520
جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں
ایسی خوشبو کہاں ہے رات کی رانی میں
ابھرا تھا آنکھوں میں ایک سنہرا خواب
جاتے جاتے دے گیا زخم نشانی میں
رات گئے تک یوں ہی تنہا ساحل پر
گھومتے رہنا پاؤں پاؤں پانی میں
اترا جو اس دل میں قافلہ الفت کا
کیسی کیسی غزلیں ہوئیں روانی میں
کیوں بے رنگ کیا ہے میری اوڑھنی کو
تیرے غم کی دھوپ نے بھری جوانی میں
کب سے اپنا بچپن ڈھونڈھتی پھرتی ہے
بیناؔ تیری بکھری ہوئی کہانی میں
بینا گوئندی
