خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ تحقیق و تنقیدشہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب
تحقیق و تنقیدقدرت اللہ شہابمقالات و مضامین

شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب

از سائیٹ ایڈمن اپریل 18, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 18, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

شہاب نامہ قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت کہانی ہے۔ شہاب نامہ مسلمانان برصغیر کی تحریک آزادی کے پس منظر ، مطالبہ پاکستان، قیام پاکستان اور تاریخ پاکستان کی چشم دید داستان ہے۔ جو حقیقی کرداروں کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔ شہاب نامہ دیکھنے میں ضخیم اور پڑھنے میں مختصر کتاب ہے۔ شہاب نامہ امکانی حد تک سچی کتاب ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے کتاب کے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ،
میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے۔
جو لوگ قدرت اللہ شہاب کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ ایک سادہ اور سچے انسان کے الفاظ ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب میں وہی واقعات لکھے ہیں جو براہ راست ان کے علمQudrat Ullah Shahab اور مشاہدے میں آئے اس لئے واقعاتی طور پر ان کی تاریخی صداقت مسلم ہے۔ اور بغیر تاریخی شواہد یا دستاویزی ثبوت کے ان کی صداقت میں شک کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ البتہ حقائق کی تشریح و تفسیر یا ان کے بارے میں زاویہ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے۔عمومی طور پر شہاب نامہ کے چار حصے ہیں،
١)قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم ٢) آئی سی ایس میں داخلہ اور دور ملازمت
٣)پاکستان کے بارے میں تاثرات ٤) دینی و روحانی تجربات و مشاہدات
ان چاروں حصوں کی اہمیت جداگانہ ہے لیکن ان میں ایک عنصر مشترک ہے اور وہ ہے مصنف کی مسیحائی۔ وہ جس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں وہ لفظوں کے سیاہ خانوں سے نکل کر قاری کے سامنے وقوع پذیر ہونا شروع کر دیتا ہے۔ وہ جس کردار کا نقشہ کھینچتے ہیں وہ ماضی کے سرد خانے سے نکل کر قاری کے ساتھ ہنسنے بولنے لگتا ہے۔
اس کتاب میں ادب نگاری کی شعوری کوشش نظر نہیں آتی ۔ بے ہنری کی یہ سادگی خلوص کی مظہر ہے اور فنکاری کی معراج ، یہ تحریر ایمائیت کا اختصار اور رمزیت کی جامعیت لئے ہوئے ہے۔ کتاب کا کےنوس اتنا وسیع ہے کہ اس کی لامحدود تفصیلات اور ان گنت کرداروں کی طرف اجمالی اشارے ہی کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ اشارے بھر پور ہیں۔
قدرت اللہ شہاب کا بچپن اور تعلیم:۔
بچپن اور تعلیم کا دور شہاب کی شخصیت کا تشکیلی دور ہے اس لئے مصنف کی شخصیت سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے علاوہ ان کے ملاقاتیوں کے لئے جداگانہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اس ذاتی زاویے کے علاوہ اس کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ اس حصے میں ڈوگرہ دور کی ریاست جموں کشمیر کا معاشرتی اور سیاسی نقشہ زندہ ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ اس باب میں شہاب نے بہت سے زند ہ کردار تخلیق کئے ہیں جو یقینا اردو ادب کے زندہ کرداروں میں شامل ہیں ۔ ان کرداروں میں مولوی صاحب کی بیوی ، چوہدری مہتاب دین ، ملازم کریم بخش شامل ہیں لیکن ان میں سب سے اہم اور بہترین کردار چندرواتی کا ہے۔جوانی کے عشق کی اولین ہمسفر چندراوتی کا سراپا یوں لکھتے ہیں۔
چندراوتی واقعی سورن کنیا تھی۔ وہ سپر ڈیشز سمیشر قسم کی لڑکیوں کی طرح حسین تو نہ تھی لیکن اس کے وجود پہ ہر وقت سپیدی سحری کا حالہ رہتا تھا۔ رنگت میں وہ سونے کی ڈلی تھی ۔ اور جلد اس کی باریک مومی کاغذ تھی ۔ جس کے آر پار نگاہ جاتی بھی اور نہیں بھی جاتی۔ ۔۔۔جب وہ پانی پیتی ہے تو وہ اس کے گلے سے گزرتا ہوا ایک ایک گھونٹ دور سے گنا جاسکتا ہے۔
کتاب کا یہ حصہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے زندہ کرداروں سے بھرا پڑا ہے اور ہر باب اپنی جگہ ناول یا ناولٹ ہے۔ اس حصے میں اس دور کی معاشرت زندہ ہو کر سامنے آجاتی ہے۔
آئی سی ایس اور دور ملازمت:۔
کتاب کا دوسرا حصہ ملازمت سے متعلق ہے۔ اس دور میں وہ بھاگلپور میں اسسٹنٹ کمشنر ، اورنگ آباد اور تملوک میں ایس ڈی او، اور صوبائی سیکرٹریت اڑیسہ میں انڈر سیکر ٹری رہے۔ اس دور کی تصویر کشی ، تاثراتی اور تجریدی انداز میں اس چابکدستی سے کی گئی ہے کہ تحریک پاکستان اور مطالبہ پاکستان پس منظر اور جواز ذہنوں پر کم اور دلوں پر زیادہ نقش ہو جاتا ہے۔ شہاب نے اس بارے میں لیکچر بازی نہیں کی بلکہ حالات و اقعات کو زبا ن دے دی ہے او ر وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی بقا کا پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ سرگزشت کا یہ حصہ قیام پاکستان کے ناگزیر ہونے کی دلیل اور دستاویزہے۔ کلکتہ اور بہار میں وسیع پیمانے پر مسلمانوں کی نسل کشی ، کانگرس ہائی کمان کا خفیہ منصوبہ جو شہاب صاحب نے جوش جنوں میں قائداعظم تک پہنچایا ، یہ سب تحریک پاکستان کا المناک دیباچہ ہے۔
قیام پاکستان کے بعد شہاب پاکستان آئے جہاں وہ سیکرٹریٹ میں بھی رہے آزاد کشمیر کی نوزائیدہ حکومت کے سیکرٹری جنرل بھی ، جھنگ کے ڈپٹی کمشنر بھی ، تین سربراہان ِ مملکت کے پرسنل سیکرٹری بھی اور ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر بھی۔ یہ حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس میں قاری پاکستان کے ایک اہم تشکیلی دور میں صاحبان اختیار کل کو حاکموں کی حیثیت سے بھی دیکھتے ہیں اور انسانوں کی حیثیت سے بھی۔ گورنر جنرل غلام محمد، صدر سکندر مرزا اور صدر ایوب کی زندگی کی جھلکیاں شہاب نامہ میں ملتی ہیں و ہ کسی مورخ کی تاریخ میں نہیں ملیں گی ۔ ان میں پس پردہ جھانکنے کا لطف آتا ہے۔ اس حصے میں اہم رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ کس طرح افسر شاہی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اقدار میں شامل کیا گیا اور پھر فوج کو اقدار میں آنے کے لئے راہ ہموار کی گئی۔ یہاںصدر ایو ب ،سکندر مرزا ، غلام محمد سب کی محلاتی سازشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
اختیار اعلیٰ کی راہداریوں کی قربت کے برعکس ڈپٹی کمشنر کی ڈائری ، انتظامیہ کے ضلعی نظام کے ناسوروں کی پردہ در اور عوام الناس کی بے بسی اور پریشانیوں کی آئینہ دار ہے۔ افسوس کی بات ہے یہ ہے کہ جب سے اب تک خرابیوں کی اصلاح کے بجائے ان میں اضافہ ہی ہوا ہے۔کاش ڈائری کے یہ اوراق ہمارے آئندہ ضلعی حاکموں کے دل میں خوف خدا اور انسانی ہمدردی کا جذبہ پیدا کر سکیں ۔
پاکستان کے بارے میں تاثرات:۔
پہلے دو ابواب کے برعکس پاکستان کا مستقبل خارجی واقعات کی داستان نہیں ،بلکہ ایک داخلی ردعمل ہے۔ اس میں شہاب صاحب نے اپنی آرزئوں کے نقش دکھائے ہیں اور چند سیاسی حقائق کا تجزیہ بھی کیا ہے۔ یہاں وہ اُن اصولوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر چل کر پاکستان ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔ اور مسلم دنیا کی مکمل رہنمائی اور قیادت کر سکتا ہے۔ وہ اس مختصر باب کے خاتمے پر لکھتے ہیں،
ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں بلکہ جنون درکار ہے۔ جذبہ تو محض ایک حنوط شدہ لاش کی مانند دل کے تابوت میں منجمد رہ سکتا ہے۔ جنون ، جوش جہاد اور شوق شہادت سے خون کو گرماتا ہے اسی میں پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کا راز پوشیدہ ہے۔
چھوٹا منہ بڑی بات:۔
کتا ب کا یہ حصہ کافی متنازعہ رہا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شہاب صاحب کے دوستوں نے لکھ کر اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ یہ اُن کی روحانی زندگی کی داستان ہے۔ ممتاز مفتی ساری عمر اُن کی چوتھی سمت کے متعلق چلاتے رہے ۔ اور شہاب صاحب اُس سے مسلسل انکار کرتے رہے لیکن اُنھوں نے اپنے اس آخری باب میں ذکر کیا ہے کہ کس طرح ایک نائنٹی نام کا کردار ان کو مستقبل کے راز بتاتا تھا اور اُس کو ہدایات دی جاتی تھیں۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو ایک مادی سوچ رکھنے والا شخص ان باتوں کو من گھڑت سمجھتا ہے ۔ لیکن اس بار ے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”ماننے کے لئے جاننا ضروری نہیں “ اور ہم تو اس باب کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ
ع یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر
شہاب نامہ اسلوب اور بیان کے لحاظ سے ایک شاہکار ہے اس لئے آئیے شہاب نامے کے فنی خصوصیات کاجائزہ لیتے ہیں،
اسلوب:۔
نثر اسلوب کا اپنا ایک آہنگ ہوتا ہے جس کے شیڈ ز ہر لکھنے والے کے ہاں مختلف ہوتے ہیں ۔ یہی آہنگ عبارت میں سلاست پیدا کرتا ہے۔ بعض لکھنے والوں کے ہاں جملوں کی مصنوعی اور پر تکلف ساخت کی وجہ سے عبارت میں جھٹکے پیدا ہو جاتے ہیں جن پر بعض اوقات جدیدیت کا پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور جس طرح جھوٹ بولنے والے کو زیادہ دیر گفتگو کرنا پڑجائے تو کہیں کہیں اس کے منہ سے سچی اور متضاد باتیں بھی نکل جاتی ہیں ، اسی طرح مصنوعی اسلوب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ۔ جہاں لکھنے والے کو ذرا سی اونگھ آئی اس کا اصلی پن ظاہر ہو گیا اور بلند آہنگ جملوں کے پھسپھسے اور کمزور جملوں کا ٹانکا لگ گیا اور عبارت میں ناہمواری پیدا ہو گئی۔ لیکن قدرت اللہ شہاب کی نثر ایسے فنی نقائض سے بالکل پاک ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہایت سہولت کے ساتھ اپنا مدعا بیان کیا ہے اور جملوں کی ساخت کو پیچیدہ نہیں ہونے دیا۔مثلاً
جمہوریت کا سکہ اسی وقت چلتا ہے جب تک وہ خالص ہو ۔ جوں ہی اس میں کھوٹ مل جائے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔منفر د طرز تحریر:۔
شہاب نامہ میں نجی، جذباتی ، رومانی ، قلبی ، روحانی ، خاندانی ، معاشرتی ، سیاسی ، تاریخی ، دفتری ، قومی ، ملکی ، بین الاقوامی ، ذہنی ، علمی ادبی اور نظریاتی غرضیکہ ہر قسم کے واقعات بیان ہوئے ہیں ۔ پھر معمولی بیروں ، ملازموں اور موچیوں سے لے کر مشاہیر عالم اور مملکتوں کے سربراہان تک کا ذکر ہے، تاہم یہ قدرت اللہ شہاب کے منفرد طرز تحریر اور دلنشیں انداز بیان کا اعجاز ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے واقعات اور معمولی سطح کے افراد بھی قاری کے دل و دماغ میں سما جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر شہاب صاحب کا کمال اور احسان یہ ہے کہ انہوں نے صورتیں صفحہ قرطاس پر یوں منعکس کر دیں ہیں کہ آنے والے زمانے اس سے بہت کچھ اخذ کر سکیں گے۔
صاحب اقتدار اگر اپنی ذات کے گرد خود حفاظتی کا حصار کھینچ کر بیٹھ جائے تو اس کی اختراعی ، اجتہادی اور تجدیدی قوت سلب ہو کر اسے لکیر کا فقیر بنا دیتی ہے۔
خود ستائی سے اجتناب:۔
خود نوشت ایک مشکل صنف ادب ہے کیونکہ اس میں خودستائی کے مواقع جا بجا موجود ہوتے ہیں ۔ کسی بھی ایسے واقعے کا بیان جس میں لکھنے والا خود کو ہیرو ثابت کررہا ہو خواہ کتنا ہی حقیقت پر مبنی کیوں نہ ہو پڑھنے والا شک میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا چنانچہ ایسے موقعوں پر ایک اچھے ادیب کو خاصی پر لطف احتیاط سے کام لےنا پڑتا ہے۔ مثلاً شہاب صاحب آئی سی ایس کی ٹریننگ کے دوران وہ اپنی گھوڑ سواری کے متعلق نہیں کہتے کہ انہیں اس میں مہارت حاصل تھی بلکہ وہ کہتے ہیں ، یہ سارا گھوڑے کا اپنا کمال تھا۔
گیلپ کی آواز پر میر ا گھوڑا خود بخود سر پٹ بھاگنے لگا ۔ راستے میں ایستادہ رکاوٹوں کو بھی خود ہی اپنی ہنر مندی سے پھلانگتا چلا گیا۔ آخر میں جب کرنل صاحب نے فگر آف ایٹ (٨) بنانے کا آرڈر دیا تو میرے گھوڑے نے ایسے خوبصورت دائرے کاٹ کر انگریزی آٹھ کا ہندسہ بنایا کہ ممتحن نے مجھے شاباش دے کر اچھے نمبروں سے پاس کر دیا۔
سادہ زبان:۔
شہاب نامہ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ جہاں جہاں جذبات نگاری ، واقعہ نگاری اور کردار نگاری کے مواقع آئے ہیں۔ شہاب صاحب نے ادق ، ثقیل ، غیر فصیح اور اجنبی الفاظ کا سہار نہیں لیا ۔ بلکہ مشکل ترین معاملات ، نازک ترین خیالات او ر پیچیدہ ترین مفاہیم کو بھی نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ پورے تاثر میں بھگو کر قلمبند کرتے چلے جاتے ہیں مثلاً
ایک روز وہ چھابڑی والے کے پاس تاز ہ گنڈیریاں کٹوانے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں آیا ۔۔۔ ایک موٹے گنے سے چندرا وتی کو مار مار کر ادھ موا کردوں اور گنڈیریوں والے کی درانتی سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے دانتوں سے کچر کچر چبا ڈالوں۔
شوخی و ظرافت:۔
شہاب نامہ کے نثر کی ایک اور خوبی شگفتگی ، شوخی اور ظرافت کا برمحل استعمال ہے جس سے تحریر میں لطف دلچسپی اور خوبصورتی پیدا ہو گئی ہے۔ اور اس ہی کی بدولت اتنی ضخیم کتاب ہونے کے باوجود قاری کسی بھی صورت میں اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا اور اُس کی دلچسپی آخر تک برقرا ر رہتی ہے۔
حکیم گوراندتہ دل کا ایک خاص وصف تھا کہ وہ دکان کی کوئی چیز ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک با ر روغن بادام کے کھلے منہ والی بوتل میں مردہ چھپکلی نظر آئی ۔ حکیم صاحب نے چمٹے سے پکڑ کر اسے نکالا اور کچھ دیر تک اسے بو تل کے منہ سے الٹا ٹکائے رکھا تاکہ چھپکلی سے ٹپکتے ہوئے بادام روغن کے زیادہ سے زیادہ قطرے بوتل میں واپس گر جائیں۔
جا ن نے مجھے شستہ انگریزی میں دو تین گالیاں دیں ۔ میں نے اس کی کلائی مروڑ کر پیٹھ پر ایک لات جمائی اور اسے مرغا بننے کا حکم دیا۔ یہ اصطلاح اس کے لئے نئی تھی ۔ میں نے خود مرغا بن کر اس کی رہنمائی کی۔
کردار نگاری:۔
قدرت اللہ شہاب عام طورپر زندگی میں موجود کرداروں کو پیش کرتے ہیں اور ان کی پیش کش اتنی عمدہ اور مکمل ہوتی ہے کہ ہم ان کرداروں سے مل کر جد ا نہیں ہوتے۔ شہاب نامہ میں اہم شخصیتوں کی اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے کہ چھوٹے سے واقعہ یا وقوعہ سے قاری کردار کے باطن تک جھانک لیتا ہے۔ مثلاً قائدعظم سے دو مختصر ملاقاتوں کا ذکر ہے۔ ایک بار جب وہ ایک خفیہ دستاویز حاصل کرنے کرکے ان تک پہنچاتے ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ دستاویز نہایت مفید خیال کی جاتی ہے لیکن قائداعظم کی اصول پرستی اور عظیم شخصیت کی جھلک چند جملوں میں سامنے آجاتی ہے۔
میں نے فر فر ساری بات کہہ سنائی ۔
ویل ویل ۔۔۔۔تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔This is breach of trust
غلام محمد ، خواجہ ناظم الدین ، صدر ایوب ، مہاراجہ ہر ی سنگھ اور بہت سی اہم شخصیتوں کا انہوں نے نہایت خوبصورت خاکہ پیش کیا ہے۔
چندراوتی شہاب نامہ کا ایک بے مثال کردار ہے۔ جس کے اندر محبت کا الائو دہک رہا تھا لیکن وہ زبان پر نہ لا سکی اور مر گئی ۔ اور اس طرح شہاب صاحب کے اولین افسانے کا عنوان بنی اور جس کا پہلا جملہ یہ تھا۔
” جب مجھے چندراوتی سے محبت شروع ہوئی اسے مرے ہوئے تیسرا روز تھا۔“
اس کے علاوہ چند دوسرے کردار ۔ مثلاً ڈپٹی کمشنر کی ڈائری کی بڑھیا جس سے مصنف نے ساری ملازمت کے دوران سولہ آنے کی واحد رشوت قبول کر لی تھی۔ بشیراں طوائف جس نے پیسہ پیسہ جوڑ کر رقم جمع کی تھی اور حج پر جانے کے لئے تڑپ رہی تھی۔ نیپلز کے ہوٹل میں ملنے والی دمشق شام کی دلفریبہ ، اور درجنوں ایسے یادگار کردار ہیں جنہیں مصنف نے اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں۔
اختصار:۔
اعلیٰ ادبی نثر کی ایک خوبی اس کا ایجاز و اختصار ہے جس کی مثالیں شہاب نامہ میں بکثرت نظرآتی ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب نے جس طرح کی مصروف ، متنوع بھر پور اور ہنگامہ آرائی کی زندگی بسر کی اور جتنے عرصے پر شہاب نامہ کے واقعات محیط ہیں ، ان کو دیکھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ شہاب صاحب نے تقریباً پچا س برسوں پر پھیلی زندگی کو ہزار گیارہ سو صفحات کی ایک جلد میں کیسے سمو دیا ہے جبکہ وہ اول درجے کے افسانہ نگار تھے اور چاہتے تو محض بملا کماری اور چندراوتی پر ایک ایک ناول لکھ سکتے تھے۔دراصل قدرت اللہ شہاب صاحب نے فیکٹس اور فکشن کو ایک کردیا ہے۔ یعنی ان کی فکشن کی بنیاد حقائق پر ہے اور وہ حقائق کو فکشن کے فنی اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔
مجموعی جائزہ:۔
شہاب نامہ اردو ادب کی ایک ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے والی کتاب ہے۔ جس میں فن اور فکر کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ اتنی ضخامت کے باوجود یہ واحد کتاب ہے جو کہ طبیعت پر بوجھ نہیں بنتی بلکہ اس کے ہر صفحے میں ہمیں کسی نئی حقیقت کا نکشاف نظر آتا ہے۔ اس کتاب میں ملکی تاریخی سے لے کر روحانیت تک سب کچھ موجود ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے کوئی مورخ نظرانداز نہیں کرسکتا نہ ادب کا طالب علم۔ پاکستان کو جاننے اور سمجھنے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ اب تک اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور پاکستا ن میں یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ جس کی وجہ شہاب صاحب کا اسلوب اور حقیقت نگاری ہے۔

وہاب اعجاز خان
پیر, ستمبر 28, 2009

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں
  • رضیہ بٹ :شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج
  • ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب
  • آبروئے غزل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”
پچھلی پوسٹ
کیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟

متعلقہ پوسٹس

اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

دسمبر 28, 2019

پاکستانی اُردو ناول

اپریل 19, 2023

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

شباہت فردوس

جون 20, 2024

شعر، غیر شعر اور نثر

مئی 21, 2024

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

شہزاد نیّرؔ کی شاعری میں عصری اور سماجی شعور

اکتوبر 26, 2025

ہر چٹھی ایک ہی پتے پر

جنوری 7, 2026

شہزاد نیّرؔ پر عائشہ کرن کا مقالہ

اپریل 23, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مغرب میں جدیدیت کی روایت

مئی 27, 2024

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

جنوری 15, 2021

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں