خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممشکل وقت میں کیا کریں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

مشکل وقت میں کیا کریں؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 11, 2026 0 تبصرے 54 مناظر
55

زندگی کبھی ہموار سڑک کی طرح سیدھی نہیں چلتی۔ کبھی حالات کی دھوپ اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ انسان کے وجود کی نمی تک خشک ہونے لگتی ہے اور کبھی غم کی بارش مسلسل برستی رہتی ہے۔ مشکل وقت دراصل انسان کی شخصیت کا امتحان ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے اندر چُھپا ہوا حوصلہ جاگتا ہے یا وہ مایوسی کی دلدل میں اُتر جاتا ہے۔ دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے تکلیف، شکست، محرومی یا تنہائی نہ دیکھی ہو۔ انسان زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر اندھیروں سے گزرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اندھیروں کو اپنی قسمت سمجھ لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انہی اندھیروں میں روشنی تلاش کر لیتے ہیں۔
مشکل وقت میں سب سے پہلی ضرورت صبر کی ہوتی ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو طوفان میں بھی حوصلہ بجھنے نہیں دیتا۔ حضرت علیؓ کا قول ہے:” صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جسے انسان پسند نہیں کرتا مگر برداشت کرتا ہے اور دوسرا وہ جس پر انسان اللہ کی رضا کے لیے قائم رہتا ہے”۔ یہی صبر انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب حالات انسان کے خلاف ہو جائیں تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ جیسے رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے ویسے ہی مشکلات کے بعد آسانی بھی آتی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:” بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”۔ یہ آیت انسان کے دل میں اُمید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔
مشکل وقت میں انسان کو سب سے زیادہ اپنے ذہن کو سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ مصیبت آتے ہی گھبرا جاتے ہیں۔ وہ مسئلے کو اتنا بڑا بنا لیتے ہیں کہ ان کے اندر لڑنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔ حقیقت یہ ہے کہ آدھا مسئلہ انسان کے خوف میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر انسان دل مضبوط کر لے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہے۔ محاورہ ہے کہ "ہمت مرداں مدد خدا”۔ دُنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ گزرے ہیں انہوں نے سخت حالات کا سامنا کیا لیکن ہار نہیں مانی۔
نیلسن منڈیلا نے ستائیس برس جیل میں گزارے مگر اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ "میں نے سیکھا کہ بہادری خوف کا نہ ہونا نہیں بلکہ خوف پر قابو پانا ہے”۔ اسی طرح ہیلن کیلر جو نابینا اور گونگی تھیں انہوں نے کہا کہ "زندگی یا تو ایک بہادرانہ مہم ہے یا پھر کچھ بھی نہیں”۔ یہ لوگ اس بات کی مثال ہیں کہ انسان اگر خود پر یقین رکھے تو پہاڑ جیسی مشکلات بھی ریت کی دیوار بن جاتی ہیں۔
مشکل وقت میں انسان کو تنہائی سے بچنا چاہیے۔ غم جب دل میں بند ہو جائے تو زہر بن جاتا ہے۔ مشکل وقت میں قابلِ اعتماد لوگوں سے بات کرنا دل کا بوجھ کم کرتا ہے۔ بعض لوگ دُکھ میں خود کو دُنیا سے کاٹ لیتے ہیں۔ وہ خاموشی کی چادر اَوڑھ لیتے ہیں مگر اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔ انسان سماجی مخلوق ہے، اسے محبت، سہارے اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک جملہ انسان کو ڈوبنے سے بچا لیتا ہے۔ جیسے خشک زمین پر بارش کے چند قطرے نئی زندگی لے آتے ہیں ویسے ہی اچھے لفظ انسان کے اندر اُمید جگا دیتے ہیں۔
مشکل وقت میں دُعا انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ جب دُنیا کے دروازے بند ہونے لگیں تو خدا کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انسان جب سجدے میں گِرتا ہے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ بسا اوقات انسان کی عقل راستہ نہیں ڈھونڈ پاتی مگر دُعا اس کے لیے وہ راستے کھول دیتی ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مولانا روم نے کہا تھا:” زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے”۔ یہی روشنی انسان کو نئے حوصلے دیتی ہے۔
مشکل وقت میں ماضی کے غموں میں ڈوبنے کی بجائے حال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بعض لوگ اپنی ناکامیوں کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔ وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ یہ سوچ انسان کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان مسئلے پر رونے کی بجائے اس کا حل تلاش کرے۔ اگر راستہ بند ہو جائے تو دوسرا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔ پانی کی طرح بن جانا چاہیے جو چٹان سے ٹکرا کر رُکنے کی بجائے اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔
کتابوں میں بھی مشکل وقت سے نکلنے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ وکٹر فرینکل نے اپنی کتاب میں لکھا:” انسان سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے مگر ایک چیز نہیں چھینی جا سکتی اور وہ ہے اپنے رویے کا انتخاب”۔ یہی رویہ انسان کو شکست یا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ ڈیل کارنیگی نے لکھا :”اگر تمہارے پاس ایک لیموں ہے تو اس سے شربت بنانا سیکھو”۔ یہ الفاظ دراصل زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں انسان ان سے فائدہ اُٹھانا سیکھ سکتا ہے۔
ہمارے شعرا نے بھی مشکل وقت کے فلسفے کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

یہ شعر اُمید کی ایک روشن مثال ہے۔ انسان اگر دل میں یقین پیدا کر لے تو بربادی کے کھنڈرات سے بھی نئی زندگی اُگ سکتی ہے۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:

دل نہ اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

مشکل وقت میں اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اکثر لوگ ذہنی دباؤ میں اپنے جسم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نیند کم ہو جاتی ہے، کھانا بے ترتیب ہو جاتا ہے اور انسان اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط جسم مشکل حالات سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ صبح کی ہوا میں چہل قدمی کرنا، فطرت کے قریب رہنا اور ہمت بڑھانے والی کتابیں پڑھنا انسان کے ذہن کو سکون دیتی ہیں۔ فطرت انسان کے دُکھوں کی خاموش دوا ہے۔ جیسے سوکھی شاخ پر بہار دوبارہ آ جاتی ہے ویسے ہی انسان کے دل میں اُمید لوٹ سکتی ہے۔
بعض اوقات مشکل وقت انسان کو نئے راستے دِکھا دیتا ہے۔ بہت سے لوگ ناکامی کے بعد کامیاب ہوئے۔ اسٹیو جابز کو اپنی ہی کمپنی سے نکال دیا گیا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بعد میں وہی شخص دُنیا کے کامیاب ترین لوگوں میں شامل ہوا۔ انہوں نے کہا تھا:” کبھی کبھی زندگی اینٹ کی طرح آپ کے سر پر ضرب لگاتی ہے لیکن اپنا یقین مت کھونا”۔ یہ جملہ ہر اُس شخص کے لیے روشنی ہے جو حالات سے ٹوٹ رہا ہو۔
زندگی میں مشکل وقت بارش کی طرح آتا ہے۔ اگر انسان صرف بھیگنے کا خوف پال لے تو وہ کبھی قوسِ قزح نہیں دیکھ سکتا۔ آزمائش انسان کو توڑنے نہیں بلکہ مضبوط بنانے آتی ہے۔ سونا آگ میں تپ کر ہی کُندن بنتا ہے۔ اسی طرح انسان مشکلات سے گزر کر نکھرتا ہے۔ اگر انسان ہر دُکھ کو اپنی تباہی سمجھ لے تو وہ جینا چھوڑ دے گا ۔اس کے برعکس اگر وہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھے تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی سرتاپا سکون کا نام نہیں۔ زندگی کا حُسن ہی اس کے اُتار چڑھاؤ میں ہے۔ دُکھ اور خوشی ایک ہی دریا کے دو کنارے ہیں۔ جو انسان مشکل وقت میں اُمید ،صبر ،محنت اور دُعا کا دامن نہیں چھوڑتا وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو ایک چھوٹا سا چراغ بھی روشنی پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح مضبوط ارادہ پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ مشکل وقت میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ انسان خود پر اور اپنے رب پر یقین قائم رکھے کیونکہ یاس سے معمور دن ہمیشہ نہیں رہتے۔ ہر رات کے بعد نئی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جھوٹی بات پھیلانے کی سزا
  • توکل کیا ھے؟
  • ہٙواوں میں دِیا جلتا ہُوا ہُوں
  • چراغ تلے خاموشی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رب تعالیٰ پر بھروسہ
پچھلی پوسٹ
میں نے دیکھا جگ میں ایسا

متعلقہ پوسٹس

شیخ خالد زاہد

جولائی 18, 2023

تلافی

جون 14, 2020

رتی، ماشہ، تولہ

جنوری 12, 2020

اردو شاعری کا مردِ قلندر

مارچ 15, 2020

گرمٹیہ

جنوری 31, 2021

شعوری جنسیت

جولائی 8, 2020

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟

مارچ 27, 2019

زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

دسمبر 26, 2025

مشہور علماء کے تعارف

دسمبر 6, 2025

سبق آموز واقعات ( دوسرا اور آخری حصہ)

جولائی 30, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستانی افسانہ

مئی 23, 2026

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

مارچ 10, 2020

اللہ میاں کے مہمان

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں