خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

​شہرِ لاہور کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں کی دلفریبی کے بالکل پیچھے، ایک بدبو دار گندے نالے کے کنارے پیوند لگے پرانے کپڑوں اور بوسیدہ ترپالوں کا بنا ہوا ایک خستہ حال خیمہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نالے کے زہریلے پانی کا تعفن ہوا میں گھلا رہتا تھا، اور جہاں سے گزرتے ہوئے چمکتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اپنے شیشے چڑھا لیا کرتے تھے۔

​اسی خستہ حال خیمے کی چھاؤں میں دو شادی شدہ بہنیں اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔ گھر میں نہ راشن کا ایک دانہ تھا اور نہ چولہا جلانے کی توفیق۔ نالے کے پاس اس کپڑے کے سائے تلے جب چھوٹے بچوں کا بھوک سے بلبلانا برداشت نہ ہوا، تو ان دونوں بہنوں نے غیرت کا دامن نہیں چھوڑا؛ وہ شہر کی بڑی سڑک کے کنارے بیٹھ کر چند روپے کی پینسلیں اور چھوٹی موٹی اشیاء بیچنے لگیں تاکہ شام کو بچوں کے لیے سوکھی روٹی کا انتظام ہو سکے۔

​ایک سرد شام، دونوں معمول کے مطابق فٹ پاتھ پر بیٹھی ہاتھ میں سرخ اور نیلی پینسلیں لہراتی جا رہی تھیں۔ اچانک سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی قیمتی گاڑی آ کر رکی۔ شیشہ نیچے ہوا اور ایک صاحبِ حیثیت شخص نے غصے اور نفرت سے بھری نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کی کوٹھی میں گزشتہ رات چوری کی ایک بڑی واردات ہوئی تھی۔ اس نے ان عورتوں کا غربت زدہ حلیہ، پھٹے پرانے کپڑے اور بے بسی دیکھی اور ایک پل ضائع کیے بغیر موبائل نکال کر پولیس کو فون گھما دیا۔

​”انسپکٹر صاحب! میری کوٹھی میں چوری کرنے والی چور مل گئی ہیں۔ یہ سڑک پر پینسلیں بیچنے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ فوراً آ کر اٹھائیں انہیں!”

​چند ہی منٹوں میں سائرن بجاتی پولیس کی گاڑی آئی۔ بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی قانونی تفتیش کے، محض ایک صاحبِ ثروت شخص کے ایک اشارے پر، پینسلیں بیچتی ہوئی ان دو ماؤں کو سڑک کے بیچوں بیچ سے زبردستی گاڑی میں پھینک دیا گیا۔

​بڑی بہن نے تڑپ کر التجا کی، "صاحب! خدا کا خوف کریں۔ ہم تو سڑک پر پینسلیں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ نالے کے پاس ہمارا خستہ حال خیمہ ہے جہاں چھوٹے بچے بھوکے بیٹھے ہیں، ہم چور نہیں ہیں!”

​مگر قانون کا ڈنڈا امیر کے اشارے کا پابند تھا۔ تھانے کے لوہے کے بھاری دروازے بند ہو گئے اور قانون نے غریب کی صفائی سننے سے صاف انکار کر دیا۔

​گندے نالے کے پاس پرانے کپڑوں کے اس خیمے میں بچے رات بھر بھوک اور ماں کی ممتا کو پکارتے رہے۔ ان کے شوہر اور بوڑھا باپ تھانے کے چکر کاٹتے رہے، اپنے برتن اور کپڑے بیچ کر وکیل اور پولیس کی منتیں کرتے رہے، مگر غریب کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔

​صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی، اینٹوں کی اس بے حس عمارت سے ایک سرد اور بے رحم پیغام آیا:

"تمہاری عورتوں کی حالت بگڑ گئی تھی… وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”

​خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن مظلومیت کی داستانیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ ہسپتال ہی سے ان کی میتوں کو غسل دیا گیا اور پھر پولیس کی بھاری نفری اپنی نگرانی میں ان کی لاشوں کو ان کے دور دراز آبائی گاؤں لے گئی۔

​گاؤں پہنچ کر نہ رشتہ داروں کو بین کرنے کا موقع دیا گیا، نہ کوئی صف بچھی۔ پولیس کے سخت پہرے میں صرف چند لمحوں کے لیے لرزتے ہوئے باپ اور بچوں کو زبردستی صرف چہرہ دکھایا گیا، اور پھر قانون کے پہرے داروں نے زبردستی اپنی ہی نگرانی میں دونوں کو مٹی تلے دفن کروا دیا۔ جیسے لاشیں نہیں، بلکہ اپنے ہی کیے گئے ظلم کے ثبوت دفنائے جا رہے ہوں۔

​کچھ دن بعد، جب پولیس کی ٹیم اس بدبو دار نالے کے پاس سے پرانے کپڑوں سے بنا وہ خستہ حال خیمہ اکھاڑنے آئی، تو نیچے مٹی میں ایک ٹوٹا ہوا ڈبہ اور دو سرخ پینسلیں پڑی ملیں۔

​اس غریب شوہر نے وہ پینسلیں اٹھائیں، اپنے روتے ہوئے بچے کے لرزتے ہاتھوں میں دیں اور بوجھل، ویران لہجے میں کہا:

​”بیٹا! اس شہر میں غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم اور چوری ہے۔ تمہاری ماؤں کا قصور یہ تھا کہ وہ چور نہیں تھیں… کاش وہ اس ظالم نظام کی آنکھوں میں لگی قانون کی پٹی کو پڑھ سکتیں!”

​شہر کی بڑی سڑکوں پر چمکتی گاڑیاں ویسے ہی دوڑ رہی تھیں، اور گندے نالے کا بدبو دار پانی خاموشی سے بہتا رہا—جیسے اس نے غریب کی آبرو، اس کے خواب اور خون سب کچھ اپنے اندر نگل لیا ہو۔

​نوٹ: یہ ایک اصلاحی اور فرضی افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد معاشرتی ناہمواری، بے حسی اور غریب کے ساتھ ہونے والے رویوں کی عکاسی کرنا ہے۔ اس کا کسی حقیقی فرد یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سر پہ پہنا ہے جو میں نے مدحتِ آقا کا تاج
  • گرم سوٹ
  • میڈم نفیس کی کہانی
  • بخشش کے بہانے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر سلمان علی صاحب
پچھلی پوسٹ
گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے

متعلقہ پوسٹس

بے روزگاری کا چیلنج

اکتوبر 3, 2025

شعر اور واہ کا رشتہ

جنوری 27, 2020

صوفے پر ایک لمحہ

دسمبر 11, 2024

سفر نامہ بھارت – پہلی قسط

نومبر 2, 2019

خدا کی قسم

فروری 1, 2020

سیاہ گڑھے

دسمبر 23, 2021

خبر مسلم کی

فروری 13, 2026

بزم فگار پر اک نظر

ستمبر 7, 2023

بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے بے سلائی

جون 3, 2020

ہم نا ماننے والے لوگ!

اگست 5, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

آن لائن گیمز ۔ نسلوں کی...

مئی 4, 2020

خوش طبعی یعنی مزاح کرنے کی...

ستمبر 15, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں