خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامامتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدسہیل احمد صمیممقالات و مضامین

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

از سہیل احمد صمیم اگست 7, 2026
از سہیل احمد صمیم اگست 7, 2026 0 تبصرے 65 مناظر
66

جناب امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ "کم و بیش” ( احساسات کا آئینہ، لفظوں کا روشن چراغ)
کبھی کبھی لفظ خاموش ہو کر بھی بولتے ہیں۔اور کسی ایک شعر میں پوری زندگی سما جاتی ہے۔ اور کبھی کوئی شاعر اپنے اندر کربِ زمانہ، خوابوں کی روشنی، رشتوں کی حدت، اور تنہائی کی نمی لیے یوں سامنے آتا ہے جیسے صحرا میں یکایک کوئی چشمہ پھوٹ پڑے۔
ایسا ہی ایک چشمہ ہمارے درمیان ہمارے سینیئر دوست، شاعر، امتیاز الحق امتیاز کی صورت میں موجود ہے ۔ ایک ایسا نام جو خاموشی سے دلوں میں گھر کرتا ہوا واہموں کی دھند کو چیرتا ہوا حقیقت کی تہوں میں اترتا ہے، اور جو روایت کے آئینے میں رنگِ جدیدیت کی تصویر دکھاتا ہے۔
اُن کا شعری مجموعہ "کم و بیش” یہ ایک جذبوں کی ایسی دستاویز جو وقت کے کاندھوں پر رکھی گئی ہے تاکہ آنے والے لمحے اسے چھو کر محسوس کر سکیں۔ یہ صرف غزلوں اور نظموں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک شاعر کی خاموشی، درونِ دل کی صدائیں، اس کی شکستگیاں اور جمالیاتی خوابوں کا عکس ہے۔
امتیاز الحق امتیاز کی شاعری صرف لفظوں کی ترتیب نہیں، یہ زندگی کی تعبیر ہے۔ ان کے ہاں جو گہرائی ہے، جو سادگی میں پوشیدہ پیچیدگی ہے، وہ آج کے شور شرابے والے ماحول میں نایاب سی لگتی ہے۔
ان کے اشعار میں کربِ جدائی سے لے کر قربت کے لمس تک، خوابوں کی شکست سے امید کی جھلک تک، سب کچھ ہے — مگر دکھاوے سے عاری، مصنوعی لَے سے پاک، اور خالص دل سے نکلے ہوئے لفظوں کی طرح سچے۔
ذرا یہ شعر دیکھیے:
ہم جیسے دیکھتے ہیں یہ ویسے دکھائی دیں
سیڑھیاں پاؤں پانی میں اُترے دکھائی دیں

یہ شعر محض منظر کشی نہیں، یہ شعور کی سطح پر جمالیاتی حیرت ہے۔ شاعر نہ صرف پانی میں سیڑھیاں دیکھتا ہے بلکہ قاری کو بھی دکھا دیتا ہے، اور ہم سب لمحے بھر کو اس دھند میں کھو جاتے ہیں جہاں “چراغ بھی اندھیرے دکھائی دیتے ہیں۔”
غزل کے ساتھ ساتھ ان کی نظمیں بھی بھرپور اظہار کا وسیلہ ہیں۔ نظم "نارسائی” میں شاعر نے ایک ایسا جذبہ بیان کیا ہے جو لفظ بننے سے پہلے ہی سینے میں کہیں تحلیل ہو گیا تھا:
"وہ لفظ
جو میں نے اب تک
خود سے بھی چھپا کر
سینہء راز میں رکھا تھا
اب تجھ کو
بتانا چاہتا ہوں
لیکن
وہ لفظ
مجھے اب یاد نہیں”

ایسا اظہار وہی کر سکتا ہے جو جذبات کی گہرائیوں میں ڈوبا ہو، اور جسے درونِ خانہِ دل کی خامشیوں سے گفتگو کرنا آتا ہو۔
امتیاز الحق امتیاز کے ہاں رشتہِ انسان کا حسن بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کی پیچیدگی بھی۔ اُن کی شاعری میں ماں کی ممتا سے لے کر وطن کی محبت تک، عشقِ مجازی سے فکری تشنگی تک، ہر رنگ موجود ہے۔ ان کے ہاں روایت کا احترام بھی ہے اور جدید سوالات کی گونج بھی۔
یہ عمر بھر کی مشقت کے بعد مجھ پہ کھلا
کہ میں نے اپنے لیے تو کمایا کچھ بھی نہیں

یہ شعر صرف ایک فرد کی بات نہیں کر رہا، یہ پوری تہذیب کی آواز ہے۔ وہ تہذیب جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتی ہے، اور جب پلٹ کر خود کو دیکھتی ہے تو خالی ہاتھ رہ جاتی ہے۔
"کم و بیش” صرف ایک کتاب نہیں، اردو ادب میں ایک نیا اضافہ ہے ایسا اضافہ جو وقت کے ساتھ اور نکھرتا جائے گا۔ امتیاز الحق امتیاز ہزاروں شاعروں میں وہ منفرد نام ہے جسے نہ صرف پڑھا جانا چاہیے بلکہ محفوظ بھی کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ لفظوں سے چراغ جلاتے ہیں، اور ان چراغوں کی روشنی میں ہم خود کو پہچانتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اردو شاعری کی فکری اور جمالیاتی روایت کو مزید وسعت دے گی، اور امتیاز الحق امتیاز اپنی فکری بلندی اور شعری ہنر سے آنے والے وقت میں اور بھی نمایاں ہوں گے۔
آخر میں کتاب سے چند انتخاب:
ہم جیسے دیکھتے ہیں یہ ویسے دکھائی دیں
سیڑھیاں پاؤں پانی میں اُترے دکھائی دیں
اُس دُھند میں بھی راہ ترے گھر کی دیکھ لوں
جس دُھند میں چراغ بھی اندرے دکھائی دیں
یہ مرحلہ بھی آتا ہے آخر جدائی میں
جب تختیاں مکانوں کی کتبے دکھائی دیں
سارا کمال نیچے پڑے آئینے کا ہے
ہم آسمان کی سمت جو اُڑتے دکھائی دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم: نارسائی
ایک لفظ
جو میں نے اب تک
خود سے بھی چھپا کر
سینہء راز میں رکھا تھا
اب تجھ کو
بتانا چاہتا ہوں
لیکن
وہ لفظ
مجھے اب یاد نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل عجب موج میں آ کر دیکھا
اس کو تصویر بنا کر دیکھا
روز میں دیکھنے جاتا تھا جِدھر
اُس طرف آج بھی جا کر دیکھا
کیا خبر میں ہی دوبارہ بن جاؤں
چاک کو اور گھما کر دیکھا
دوسرا شخص نکل آیا ہے
خود کو خود سے جو ہٹا کر دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ہوں بے چین معذرت کے لیے
ہو گئی تھی کسی سے تو تکرار
دائرے کھینچتا ہوں پاؤں سے
بن گیا ہوں جنون میں پکار
تجھے کو میں نے ابھی چھوا بھی نہیں
زخم ہونے لگے تیرے رخسار
میری محنت مرا حوالہ ہے
نسل در نسل ہے یہی کردار
تو نے دیکھا تو سامنے آیا
میرے اندر چھپا ہوا فکار
ہوتے ہوتے یہ امتیاز ہوا
لکھتے لکھتے قلم ہوا تلوار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعداد و شمار میں نہیں تھے
ہم لوگ قطار میں نہیں تھے
وہ پھول دکھائی دے رہے ہیں
جو پھول بہار میں نہیں تھے
ممکن ہے وہ آئے ہوں یہاں پر
ہم اپنے مدار میں نہیں تھے
اپنا دکھ بانٹنے تھے مجھ سے
پچھلی جو ڈار میں نہیں تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اور بات کہ ہم نے بچایا کچھ بھی نہیں
ہمارے ذمے کسی کا بقایا کچھ بھی نہیں
وطن کی گلیوں کو دیکھو کبھی محبت سے
ہر ایک چیز ہے اپنی پرایا کچھ بھی نہیں
یہ عمر بھر کی مشقت کے بعد مجھ پہ کھلا
کہ میں نے اپنے لیے تو کمایا کچھ بھی نہیں
تعلقات کی نویتیں الگ ہیں یہاں
دکاں داری میں اپنا پرایا کچھ بھی نہیں
پڑی ہوئی ہے مری خاک میرے بالوں میں
کہ اپنی مٹی سے میں نے بنایا کچھ بھی نہیں
ہوا نہیں مجھے احساس رائیگانی تک
گنوایا کے عمر بھی گویا گنوایا کچھ بھی نہیں
نہ استعارہ، نہ کنایہ، نہ کوئی قول حال
کہ اپنے لفظوں میں میں نے ملایا کچھ بھی نہیں
یہ اہتمام عجب تم نے امتياز کیا
بجز چراغِ اظہار جلایا کچھ بھی نہیں
……………………….
ایک اک نقش میں دل رکھا ہے جاں رکھی ہے
ہم کو معلوم ہے کیا چیز کہاں رکھی ہے
میں اُسے کام میں لانے کا ہنر جانتا ہوں
میری آواز میں جو آہ و فغاں رکھی ہے
تم جسے باعثِ تمکین و شرف کہتے ہو
وہی دنیا مری ٹھوکر پہ یہاں رکھی ہے
کوئی گا کب نظر آتا ہے نہ ہم جنس کوئی
میں نے بے سود یہاں اپنی دکاں رکھی ہے
………………..
نظم: کب!
اے زمانے
چکلدار چیزوں کو تُو دیکھتا ہے
اور کھنک دار آوازیں سنتا ہے تُو
میرے مِلے گِلے سے پٹتے نظر نہیں آ رہے
میرے اشعار بھی کیا سنائی نہیں دے رہے
میری آواز بھی کیا سنائی نہیں دے رہی
تیرے معیار بدلیں گے کب
تیرے سورج کی کرنیں
خلات اور جھوٹ پھروں میں
یک وقت اتریں گی کب
کب یہ منظر نمائی نظر آئے گا
………………….
ایک ذرہ ہو میسر تو ستارہ کرنا
مجھے غربت نے سکھایا ہے گُزارہ کرنا
آپ کرتے ہیں سمندر میں بھنور کی تشکیل
ہمیں آتا ہے سمندر کو کنارہ کرنا
ایک ہلکا سا تبسم بھی مجھے کافی ہے
میں نے کیا باغِ شہرِ فتنہ و بخارا کرنا
میں ترا آپ ہوں اور آپ کا تا ہوں ابھی
بات اس لہجے میں مجھ سے نہ دوبارہ کرنا

سہیل احمد صمیم

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عید کا چاند اور دل کی کیفیت
  • نقشِ کُہن کو آج مٹانے لگا ہوں میں
  • شیخ رشیدسے گزارش ہے
  • آپ کیسی جاب چاہتے ہیں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سہیل احمد صمیم

اگلی پوسٹ
پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری
پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر سلمان علی صاحب

متعلقہ پوسٹس

جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں

فروری 17, 2026

شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا

جنوری 27, 2025

ہمیں ہنسنا سکھادو نا ہمیں ہنسنا نہیں آتا

جولائی 7, 2026

پشاور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا منصوبہ

نومبر 26, 2025

جج کرنا مناسب نہیں

مئی 14, 2025

ایک نیا تماشا، ایک نئی مصیبت

جنوری 5, 2022

ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

اکتوبر 31, 2021

فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )

اگست 20, 2020

پر امن افغانستان !

ستمبر 7, 2021

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

مئی 31, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان...

ستمبر 28, 2025

بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

مارچ 4, 2026

اس طرح کمالِ سخن کی پہچان...

جنوری 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں