مسئلہ کشمیر دنیا کے تنازعات میں سے ایک ہے۔جس کی وجہ سے بر صغیر کے ڈیڑھ ارب لوگ اذیت کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی وجہ سے ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس پر دونوں ملک بہت نیچے ہیں۔ قومی ساؤ نزم کی بنیاد پر دشمنی کے جذبات بڑھا کر عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مسئلے کے بنیادی فریق ، ریاستی عوام بنیادی حقوق سے محروم ، منقسم اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ اس پورے خطے میں امن کی بحالی اور ترقی کے لئے
اس تنازعہ کا حل نا گزیر ہے۔ بر صغیر کے با شعور لوگوں کا یہ فرض ہے۔ کہ صرف ریاستی عوام کے لئے بلکہ اپنی تعلیم ، صحت ، روزگار،معاشی میدان میں ترقی ، اور جمہوری حقوق کے لئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیں۔ دہشت گردی اور مقروض معیشت کے پیچھے بنیادی وجہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان خراب تعلقات ہیں۔ جن کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ستر سال سے اس بنیادی مسئلے کے حل میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے۔ہندوستان ریاست جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ ٹنگ قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوئی ہیں۔ کیونکہ وہاں عالمی طاقتیں حاوی ہیں اور وہ اپنے مفادات کے مطابق ہی اقوام متحدہ کو استعمال کرتی ہیں۔ اس مسئلے کو بھارت کی نظر سے دیکھنے سے یہ کبھی بھی حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر تب ہی حل ہو سکتا ہے۔ جب ریاستی عوام کو بنیادی فریق تسلیم کر کے ان کی امنگوں کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستان اور بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ جنگ لڑ کر پوری ریاست پر قبضہ کر سکیں۔ اور اگر یہ ناممکن کام ہو بھی جائے تو اس طرح صورت حال مذید مخدوش ہو جائے گی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام نے لاکھوں جانیں قربان کر کے یہ ثابت کیا ہے۔ کہ وہ کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کبھی بھی بھارت میں شامل نہیں ہونگے۔ البتہ جموں اور لداخ کے لوگوں کی اکثریت کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو بھارت کو ریاست پر سے اپنا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرے ۔ جس طرح 1947میں بنگال اور پنجاب تقسیم ہو کر ہی پاکستان کو حصہ بن سکے تھے۔ وہی عمل ریاست جموں کشمیر کے ساتھ دہرایا جانا ہو گا۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے۔ کہ آج ہم 2017میں کھڑے ہیں ۔زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔اور 1947کی عینک سے آج کا معروضی سچ نہیں دیکھا جا سکتا ۔ بنگال کی مثال سے صورت حال کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔مسلم لیگ 1947میں خود مختار متحدہ بنگال کے حق میں تھی۔اور کانگرس کی ضد پر اس کو تقسیم کیا گیا۔ اور یوں مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بنا۔ اکثریت کے جبر کے خوف سے نجات کے بعد قومی تضادات سامنے آ گئے۔ پنجابی جاگیر داروں اور اور فوج نے پاکستان پر قبضہ کر لیا۔ ون یونٹ قائم کیا اور صوبائی خود مختاری ختم کر دی۔ استحصال نے مزاحمت کو جنم دیا۔ اور جرنل شیر علی کا ایجاد کردہ نظریہ پاکستان متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔ اور بنگلہ دیش بن گیا۔سیاسی قیادت کی بد عنوانیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔ تعلیم صحت اور کاروبار کی بہترین سہولتیں اشرافیہ کو حاصل ہیں۔ اور عوام بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اپنی اشرافیہ کے جبر سے آذادی حاصل کرنے کے لئے عین اسی طرح کوشش کرنی چاہیے ۔ جیسے کشمیری کر رہے ہیں ۔ عالمی اقوام کو بھی الحاق کی بنیاد پر موجود ستر سالہ تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔
کشمیری عوام پاکستان اور بھارت سب کے لئے اس مسئلے کا حل ہو جانا ضروری ہے۔ اور اس کا واحد ممکنہ اور منصفانہ حل کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہے۔ تقسیم سے بچاؤ کا واحد راستہ یہی ہے۔کشمیریوں کی بیرون ملک مقیم ایک بہت بڑی تعداد کشمیر کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ بنیادی حق تسلیم کر چکی ہے۔ اور موجودہ وقتوں میں کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں نے اس حق کو
اپنی خود مختاری کے لئے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔
کشمیر کی آذادی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔ نہ اسے پراکسی وار بنا کر پیش کرنے میں ہندوستان کو کامیابی ہو سکے گی۔ ریاست جموں کشمیر جنوبی ایشیاء کا مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں سرگرم سیاسی کارکن اور دانشور کشمیریوں کے حق خودمختاری کے حامی ہیں۔ لہٰذا حکمران طبقات اصولی موقف کے نام پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا راگ الاپنے میں کمفر ٹیبل محسوس کرتے ہیں ۔ کیونکہ حالات کا جوں کا توں رہنا ان کی حکمرانی کو استحکام بخشتا ہے۔ بھارت میں بھی انسانی حقوق کے علمبردار دانشور اس حل کو تقویت بخشیں گے۔
تقسیم بر صغیر کے وقت مسلم لیگ نے ریاستوں کے آذاد رہنے کے حق کی بھر پور وکالت کی تھی۔ جبکہ کانگرس کا موقف یہ تھا کہ ریاستوں کو بہتر صورت پاکستان یا بھارت کا حصہ بننا چاہیے ۔ مہاراجہ ریاست اور مسلم کانفرنس ریاست کی خود مختاری کے حامی تھے۔ کانگرس کی پر زور مخالفت اور بتطانیہ کی اس کی حمایت کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی ریاست خود مختار نہیں رہ سکی۔ قبائیلیوں کے حملے کے بعد مہاریجہ سے الحاق ہندوستان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ الحاق کے حامی شیخ عبداللہ نے طویل جیل کاٹی۔ الحاق نواز سیاستدانوں نے گذشتہ ستر سالوں میں چھوٹی چھوٹی مراعاتوں کے عوض تمام اختیارات سے دستبرداری قبول کر لی۔ اور مفادات کی سیاست میں الجھے رہے۔ جبکہ کشمیر کی حامی جماعتوں نے مقبول بٹ شہید کو آذادی کی علامت بنا کر کشمیری عوام کے ایک بڑے حصے کو متحرک کر دیا ۔نا اہل سیست دانوں کی وجہ سے کشمیر مسائلستان بن چکا ہے۔ اور ان عوامی مسائل کی بنیاد پر عوام میں وسیع تر جرات بنائی جا سکتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں سے براہ راست جرات پیدا کر کے انہیں کشمیر کے حق میں قائل کیا جا سکتا ہے۔یہ بات ہندوستان کے عوام تک پہچانے کی ضرورت ہے۔ کہ کشمیری عوام ان کے دشمن ہیں نہ ان کے مخالف بلکہ وہ خود غاصبانہ قبضے کا شکار ہیں۔اور مظلوم عوام کے استحصال کے خلاف ان کی جدو جہد کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے کروڑوں غریبوں کی دشمن ان کے ملک کی استحصالی اشرافیہ ہے۔ اور مسئلہ کشمیر کو محض اس استحصال کو طوالت دینے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کے عوام کی نجات میں ہی در اصل ہماری آذادی کی کنجی پنہاں ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ پر بھی بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کے لئے تحریک مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ فرقہ واریت ، دہشت گردی ، اور پراکسی وار کے پروپیگنڈے کا توڑ بھی یہی ہے۔
عابد خان لودھی
