خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا عورت سائیکو ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا عورت سائیکو ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

عورت کو اکثر "سائیکو” کہنا ہمارے معاشرے کی ایک پرانی اور غیر منصفانہ عادت ہے۔ جب بھی کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے، اپنی پسند ناپسند واضح کرے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے یا جذبات کا اظہار کرے تو فوراً اسے جذباتی، ضدی، پاگل یا "سائیکو” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ لفظ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ ہے جو عورت کی شخصیت کو کمزور ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت واقعی ذہنی طور پر ایسی ہوتی ہے یا یہ مرد پرست سماج کی بنائی ہوئی ایک سوچ ہے؟
ہمارے پدرسری معاشرے میں مرد کو ہمیشہ طاقت، عقل اور فیصلے کی علامت سمجھا گیا؛ جبکہ عورت کو نرمی، خاموشی اور فرمانبرداری کا پیکر بنایا گیا۔ بچپن سے لڑکی کو سکھایا جاتا ہے کہ زیادہ نہ بولو، بحث نہ کرو، برداشت کرو اور ہر حال میں رشتہ بچاؤ۔ دوسری طرف لڑکے کو اختیار، آزادی اور فیصلہ سازی دی جاتی ہے۔ جب یہی لڑکی بڑی ہو کر اپنی رائے دیتی ہے، سوال کرتی ہے یا ناانصافی قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو معاشرہ اسے نارمل نہیں سمجھتا۔ اسے کہا جاتا ہے کہ یہ عورت بہت تیز ہے، بہت بولتی ہے، دماغی طور پر ٹھیک نہیں نری "سائیکو” ہے۔
اصل میں عورت کو سائیکو کہنا ایک دفاعی ہتھیار ہے۔ جب مرد یا سماج عورت کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا تو وہ اس کی ذہنی کیفیت پر حملہ کرتا ہے۔ اگر بیوی شوہر سے اس کی بے توجہی پر سوال کرے تو کہا جاتا ہے کہ تم ہر وقت شک کرتی ہو۔ اگر بیٹی اپنی تعلیم یا پسند کی شادی کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اگر بہو گھر میں ناانصافی پر آواز اُٹھائے تو اسے بدتمیز اور ذہنی مریض قرار دے دیا جاتا ہے۔ یعنی مسئلہ عورت کی سوچ کا نہیں بلکہ اپنے حق میں بولنے کا ہے۔
ہمارے سماج میں عورت کی جذباتی کیفیت کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ عورت روتی ہے تو کمزور، غصہ کرتی ہے تو پاگل، خاموش رہتی ہے تو مغرور اور ہنس کر بات کرے تو بے بت میز کہلائی جاتی ہے۔ گویا ہر حالت میں اس پر اعتراض موجود ہے۔ مرد کے غصے کو غیرت کہا جاتا ہے اور عورت کے غصے کو پاگل پن۔ یہی دوہرا معیار عورت کے خلاف سب سے بڑی ناانصافی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ مسلسل دباؤ، گھریلو تشدد، جذباتی نظراندازی، معاشی انحصار اور سماجی پابندیاں کسی بھی انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عورت اگر برسوں تک خاموشی سے ظلم برداشت کرے، اپنی خواہشات دباتی رہے، اپنی شناخت کھو دے تو اس کے رویے میں بے چینی، چِڑچڑاپن اور اضطراب پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ ستم یہ کہ معاشرہ عورت کی نفسیات کو اس تناظر میں نہیں دیکھتا۔سماج عورت کے ردِعمل کو دیکھتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے آسانی سے فیصلہ سنا دیتا ہے کہ یہ عورت سائیکو ہے۔
پدرسری سماج کو یہ اچھی طرح علم ہے کہ عورت پیدا ہوتے ہی سائیکو نہیں ہوتی، اسے حالات ایسا بنا دیتے ہیں۔ ایک عورت جو مسلسل سُن رہی ہو کہ تم کم تر ہو، تمہاری رائے کی اہمیت نہیں، تمہاری زندگی کا مقصد صرف دوسروں کی خدمت ہے۔اس لعن طعن سے وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔ جب وہ ٹوٹنے کے بعد ردِعمل دیتی ہے تو لوگ اس ردِعمل کو بیماری کہتے ہیں لیکن اس ٹوٹ پھوٹ کی وجہ نہیں دیکھتے۔
بعض اوقات عورت کا مرد سے اختلاف بھی اسے مشکوک بنا دیتا ہے۔ اگر وہ مذہب، سیاست، تعلیم، شادی یا خاندان کے معاملات میں مرد سے مختلف رائے رکھتی ہے تو اسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مرد کی رائے کو عقل اور عورت کی رائے کو جذبات سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک باشعور عورت مَردوں کو خطرناک محسوس ہوتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل دیتی ہے، اپنی ذات کو اہم سمجھتی ہے اور یہی چیز پدرسری ذہن کو قبول نہیں ۔
اُردو ادب میں عورت کے اس دُکھ کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ عصمت چغتائی نے عورت کے اندر کی گُھٹن اور سماجی جبر کو بے باکی سے لکھا۔ فہمیدہ ریاض نے عورت کی آزادی اور شناخت کی بات کی۔ پروین شاکر نے عورت کے جذبات کو عزت دی۔ ان خواتین قلم کاروں کو اپنے وقت میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرہ ہمیشہ بولنے والی عورت سے خوفزدہ رہا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ کچھ عورتیں واقعی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں، جیسے مرد ہوتے ہیں۔ ذہنی بیماری صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، ٹراما اور ذہنی تھکن جیسی بیماریاں جنس نہیں دیکھتیں۔مزے کی بات یہ کہ عورت کے معاملے میں اسے بیماری سے زیادہ کردار کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے دُکھ کو سُننے کی بجائے اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی کے بے ہنگم سوشل میڈیا نے اس لفظ کو عام کر دیا ہے۔ آج کل معمولی غصہ کرنے والی لڑکی کو بھی مذاق میں "سائیکو” کہا جاتا ہے۔ یہ مذاق نہیں بلکہ ایک خطرناک سوچ ہے۔ اس سے عورت کی اصل تکلیف چُھپ جاتی ہے اور اس کی بات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اسے ہنسی میں اُڑا دیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کو سمجھنے کی کوشش کریں نہ کہ اس پر لیبل لگائیں۔ اگر وہ غصہ کرتی ہے تو شاید اس کے پیچھے برسوں کی خاموشی ہے۔ اگر وہ بار بار سوال کرتی ہے تو شاید اسے بار بار دھوکا ملا ہے۔ اگر وہ اپنی رائے پر قائم ہے تو یہ پاگل پن نہیں بلکہ شعور ہے۔ہمیں عورت کو انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پدرسری سماج نے عورت کو یا تو فرشتہ بنایا یا پھر سائیکو لیکن انسان نہیں سمجھا۔ حالانکہ عورت بھی مرد کی طرح مکمل احساسات، خواب، عقل اور کمزوریوں کے ساتھ ایک انسان ہے۔ اسے اختلاف کا، غصے کا، خاموشی کا اور آزادی کا حق حاصل ہے اور ہونا چاہیے ۔
عورت کو سائیکو کہنا دراصل اس کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ بس بہت ہو چکا۔اس سوچ کی نفی کرنا ہوگی۔ اب عورت خاموش نہیں رہے گی۔ اکیسویں صدی کی عورت اپنے دُکھ کو نام دے رہی ہے، اپنی شناخت کو بچا رہی ہے اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ اصل مسئلہ عورت نہیں بلکہ وہ سماج ہے جو ہر آزاد سوچ رکھنے والی عورت سے خوف کھاتا ہے۔خوف کے اس بندھن کو توڑنا ہوگا۔یہ وقت کا تقاضا نہیں بلکہ فطرت کی پدرسری نظام سے شدید مانگ ہے۔

محسن خالد محسنؔ 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روشنی کے اندر زندگی
  • فضاؤں میں بھارت کی شکست
  • مجرم کون
  • جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایران امریکہ جنگ بندی کے مصالحتی مطالبات
پچھلی پوسٹ
دل کے مسائل اور بلڈ پریشر ایورویدک میں

متعلقہ پوسٹس

غبارے

دسمبر 23, 2021

آخر انسان ایسا کیوں ھوتا ھے؟

دسمبر 13, 2024

 بھائی​

نومبر 12, 2019

بنام شاہزادہ بشیر الدین صاحب

دسمبر 8, 2019

جانے گھر سے کوئی گیا ہے

مارچ 15, 2026

پڑھے کلمہ

جنوری 24, 2020

کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار

جنوری 18, 2026

اللہ دیکھ رہا ہے

جولائی 21, 2020

سکون کی آغوش

دسمبر 15, 2024

نمک کا داروغہ

دسمبر 10, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نفرت کیسے کی جائے؟

اپریل 25, 2026

زندگی کی بقاء کیلئے!

اکتوبر 31, 2021

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں