352
آکاش پہ بادل چھائے تھے
آنکھوں نے اشک بہائے تھے
نیا کو بھنور میں دیکھا تھا
جب موسم پیار کے آئے تھے
اک لفظ نہ آیا ہونٹوں پر
لمحے بے درد تو آئے تھے
کچھ گیت سنے تھے بچپن میں
کچھ میٹھے خواب چرائے تھے
بیناؔ کے من میں دھوپ رہی
آنکھوں میں ٹھنڈے سائے تھے
بینا گوئندی
