خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماگر آپ نیک ہیں تو
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

اگر آپ نیک ہیں تو

از ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم جولائی 5, 2026
از ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم جولائی 5, 2026 0 تبصرے 56 مناظر
57

Respect People’s Feelings Even If It Doesn’t Mean Anything To You It Could Mean Everything To Them
کہا جاتا ہے کوئی نہایت غریب مسکین آدمی ایک مسجد کے باہر سے گزر رہا تھا اور مسجد میں کوئی پروگرام چل رہا تھا ۔ جس میں علامہ صاحب پورے ولولہ اور جوش سے تقریر کر کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے ۔علامہ صاحب کا عنوان قبر کا عذاب تھا ۔ وہ غریب مسکین مسجد سے باہر کھڑا خاموشی سے یہ تقریر لاوڈ اسپیکر پر سن رہا تھا ۔ جب علامہ صاحب نے بیان ختم کیا تو مسکین نے مسجد کے دروازے کو جھک کر یعنی مسجد کی چوکھٹ کو ہاتھ لگا کر چوما اور ایک سادہ سا جملہ کہا ” ہے تے توں اللہ دا کہار پر تیرے توں چنگی گل کدی نئیں سنی ” ہے تو تو اللہ کا گھر مگر تجھ سے کبھی خیر کی خبر کبھی نہیں سنی ۔ یہ نہایت سادہ انسان کا سادہ سا جملہ تھا ۔ مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے انگلش کے استاذ چوہدری مظفر ؒ نے ہمیں یہ لطیفہ سنانے کے بعد ایک جملہ کہا کہ بیٹا لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ضرور ڈراو مگر اللہ کی محبت ان کے دل میں بساو ۔ جب علما ء ہر بات پر فتوی لگا دیتے ہیں اور ہر بات پر اللہ کا عذاب اللہ کا عذاب کہتے ہیں اور حرام حرام حرام کی گردان کرتے ہیں تو عام سادہ انسان متنفر ہو جاتا ہے اسے نہیں معلوم کہ خدا کون ہے ؟ وہ کیسا ہے ؟ وہ کیا کرے گا ؟ اس کا انداز اس کا اسلوب کیا ہے ؟ آپ لوگ جو بتائیں گے انہوں نے ویسا ہی قبول کرنا ہے ۔ لہذاخدا اور اس کے دین کو ایسا پیش کرنا کہ اس کی مخلوق کو اپنے رب سے محبت ہو جائے ۔ اولیاء اللہ کے ہاں بھی دو طریق رہے ہیں ۔ ایک عذاب الہی کے خوف کا اور دوسراعشق الہی ۔ حضرت حسن بصری ؒ اور حسن رابعہ بصری ایک ہی زمانے کے دو ولی اللہ تھے ۔جبکہ حضرت حسن بصری کا اسلوب خوف الہی تھا اور رابعہ بصری کا عشق الہی ۔ اسی لیے رابعہ بصری کو کسی نے دیکھا کہ ایک ہاتھ میں آگ اور ایک میں پانی لیے جا رہی تھی کہا یہ کیوں کہا جنت کو آگ لگا دوں تا کہ لوگ اس کی لالچ میں عبادت نا کر سکیں اور پانی سے جہنم کی آگ کو بجھا دوں تا کہ کوئی جہنم کے خوف سے عبادت نا کرے ۔ بس میں چاہتی ہوں اگر کوئی خدا کی عبادت کرے تو صرف اس کی محبت میں کرے ۔ اگر آپ نیک ہیں تو رابعہ بصری والا اسلوب اختیار کریں ۔ ایک عام نمازی کو تو یہی اسلوب سوٹ کرتا ہے ۔ اولیا ء اللہ یا علما کرام کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوا کرتی ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کس کو کیسے گائیڈ کرنا ہے ۔ دین اسلام بہت خوبصورت ہے اس کو اپنے مطلب کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش مت کریں ۔ آج لوگ علماء پر الزام لگاتے ہیں ہیں کہ وہ ایسا کرتے حالانکہ ایک عام آدمی اپنی زندگی میں دین کی معلومات میں اضافہ کرنے کی بجائے کم معلومات کو ہی اپنے مطابق مولڈ فولڈ کر کے اپنا مطلب نکال رہا ہوتا ہے ۔ بے عملی بڑھتی جا رہی ہے ۔ اگر کوئی ذرا سی نمازیں پڑھنے لگتا ہے تو وہ متکبر ہو جاتا ہے ۔ جس کو اپنے فرقے بارے چند معلومات آ جاتی ہیں وہ اپنے آپ کو عالم سمجھ کر تبصرے شرع کر دیتا ہے ۔ شیعہ سنی وہابی دیوبندی اہلحدیث کی مباحث سے نکل کر اب قوم رافضی ناصبی کی بحث میں آ گئی ہے ۔ ہر کوئی خدا اور اس کے رسول کو ماننے والا ہے مگر کوئی صحابہ ؒ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے کوئی کسی کو خوامخواہ موازنوں کے آئنہ میں اتار رہا ہے ۔ ایک صحابی کی شان بیان کر کے دوسرے کے ساتھ تقابلی جائزہ کر رہا ہے ۔ علماء کے ان عجیب و غریب عنوانات محض واہ واہ کے چکر میں پوری قوم کو ولجھا رہے ہیں ۔ ایک کمال کا نکتہ پیش کرتا ہوں کہہ کر جوشیلی بات پر داد لینا والا عالم اپنی ذمہ داری بھول گیا ہے اور ایک فالور ہے کہ اندھی تقلید کرتا جا رہا ہے ۔ نت نئے ڈگی ڈگی بجا کر سوشل میڈیا پر آنے والے فتنوں نے پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کیا ہے ۔ اب چراغ لے کر بھی ڈھونڈے سے وہ مسلمان نہیں مل رہا جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کر رہا ہو ۔دوسروں کے حقوق ادا کر رہا ہو ۔ ایک دیہات میں رہنے والے غریب کسان کا گدھا مسجد چلا گیا تو وہاں کے پکے نمازیوں نے ایک تو اسپیکر پر اعلان کر دیا اور گدھے کی بھی خوب دھلائی کی ۔ کسان کو خبر ہوئی تو وہ مسجد کے دروازے کے باہر بیٹھ کر روتے ہوئے انہیں کہنے لگا کہ میرے گدھے کو چھوڑ دیں وہ بے زبان ہے اور جانور ہے دیکھیں اس نہیں پتہ چلا وہ غلطی سے مسجد آ گیا ہے مجھے ہی دیکھ لیں میں کبھی آیاہوں مسجد ۔ میرا وعدہ وہ آئیندہ مسجد نہیں آئے گا ۔ یہ چھوٹا قصہ پورا ایک افسانہ ہے ۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب مجھے وہ بندہ یاد آتا ہے جس نے کہا میں آج پورے چالیس سال بعد مسجد آیا ہوں ۔ ہم نے مارے حیرت کے ،پوچھا بھائی ایسا کیوں ۔ اس نے کہا : میں ایک مرتبہ جوانی میں مسجد گیا تو ایک پکے نمازی بزرگ نے کہا خیر تو ہے آج مسجد کیسے یاد آ گئی ۔ میں وضو کر رہا تھا یہ بات انہوں نے اتنے برے لہجے میں کہی کہ میں نے وہیں وضو چھوڑا اور گھر چلا آیا ۔ اس کے بعد آج آپ کی دعوت پر مسجد آیا ۔ میں نے عنوان میں کہا ہے کہ اگر آپ نیک ہیں تو خدارا کسی دوسرے کی نیکی پر ایسا طنز مت کریں کہ وہ اچھی راہ چھوڑ جائیں ۔ آپ کی نیکیاں آپ کو ہی نفع دیں گی نا تو آپ نیک ہو کر کسی پر احسان کرتے ہیں نا کوئی آپ پر ۔ میرا یقین مانے میں نے ہر جنازے کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی ہی قبر میں خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ اگر آپ نیک ہیں تو آپ کا لہجہ بھی نیک ہونا چاہیے ایسا نہیں کہ اپنی نیکیوں پر نازاں ہو کر متکبر ہو جائیں ۔ اگر آپ عالم ہیں تو علم کی قدر کریں کیونکہ سب سے بد ترین تکبر علم کا تکبر ہے ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے طنزیہ جملے دوسروں کا کتنا نقصان کردیتے ہیں..؟ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں. مختصر خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو نیکی کی دعوت بھی نہایت شائستہ اسلوب میں دیں ۔ اب ہمیں مسجد میں جھاڑو لگانے ، جمعہ کو مسجد کی صفائی کرنے والے بچے نہیں ملتے ۔ یہی وجہ ہے ہر کوئی تو انہیں بری طرح ڈانٹتا ہے کہ میری نماز خراب ہو رہی ہے ۔بچوں کو مسجد میں ڈانٹیں مت ۔ ان کی تربیت کریں اگر ہر کوئی اس اسلوب پر چلے گا تو یقین جانیے ہماری نئی نسل آپ کو مسجد میں نہیں سینما ، تھٹر اور چوک چوراہوں میں ہی ملے گی ۔ علماء فتوے ہی لگاتے رہیں گے تو یہ بچے غیبت اور بد نظری کی مجالس اور جمگھٹوں میں سکون پائیں گے ۔ بس پھر سے یہی کہ اگر آپ نیک ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے نیکی کی توفیق دی تکبر اور غرور سے اپنی نیکیاں ضائع مت کریں ۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آبِ گُم – شہر دو قصہ​
  • اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات
  • ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں
  • جمغورہ الفریم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

اگلی پوسٹ
شادی کرنے سے پہلے
پچھلی پوسٹ
ہارنا نہیں کوشش نہ کرنا جرم ہے

متعلقہ پوسٹس

دلکش لگیں جناب، بلوچی لباس میں

دسمبر 8, 2025

کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟

اپریل 26, 2026

نہیں تو کرونا کو کرنے دو

مارچ 27, 2020

چغد

فروری 11, 2020

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026

دوسرا بوسہ

مئی 12, 2024

کودک و برگِ فرو افتاده

فروری 3, 2025

نبی اُمّیﷺ بحیثیت معلم

جون 29, 2020

نیا سال مبارک

دسمبر 30, 2025

اچھے ہمسائے

اگست 9, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے...

جون 3, 2020

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں...

اپریل 6, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں