خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا عورت سائیکو ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا عورت سائیکو ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

عورت کو اکثر "سائیکو” کہنا ہمارے معاشرے کی ایک پرانی اور غیر منصفانہ عادت ہے۔ جب بھی کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے، اپنی پسند ناپسند واضح کرے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے یا جذبات کا اظہار کرے تو فوراً اسے جذباتی، ضدی، پاگل یا "سائیکو” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ لفظ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ ہے جو عورت کی شخصیت کو کمزور ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت واقعی ذہنی طور پر ایسی ہوتی ہے یا یہ مرد پرست سماج کی بنائی ہوئی ایک سوچ ہے؟
ہمارے پدرسری معاشرے میں مرد کو ہمیشہ طاقت، عقل اور فیصلے کی علامت سمجھا گیا؛ جبکہ عورت کو نرمی، خاموشی اور فرمانبرداری کا پیکر بنایا گیا۔ بچپن سے لڑکی کو سکھایا جاتا ہے کہ زیادہ نہ بولو، بحث نہ کرو، برداشت کرو اور ہر حال میں رشتہ بچاؤ۔ دوسری طرف لڑکے کو اختیار، آزادی اور فیصلہ سازی دی جاتی ہے۔ جب یہی لڑکی بڑی ہو کر اپنی رائے دیتی ہے، سوال کرتی ہے یا ناانصافی قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو معاشرہ اسے نارمل نہیں سمجھتا۔ اسے کہا جاتا ہے کہ یہ عورت بہت تیز ہے، بہت بولتی ہے، دماغی طور پر ٹھیک نہیں نری "سائیکو” ہے۔
اصل میں عورت کو سائیکو کہنا ایک دفاعی ہتھیار ہے۔ جب مرد یا سماج عورت کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا تو وہ اس کی ذہنی کیفیت پر حملہ کرتا ہے۔ اگر بیوی شوہر سے اس کی بے توجہی پر سوال کرے تو کہا جاتا ہے کہ تم ہر وقت شک کرتی ہو۔ اگر بیٹی اپنی تعلیم یا پسند کی شادی کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اگر بہو گھر میں ناانصافی پر آواز اُٹھائے تو اسے بدتمیز اور ذہنی مریض قرار دے دیا جاتا ہے۔ یعنی مسئلہ عورت کی سوچ کا نہیں بلکہ اپنے حق میں بولنے کا ہے۔
ہمارے سماج میں عورت کی جذباتی کیفیت کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ عورت روتی ہے تو کمزور، غصہ کرتی ہے تو پاگل، خاموش رہتی ہے تو مغرور اور ہنس کر بات کرے تو بے بت میز کہلائی جاتی ہے۔ گویا ہر حالت میں اس پر اعتراض موجود ہے۔ مرد کے غصے کو غیرت کہا جاتا ہے اور عورت کے غصے کو پاگل پن۔ یہی دوہرا معیار عورت کے خلاف سب سے بڑی ناانصافی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ مسلسل دباؤ، گھریلو تشدد، جذباتی نظراندازی، معاشی انحصار اور سماجی پابندیاں کسی بھی انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عورت اگر برسوں تک خاموشی سے ظلم برداشت کرے، اپنی خواہشات دباتی رہے، اپنی شناخت کھو دے تو اس کے رویے میں بے چینی، چِڑچڑاپن اور اضطراب پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ ستم یہ کہ معاشرہ عورت کی نفسیات کو اس تناظر میں نہیں دیکھتا۔سماج عورت کے ردِعمل کو دیکھتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے آسانی سے فیصلہ سنا دیتا ہے کہ یہ عورت سائیکو ہے۔
پدرسری سماج کو یہ اچھی طرح علم ہے کہ عورت پیدا ہوتے ہی سائیکو نہیں ہوتی، اسے حالات ایسا بنا دیتے ہیں۔ ایک عورت جو مسلسل سُن رہی ہو کہ تم کم تر ہو، تمہاری رائے کی اہمیت نہیں، تمہاری زندگی کا مقصد صرف دوسروں کی خدمت ہے۔اس لعن طعن سے وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔ جب وہ ٹوٹنے کے بعد ردِعمل دیتی ہے تو لوگ اس ردِعمل کو بیماری کہتے ہیں لیکن اس ٹوٹ پھوٹ کی وجہ نہیں دیکھتے۔
بعض اوقات عورت کا مرد سے اختلاف بھی اسے مشکوک بنا دیتا ہے۔ اگر وہ مذہب، سیاست، تعلیم، شادی یا خاندان کے معاملات میں مرد سے مختلف رائے رکھتی ہے تو اسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مرد کی رائے کو عقل اور عورت کی رائے کو جذبات سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک باشعور عورت مَردوں کو خطرناک محسوس ہوتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل دیتی ہے، اپنی ذات کو اہم سمجھتی ہے اور یہی چیز پدرسری ذہن کو قبول نہیں ۔
اُردو ادب میں عورت کے اس دُکھ کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ عصمت چغتائی نے عورت کے اندر کی گُھٹن اور سماجی جبر کو بے باکی سے لکھا۔ فہمیدہ ریاض نے عورت کی آزادی اور شناخت کی بات کی۔ پروین شاکر نے عورت کے جذبات کو عزت دی۔ ان خواتین قلم کاروں کو اپنے وقت میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرہ ہمیشہ بولنے والی عورت سے خوفزدہ رہا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ کچھ عورتیں واقعی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں، جیسے مرد ہوتے ہیں۔ ذہنی بیماری صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، ٹراما اور ذہنی تھکن جیسی بیماریاں جنس نہیں دیکھتیں۔مزے کی بات یہ کہ عورت کے معاملے میں اسے بیماری سے زیادہ کردار کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے دُکھ کو سُننے کی بجائے اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی کے بے ہنگم سوشل میڈیا نے اس لفظ کو عام کر دیا ہے۔ آج کل معمولی غصہ کرنے والی لڑکی کو بھی مذاق میں "سائیکو” کہا جاتا ہے۔ یہ مذاق نہیں بلکہ ایک خطرناک سوچ ہے۔ اس سے عورت کی اصل تکلیف چُھپ جاتی ہے اور اس کی بات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اسے ہنسی میں اُڑا دیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کو سمجھنے کی کوشش کریں نہ کہ اس پر لیبل لگائیں۔ اگر وہ غصہ کرتی ہے تو شاید اس کے پیچھے برسوں کی خاموشی ہے۔ اگر وہ بار بار سوال کرتی ہے تو شاید اسے بار بار دھوکا ملا ہے۔ اگر وہ اپنی رائے پر قائم ہے تو یہ پاگل پن نہیں بلکہ شعور ہے۔ہمیں عورت کو انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پدرسری سماج نے عورت کو یا تو فرشتہ بنایا یا پھر سائیکو لیکن انسان نہیں سمجھا۔ حالانکہ عورت بھی مرد کی طرح مکمل احساسات، خواب، عقل اور کمزوریوں کے ساتھ ایک انسان ہے۔ اسے اختلاف کا، غصے کا، خاموشی کا اور آزادی کا حق حاصل ہے اور ہونا چاہیے ۔
عورت کو سائیکو کہنا دراصل اس کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ بس بہت ہو چکا۔اس سوچ کی نفی کرنا ہوگی۔ اب عورت خاموش نہیں رہے گی۔ اکیسویں صدی کی عورت اپنے دُکھ کو نام دے رہی ہے، اپنی شناخت کو بچا رہی ہے اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ اصل مسئلہ عورت نہیں بلکہ وہ سماج ہے جو ہر آزاد سوچ رکھنے والی عورت سے خوف کھاتا ہے۔خوف کے اس بندھن کو توڑنا ہوگا۔یہ وقت کا تقاضا نہیں بلکہ فطرت کی پدرسری نظام سے شدید مانگ ہے۔

محسن خالد محسنؔ 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایسےایسے لوگ
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
  • پاکستان کی شان بڑھانے والے!
  • پاکستان کے تعلیمی مسائل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایران امریکہ جنگ بندی کے مصالحتی مطالبات
پچھلی پوسٹ
دل کے مسائل اور بلڈ پریشر ایورویدک میں

متعلقہ پوسٹس

سیاسی اردو ادب

مئی 25, 2024

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ

فروری 21, 2026

میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت بھی

اگست 28, 2025

در باب نظم اور کلام موزوں

جنوری 16, 2026

پروازِ جمال

دسمبر 22, 2024

خدا کا شُکر ہے گرداب سے نکل آیا

فروری 12, 2020

انسانوں کے غیر انسانی رویے!

دسمبر 18, 2020

ایسا عجیب غصہ تھا کہ آ گ لگ گئی

دسمبر 12, 2025

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا

اپریل 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قرآن مجید پڑھنے کی عادت

اگست 25, 2025

بابا کی گڑیا

جنوری 29, 2021

کتے کی زبان

مئی 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں