خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتہذیب و تمدن
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

تہذیب و تمدن

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 12, 2025 0 تبصرے 67 مناظر
68

جب بھی برسات کے حبس زدہ شروع ہوتے ہیں میرے دوست ” میاں جی امن پسند المعروف زبک زبک” کی طبیعت میں بے چینی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں جو دل سے ہوتے ہوئے چہرے اور آخر کار زبان پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کا علاج ہر چند کئی ڈاکٹرز اور حکیموں سے کروایا مگر کوئی بھی دوا موثر نہیں ہوئی سوائے اس کے جو بھی اپنے سے کمزور راہ گیر ملے اسے بات بے بات فصیح و بلیغ زبان میں وہ الفاظ سنائیں جنہیں عرفِ عام میں ” دشنام طرازی” کہا جاتا ہے۔لہذا جب سے یہ دوائی زبک زبک صاحب نے استعمال کرنا شروع کی ہے، تب سے برسات کی کوئی ایسی سہانی شام نہیں گزری جب وہ گریبان چاک کیے ہوئے گھر وارد نہ ہوئے ہوں۔” آج پھر کسی سے مار کھا کے آئے ہو؟” اس سوال کے جواب میں اُن کا ہمیشہ ایک ہی پہلو دار اور طرح دار جواب ہوتا ہے،” کم بخت نیچ گھٹیا کم ذات کلمونہہ کو دیکھتے ہی میرا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا "۔
” اچھا۔ تو پھر تم نے کیا کیا؟”۔
” بس میں نے کیا کرنا تھا۔ جو کچھ بھی کرنا اُس سامنے والے نے کرنا تھا۔ میں نے تو اپنا دل، جگر رخسار دامن سامنے رکھ دیے کہ لوٹ لے جو لوٹنا ہے۔ مگر ( روتے ہوئے) اُس ظالم نے مجھے لوٹنے کے بجائے زمین پر لٹا کے میری سیوا شروع کردی۔ کیا یہ زیادتی نہیں ہے؟ ہاں بتاؤ۔ آخر تم بھی ساری عمر مار کھاتے رہے ہو۔ کیا یوں کوئی بے آبرو کرکے کسی کو مارتا ہے بھلا۔ بد تمیز جاہل گنوار الو کا پٹھا کم بخت کو تشدد کرنے کے آداب کا بھی نہیں پتہ”۔ میں نے اُنہیں گلے سے لگا کر حوصلہ دیتے ہوئے کہا،” بس میاں! یہ زمانہ ہے ہی بے ادبوں کا۔ کئی بار تمہیں کہا ہے کہ کوئی اکیڈمی کھول لیتے ہیں جہاں تشدد کے آداب کا ڈپلومہ کروائیں مگر تم مانتے ہی نہیں۔ اب مزہ چکھو”۔ اس پر اپنے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا،” چلو اس پر سوچنے کیلئے کسی پر سکون جگہ چلتے ہیں؟”۔” نا بھئی میں تو لائبریری نہیں جاؤنگا۔ مانا کہ بہت پرسکون جگہ ہے۔ ایک بھی بندہ وہاں نہیں ہوتا۔ ساری لائبریری خالی پڑی ہوتی ہے۔ مگر ۔۔۔۔ مگر بھائی مجھے وہاں کتابیں دیکھ کر خوف آتا ہے۔ توبہ! اتنی کتابیں، اتنی کتابیں۔ یہ کون بے وقوف لگ تھے جو اتنی کتابیں لکھتے رہے۔ انہیں کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کو نہیں ملا تھا؟’۔ میری بات سُن کر وہ سوچ میں پڑ گئے۔” بات تو ٹھیک ہے تمہاری۔ اب جس جگہ لائبریری بنی ہوئی ہے وہ کتنی قیمتی اراضی ہے۔ اگر بلدیہ والے تھوڑی سی ہمت کریں اور عوام الناس کی سہولت کو مدِ نظر رکھیں تو کل ہی اس کی عمارت کو گرا کر وہاں کثیر المنزلہ ایک شاپنگ مال بن سکتا ہے”۔ اُن کی یہ تجویز سُن کر میں ان کی ذہانت اور بصیرت پر عش عش کر اٹھا کہ موصوف شکل سے اتنے عقل مند اور تجارتی طبیعت کے نظر نہیں آتے مگر اُن کا دل اور سوچ مکمل تاجرانہ ہے۔” آپ کی یہ تجویز تو بہت ہی اچھی ہے۔ مگر عوام نے احتجاج شروع کردیا تو۔۔؟” میری بات سُن کر اُن کے چہرے پر ناپسندیدگی کے کچھ آثار جو ہائی بلڈ پریشر کی پہلی نشانی ہوتی ہے وہ پیدا ہوئے مگر فریقِ مخالف کو کمزور سمجھ کر اُن کو دبا دیا اور بولے،” ارے تم بھی کمال کی باتیں کرتے ہو۔ پندرہ بیس لاکھ کی آبادی میں سے اگر دو چار باغی طبیعت کھڑے بھی ہوئے تو اُن کو چپ کروایا جا سکتا ہے”۔
” مگر کیسے؟”
” بھائی سوشل میڈیا پہ اُن کے خلاف یہ کمپین لانچ کروادی جائے کہ چند سازشی عناصر ، عامتہ الناس کے اجتماعی فائدے میں رکاوٹ ڈال کر طوائف الملوکی اور بد امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اور گورنمنٹ نے اگر ان ناپسندیدہ عناصر کی گردن کو نہ دبوچا تو خدشہ ہے کہ یہ زہر پورے شہر میں پھیل کر ایک ناسور بن جائے گا جس کا علاج ممکن نہیں۔ لہذا ایسے تمام سازشی عناصر اور تخریب کار لوگوں کو جو لائبریری کو گرانے کی مخالفت کر رہے ہیں اُنہیں شہر نہیں بلکہ ملک بدر کرکے ان کی علمی وغیر علمی جائیداد کو نیلام کر دیا جائے تاکہ یہ ہماری سوسائٹی کو سوچ شعور اور علم جیسی بیماریوں سے آلودہ نہ کرسکیں۔ منجانب جمعیت ِ محب وطن و تنظیم امن پسندی”۔
” مگر زبک زبک تمہیں یہ خیال کیسے آیا؟”
” بھئی کل بازار گیا تو مجھے رفع حاجت کے تقاضے نے گھیر لیا۔اب تمہیں تو پتہ ہے اس سیل کے سامنے بند کون باندھ سکتا ہے۔ سو میں نےشہر کے مرکزی بازار کے مرکزی نالے کے کنارے جیسے ہی اس بندکو توڑنے کی نیت سے ازارد بند کھو لا تو ایک صاحب کالی شیروانی اور جناح کیپ میں ملبوس میرے سر پر آن کھڑے ہوکر کہنے لگے، بھائی یہ تہذیب اور شرافت کے خلاف ہے”۔
” اچھا! اُس کی یہ جرات کہ آپ کو تہذیب اور شرافت سے گرا ہوا سمجھا۔ کم بخت۔ نام بتاؤ اُس کا۔ ابھی میدے جیب کترے سے کہہ کر اُس کے گھر پتھر نہ پھنکوائے تو نام بدل دینا میرا۔ تو نام بتا اس کا”۔ میں غصے سے بے قابو ہوگیا اور میری رگِ تہذیب جو پھڑکی تو ایک دو چھوڑ بیسیوں گالیاں فی البدیہہ زبان سے ادا ہوئیں جو شستہ ہونے کے علاوہ تشبیہ و استعارات کا بھی حسین مرقع تھیں۔
” بس میرے بھائی۔ غصہ تھوک دو۔ اگر وہ جاہل اور بد تہذیب تھا تو کیا ہم بھی اُس کے درجے پر آجائیں۔ اُسے چھوڑ اور میری بات سُن”۔ میاں زبک زبک نے مجھے ٹھنڈا کیا تو میرا دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوگیا۔” اچھا ۔ پھر آگے بتاؤ”۔
” میں جب تقاضا ادا کرنے کے بعد اُٹھ کر پورے قد سے جو کھڑا ہوا تو سامنے میری نظر لائبریری کی ویران عمارت پر پڑی جو دن کے گیارہ بجے جبکہ بازار میں کھوے سے کھوا چل رہا ہوتا ہے اُس وقت بھی خالی پڑی تھی ۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ عمارت ہم سب کو کوسنے دے رہی ہو۔ بس مجھے آگیا غصہ کہ اس کی یہ جرات ۔میں وہیں کھڑا کھڑا یہ سوچنے لگا کہ اگر اس ویران اور قدیم عمارت کو گرا کر دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق گورنمنٹ ایک فرسٹ کلاس شاپنگ مال بنا دے تو لوگوں کا کتنا فائدہ ہوگا”۔
” ہاں بھئی۔ بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ اب دیکھو نا مرکزی بازار میں ایسی خالی عمارت کا بھلا کیا کام جو نہ کسی شادی ہال کیلئے استعمال ہوسکے نہ کسی اور مفید کام کیلئے۔ اوپر سے جو شاپنگ مال ہیں وہ شہر سے باہر۔ لوگوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے وہاں جانے کیلئے۔ وقت کا نقصان ایک طرف جو پٹرول خرچ ہوتا ہے اُس کا تو پوچھنا ہی کیا”۔
” بالکل۔ یہی بات۔ بالکل یہی بات۔ تم کتنے ذہین ہو جس نے میرا اشارہ سمجھ لیا۔پھر اس شاپنگ مال کا ایک دوسرا فائدہ بھی ہوگا”
” وہ کیا؟”
” بھئی اُس کے ایک فلور پر ہم بدمعاشی اور تشدد کے آداب کا ڈپلومہ دینے کیلئے ایک اکیڈمی بھی کھول لیں گے۔ شہر کے بالکل وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے تشدد اور بدمعاشی سیکھنے کے شوقین افراد جو ایسی اکیڈمیز شہر سے دور ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس تعلیم سے بے بہرہ ہیں اور اپنی عمر جیل میں گزارنے کی بجائے گھر میں رہ کر ضائع کر رہے ہیں اُن کا دیرینہ سپنا بھی پورا ہوجائے گا۔ الغرض یہ ایک کثیر المقاصد پلازہ ہوگا ، جس کے نیچے والے فلورز پر دکاندار حضرات لوگوں کی جیب پر ہاتھ صاف کررہے ہوں گے اور اوپر والی منزل پر ” اکیڈمی آف سوک سنٹر” میں اطمینان، امن اور قانون کی پابندی جیسی نیچ عادات کو ناپسند کرنے والے افراد ہم سے قلبی، لسانی اور فکری تربیت حاصل کر رہے ہونگے”۔
” بھئی زبک زبک! سوچو کیا حسین عالم ہوگا اور کیا ہی سہانا منظر ہوگا جب اس شہر میں ہماری اکیڈمی کے تربیت یافتہ پاکیزہ نفوس شرافت اور تہذیب کے ہتھیار ہاتھوں میں تھامے شہریوں کو نیک چال چلن کا درس دیتے ہوئے جا بجا ایسے عناصر کی بیخ کنی کرتے نظر آئیں گے جو شہر میں امن و سکون، رواداری اور قانون پسندی کے علمبردار ہیں۔اب یہیں سے دیکھو پولیس والے بیچارے شہر میں مارے مارے پھرتے ہیں کہ کہیں سے کوئی درمیانے درجے کا نہ سہی کوئی چھوٹا موٹا ہی ملزم مل جائے مگر اُنہیں ہر شام منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔اور کہاں وہ منظر ہوگا جب تھانے والوں کے پاس شہر کا امن برقرار رکھنے، لوگوں کو پکڑنے اور ایف آئی آر درج کرنے کیلئے عملہ کم پڑجائے گا۔ ابھی یہ تھانہ جس کی حوالات کب سے اپنے مکینوں کی راہ دیکھتے بوڑھی ہوگئی ، اُس میں وہ رونق لگے گی کہ جگہ کم پڑجائے گی۔ ایک کمرے میں لترول، دوسرے میں چھترول ۔ ایک میں دست و گریبان ، دوسرے میں منت سماجت ہو رہی ہوگی۔ دس تھانے سے نکل رہے ہونگے تو بیس سرِ تسلیمِ خم کیے اندر جا رہے ہونگے۔ کیا منظر ہوگا۔ میں کہتا ہوں مری اور سوات کا حسین منظر کیا چیز ہے اس دلربا اور ہوش ربا منظر کے سامنے۔ بھئی بہت خوب میاں زبک زبک۔ مان گئے آپ کے امن پسند دماغ کو”۔
” اس کے علاوہ جھوٹی گواہیوں والے بیچارے غریب غرباء جو آئے روز غربت کے ہاتھوں تنگ آکر عدالتوں کے سامنے خود سوزی کی دھمکیاں دیتے ہیں اُن کا کتنا کاروبار چمکے گا۔ ایک ہی بندہ عدالت کے ایک کمرے میں قتل کے مقدمے میں گواہی ریکارڈ کروا کے ساتھ والے کمرے میں چور کی حمایت میں سینہ سپر کھڑا نظر آئے گا۔ ارے دیکھنا اس شہر میں جھوٹی گواہی دینے کم نہ پڑگئے تو کہنا زبک زبک تم نے فضول میں بک بک کی تھی”۔
” ایک اور اہم چیز میاں زبک زبک! بیت الخلاء بھی بنوانا اُس پلازے میں”
” کیا؟ یہ کیا جھک ماری ہے تم نے؟ بیت الخلاء۔ میاں! کیا فائدہ اتنا قیمتی پلازہ بنوا کر وہاں ایسی فضول چیز بنوانے کا۔ وہ جگہ جوبیت الخلاء کیلئے ضائع ہوگی وہ کیا کسی اور اچھے کام میں استعمال نہیں ہوسکتی؟ تم بھی نرے احمق اور بد ھو ہو۔ ساتھ میں بد تہذیبی اور نا شائستگی کا مرکب بھی۔ ہونہہ بیت الخلاء بنوا لینا”۔
” مگر پھر لوگ رفع حاجت کیلئے کہاں جائیں گے؟”
” ارے تو وہ مرکزی بازار کا مرکزی نالہ کیا نہانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یا اُس کا پانی پینے سے تمہارے خیال میں کیا خارش ٹھیک ہوجاتی ہے؟”
اُن کی بات میں چونکہ بے حد وزن تھا سو میں اس کے بوجھ تلے دب کر چپ ہوگیا کہ بات تو ٹھیک ہے۔ اور پھر سرعام نالے کے کنارے بیٹھ کر خواتین اور بچوں کے سامنے رفع حاجت کرنا بھلا کونسا بد تہذیبی اور ناشائستگی میں آتا ہے۔ یہ تو مہذب ، نفیس اور نجیب الطرفین معاشروں کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔

واجد علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دھوپ کمرے میں چلی
  • رنگِ سوات
  • لاجونتی
  • ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خواب سہانے بیچ رہی ہوں
پچھلی پوسٹ
سیاسی سنگ میل میں خاص دن

متعلقہ پوسٹس

رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے

دسمبر 9, 2019

سرخ ٹوپی کا رازدار

دسمبر 10, 2024

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے

اگست 15, 2020

روشنی کا راستہ

اپریل 16, 2025

پھوجا حرام دا

جنوری 25, 2020

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا سمندر

دسمبر 1, 2024

کیوں الجھنے لگی ہوا مجھ سے

ستمبر 20, 2020

نہیں تو کرونا کو کرنے دو

مارچ 27, 2020

نازو

فروری 13, 2022

سلام کرنے کی فضیلت

اکتوبر 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بے بسی اور خفت کا عالم

جنوری 4, 2022

بازی وفا کی جیت کے ہارا...

نومبر 4, 2025

جوانی

دسمبر 9, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں