خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےکتنے پل صراط
اردو افسانےاردو تحاریرایم مبین

کتنے پل صراط

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2023
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2023 0 تبصرے 31 مناظر
32

سویرےجب وہ گھر سےنکلی تھی تو بشریٰ بخار میں تپ رہی تھی ۔ ” امی !مجھےچھوڑ کر مت جاو ¿ ‘ امی آج اسکول مت جاو ¿ مجھےبہت ڈر لگ رہا ہے۔“ جب وہ جانےکی تیاری کررہی تھی تو بشریٰ کی آنکھ بھی کھل گئی تھی اور وہ اسےآج اسکول نہ جانےکےلئےضد کرہی تھی ۔ ” نہیں بیٹے! “ پیار سےاسےسمجھانےکےلےجب اس نےاس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو کانپ اٹھی ۔ بشریٰ کی پیشانی بخار سےتپ رہی تھی ۔ ” امی سےاس طرح کی ضد نہیں کرتے۔ “ یہ کہتےہوئےاس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی ۔ ”آج امی کا اسکول جانا بےحد ضروری ہے۔

کل چاہےروک لینا ۔ تم کہوگی تو کل سےہم آٹھ دنوں کےلئےاسکول نہیں جائیں گےتمہارےپاس ہی رہیں گے۔ آج ہمیں جانےدو ۔“ ” امی رک جاو  ناں ! مجھےاچھا نہیں لگ رہا ہے۔ “ بشریٰ رونےلگی تھی ۔ ” نہیں روتےبیٹے! “ بشریٰ کو روتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئےتھے۔ لیکن بڑی مشکل سےاس نےاپنےآنسوو ¿ں کو روکا تھا اور بھرائی ہوئی آواز پر قابو پانےکی کوشش کی تھی ۔ ” ہم آج جلدی گھر آجائیں گےپھر تمہارےابا تو تمہارےپاس ہی ہیں ناں بیٹا ۔ڈرنےکی کوئی بات نہیں ہے۔ “ دوسرےکمرےمیں طارق اور عوف بےخبر سو رہےتھے۔ تھوڑی دیر سسکتےرہنےکےبعد بشریٰ کی بھی آنکھ لگ گئی تھی ۔ اس نےاپنا پرس کاندھےپر لٹکایا اور جاکر دھیرےسےطارق کو ہلانےلگی ۔ ” آں ! کیا بات ہے؟ “ طارق نےآنکھ کھول دی ۔ ” میں جارہی ہوں ۔ “ وہ بولی ۔ ” بشریٰ کو سخت بخار ہےاسےڈاکٹر کےپاس لےجانا ۔ نوکرانی سےکہہ دینا کہ اس کا اچھی طرح خیال رکھے۔ اگر ممکن ہو تو آج آپ چھٹی کرلیں ۔ ویسےمیں آج جلد آنےکی کوشش کروں گی لیکن کہہ نہیں سکتی کہ یہ ممکن ہوسکےگا بھی یا نہیں کیونکہ آج انسپکشن ہے۔ اگر انسپکشن نہ ہوتا تو آج جاتی ہی نہیں ۔ “ ” ٹھیک ہے۔ “ طارق نےاٹھتےہوئےجماہی لی ۔ وہ جب گھر سےباہر آئی تو چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا ۔ سردیوں کےدنوں میں سات بھی بج جاتےہیں تو اندھیرا ہی چھایا رہتا ہےدن نہیں نکلتا اور اس وقت تو صرف ساڑھےپانچ ہی بجےتھے۔ پوری گلی سنسان تھی ۔ راستےپر اکا دکا لوگ آجارہےتھے۔ ایسےعالم میں کسی عورت کےگھر سےنکلنےکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہ روزانہ اسی وقت اکیلی اس گلی سےگذر کر رکشا اسٹینڈ تک جاتی جو لوگ سویرےجلدی جاگنےکےعادی تھے۔ انہیں علم تھا کہ وہ اس وقت گھر سےاسکول جانےکےلئےنکلتی ہے۔ شناسا لوگ اس سےدو باتیں کرلیا کرتےتھے۔ ” بیٹی اسکول جارہی ہو ۔ “ ” ہاں بابا ۔ “ وہ جواب دیتی ۔ ” بھابی اکیلی اندھیرےمیں روزانہ اتنےسویرےجاتی ہو تمہیں ڈر نہیں لگتا ؟ “ ” اب تو عادت ہوگئی ہے۔ “ وہ مسکرا کر کہتی ۔ سبھی شناسا اور اچھےنہیں ہوتے۔ کبھی کبھی کوئی اجنبی اور بدمعاش بھی مل جاتا ہے۔ اکیلےمیں اس وقت کسی اجنبی عورت کو دیکھ کر وہ جو کچھ کرسکتا ہےوہ کرنےسےنہیں چوکتا تھا ۔ کبھی کوئی بھدا سا فقرہ منہ سےنکال دیتا ۔ کبھی کوئیناگوار بات کہہ دیتا ۔ اور کوئی تو جسارت کرکےدھکا دےکر آگےبڑھ جاتا اور اپنی کسی نفسانی خواہش کی تسکین کرلیتا ۔ ایسی صورت میں اس کا ردِ عمل سوائےخاموشی کےاور کچھ نہیں ہوتا تھا ۔ نہ تو وہ اس سےالجھ سکتی تھی نہ شور مچا کر اپنی مدد کےلئےکسی کو بلا سکتی تھی ۔ الجھتی تو نقصان اسی کا ہوتا ۔ اکیلی عورت جو ٹھہری ۔ کسی کو مدد کےلئےبلاتی تو ممکن نہیں تھا کہ کوئی اس کی مدد کو آتا ۔ اتنےسویرےکوئی اپنی لاکھوں روپوں کی میٹھی نیند خراب کرتا ہے؟ اگر کوئی آئےبھی تو اس بدمعاش سےتو اسےنجات مل جاتی لیکن مدد کرنےوالوں کےجملوں سےشاید زندگی بھر نجات نہیں ملتی ۔ ” اتنی رات گئےاکیلی گھر سےنکلی ہو ۔ شریف عورتوں کےکیا یہی چال چلن ہیں ؟ “ ” اگر عزت کا اتنا ہی پاس ہےتو اکیلی اتنےسویرےگھر سےکیوں نکلتی ہو ۔ گھر میں رہا کرو ۔ چھوڑ دو یہ نوکری ۔ “ غرض وہ ایسی باتوں سےکترانےکےلئےاپنےساتھ ہوئےجارہےبےجا سلوک کو نظر انداز کرکےآگےبڑھ جاتی تھی ۔رکشا اسٹینڈ سےایس ٹی کےلئےاسےپانچ منٹ میں رکشا مل جاتا تھا۔ کبھی کبھی تو اسےرکشا تیار مل جاتا تھا کبھی دو چار منٹ رکشا کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ کچھ رکشا والوں کو معلوم تھا وہ اس وقت وہاں سےایس ۔ ٹی اسٹینڈ جانےکےلئےنکلتی ہےتو وہ اس کےانتظار میں وہاں پہونچ جاتےتھے۔ اس میں بھی ان لوگوں کی نیت کےدو پہلو ہوتےتھے۔

کچھ شریف لوگ اپنی روزی دھندےکےلئےاس کی سیٹ حاصل کرنےکےلےوہاں پہونچتےتھے۔ کچھ بدمعاش ذہنیت والےصرف اس لذت کےلئےوہاں پہونچتےتھےکہ ایک اکیلی تنہا خوبصورت جوان لڑکی کو اکیلےرکشا میں ایس ۔ ٹی اسٹینڈ تک پہنچانےکا موقع ملےگا ۔ اس سےکچھ ایسی بھی باتیں ہوسکتی ہیں جو ان کےلئےنفسانی لذت کا باعث ہوں ۔ ایسی حالت میں وہ خاموش رہ کر سفر کرنےکو ترجیح دیتی تھی ۔ ان کا کوئی جواب نہیں دیتی تھی یا اگر دیتی بھی تو ایسا جواب دیتی کہ اس کی ساری امیدوں اور ارادوں پر پانی پھر جائے۔ ایسی حالت میں جو حادثہ ممکن تھا وہ ایک بار ا س کےساتھ ہوچکا تھا ۔ سناٹےاور اندھیرےکا فائدہ اٹھا کر ایک رکشا والےنےاسےغلط راستےپر لےجانا چاہا ۔ اس نےچیخ کر اسےروکا جب اس نےنہیں سنا تو چلتےرکشےسےکود گئی ۔ اسےمعمولی چوٹیں آئیں لیکن اس کی خوش قسمتی یہ تھی کہ سامنےپولس کھڑی تھی اور اس نےاسےرکشا سےکودتےدیکھا تو دوڑ کر اس کےپاس پہنچے۔ ” کیا بات ہیمیڈم ‘ کیا آپ رکشا سےگر گئیں ؟ “ ” نہیں ! وہ رکشا والا مجھےاکیلی دیکھ کر غلط راستےپر لےجارہا تھا ۔ “ ” ایسی بات ہے؟ “ یہ سنتےہی دو پولس والےگاڑی لےکر بھاگے۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ اس رکشا والےکو مارتےہوئےاس کےپاس لےآئےانہوں نےشاید اسےبری طرح مارا تھا ۔ اس کےماتھےسےخون بہہ رہا تھا ۔ ” بہن جی مجھےمعاف کردو ! اب زندگی بھر ایسی غلطی نہیںکروں گا ۔ “ وہ اس کےپیروں پر گر کر گڑگڑانےلگا تو اس نےپولس والوں سےکہا کہ اس کےخلاف کوئی کاروائی نہ کرےاسےچھوڑ دے۔ اس واقعہ کو تو اس نےاپنےتک ہی محدود رکھا تھا لیکن رکشا والوں میں شاید اس واقعہ کی تشہیر ہوگئی تھی کیونکہ اس کےبعد اس کےساتھ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا ۔ اس واقعہ سےوہ خود بہت ڈر گئی تھی ۔ اس نےسوچا تھا کہ وہ اپنا تبادلہ دوپہر کی شفٹ میں کرالےگی ۔ اس کےلئےاس نےکافی ہاتھ پیر بھی مارےتھے۔ لیکن بات نہیں بن سکی تھی ۔ تبادلےکرنےوالےاتنی قیمت مانگ رہےتھےجتنی دینا اس کی بساط کےباہر تھا ۔

ویسےدوپہر کی شفٹ اس کےاور اس کےگھر والوں کےحق میں بھی مناسب نہیں تھی ۔ دوپہر کی شفٹ کرنےکےلئےاسےسویرےنو دو بجےگھر سےنکلنا ہوگا اور واپسی شام سات آٹھ دس بجےتک ممکن ہی نہیں ہوسکےگی ۔ ایسی صورت میں گھر ، عوف اور بشریٰ کا کون خیال رکھےگا ۔ طارق ڈیوٹی دیکھےگا یا گھراور بچوں کو ؟ اس لئےاس نےدوسری شفٹ لینےکا ارادہ بدل دیا تھا ۔ سویرےکی شفٹ کےلئےاسےساڑھےپانچ بجےکےقریب گھر سےنکلنا پڑتا تھا ۔ اس طرح سےوہ ٹھیک وقت پر اسکول پہنچ بھی جاتی تھی ۔ اسکول سےوہ دو ڈھائی بجےکےقریب واپس گھر آجاتی تھی۔ طارق دس گیارہ بجےتک گھر میں ہی رہتا تھا اس کےبعد نوکرانی آجاتی اس کےآنےتک نوکرانی گھر اور بچےسنبھالتی تھی ۔ ساڑھےپانچ بجےگھر چھوڑنےکےلئےاسےچار بجےجاگنا پڑتا تھا ۔ جاگنےکےبعد وہ اپنےاور بچوں کےلئےسویرےکا ناشتہ اور کبھی کبھی دوپہر کا کھانا بناتی تھی ہاں ! کبھی دیر ہوجاتی تو یہ ذمہ داری نوکرانی پر ڈالنی پڑتی ۔ سارےکام کرکےوہ ٹھیک وقت پر گھر سےنکل جاتی تھی ۔ نکلتےوقت وہ ہلکا سا ناشتہ کرلیتی تھی لیکن اسکول میں اسےبھوک لگ ہی جاتی تھی ۔ تعطیل میں اسےہلکا ناشتہ کرنا ضروری ہوجاتا تھا ۔ اس کےبعد وہ گھر آکر ہی کھانا کھاتی تھی ۔ بس اسٹینڈ پہونچنےکےبعد اسےپونےچھ بجےکی بس مل جاتی تھی ۔ یہ بس بھی ایک معمہ تھی ۔ کبھی بالکل خالی ہوتی تھی تو کبھی اتنی بھیڑ کہ پیر رکھنےکےلئےبھی مشکل سےجگہ ملتی تھی ۔ بس خالی ہو یا اس میں بھیڑ اسےاسی سےسفر کرنا ضروری ہوتا تھا ۔ اگر وہ بس چھوٹ جائےتو مقررہ وقت پر اسکول پہونچنا نا ممکن تھا ۔ کیونکہ ٠٢ کلومیٹر کا پل صراط سا سفر اسی بس کےذریعہ مقررہ وقت میں طےکرنا ممکن تھا ۔ ورنہ بھیونڈی تھانہ کا سفر ؟ خدا کی پناہ ۔ بھیونڈی سےنکلےلوگ ناسک پہونچ جائیں لیکن تھانہ جانےکےلئےنکلےراستےمیں ہی پھنسےرہے۔ خراب راستہ ، ٹریفک ، مسافروں ، بس کنڈکٹر ، ڈرائیور کےجھگڑے۔ صبح کےوقت ٹریفک کم ہوتی تھی بھیڑ کم ہونےکی وجہ سےکنڈکٹر کا موڈ بھی اچھا ہوتا تھا ۔ اس لئےیہ سفر معینہ وقت میں پورا ہوجاتا تھا ۔ اس کےبعد تھانےسےآدھےگھنٹےکا لوکل ٹرین کا سفر ۔ اس میں بہت کم پریشانی ہوتی تھی ۔ دوچار منٹ میں کوئی تیز یا دھیمی لوکل مل جاتی تھی ۔ سویرےکا وقت ہونےکی وجہ سےلوکل میں بھیڑ نہیں ہوتی تھی ۔ کبھی جنرل ڈبےمیں جگہ مل جاتی تھی تو کبھی لیڈیز ڈبےمیں ۔ ہاں ! کسی مجبوری کےتحت بھیڑ ہونےکی وجہ سےکھڑےہوکر سفر کرنا بھی بھاری نہیں پڑتا تھا ۔ لیڈیز ڈبےمیں کھڑےہوکر سفر کرنےمیں تو کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی لیکن جنرل ڈبےمیں کھڑےہوکر سفر کرنا ایک عورت کےلئےعذاب سےکم نہیں ہوتا ہے۔ دھکےجسم کی ہڈی پسلیاں ایک کردیتےہیں ۔ اور ایک عورت کو تو کچھ زیادہ ہی دھکےلگتےہیں اور خاص طور پر نازک مقامات پر ۔ ایسا محسوس ہوتا ہےجیسےکئی گدھ اپنی نوکیلی چونچوں سےاس کا گوشت نوچ رہےہیں ۔ کبھی راحت بھرا آرام تو کبھی عذاب بھرا یہ سفر طےکرنےکےبعد کچھ قدموں کا پیدل سفر اور اس کےبعد اسکول ۔ کیسی عجیب بات تھی ۔ تیس چالیس کلومیٹر

 

ایم مبین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کاغذی روپیہ
  • مسجود ملائک اور درد دل
  • اکسیر
  • ایسی پستی ایسی بلندی کا تنقیدی جائزہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شمالی علاقہ جات کی سیاحت
پچھلی پوسٹ
جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے

متعلقہ پوسٹس

آج کی حوا

نومبر 30, 2019

علامہ اقبال اور ایران

نومبر 1, 2024

پرگتی

جنوری 24, 2020

کبڑا داؤد

نومبر 23, 2019

رازِحیات

دسمبر 30, 2021

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

روداد

اکتوبر 14, 2025

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

مارچ 26, 2023

غزہ میں رمضان

مارچ 17, 2024

برابری کا مقدمہ

اپریل 18, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سکردو میں پونم

جون 15, 2025

افسانہ 1919 کی ایک بات

دسمبر 6, 2019

ایک خطرناک بیماری

جنوری 16, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں