خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادرد بے لگام ہو گئے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

درد بے لگام ہو گئے

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 11, 2022
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 11, 2022 0 تبصرے 68 مناظر
69

بہادر خاتون کو کھل کر ہنستے دیکھا۔ پوچھا، ”سنا ہے کہ ہر ہنسی کے پیچھے کچھ غم چھپا ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی وہ راز نہیں کھولا۔“ طنز یا کنایہ بازی تو حد ادب سے آگے ہے، ہاں رمز و اشارہ کا طریقہ تو برتا جاسکتا تھا سو کہہ دیا، ”کیا آپ بے غم ہیں؟“ جواب ملا ”انسان کے اندر پرت ہی پرت۔“

ذہین عورت تھی۔ جواب کچھ مبہم، زیادہ آشکار تھا۔ دکھوں کے جہان کی پرت پرت کھولنے کی بجائے ملفوف ہنسی میں اڑا دیا۔ جیسے کہہ رہی ہو انسان اور بے غم؟

ناممکن۔
انسان اور سکھ؟ ناممکن۔
انتر گھٹ کا دکھی، جس کے ہردے میں پیڑ ہی پیڑ بھری ہو۔
یہ پیڑ کہاں سے آتی ہے؟
اس کا انتم پڑاؤ کہاں ہو گا؟

کمزوری، پیدائشی کمزوری، جبلی ناتوانی، جنیاتی کمی و خرابی کی موجودگی میں طاقتور سے پالا جو ان کمیوں کوتاہیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ کہانی کب تک چلے گی، کہاں تک جائے گی؟

خوشی کس چیز کا نام ہے؟ کیا مکمل خوشی مل سکتی ہے؟ اور کس شرط پر ؟ کیا ایک ایسا خوشگوار معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں خوشیوں کے جام لہرائیں اور آنکھوں میں آنسو بھرا ملال نہ ہو۔

ہاں! ایک شہر تھا اومیلاس، سمندر کنارے، پہاڑوں کی اوٹ میں، حسین وادیوں میں بسا ایک عظیم شہر، جس میں دکھ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ انسان کی سب خواہشات بن قصد، بن جتن پوری ہو جاتی تھیں۔ کھانے کو سب کچھ تھا، شراب بھی اور دوسری نشہ آور چیزیں بھی جن سے مزہ دوبالا ہو جاتا لیکن ہوش و حواس نہیں کھوتے تھے۔ ان کی لت خوئے بد میں نہیں ڈھلتی تھی۔

جوانی تھی، ہمیشہ کی۔ بیماری تھی نہ موت۔ موج ہی موج۔

روک ٹوک بھی نہ تھی۔ حسن و شباب اٹکھیلیاں کرتا تھا۔ بدکاری نہیں تھی کیونکہ ملاپ کو کار خوب گردانا جاتا تھا۔ اوتار سر شام بنسی کی دھن چھیڑ لیتے لیکن شیام کو اندوہ وصل کا بوجھ اٹھانا پڑتا نہ کوئی رادھا برہا کی اگنی میں سلگتی تڑپتی تھی۔ ہر طرف وصل کے میلے تھے۔

مذہب تھا: عبادت گزار درخواست گزاری نہیں صرف شکر کے لیے قیام و قعود اور رکوع و سجود کا التزام کرتے تھے۔ ملا تھا نہ کوئی فقیہ جو تہمتیں گھڑتا۔

شہر والوں نے تمام دکھ، تکلیفیں اور مصیبتیں سب سے بڑے سٹیڈیم کے تہہ خانے میں دفن کر دی تھیں۔

ان کے ساتھ ہی زندہ درگور کر دیا گیا تھا شہر کا اکلوتا بچہ۔ سارے شہر کی بلائیں، صعوبتیں، آفتیں، کدورتیں اس میں بسیرا کیے بیٹھی تھیں۔ وہ کمزور تھا بیماریوں سے گھرا ہوا۔ سارے دکھ اس کے تن بدن کو جلاتے تھے۔ ہر سال پورے شہر کے باسیوں کے ساتھ موت سے بچاؤ کا ٹیکہ اسے بھی ضرور لگایا جاتا تاکہ وہ مر کر ان دکھوں کو لاوارث نہ کر دے، مبادا یہ سارے رنج و غم پھر گھروں میں داخل ہو کر معزز شہریوں کو نشانہ بناتے پھریں۔

سب اسے جانتے تھے۔ لیکن اس کی طرف منہ بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ شہر کے مئیر کی ڈیوٹی تھی کہیں کوئی کانٹا بھی پڑا ملے تو اٹھا کر اس تہہ خانے تک پہنچا دے اور ساتھ کچھ باسی گلا سڑا کھانا بھی جو اسے طاقت مہیا کرتا رہے جس سے وہ یہ سارے دکھ سہنے کے قابل رہے۔

دن، مہینے، سال سکون سے گزر رہے تھے۔ پھر کچھ شہریوں کو شاعری کی لت لگ گئی۔ ادب تو کب کا دفن کیا جا چکا تھا، وہ کسی دل کے نہاں خانے میں چھپی بیٹھی تھی۔ شراب و شباب کا ایک دن تنہائی میں ملاپ ہوا تو وہ پنپ اٹھی۔ اومیلاس کی پولیس کا اس طرف دھیان نہیں گیا اور وہ پھیلتی چلی گئی۔ جواں ہوئی تو اسے دکھوں کی ضرورت پڑی۔ اسے کوئی غمگین و الم ناک موضوع چاہیے تھا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تہہ خانے میں پہنچ گئی۔

تکلیفیں تو عرصہ ہوا اس نے دیکھی ہی نہیں تھیں، ظلم کی یہ انتہا دیکھی تو خون جگر سے اس کا سینہ لبریز ہو کر آنکھوں کو رنگین کر گیا۔ شاعری کو اس کا پسندیدہ موضوع مل گیا۔ سوئے ہوئے جذبات جاگ اٹھے۔

اشعار زبان زد عام ہو گئے۔

زیادہ تر معزز شہری داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر اپنی خوشیوں کی طرف لوٹ جاتے لیکن کچھ دلوں میں درد سلگتے سلگتے الاؤ بن کر بھڑک اٹھا۔ درد دل والے کسی بچے کو یوں تڑپتا دیکھ کر برداشت نہ کر سکے اور شہر کے معزز ڈاکٹر سے مدد کے طالب ہوئے۔

وہ ساری ڈاکٹری بھول چکا تھا۔ سال ہا سال بعد کوئی موت کی دوائی لینے اس کے پاس آ جاتا تھا۔ صرف موت کا ٹیکا ہی لگا سکتا تھا سو خوشی خوشی جا کر اسے موت کی نیند سلا آیا۔

درد بے لگام ہو گئے۔ آفتوں کا آتش سیال عوام الناس کی رگوں میں رواں ہو گیا۔ دکھ، تکلیفیں، بلائیں، بپتائیں تہہ خانے سے بھاگ نکلیں۔ گلی گلی میں شکار ڈھونڈنے لگیں۔ نخچیروں کی زبوں حالی دیکھی نہیں جاتی تھی ان کی آہوں کے شرارے آسماں چھو رہے تھے۔

فوج کو مے خانوں کی بیرکوں سے نکال کر ان کو پکڑنے پر لگا دیا گیا۔ بیماریاں، مصیبتیں، دکھ، تکلیفیں پھیلتی ہی جا رہی تھیں۔ فوج سے کچھ نہ ہو سکا تو اپنے پرانے اتحادی مذہب کو بلاوا بھیجا۔ وہ بھی ان کا شکار ہو چکا تھا۔ اپنی جنت میں حوروں سے جوڑ توڑ کرنے میں مصروف تھا۔ کچھ ملاؤں نے رضاکاروں کو جہاد پر اکسایا۔ خود کش دھماکوں کے لیے فوج کا بارود زیادہ پرانا ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا تھا سو ناکامی ایک بار پھر مقدر بنی۔ حربے سب ناکام ہو گئے۔

معززین شہر کا اجلاس بلا لیا گیا۔ سال ہا سال کے بعد سیاست دانوں کی بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہی مسائل کا حل ڈھونڈھ سکتے تھے۔ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

سیاست دانوں نے حل ڈھونڈھ نکالا۔ شہر کی اکلوتی گائناکالوجسٹ کو بلایا گیا۔ حکم جاری کر دیا گیا کہ جلد از جلد کسی عورت کو حاملہ کیا جائے اور کسی طرح ایک بچہ پیدا کر کے ان کے حوالے کیا جائے تا کہ یہ ساری بلائیں اپنا دل راضی کر سکیں۔

شہر کی تمام عورتوں کو بلا لیا گیا۔ عورتیں جو ماہواری کے چکر، اس کے دکھ درد، اور جنم دینے کی مشکلات سے نجات حاصل کر چکی تھیں۔

بہادر خاتون جو عورتوں کے تمام مصائب کا مداوا کر چکی تھی اور ہمیشہ کھل کر ہنسنے کی عادی ہو چکی تھی، افسردہ بیٹھی سیاست دانوں کا منہ تک رہی تھی۔

اس کے اندر پرت در پرت دکھوں کی کہانیاں پلٹتی جا رہی تھیں۔ حمل کا بار گراں، جنم دینے کی مصیبتیں، بچہ پالنے کی کلفتیں، ممتا کی اذیتیں اور پھر وہ اذیت سے بھری سچی کہانیاں۔ مائیں بچے اس لیے پیدا کرتی ہیں کہ ایندھن بنا کر اس دنیا کے کچھ طاقتوروں کی آسانیوں کے لیے دکھوں کی بھٹی میں جھونکا جا سکے۔ ان کی آسائشوں کے لیے وہ مصیبتوں اور مجبوریوں کی چتا میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ کیا دکھ بھری کہانیاں، جو شاید پچھلے جنم کی داستانیں تھیں اب پھر دہرائی جائیں گیں؟

وہ عورتوں کے پاس چلی گئی۔ سب کے چہروں پر اولاد کی تکلیفوں، مصیبتوں کا دکھ اور ان کی موت کا دوہا رقم تھا۔ ان کے غمگین چہرے پڑھ رہی تھی۔ ویسی ہی کہانیوں کو دوبارہ جنم نہیں دینا چاہتی تھی۔

اپنے آفس میں پہنچی۔ کاغذ قلم اٹھایا اور لکھا

”ان مصائب سے غافل ہو کر جن میں انسان الجھا ہوا ہے وہ اولاد کو جنم دیتا ہے اور اس طرح بڑھاپے اور موت کا سبب بنتا ہے۔ اگر اسے صرف اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس عمل سے وہ مصیبت اور دکھ میں اضافہ کرے گا، تو وہ اولاد پیدا کرنے سے باز آ جائے اور اس طرح بڑھاپے اور موت کا چکر بند ہو جائے۔ گوتم بدھ“

اگلے دن صبح اومیلاس کی اکلوتی گائناکالوجسٹ کی لاش میز پر سر جھکائے ماتم کناں تھی۔

سیّد محمد زاہد

 

(ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی کھل کر ہنسنے کی تصویر دیکھی۔ اس میں چھپا غم ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ یہ کہانی ان کی جدوجہد کے نام۔ )

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
  • اعصاب شکن!
  • فیاض جنگل۔ نہر کنارے کے راج ہنس
  • تکمیل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اللہ کے مبارک نام
پچھلی پوسٹ
پاکستان میں بہتی دوستی کی سرسوتی

متعلقہ پوسٹس

8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

اکتوبر 9, 2020

ابو جی کے نام

نومبر 7, 2020

سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا

جنوری 25, 2020

مسئلہ کشمیر

دسمبر 9, 2025

امید کا چھوٹا چھاتا

دسمبر 15, 2024

پتوکی از مستنصر تارڑ

ستمبر 29, 2019

گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے

نومبر 11, 2025

میں نہیں پوچھتا سزا کیا ہے؟

جنوری 6, 2023

محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک

مئی 30, 2026

ہم بے وفا ہیں اتنی وفاوں کے باوجود

نومبر 7, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی...

جنوری 29, 2020

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اپریل 15, 2020

کسی بھی کام سے پہلے

جولائی 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں