خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسودا کی قصیدہ نگاری
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمرزا سودامقالات و مضامین

سودا کی قصیدہ نگاری

از سائیٹ ایڈمن اپریل 13, 2025
از سائیٹ ایڈمن اپریل 13, 2025 0 تبصرے 34 مناظر
35

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی قصیدے کی تعریف یوں کرتے ہیں،
” لفظ قصیدہ عربی لفظ قصد سے بنا ہے اس کے لغوی معنی قصد (ارادہ ) کرنے کے ہیں۔ گویا قصیدے میں شاعر کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کرنے کا قصد کرتا ہے اس کے دوسرے معنی مغز کے ہیں یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں وہی نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے جو انسانی جسم و اعضاءمیں مغز کو حاصل ہوتی ہے فارسی میں قصیدے کو چامہ بھی کہتے ہیں۔“
قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے بحر شروع سے آخر تک ایک ہی ہوتی ہے پہلے شعر کے دونوں مصرعی اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں ۔ مگر قصیدے میں ردیف لازمی نہیں ہے۔ قصیدے کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات درمیان میں بھی مطلعے لائے جاتے ہیں ایک قصیدے میں اشعار کی تعداد کم سے کم پانچ ہے زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں ۔ اُردو اور فارسی میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے بھی ملتے ہیں۔
اردو میں قصیدے کی ابتدا:۔
فتح ایران کے بعد قصیدے کی صنف مسلمانوں کے ساتھ عرب سے ایران اور ایران سے سرزمین پاک و ہند میں آئی ۔ اردو قصیدے کی ابتداءدکن سے ہوئی ۔ دکن کا شاعر نصرتی اردو کا پہلا قصیدہ گو شاعر ہے۔
قصیدہ کی دو قسمیں ہیں (١) ا تمہید جس میں قصیدے کے چاروں اجزاء، تشبیب، مدح، گریز ، دعا، موجود ہوتے ہیں ۔ (٢) مدحیہ جو تشبیب اور گریز کے بغیر براہ راست مدح سے شروع ہوتے ہیں

سودا کی قصیدہ نگاری:۔
سودا اور ذوق دونوں نے ایک ہی فن پر طبع آزمائی کی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سودا اس میدان میں ذوق سے سبقت لے گئے ہیں ۔ سودا نے پہلی بار فارسی کے طرز پر قصیدے کہے ۔ فارسی گو شعراءسے اس میدان میں ٹکر سبھی نے لی ہے اور اگر مولوی محمد حسین آزاد کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو وہ ”اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نگل گئے ۔“ بقول مولانا آزاد” ان کے کلام کا زور و اثر انوری اور خاقانی کو دبا جاتا ہے۔ اور نزاکت ِ مضمون میں عرفی اور ظہوری کو شرماتا ہے۔“ ممکن ہے کہ آزاد کے بیا ن میں کچھ مبالغہ ہو، تاہم اس سے تو انکار مشکل ہے کہ کم از کم شمالی ہند میں سودا پہلے قصیدہ نگارہیں۔ اس بناءپر مصحفی نے ان کو ”تذکرہ ہند“ میں ” نقاش اول کہا ہے اور ان کے قصیدوں پر قصیدہ کہنا باعث فخر سمجھا ہے اور اس طرح سودا نے صحیح معنوں میں اُردو میں قصیدہ نگاری کی بنیاد ڈالی ہے۔
اردو قصیدے کے نام کے ساتھ ہی سودا کا نام فوری طور پر ذہن میں آتا ہے ۔ سودا کو بلاشبہ اس میدان میں اولیت کا درجہ حاصل ہے، نہ صرف یہ کہ انہوں نے قصیدے کی روایت کو مضبوط کیا بلکہ اردو قصیدے میں بعض اضافے بھی کئے ۔ موضوع اور فن کے اعتبار سے بھی سودا نے قصیدے کو بہت کچھ دیا۔
سودا کا شمار اردو کے بلند پایہ قصیدہ نگار شعراءمیں ہوتا ہے۔ سودا کی عظمت کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ انہی کے قصیدوں سے اردو قصائد نگاری ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی ہے اردو قصیدہ کوپہلی بار سودا کی بدولت بلند مقام ، ایک بلند مرتبہ اور ایک بلند روایت ملی۔ سودا نے اردو قصیدہ کو ایک بھر پور اور توانا روایت سے آشنا کیا ا س میں نئے مضامین کا اضافہ کیا نئے خیالات ، نئے موضوعات داخل کئے اور ممکن حد تک اس کی حدود وسیع سے وسیع تر کر دیں ۔ سودا کی کلیات میں ٩٣ مدحیہ اور ٤ ہجویہ قصائد ملتے ہیں۔ بزرگانِ دین میں انہوں نے پیغمبر اسلام ، حضرت فاطمہ ، حضرت علی اور دیگر ائمہ کی تعریف کی ہے ۔ اربابِ دینوی میں ان کے ممدوح عالمگیر ثانی، شاہ عالم ، آصف جاہ، شجاع الدولہ، آصف الدولہ ، نواب نسبت خان وغیرہ اور اودھ کے انگریز ریڈنٹ رچرڈسن شامل ہیں۔
سودا کی عظمت کا اعتراف:۔
اردو کے تما م نقادان سخن سود ا کے قصائد کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں بعض لوگ تو سودا کے قصائد کے اس حد تک مداح ہیں کہ انہیں بنیادی طور پر قصیدہ گو شاعر مانتے ہیں اور اُن کے قصیدے کو غزل پر ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ رجحان سودا کے زمانے میں بھی تھا۔ جس کا سودا کو احساس تھا چنانچہ سودا خود لکھتے ہیں،
لوگ کہتے ہیں کہ سودا کا قصیدہ ہے خوب
ان کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جائوں گا
شیفتہ ”گلشن ِ بے خار“ میں لکھتے ہیں،
” عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ سودا کا قصیدہ غزل سے بہتر ہے مہمل بات ہے، فقیر کے خیال میں اس کی غزل قصیدے سے بہتر ہے اور قصیدہ غزل سے ۔“
بقول ڈاکٹر ضیاءاحمد بدایونی،
” سودا بلا شبہ ایک دیو پیکر(Genius)تھے۔ انہوں نے تقریباً ہر صنف شعر میں طبع آزمائی کی اور ہر ایک میں قدرت کلا م کے جوہر دکھائے ۔ وہ وسیع علم اور بے پناہ تخیل کے مالک تھے۔ نادر تشبیہات اور طرفہ اسالیب ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ جدھر اشہب قلم کی با گ موڑتے ایک تہلکہ مچا دیتے ۔“
قصائد ِ سودا کی فنی خصوصیات:۔
اگر سودا اردو کی قصیدے کے امام ہیں تو ان کے قصیدوں کو دیکھناہوگا کہ وہ فنی نقطہ نظر سے کس مقام پر فائز ہونے کے لائق ہیں۔
مطلع:۔
قصیدے کی ابتداءمطلع سے ہوتی ہے قصدے کی فنی خوبیوں اور خامیوں کا انحصار مطلع پر ہے۔ اس لئے شاعر کی کوشش ہوتی ہے کہ مطلع دلکش ہو اور جدت خیال اور جدت بیان سے ایسی ندرت اور ایسی شیفتگی پیدا کردے کہ سننے اور پڑھنے والا چونک جائے اوراس کی توجہ جذب کرے۔ سودا اس فن کے ماہر ہیں ان کے مطلعے اس فن پر پورے اُترتے ہیں اور کامیابی سے تاثر پیدا کرتے ہیں۔
جوں غنچہ آسماں نے مجھے بہر عرض حال
دیں سو زیاں و دہن و لیکن سبھی ہیں لال
سرفراز الدولہ کی شان میں لکھے گئے قصدے کے مطلع میں جدت نے لطف پیدا کر دیا ہے۔
صباح عید ہے اور یہ سخن ہے شہرہ عام
جلال دختررز بے نکاح و روزہ حرام
حضرت فاطمہ کی مدح میں قصیدے کا مطلع
بکھرے سے اپنے زلف کے پردے کو تو اُٹھا
ابر سیہ میں ماہ درخشاں کو مت چھپا
ڈاکٹرشمس الدین صدیقی فرماتے ہیں،
” قصیدوں کے لئے جو معیار سودا کے پیش نظر تھے ۔ ان کے لحاظ سے ان کے قصیدے جانچے جائیں تو معلوم ہوگا کہ وہ ہر طرح معیاری ہیں اکثر قصیدوں کے مطلعے ایسے ہیں جو قاری کی توجہ کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ۔ خواہ خیال کی ندرت کی وجہ سے خواہ بیان کی جدت یا زبان کی برجستگی و شگفتگی کے سبب۔“
تشبیب:۔
تشبیب قصیدے کی تمہید ہوتی ہے ۔ اکثر و بیشتر تشبیب کا مدح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا چونکہ اس میں ہر طرح کے موضوعات کی گنجائش ہے اس لئے شعراءکواپنی قابلیت کے اظہار اور قادر الکلامی کے جوہر دکھانے کا پورا پورا موقع ملتا ہے۔ سودا نے قصیدہ کے اس حصے کو کیسے استعمال کیا۔ بقول ڈاکٹر شمس الدین صدیقی،
” تشبیب میں سودا نے اس قدر تنوع برتا ہے ایسی ایسی جدتیں پیدا کیں ہیں ایسے زور بیان ، مضمون آفرینی ، خیال بندی اور نُدرت ادا تشبیہ استعارہ کا صرف کیا ہے کہ اپنی نظیر آپ بن گئی ہے۔“
سودا کی بعض تشبیبیں بہاریہ ہیں، بعض رندانہ ، بعض عاشقانہ ، بعض میں شکایت زمانہ ہے بعض میں حکیمانہ و اخلاقی نکات ، بعض میں شاعرانہ تعلی ہے ۔ بعض میں معاصر شعرا ءپر تعریض ، بعض میں خوشی کو مجسم کیا ہے۔ یہ تشبیبیں بجائے خود چھوٹی چھوٹی نظمیں تصور کی جا سکتی ہیں جن میں موضوع کی وحدت ہے اور سودا کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ بہاریہ تشبیب ان الفاظ میں باندھی گئی ہے۔
اُٹھ کیا بہمن ووے کا چمنستان سے عمل
تیغ اُردی نے کیا ملک ِخزاں مستاصل
قوتِ نامیہ لیتی ہے ، نباتات کا عرض
ڈال سے پات تلک ، پھول سے لےکر تا پھل
واسطے خلعتِ نوروز کے ہرباغ کی بیچ
آب جو قطع لگی کرنے روش پر مخمل
ایک اور جگہ عاشقانہ تشبیب ان الفاظ میں باندھی گئی ہے۔
چہرہ مہر وش ہے ، ایک سنبل مشک فام دو
حسن بتاں کے دور میں ہے سحر ایک شام دو
خون جو کیا ہے بے گنہ تو نے مرا دل و جگر
لیویں گے تجھ سے حشر میں اپنے یہ انتقام دو
ابروئے یار کاخیال دل میں رہے ہے روز شب
کاش یہ تیغ آبدار ، کر بھی چکے نیا م دو
اس کے علاوہ سودا کی وہ تشبیب بہت دلکش ہوتی ہے جس میں وہ قناعت اور خوداری کی تعلیم دیتے ہیں ، وہ خود ایک خودار انسان تھے اس لئے ان کے اخلاقی اشعار محض رسمی نہیں ہیں۔
خوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی
نہ جھاڑے آستیں کہکشاں شاہوں کی پیشانی
اکیلا ہو کے رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا
ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی
گریز:۔
تشبیب اور مدح کے درمیان غیر محسوس جوڑ لگانا گریز کہلاتا ہے۔ اس میں شاعر کی قادر لکلامی کا پتہ چلتا ہے ۔ تاہم سودا اس پل صراط سے بڑی مہارت سے گزر گئے ہیں۔ ایک قصیدہ جو حضرت علی کی شان میں ہے اس کی تشبیب میں معشوق کی بے وفائی کا گلہ کرتے ہوئے حضرت علی کی مدح کی طرف آنے میں گریز کا حسن ملاحظہ فرمائیے
فریاد کروں کس سے رواداری کی تیرے
کہنے کے لئے گبر ُ و مسلماں ہے برابر
نالش کروں اب واں کہ جہاں حق بطرف میں
مور و ملخ و دیو و سلیماں ہے برابر
سودا نہ صرف اس فن کے ماہر بلکہ امام ہےں ۔ ان کے ہاں ممدوح کا ذکر اس طرح آتا ہے جیسے تشبیب کا لازمی نتیجہ ہو۔ اس قسم کی گریز زیادہ تر سودا کے ہاں پائی جاتی ہے۔ سودا نے جس قصیدے میں خوشی کو مجسم کیا ہے ۔ اس میں گریز نہایت فطر ی طریقے پر استعمال کی ہے۔
آج اس شخص کی ہے سالگرہ کی شادی
کہ بہ صورت ہے وہ انسان بہ سیرت ہے ملک
یعنی نواب سلیماں فرد نام آصف جاہ
عہد میں جس کے یہ غیور و بزرگ و کوچک
مدح:۔
گریز کے بعد قصیدے کا اہم حصہ آتا ہے یعنی مدح ، قصیدہ دراصل کسی کی مدح کے لئے لکھا جاتا ہے۔ اس لئے شاعر اپنی ساری توانائیاں اس میں صرف کرتا ہے۔ اس میں شاعر ممدوح کے جلال و جمال عظمت و بزرگی ، شجاعت و جرا ت اور عدل و انصاف کی تعریف کرتا ہے جب قصیدہ نعت و منقبت کے رنگ میں ہوتا ہے۔ تو ممدوح کے مزار اور روضہ کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن قصیدہ نگار کو مدح میں ایک بات کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے سلاطین ، اُمرا اور اہل ِ دین کی مدح کے انداز میں فرق مراتب قائم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سودا کے مدح میں یہ فرق مراتب قائم رہتا ہے۔ مثلاً ایک قصیدے میں رسول اکرم کی مدح کرتے ہیں وہ رسول کی عظمت اور تقدس کا ذکر کرتے ہیں۔
ملک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو ، گر اُس کی
امانت دار نور احمدی ہوتی نہ پیشانی
مگرجب سودا حضرت علی کی مدح کرتے ہیں تو زیادہ تر ان کی شجاعت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
اسکے قبضے پہ جو ہو دستِ مبارک تیرا
نہ رہیں دین ِ محمد کے سوا اور ملل
جمع کب رہ سکیں اعدا کے حواس ِ خمسہ
دیکھ کر اس کو علم ہاتھ میں تیرے یک پل
سودا نے حضرت امام حسین کی بھی منقبت میں اشعار کہے ہیں چونکہ وہ شہید الشہدا ہیں اس لئے سودا نے زمین کربلا کی عظمت پر روشنی ڈالی ہے۔
غرض میں کیا کہوں یارو چمن میں قدرت کے
عجب ہے لطف کی اس قطعہ زمیں پہ بہار
دراصل سودا کی نظر میں ہر ممدوح کا مرتبہ رہا ہے اس لئے انہوں نے بیشتر حالات میں ان کی خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔مذہبی قصائد میں جتنا بھی مبالغہ ہو وہ مناسب ہوتا ہے۔ کیونکہ بزرگانِ دین کے مرتبے بلند ہوتے ہی ہیں لیکن بادشاہوں اور وزیروں کے مرتبے ان کے مقابلے میں پست ہیں لیکن قصیدہ گوئی کا مفہوم ہی مبالغہ آمیز مدح ہے اس لئے سودا اس فن کے لوازمات سے مجبور تھے۔ بہر حال وہ عالمگیر ثانی کی مدح مندرجہ زیل اشعار میں کرتے ہیں۔
یہ عد ل ہے ترا کہ قوی کو ضعیف پر
کرنے سے اب تعدی کے آتا ہے اجتناب
سامان تیرہ روزی ہے بہرِ سرِ عدو
تیری وہ تیغ قبضہ ہے جس کا سیاہ تاب
سودا کے قصائد میں مختلف لوگوں کے مختلف خصوصیات کابیان ہے شجاع الدولہ کے عدل پر قصیدہ لکھا تو آصف الدولہ کی مدح میں بھی قلم اُٹھا یا ۔ آصف الدولہ کے بارے میں ضرب المثل مشہور ہے۔
” جس کو دے مولا ، اس کو دے آصف الدولہ“
جبکہ سودا ان کے بارے میں لکھتے ہیں،
خلق کو اس قدر ہے استغناء
نہیں ممکن کہ وہ بیاں ہووے
کھبو دیکھا نہ یوں کہ زر بے قدر
اس قدر زیر آسماں ہووے
سودا کی قصیدہ گوئی میں اہم خوبی یہ ہے کہ اپنے دور کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس لئے تاریخی نقطہ نظر سے سودا کی مدح کی بہت اہمیت حاصل ہے۔
حسن ِ خاتمہ یا دُعائیہ:۔
قصیدے کے آخری حصہ حسن ِ خاتمہ یا دعائیہ کہلاتا ہے ۔ اس میں شاعرممدوح کو دعا دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بددعا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنا مدعا بھی بیان کرتا ہے۔ یہ بالکل رسمی چیز ہے۔ سودا نے بھی اس رسم کو برتا ہے سودا کے ایک قصیدے کا دُعائیہ ملاحظہ ہو ۔ سودا عالمگیر ثانی کو یوں دعا دیتے ہیں۔
سودا کرے ہے ختم دُعائیہ پر سخن
اس جا نہیں ہے طول سخن مقتضائے داب
اس تخت پر بہ مسند اقبال بیٹھ کر
کرتا رہے تو شادی نور روز ای جناب
ان اشعار میں سودا نے عالمگیر شاہ ثانی کو صرف دعا دی ہے مگر ان کے اعدا کو بددعا نہیں دی ہے۔ سودا نے جو قصیدہ نواب عماد الدین لملک کی شان میں کہا ہے اس میں ان کے اعدا کو انہوں نے بددعا بھی دی ہے وہ کہتے ہیں
ختم کر اب تو دعائیہ پہ سودا یہ کلام
آمین کرنے کو گئے باب ِ اجابت پہ ملک
یاا لہٰی جو یہ تیرا ہے چراغِ دولت
تا ابد اس سے منور رہے قندل فلک
کاتب دستِ قضا مشکل عدو کی تیرے
صفحہ ہستی سے جوں حرف غلط کردے فلک
پروفیسر عبدالباری عباسی اپنے مضمون میں فرماتے ہیں ،
” اردو شاعری کا زریں عہد جہاں میر حسن کی مثنوی نگاری اور میر و درد کی غزل گوئی سے جگمگاتا نظر آتا ہے وہاں سودا کی قصیدہ نگاری اس کی تابندگی اور درخشندگی کو چار چاند لگاتی نظر آتی ہے۔“
مجموعی جائزہ:۔
مندرہ بالا سطور میں سودا کے قصائد کاتجزیہ مختلف انداز میں کیا گیا ہے اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سودا قصیدہ نگاری کے بادشاہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سودا کے قصیدوں میں مبالغہ موجود ہے مگر یہ مبالغہ جسم اور جلد کا تعلق ہے ذوق کے ہاں مبالغہ سودا سے بھی زیادہ ہے۔ جہاں تک اردو میں قصیدہ نگاری کا تعلق ہے سودا کو مجتہد کی حیثیت حاصل ہے۔ سودا سے واقعہ نگاری اور مصوری سے کام لیتے ہیں اور ان کے ہاں بعض تشبیہات تو نہایت سادہ اور فطری ہیں۔ سودا کی طبیعت دراصل قصیدے کے جملہ محاسن کے لئے نہایت موزوں تھی گویا قصیدہ نگاری کا فن سودا کے ہاں بالکل فطری ہے۔ اردو قصیدہ میں سودا کا نام اسی طرح ہے جس طرح جسم کے لئے دل۔ڈاکٹر رام بابو سکسینہ ”تاریخ ادب اردو “ میں فرماتے ہیں،
” ان کے قصائد بڑے بڑے فارسی استادوں کے قصائد کے ٹکر کے ہیںاور بعض تو عرفی و خاقانی کے قصیدوں کو بھلا دیتے ہیں ۔ “
بہر حال اردو میں قصیدہ نگاری سودا کی ذات سے عبارت ہے جب کبھی مورخ اردو قصائد پر قلم اُٹھائے گا تو سودا کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔اور وہ ان کو بلند ترین مرتبے پر فائز کرے گا۔ سودا نے اردو قصیدہ نگاری کو وزن و وقار بخشا ہے انہوں نے اس فن کو اتنا بلند کیا ہے کہ وہ فارسی کی قصیدہ نگاری تک پہنچ گیاہے۔ دراصل سودا نے فن قصدہ نگاری کی سرمستی میں اتنا اُچھال دیا ہے کہ جس کو ”ثریا “ کہہ سکتے ہیں،ان کے بارے میں امام اثر فرماتے ہیں،
” ارد و میں جو کچھ ہیں سودا ہیں۔ اگر سودا نہ ہوتے تو اردو قصیدہ نگاری کو زیر بحث لانا فضول ہوتا۔“
اور آخر میں شیخ چاند کی رائے پر اپنی بات ختم کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں،
”اُس نے قصیدے میں متنوع مضامین و موضوعات کو داخل کیا اور داخلی و خارجی شاعری کا کمال دکھایا ہے حکیمانہ خیالات اور اخلاقی تعلیمات کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا۔ اس کے قصیدوں میں لفظی ،نحوی، صرفی و عروضی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ ہر چیز ہمارے قدیم معیار پر پوری اُترتی ہے۔ اس کے قصائد کا جواب ہماری زبان میں موجود نہیں۔ اور اب چونکہ زمانے کا مذاق بدل گیا ہے اس لئے توقع نہیں کہ اس رنگ میں آئندہ بھی اس کا کوئی جواب پیدا ہو۔“

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر
  • موازنہ انیس و دبیر
  • دریا بپھر گئے ہیں
  • کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘
پچھلی پوسٹ
ہجویاتِ سودا

متعلقہ پوسٹس

جب ہم پاکستانی بن کرسوچیں گے

فروری 12, 2022

کج روی کا حسن

اگست 9, 2022

ٹیلی گرام

جنوری 15, 2020

سانجھ

جنوری 5, 2020

انتہاری

جنوری 8, 2022

سبز سینڈل

فروری 4, 2020

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری

مارچ 25, 2024

چٹان کی دہلیز

دسمبر 22, 2024

ایہام گوئی کی تحریک

اپریل 3, 2026

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

اگست 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مجھ کو آتا نہیں محرومِ تمنا...

دسمبر 27, 2023

گردش

جون 3, 2023

پروازِ جمال

دسمبر 22, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں