106
کبھی تو بھی تنہا ہو
کہ دیکھا کرے تو بھی
تنہائی کیا ہے
کیا کیا پا بہ سفر ہیں
اپنی مجذوب راہوں پہ گامزن ہیں کیا کیا
کبھی تو بھی تو دیکھے
حسرتوں کی باراتیں،
امیدوں کے جنازے
خواہشوں کی بے نوا امنگیں
نوحہ کناں وقت میں،
بلکتے شام کے پنچھی
خیالوں کے ویراں دشت
ساکن کرنیں
چپ کے راگ آلاپتی آوازیں
شعور ،لا شعور کے عاری خانے
کبھی تو بھی تنہا ہو
کبھی تو بھی دیکھ
مری سوغات کیا ہیں
مرا بھرم کیا ہیں
فیاض حسین ڈومکی
