445
رب رانجھے ورگا ناں
وہ لڑکی عجب ہے
کسی سے کوئی سوچ لیتی نہیں
اپنے من میں اُتر کر سبھی بھید لیتی ہے
سُنتی نہیں
کہہ رہی تھی خدا سے
تجھے سوچتی کیوں رہوں میں
بتا! آسماں کے کسی بند کمرے میں
سب بتّیاں بند کرکے کبھی تُونے مجھ کو بھی سوچا؟
نہیں نا ……؟؟
اگر سوچتا تو مری ساتویں حِس بتاتی
میں لڑکی ہوں، سب جانتی ہوں
مجھے جب جہاں کوئی دیکھے کہ سوچے
اکیلا وہ جب بند تاریک کمرے میں
پوری لگن سے مجھے سوچتا ہے
تڑپ کر شعاعیں مرے دل تک آتی ہیں
لڑکی ہوں میں
رات دن من کی بتّی بجھا کر اُسے کیوں نہ سوچوں
جو شب بھر مجھے سوچتا ہے
تجھے سوچتی کیوں رہوں میں!
شہزاد نیّرؔ
