خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممسئلہ کشمیر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزعابد خان لودھی

مسئلہ کشمیر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025 0 تبصرے 31 مناظر
32

مسئلہ کشمیر دنیا کے تنازعات میں سے ایک ہے۔جس کی وجہ سے بر صغیر کے ڈیڑھ ارب لوگ اذیت کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی وجہ سے ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس پر دونوں ملک بہت نیچے ہیں۔ قومی ساؤ نزم کی بنیاد پر دشمنی کے جذبات بڑھا کر عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مسئلے کے بنیادی فریق ، ریاستی عوام بنیادی حقوق سے محروم ، منقسم اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ اس پورے خطے میں امن کی بحالی اور ترقی کے لئے اس تنازعہ کا حل نا گزیر ہے۔ بر صغیر کے با شعور لوگوں کا یہ فرض ہے۔ کہ صرف ریاستی عوام کے لئے بلکہ اپنی تعلیم ، صحت ، روزگار،معاشی میدان میں ترقی ، اور جمہوری حقوق کے لئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیں۔ دہشت گردی اور مقروض معیشت کے پیچھے بنیادی وجہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان خراب تعلقات ہیں۔ جن کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ستر سال سے اس بنیادی مسئلے کے حل میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے۔ہندوستان ریاست جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ ٹنگ قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوئی ہیں۔ کیونکہ وہاں عالمی طاقتیں حاوی ہیں اور وہ اپنے مفادات کے مطابق ہی اقوام متحدہ کو استعمال کرتی ہیں۔ اس مسئلے کو بھارت کی نظر سے دیکھنے سے یہ کبھی بھی حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر تب ہی حل ہو سکتا ہے۔ جب ریاستی عوام کو بنیادی فریق تسلیم کر کے ان کی امنگوں کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستان اور بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ جنگ لڑ کر پوری ریاست پر قبضہ کر سکیں۔ اور اگر یہ ناممکن کام ہو بھی جائے تو اس طرح صورت حال مذید مخدوش ہو جائے گی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام نے لاکھوں جانیں قربان کر کے یہ ثابت کیا ہے۔ کہ وہ کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کبھی بھی بھارت میں شامل نہیں ہونگے۔ البتہ جموں اور لداخ کے لوگوں کی اکثریت کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو بھارت کو ریاست پر سے اپنا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرے ۔ جس طرح 1947میں بنگال اور پنجاب تقسیم ہو کر ہی پاکستان کو حصہ بن سکے تھے۔ وہی عمل ریاست جموں کشمیر کے ساتھ دہرایا جانا ہو گا۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے۔ کہ آج ہم 2017میں کھڑے ہیں ۔زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔اور 1947کی عینک سے آج کا معروضی سچ نہیں دیکھا جا سکتا ۔ بنگال کی مثال سے صورت حال کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔مسلم لیگ 1947میں خود مختار متحدہ بنگال کے حق میں تھی۔اور کانگرس کی ضد پر اس کو تقسیم کیا گیا۔ اور یوں مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بنا۔ اکثریت کے جبر کے خوف سے نجات کے بعد قومی تضادات سامنے آ گئے۔ پنجابی جاگیر داروں اور اور فوج نے پاکستان پر قبضہ کر لیا۔ ون یونٹ قائم کیا اور صوبائی خود مختاری ختم کر دی۔ استحصال نے مزاحمت کو جنم دیا۔ اور جرنل شیر علی کا ایجاد کردہ نظریہ پاکستان متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔ اور بنگلہ دیش بن گیا۔سیاسی قیادت کی بد عنوانیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔ تعلیم صحت اور کاروبار کی بہترین سہولتیں اشرافیہ کو حاصل ہیں۔ اور عوام بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اپنی اشرافیہ کے جبر سے آذادی حاصل کرنے کے لئے عین اسی طرح کوشش کرنی چاہیے ۔ جیسے کشمیری کر رہے ہیں ۔ عالمی اقوام کو بھی الحاق کی بنیاد پر موجود ستر سالہ تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔
کشمیری عوام پاکستان اور بھارت سب کے لئے اس مسئلے کا حل ہو جانا ضروری ہے۔ اور اس کا واحد ممکنہ اور منصفانہ حل کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہے۔ تقسیم سے بچاؤ کا واحد راستہ یہی ہے۔کشمیریوں کی بیرون ملک مقیم ایک بہت بڑی تعداد کشمیر کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ بنیادی حق تسلیم کر چکی ہے۔ اور موجودہ وقتوں میں کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں نے اس حق کوKashmir اپنی خود مختاری کے لئے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔
کشمیر کی آذادی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔ نہ اسے پراکسی وار بنا کر پیش کرنے میں ہندوستان کو کامیابی ہو سکے گی۔ ریاست جموں کشمیر جنوبی ایشیاء کا مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں سرگرم سیاسی کارکن اور دانشور کشمیریوں کے حق خودمختاری کے حامی ہیں۔ لہٰذا حکمران طبقات اصولی موقف کے نام پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا راگ الاپنے میں کمفر ٹیبل محسوس کرتے ہیں ۔ کیونکہ حالات کا جوں کا توں رہنا ان کی حکمرانی کو استحکام بخشتا ہے۔ بھارت میں بھی انسانی حقوق کے علمبردار دانشور اس حل کو تقویت بخشیں گے۔
تقسیم بر صغیر کے وقت مسلم لیگ نے ریاستوں کے آذاد رہنے کے حق کی بھر پور وکالت کی تھی۔ جبکہ کانگرس کا موقف یہ تھا کہ ریاستوں کو بہتر صورت پاکستان یا بھارت کا حصہ بننا چاہیے ۔ مہاراجہ ریاست اور مسلم کانفرنس ریاست کی خود مختاری کے حامی تھے۔ کانگرس کی پر زور مخالفت اور بتطانیہ کی اس کی حمایت کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی ریاست خود مختار نہیں رہ سکی۔ قبائیلیوں کے حملے کے بعد مہاریجہ سے الحاق ہندوستان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ الحاق کے حامی شیخ عبداللہ نے طویل جیل کاٹی۔ الحاق نواز سیاستدانوں نے گذشتہ ستر سالوں میں چھوٹی چھوٹی مراعاتوں کے عوض تمام اختیارات سے دستبرداری قبول کر لی۔ اور مفادات کی سیاست میں الجھے رہے۔ جبکہ کشمیر کی حامی جماعتوں نے مقبول بٹ شہید کو آذادی کی علامت بنا کر کشمیری عوام کے ایک بڑے حصے کو متحرک کر دیا ۔نا اہل سیست دانوں کی وجہ سے کشمیر مسائلستان بن چکا ہے۔ اور ان عوامی مسائل کی بنیاد پر عوام میں وسیع تر جرات بنائی جا سکتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں سے براہ راست جرات پیدا کر کے انہیں کشمیر کے حق میں قائل کیا جا سکتا ہے۔یہ بات ہندوستان کے عوام تک پہچانے کی ضرورت ہے۔ کہ کشمیری عوام ان کے دشمن ہیں نہ ان کے مخالف بلکہ وہ خود غاصبانہ قبضے کا شکار ہیں۔اور مظلوم عوام کے استحصال کے خلاف ان کی جدو جہد کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے کروڑوں غریبوں کی دشمن ان کے ملک کی استحصالی اشرافیہ ہے۔ اور مسئلہ کشمیر کو محض اس استحصال کو طوالت دینے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کے عوام کی نجات میں ہی در اصل ہماری آذادی کی کنجی پنہاں ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ پر بھی بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کے لئے تحریک مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ فرقہ واریت ، دہشت گردی ، اور پراکسی وار کے پروپیگنڈے کا توڑ بھی یہی ہے۔

عابد خان لودھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)
  • امید کی شمع
  • مونا لیزا
  • اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عوام کی آواز ( ہیلمٹ )
پچھلی پوسٹ
معاشرے میں نصیبو کا کردار

متعلقہ پوسٹس

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022

تفہیماتِ کلیاتِ اقبال اردو

دسمبر 28, 2024

تلافی

جون 14, 2020

من کا بھوت بنگلہ !

جون 27, 2022

ایکٹریس کی آنکھ

جنوری 21, 2020

سبز سینڈل

فروری 4, 2020

یہ بے رخی ہے کیسی تمہاری نگاہ میں

اپریل 4, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

ہم نے پینے کی قسم کھائی ہے

فروری 8, 2026

جھوٹی سسکیاں

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ظہران ممدانی

نومبر 5, 2025

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں

دسمبر 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں