705
زمینیں سب تری یا رب ہیں سارے آسماں تیرے
تو خالق سب کا ہے لاریب ہیں سارے جہاں تیرے
ہر اک جانب سے آتی ہے صدا تیری ہی تسبیح کی
ہیں خوشبوئیں تری ہیں گل ترے ہیں گلستاں تیرے
اگر چہ شک نہیں اس میں خدایا بے نشاں ہے تو
جدھر دیکھوں وہاں پر ہیں مرے خالق نشاں تیرے
بھنور تیرے ترے طوفاں ترے دریا ترے ساحل
شجر تیرے حجر تیرے یہ بحر بے کراں تیرے
تو ظاہر میں تو باطن میں تو سوچوں میں ارادے میں
جو پوشیدہ ہے سب تیرا نہاں تیرے عیاں تیرے
محمد ہے ترا محبوب تفسیرِ کتاب اللہ
جلی آیات قرآں ہیں حقیقت میں بیاں تیرے
دلیل اک یہ ہی نگہت ہے خدائی کی بہت کافی
خدایا لا مکاں ہے تو مگر سارے مکاں تیرے
ڈاکٹر نگہت نسیم
