491
وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا
سمجھ تو آتا ہے لیکن نظر نہیں آتا
اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو
گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا
یہ دل بھی کیسا شجر ہے کہ جس کی شاخوں پر
پرندے آتے ہیں لیکن ثمر نہیں آتا
یہ جمع خرچ زبانی ہے اس کے بارے میں
کوئی بھی شخص اسے دیکھ کر نہیں آتا
ہماری خاک پہ اندھی ہوا کا پہرہ ہے
اسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا
یہ بات سچ ہے کہ اس کو بھلا دیا میں نے
مگر یقیں مجھے اس بات پر نہیں آتا
نظر جمائے رکھوں گا میں چاند پر تابشؔ
کہ جب تلک یہ پرندہ اتر نہیں آتا
عباس تابش
