محمدؑ کی مدح سرائی کی ہے اور ان کے کمالات و معجزات بیان کیے ہیں وہاں انہوں نے ان کے طرزِ عمل اور اسوۂ حسنہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ آپ ان کی منقبت کے درج ذیل تین اشعار ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیے کہ وہ کس طرح آلِ نبیؐ کو زمانے کا نجات دہندہ قرار دیتے ہیں :
ذرا پکار کے آفت میں کوئی دیکھے تو
ہر اِک بلا سے بچاتا ہے نامِ آلِ نبیؑ

تمہارے بس میں نہیں ہے حصولِ امن و اماں
یہاں نہ لاؤ گے جب تک نظامِ آلِ نبیؑ

ڈروں وحیدؔ میں کیوں گردشِ زمانہ سے
مری نگاہ میں ہے صبح و شامِ آلِ نبیؑ

سیّد وحیدالحسن ہاشمی کے نزدیک معاشرتی خرابیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ آلِ محمدؐ کا صالح نظام نافذ کیا جائے۔ جو لوگ اس نظام الٰہی یا مرکز نورانی سے دور ہو جاتے ہیں عمر بھر کی روسیاہی اور ظلمتِ
شب ان کا نصیب بن جاتی ہے اور زمانے سے ان کا نام و نشان ہی نہیں سلسلۂ نسب بھی مٹ جاتا ہے۔ وحید ہاشمی اسوۂ اہلبیتؑ کو کامیابی و کامرانی کا قرینہ سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر عصرِ حاضر میں ہم سب مل کر اپنے ذہنوں میں بسے ہوئے جھوٹے خداؤں کے بتوں کو مسمار کر دیں تو آج بھی دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ آپ ان کی مختلف منقبتوں کے درج ذیل اشعار دیکھیے کہ انہوں نے ہمارے معاشرے کے کن عیوب کی نشاندہی کی ہے اور ان کی اصلاح کا کیا طریقہ وضع کیا ہے۔
ہزاروں ظلم کے طوفاں ڈبو نہیں سکتے
ہماری کشتی کا موجود ناخدا ہے ابھی
……
اختلافاتِ فروعی کی کوئی بات نہیں
غم تو اس بات کا ہے بک گئے سستے کتنے
……
یہ تو تاریخ سے پوچھو وہی بتلائے گی
چھوڑ کر ان کا عمل دہر میں بھٹکے کتنے
سیّد وحیدالحسن ہاشمی کے کلام میں ’’جوش و جذبہ‘‘ کثرت سے ملتا ہے۔ ان کے ہاں جوش سطحی الفاظ یا دھواں دھار خیالات کے باعث پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ وہ جوش ہے جو خلوص کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے۔ شاعر دو طرح سے اپنے اشعار میں جوش پیدا کر سکتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ جوشیلے، متحرک اور زور آور الفاظ استعمال کر کے اپنے قاری کے اندر جوش و خروش پیدا کر دے۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کی گرم جوشی کا سہارا لے کر اپنے خیالات کو زیادہ زورآور بنائے تاکہ اس کا قاری اس کے جذبے کی حدّت سے اپنے اندر جوش و خروش محسوس کرے۔ وحید ہاشمی کی منقبتوں میں جذبات و صداقت کی حدِّت رواں دواں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وحید ہاشمی اپنے قاری کے اندر ایسا جوش و جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اعلیٰ اخلاقی قدروں کے فروغ کے لیے کام آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ شاعر کے دل کی صداقت اگر قاری کے دل و دماغ کو معطر کر دے تو اس سے بڑھ کر اور کوئی خوبی نہیں ہو سکتی۔
آپ وحید ہاشمی کے درج ذیل اشعار کا مطالعہ فرمائیے کہ انہوں نے کس طرح اپنے منقبتی اشعار میں جوش و جذبہ پیدا کیا ہے :
ہاتھ میں میرے علیؑ کے عشق کی پتوار ہے
اب سمندر میں بھی میں ڈوبوں تو بیڑا پار ہے
……
جو فاطمہ زہراؑ کی اطاعت نہ کرے گا
مر جائے گا جنت کی زیارت نہ کرے گا
سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی منقبتوں میں سادگی اور سلاست کے باوجود صنائع بدائع کا برمحل استعمال ان کی ہنر مندی پر دال ہے۔ ان کی شاعری دراصل دل کی آواز ہے اور اس میں سے نکلی صدائیں ہشت پہلو نگینہ ہوتی ہیں جس میں تشبیہات و استعارات کی چمک دمک بھی ہتی ہے اور تراکیب و مرکبات کی جدّت بھی۔ سیّد وحیدالحسن ہاشمی کی ہنر مندی یہ ہے کہ انہوں نے صنائع بدائع کو اپنی منقبتوں کا حُسن و زیور بنایا ہے۔ مقصد و منتہیٰ نہیں۔ آپ ان کے درج ذیل اشعار کا مطالعہ فرمائیے اور ان کی صناعانہ ہنر مندیوں کی داد دیجیے۔
حرم کی گود میں اس طرح بو ترابؑ آئے
نبیؐ کے قلب پہ جیسے کوئی کتاب آئے
(تشبیہ)
قرطاس و قلم ان کے اشارے کے ہیں پابند
دنیا میں یہی باعثِ تخلیق ادب ہیں
(صنعت مراعاۃ النظیر)
اس معروضے کے آغاز میں راقم الحروف نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ عصمت مآب اور پاکیزہ اوصاف شخصیات ہی اقوام و افراد کی کردار سازی کی اہل ہو سکتی ہیں۔ سیّد وحیدالحسن ہاشمی نے اپنی منقبتوں کے ذریعہ یہ بات ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ محمدؐ و آلِ محمدؑ و ہ عظیم المرتبت نفوس ہیں جو کائنات کی ہر چیز کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ وحیدالحسن ہاشمی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے استدلال، تفکر اور شاعرانہ ہنر مندیوں سے اپنی منقبتوں کو دورِ جدید سے منسلک کر دیا ہے۔ اب ان کی منقبتوں کے مطالعہ کے بعد بلا خوف و تردد کہا جا سکتا ہے کہ عصرِ حاضر میں وحید ہاشمی نے اس صنف کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے اور جب تک صنف منقبت زندہ ہے سیّد وحیدالحسن ہاشمی کا نام زندہ و پائندہ رہے گا۔ تاہم وحید الحسن ہاشمی ہر صاحبِ دل سے یہی کہہ رہے ہیں کہ ؎
اس قدر زمانے میں مرتضیٰؑ کے احساں ہیں
لاکھ منقبت کہئے حق ادا نہیں ہوتا

ڈاکٹر سیّد شبیہ الحسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار
  • صحرائے گوبی کا طلسم
  • جلاوطن
  • سندھو کے کنارے سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں کا جائزہ
پچھلی پوسٹ
خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے

متعلقہ پوسٹس

یہ پربتوں کا عکس ہے

جون 3, 2020

پسند کی شادی

جنوری 4, 2022

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

کرونا سے مکالمہ

مارچ 22, 2020

لوگ خوابیدہ ہی سہی

فروری 21, 2022

ممتاز مفتی کی کتاب "غبارے” سے

دسمبر 16, 2019

اردو غزل – تکنیک، ہیئت اور عروض کے خدوخال

اکتوبر 9, 2022

قومی حکمت عملی کی کمی

ستمبر 8, 2025

ناقابلِ شکست بندھن

دسمبر 15, 2024

پیا سا

جنوری 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب میں چھوٹا تھا

اپریل 8, 2020

جمعِ قرآن پر اعتراضات کا جائزہ

جنوری 9, 2022

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

مئی 17, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں