خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسانوں کے غیر انسانی رویے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

انسانوں کے غیر انسانی رویے!

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 18, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 18, 2020 0 تبصرے 36 مناظر
37

انسانوں کے غیر انسانی رویے!

تقریباً مضامین نا چاہتے ہوئے بھی کورونا سے شروع ہوتے ہیں (اللہ تعالی ہمیں اس آزمائش سے جلد از جلد نجات دلائیں)۔ آج کل موبائل فون پر کسی کو کال کریں تو کورونا کیلئے ایک پیغام تقریباً سماء خراشی کرتا ہے اور بعض اوقات تو دوسری طرف سے فون وصول نا کئے جانے کی وجہ سے پورا پیغام سننا پڑتا ہے۔جی ہاں حکومتی سطح پر کیا جانے والا یہ ایک انتہائی اہم کارنامہ ہے لیکن اسکے باوجوداکثریت ایسے اصحاب کی ہے جو مذکورہ پیغام سن تو رہے ہوتے لیکن افسوس وہ بغیر ماسک پہنے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ ہم انفرادی طور پر ترجیحات کا تعین کرنے سے قاصر رہے ہیں اسی لئے ہم بطور قوم بھی اپنی ترجیحات کا تعین تا حال نہیں کرپائے ہیں، ہم نظم و ضبط سے عاری ہیں، ہم کسی بھی مسلۂ کیلئے قومی محاذ نہیں بنا پائے جس کیلئے ہمیں تاریخ کوکریدنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کورونا کی صورت میں موجود بحران کو ہی لے لیجئے۔ اگر ہم دنیا سے موازنا کریں تو ہم بہت حد تک بطور قوم اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے آرہے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے قدرت کی عطاء کردہ مہلت کے باوجود ہم نے تاحال سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ جس کا کسی حد تک خمیازہ بھگتا جا رہا ہے۔

قدرت نے کرہ عرض پر ہر وہ شے پیدا کی جسکی طلب بنی نوع انسان کے دل و دماغ میں پنہاں رکھی گئی (انسان کو اپنی چاہ کی بھی کھوج لگانی پڑتی ہے پھر کہیں جاکہ اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ چاہتا کیا ہے اور یہ وہی پنہا ہے جو قدرت نے دل ودماغ میں پوشیدہ رکھ کر ہمیں جستجو کی ترغیب دی ہے)۔حضرت آدم ؑ ایک عمل (ہم خطاء نہیں لکھ سکتے) کی بدولت زمین پر بھیجے گئے یہاں سے انسانیت کی آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوااور اسطرح سے علم کی ترویج شروع ہوگئی، محدود سے لامحدود کا سلسلہ شروع ہوگیا جو تاحال جاری و ساری ہے۔قدرت کرہ عرض کے مخصوص خطوں اور علاقوں میں اپنے پیامبر بھیجتی رہی۔ جہاں سب سے اہم بات یہ کہ قدرت کو انسانوں کو اپنی بنائی ہوئی دنیا میں رہنے کیلئے ضروریات سے آگاہی فراہم کرنی تھی تو دوسری طرف اس دنیااور اس میں رہنے کیلئے ہر شے کے مہیہ کرنے والے تخلیق کار کا شکر ادا کرنے کاطریقہ کار کو واضح بھی کرنا تھا۔ درحقیقت قدرت اپنے مخصوص بندوں کو علم کی روشنی سے خیرہ کرتی رہی اور انکے لئے ایک ایک پیدا گردہ ذرہ اپنے اندر علم کے خزانے چھپائے ہوئے رہا اور ان صاحب علوم کے ذمہ لوگوں کی رہنمائی کا ذمہ لگایا ہوا۔ قدرت کی طرف سے کوئی نا کوئی سیدھا راستہ بتانے کیلئے تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ آج دنیا میں رائج علوم کی گنتی کریں تو شائد فہرستیں ترتیب دینی پڑیں۔ لیکن ہر علم کی بنیاد اسی آگاہی سے ملی جو قدرت کے نامزد کردہ بندوں سے ملتا ہے۔

ہمیں دنیا دیکھانے والوں نے مذہب اور دنیا کو الگ الگ زاوئیے سے دیکھانے کی ہر ممکن اقدامات کر رکھے ہیں اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ وقت کی بے رحمی کی نظر ہونے والے ہم جیسے لوگوں کو قدرت کے تعینات کردہ لوگوں سے دنیا داروں نے بطور مذہبی بتایا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر علم انہیں برگزیدہ بندوں کی میراث ہے، یہ وہی لوگ ہیں جو علم کا حقیقی سرچشمہ ہیں۔ چودہ سو سال سے زیادہ ہوچکے یہ سلسلہ ہمارے پیارے نبی ﷺ پر ختم ہوچکا یعنی علم کی جتنی قسمیں ہوسکتی تھی وہ سب کی سب ہمارے پیارے نبی ﷺ پر اتارے گئے قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے بتا دیں جس میں ایٹم بم سے لیکر سوئی بنانے تک کا علم موجود ہے، پانی کے جہاز سے ہوائی جہاز بنانے کے طریقے ہیں،ہر اس بیماری کا علاج ہے جو دنیا میں ہوسکتی ہے،ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی احادیث سے اپنی سنتوں سے قرآن کو آسان ترین کر کے ہمارے درمیان راہ ہدایت کیلئے چھوڑکررہتی دنیا تک کیلئے احسان عظیم فرمایا۔

آپ ﷺ کے اخلاق ساری دنیا میں بسنے والے انسانوں کیلئے تاقیامت تک مشعل راہ ہے اور دنیا کی وہ آبادی جو آپ ﷺ کے ماننے والوں میں نہیں یعنی مسلمان نہیں ہیں لیکن وہ آپ ﷺ کے اخلاق سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی اپنی زندگیاں ہی نہیں اپنے معاشرے آپ ﷺ کی تعلیمات کیمطابق ڈھال لئے جسکا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے وہ دنیا میں فلاح پاگئے اور غالب کردئیے گئے ہیں۔ہم نے انکے علم کو اپنی ترقی کا ذریعہ ہی نہیں بنایا بلکہ ضامن سمجھ لیا اور ہم مسلسل تنزلیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ جنہوں نے ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات کی بنیاد پر اپنا تعلیمی نصاب مرتب کیا وہ آج کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ نظم و ضبط، احترام انسانیت، سچائی، دیانت داری یہ وہ چند ایسے معاشرتی عنصر ہیں کہ جن کو اپنا کر مغرب نے ترقی کی ہے۔ انکے رہنما ء ان بہترین خصوصیات کی بنیاد پر ترقی کرتے ہیں جن کا حوالہ پیچھے کیا جاچکا ہے۔ ہمیں یہ جان کر بھی شائد حیرانگی ہو گی کہ یورپ کے بعض ممالک کے قوانین میں حضرت عمر ؓ کے نافذ کردہ قوانین شامل ہیں۔

مضمون لکھنے سے قبل عنوان جو ذہن میں تھا وہ ہمارے سیاست دان اور انکے سیاسی روئیے تھا لیکن جب لکھنا شروع کیا تو قلم سیاسی سے انسانی روئیے کی طرف چل نکلا۔ آج ہمارے ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا اس کا کہیں سے بھی تانا بانا ملک کی بہتری اور بھلائی سے قریب قریب بھی ملتا دیکھائی دیتا ہے، کیا یہ کھلی کتاب کی طرح نہیں کہ ملک میں موجود تقریباً سیاسی جماعتیں اپنے نطرئیے یا اپنے منشور کے دفاع کی بجائے اپنے اپنے قائدین کی بدعنوانی کو بچانے کیلئے میدان عمل میں ہیں۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سالمیت اور بقاء کی کوئی بات کرتا سنائی دے رہا ہے دوسری طرف ہمارے سیاسی اور ہمارے مذہبی دشمن ایک مضبوط گٹھ جوڑ کرنے میں کامیابی کیساتھ برسرپیکار ہیں۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ کورونا جیسی وباء پاکستان میں کس بے دردی سے اپنے وار کر رہی ہے ان نام نہاد سیاسی رہنماؤں کو اپنی فانی بقاء کی خاطر معصوم پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جو اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ یہ کوئی بھی ایسا موقع جس سے پاکستان یا پاکستانیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ضائع کرنا نہیں چاہتے۔انسان اپنی نجی بقاء کی خاطر اجتماعی طور پر تحریکیں چلا رہے ہیں اور اس بات کو بھی خاطر میں نہیں رکھتے کہ حالات و واقعات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے۔ یہ روایہ ہی ہے کہ ہم آج جس وباء سے پہلے بچ کر نکل آئے تھے پھر پھنستے جا رہے ہیں۔ ہم سیاست یا ذاتی مفادات کو وقتی طور پر موقوف کرنا پڑے گا ورنہ بربادی ہمارا مقدر ہوجائے گی۔ یہاں مقصد کسی کی طرف داری نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنے کی کوشش ہے کہ برے کا انجام برا ہوتا ہے یہ ایک کائناتی سچائی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں کوئی ادارہ، کوئی شخصیت ایسی نہیں بچی جس کا کہا مانا جائے، ہر طرف من مانیوں کا دور دورہ ہے۔اللہ پر مکمل بھروسہ ہے کہ بہت جلد ادارے بھی مضبوط ہوجائینگے، معتبر افراد جن کی سنی جائے گی منظر عام پر آجائینگے اور انصاف، امن اور ایمانداری کا بول بالا بھی ہوجائیگا۔ انشاء اللہ

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رسمِ الفت کی پیار کی باتیں
  • اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود
  • جینا اب اور نہ دشوار بناؤ ، جاؤ
  • رستے میں شام ہو گئی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امریکی موسیقار روڈ رگس
پچھلی پوسٹ
فرحت پروین

متعلقہ پوسٹس

مسز گل

جنوری 16, 2020

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

مئی 12, 2026

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

جنوری 23, 2020

جو کتابِ زیست کا باب تھا

جنوری 28, 2020

ابّو جی

مارچ 2, 2022

گھر کا پتہ

جنوری 24, 2020

آصف نے کہا

نومبر 14, 2019

شَجَرِ شعر کے پَھل سُرخ ، ہری شاخِ سُخَن

نومبر 19, 2021

لاوارث

جون 14, 2020

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سڑک کے کنارے

فروری 5, 2020

تکلم سے لگے گھاؤ پہ مرہم...

نومبر 2, 2021

ہے دردِ ہجراں بہت زیادہ جداٸی...

اپریل 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں