358
چاندنی رات میں بلاؤں تجھے
دھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے
تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپنا
چاند راتوں میں گنگناؤں تجھے
کچھ کہے ان کہے سوال کروں
اور یوں پھر سے آزماؤں تجھے
اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوں
کیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے
آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوں
کاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے
بینا گوئندی
