خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریربنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب
اردو تحاریرخطبات و مکتوباتغالب کے خطوط

بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب

غالب بنام سید بدر کے خطوط

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2019 0 تبصرے 498 مناظر
499

بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب
حضرت مخدوم مکرم و معظم جناب فقیر صاحب دامت برکاتہم۔ بعد بندگی عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ حال معلوم ہوا۔ بابو صاحب کے واسطے میرا جی بہت جلا۔ زمانہ ان دنوں میں ان سے برسر امتحان ہے پروردگار ان کو سلامت رکھے اور صبر و شکیب عطا کرے۔ علاقہ مساعدت روزگار کی وہ صورت شداید ِ رنج سفر کی وہ حالت۔ ناسازگاری مزاج کا وہ رنگ۔ ان سب باتوں سے علاوہ یہ کتنی بڑی مصیبت ہے کہ جوان داماد مر جائے اور بیٹی بیوہ ہو جاوے۔ مرگ و زیست کا سررشتہ خدا کے ہاتھ ہے آدمی کیا کرے دل پر میرے جو گزری ہے وہ میرا دل ہی جانتا ہے ہاں بحسب ِ ظاہر تعزیت نامہ لکھنا چاہیے۔ حیران ہوں کہ اگر خط لکھوں تو کس پتہ سے لکھوں ناچار ابھی تامل ہے جب وہ بھرتپور آ جائیں تو آپ ان کے آنے کی مجھ کو اطلاع دیجئے گا کچھ لکھ بھیجوں گا۔ نواب علی نقی خاں صاحب کے خط کے جواب میں جو آپ نے مجھ کو لکھا تھا وہ مجھ کو یاد رہے گا جب نواب صاحب آ جائیں گے میں ان کو سمجھا دوں گا آپ ہندی اور فارسی غزلیں مانگتے ہیں فارسی غزل تو شاید ایک بھی نہیں کہی ہاں ہندی غزلیں قلعہ کے مشاعرے میں دو چار لکھی تھیں سو وہ یا تمہارے دوستحسین مرزا صاحب کے پاس یا ضیاء الدین خاں صاحب پاس۔ میرے پاس کہاں۔ آدمی کو یہاں اتنا توقف نہیں کہ وہاں سے دیوان منگوا کر نقل اتروا کر بھیج دوں۔ سید محمد صاحب کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو میری دعا پہنچے۔ اسد اللہ ۔ نگاشتہ چار شنبہ ۱۳ ربیع الثانی ۱۲۷۱ ہجری ۳ جنوری ۱۸۵۵ء

ایضاً

مخدوم مکرم جناب فقیر صاحب کی خدمت عالی میں عرض کیا جاتا ہے کہ بہت دن سے آپ نے مجھ کو یاد نہیں کیا اور مجھ کو کچہ (کچھ)آپ کا حال معلوم نہیں۔ بابو صاحب خدا جانے کہاں ہیں اور کس کام میں ہیں ان کا بھی کچہ (کچھ)حال مجھ کو معلوم نہیں منشی ہر گوپال تفتہ کی تحریر سے بابو صاحب کا حال اکثر اور تمہاری خیر و عافیت گاہ گاہ دریافت ہو جاتی تھی سو وہ بہت دنوں سے علی گڈہ (علی گڑھ)میں ہیں۔ اگرچہ خط ان کے آتے رہتے ہیں مگر ان کو بھی بابو صاحب کا حال معلوم نہیں اور تم سے تو بُعد ہی ہے پھر تمہاری خیر و عافیت کیا لکھیں بہرحال مقصود اس تحریر سے یہ ہے کہ نواب میر علی نقی خاں صاحب آپ سے ملیں گے۔ یہ بہت عالی خاندان ہیں۔ نواب ذوالفقار خاں اور نواب اسدخاں کی اولاد میں سے ہیں۔ اور تمہارے ماموں صاحب یعنی نواب محمد میر خاں مغفور کے بڑے دوست ہیں اب یہ نوکری کی جستجو کو نکلے ہیں آپ ان کی تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور راج کا حال سب ان پر ظاہر کریں اور اہالی سرکار سے ان کو ملوا دیں اور بابو صاحب سے جو ان کو ملوائیے تو یہ میرا خط جو آپ کے نام کا ہے بابو صاحب کو پڑھوا دیجئے کیا خوب ہو کہ یہ اس سرکار میں نوکر ہو جائیں اور اگر نوکری کی صورت نہ بنے تو راج سے ان کی رخصت بآئینِشائستہعمل میں آوے۔ نواب اسد خان عالمگیر کے وزیر تھے اور فرخ سیر ان کا بٹھایا ہوا تھا جب فرخ سیر نے ذوالفقار خاں کو مار ڈالا تو از روئے کتب تواریخ ظاہر ہے کہ سلطنت کیسی برہم ہو گئی اور خود فرخ سیر پر کیا گزری۔ قصہ کوتاہ ان کی تقریب میں جو مدارج آپ صرف کریں گے اور جس قدر آپ ان کی بہبود میں کوشش کریں گے احسان مجھ پر ہو گا۔ زیادہ زیادہ۔ اسد اللہ

ایضاً

سید صاحب جمیل المناقب عالی خاندان سعادت و اقبال توامان مجھ کو اپنی یاد سے غافل اور سید احمد کی خدمت گزاری سے فارغ نہ سمجھیں پر کیا کروں صورت مقدمہ عجیب و غریب ہے یہ بہنیں اور ان کا بھائی باہم موافق رہیں گے تو کوئی صورت نکل آئے گی۔ صامت و ناطق سیم و زر روپیہ اشرقی(اشرفی۔ واللہ اعلم)سنتا ہوں کہ کچھ نہیں ہاں جاداد(جائیداد)سو سیّد کے اظہار سے معلوم ہوا کہ وہ تقسیم نہ ہو گی۔ کرایہ اس کا تقسیم ہو جائے گا میں رائے کیا دوں اور سمجھاؤں کیا۔ کئی دن ہوئے کہ میں حسین مرزا صاحب کے ہاں گیا تھا وہاں میاں بھی بیٹھا تھا باہم ان دونوں صاحبوں میں بھی باتیں ہو رہی تھیں وہ بھی میری مانند حیرت زدہ تھے قضا و قدر کو چھوڑو نیرنگ تقدیر کے تماشائی رہو۔ گھاٹا نہیں ٹوٹا نہیں نقد مال کا پتہ نہیں املاک کا کرایہ بٹ رہے گا گھبراتے کیوں ہو۔ یہ دلی والوں کی خفقانیت کے حالات ہیں۔ تمہارا بھتیجا یعنی حیدر حسین خاں بچ گیا۔ عوارض کی آندھی دفع ہو گئی۔ توقع زیست کی قوی ہے صرف طاقت کا آنا باقی ہے صدمہ بڑا اٹھایا۔ مہینا بھر میں جیسے تھے ویسے ہی ہو جاویں گے انشاءاللہ العلی العظیم۔ صبح دو شنبہ ۲۵ مئی ۱۸۶۳ء۔

ایضاً

پیرو مرشد آج نواں دن ہے حسین مرزا صاحب کو الور گئے اگر ہوتے تو ان سے پوچھتا کہ حضرت میرا دیوان کس مطبع میں طبع ہوا اور حاشیے اس پر کس نے چڑھائے خدا جانے حسین مرزا نے کیا کہا اور حضرت کیا سمجھے اب یہ حقیقت مجھ سے سنیے ۱۸۶۲ یعنی سالِ گزشتہ میں قاطع برہان چھپی پچاس جلدیں میں نے مول لیں اور یہ وہ زمانہ ہے کہ آپ دلی آئے ہیں میں نے یہ سمجھ کر کہ یہ تمہارے کس کام کی ہیں تمہیں نہ دی۔ تم مانگتے اور میں نہ دیتا تو گنہگار تھا اب کوئی جلد باقی نہیں ہے رہا دیوان اگر ریختہ کا منتخب کہتے ہو تو وہ اس عرصہ میں دلی اور کانپور دو جگہ چھاپا گیا اور تیسری جگہ آگرہ میں چھپ رہا ہے فارسی کا دیوان بیس پچیس برس کا عرصہ ہوا جب چھپا تھا پھر نہیں چھپا۔ مگر ہاں سال گزشتہ میں منشی نولکشور نے شہاب الدین خاں کو لکھ کر کلیاتِ فارسی جو ضیاء الدین خان نے غدر کے بعد بڑی محنت سے جمع کیا تھا وہ منگا لیا اور چھاپنا شروع کیا۔ وہ پچاس جزو ہیں یعنی کوئی مصرعہ میرا اس سے خارج نہیں اب سنا ہے کہ وہ چھپ کر تمام ہو گیا ہے روپیہ کی فکر میں ہوں ہاتھ آ جائے تو بھیج کر بیس جلدیں منگواؤں۔ جب آ جائیں گے ایک آپ کو بھی بھیج دوں گا۔ نواب محی الدین خاں صاحب کا حال سن کربہت جی خوش ہوا۔ میری طرف سے سلام و نیاز کے بعد مبارکباد دینا۔

ایضاً

حضرت آپ کے خط کا جواب لکھنے میں درنگ اس راہ سے ہوئی کہ میں منتظر رہا میاں کے آنے کا اب جو وہ مجھ سے مل گئے اور ان کی زبانی سارا حال سن لیا تو جواب لکھنے بیٹھا۔ سنو صاحب ایک منشی محمد تقی ہی تو نہیں یہاں تو ساتا روہن ہے۔ محمد تقی ایک اس کی دو بہنیں تین منشی آغا جان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چار یہ سات مدعی۔ ایک ان میں سے سید کی بی بی بھی سہی۔ نہ وہ حکام ہیں جن کو میں جانتا تھا نہ وہ عملہ ہے جس سے میری ملاقات تھینہ وہ عدالت کے قواعد ہیں جن کو پچاس برس میں نے دیکھا ہے۔ ایک کونے میں بیٹھا ہوا نیرنگ روزگار کا تماشا دیکھ رہا ہوں یا حافظُ یا حفیظُ وِردِ زبان ہے تمہارے بھائی غلام حسین خان مرحوم کا بیٹا حیدر حسن خاں خدا ہی خدا ہے جو بچے۔ آج تیرھواں دن ہے کہ نہ تپ مفارقت کرتی ہے نہ دست بند ہوتے ہیں نہ قے موقوف ہوتی ہے چارپائی کاٹ رہی ہے حوا س زائل ہو گئے ہیں انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ کام تمام ہے۔ والسلام والاکرام۔ مرقومہ ۲۴ ذی قعدہ۱۲۷۹ ہجری۔ عافیت کا طالب غالب۔

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ پاک بہت رحیم ھے
  • بڑھاپے میں جوانی کی یادیں
  • بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول
  • بلونت سنگھ مجیٹھیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ابن صفی
پچھلی پوسٹ
ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے

متعلقہ پوسٹس

بارِ خاک

دسمبر 10, 2024

چغد

فروری 11, 2020

طاؤس چمن کی مینا

جون 15, 2020

سبحان الذی خلق الازواج میں چھپی حکمت

نومبر 6, 2025

شریفوں کی بستی میں طوائف

جون 26, 2018

جنٹلمینوں کا بُرش

جنوری 31, 2020

مس مالا

دسمبر 6, 2019

سرکس کے شیر

ستمبر 20, 2020

غالب افسانہ

مئی 21, 2024

لالچ

مارچ 25, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

انسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی...

اگست 7, 2022

زخم

جنوری 24, 2020

حیرت انگیز معلوماتی اور سبق آموز...

جولائی 28, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں