خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمکانٹے پہ کوئی موسم نہیں آتا !
اردو نظمسارا شگفتہشعر و شاعری

کانٹے پہ کوئی موسم نہیں آتا !

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 1, 2020 0 تبصرے 88 مناظر
89

کانٹے پہ کوئی موسم نہیں آتا !

سات ستارے میں گن چکی تھی
اور آٹھویں رات کا چاند مر گیا تھا
فقیر کے سکے زمین پر گرتے ہی
میں کشکول جتنی بڑی ہو گئی
اٹھنی میں چُرا رہی تھی
کہ اٹھنی مجھے چُرا رہی تھی
اب ہماری گُلک اتنی بھر چُکی تھی
کہ اُس میں جھنکار پیدا نہیں ہوتی تھی
میرا باپ اکثر عورت چُراتا
اور اپنے بچے ہار جاتا
ماں کے جینے کے لئے
بچے کافی نہیں ہوتے
میں نے پھُول خریدنے والا دیکھ لیا
ماں نے گھونگھٹ نکالا
تو میں نے چودہ پھُول گنے
اور باپ سے ملتے جُلتے
آدمی کے پہلو میں جا سوئی
میری زُلفیں رات جتنی دراز ہو گئیں
میرے قدموں سے آواز آئی
میرے ہاتھوں میں اکنی کی طرح رہو
میرے ہاتھوں سے بچے جاتے رہے
میں بستر پر گڑی رہی
وہ مجھ سے کھیلتا رہا
میں نے خالی آنکھوں سے آسمان دیکھا
اور ساری خُدائی سمجھ گئی
میرا شوہر اب میرا آخری بچہ تھا
بے اینٹوں کی دیوار سے میرے بھائی نے جھانکا تھا
اور اُس کی سانسوں میں چاند پھنس گیا تھا
لیکن !
میری سات سالہ عمر کے پاس کوئی حیرت نہ تھی
میری دعائیں مجھ سے علاوہ تھیں
میں خُدا سے جسم کے علاوہ کچھ مانگ رہی تھی

حالانکہ میرا سایہ
ہمیشہ مٹی سے سیراب رہتا تھا
میں نے انسان اور مٹی کو
ہمیشہ مختلف رنگوں میں دیکھا
میری آنکھیں کبھی فرار نہیں ہوئیں
آنکھیں نہ بہن رکھتی ہیں اور نہ بیٹا
پہاڑ بھی مٹی ہے !!
لیکن ہماری موج ساحلوں سے بھی ٹکراتی ہے
میں پہنچتی تھی زندگی کی موج تک
رات کی آخری چیخ مٹی میں رہنے لگی
تو مجازی میرے گھر کے چراغ کی طرف بڑھا
میرا چراغ دیوار شکن ہے
آنکھ فروشی کرنی ہے تو اپنی بیٹی کے ساتھ
مگر ایک پیڑ کا سایہ بھی تو ایک ہی ہوتا ہے
محبت ہے تو میری ماں کی آنکھیں
مجھ سے الگ کیوں ہوں
مٹی کی صدا اگر موسم ہے
تو میں کیوں نہ باپ کے کپڑے اُتار دُوں
ٹوٹے چاند کی چاندنی نہیں ہوتی
اسی طرح ہم آدھے لباس میں جیتے ہیں
دن میں گُم ہو جانے والے چاند کے دن
میرے بچے مجھ سے چھین لئے گئے
تو میں بغیر آسمان کے زمین پر بیٹھی تھی
آسمان ستاروں سے روتا
مجازی نے قرآن اٹھایا
چند دن بچہ میرا !
میں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ قرآن کیا ہے !!
اعتبار کیا !
میں بچے کے آنسوؤں کی طرح ہو گئی
اور ابھی تک آنکھوں کی طرح ہوں
اور ابھی تک مسلمان ہوں! زندگی کی چھاؤں میں کوئی سُورج نہیں ہے
دریا سندر بن جاتا ہے میرا نہیں بنتا
نیند آنکھوں سے بھر گئی ہے
میری ماں میرے جنم دن پر آنکھیں جلاتی ہے
میں ہاتھوں سے گِری ہوئی دُعا ہوں
میرے چراغ سے لوگ اینٹ مانگتے ہیں
میری آنکھوں میں
ہاتھوں کا دُکھ جم کر رہ گیا ہے
کھوٹی زمین نظر آتی ہے
لیکن میں چھاؤں نہیں بو سکتی
میں آخری حد تک
انسان کی گواہی دیتی ہوں
مجازی اولاد دیکھتا !
اور میں اولاد کے علاوہ بھی
انسانوں میں پھنسی ہوئی ہوں
پھر، ہر اپاہج بچہ میرا ہی بچہ تو ہے
پھر میں ذہنی اپاہج بچوں سے محبت نہ کروں
مجھے آنکھوں میں سجنے کی ضرورت نہیں
یہ پرندوں کو رٹنے والے لوگ
میرے ایک لمحے کی خیرات ہیں
یہ اتنے چھوٹے لوگ ہیں
کہ اپنی بیویوں کی۔۔۔میں مر جاتے ہیں
سندر ہونے کے لئے جسم کے دریا سے گُزرنا پڑتا ہے
میں سِمٹی ہوئی اُنگلیوں کا انسان نہیں چاہتی
دیوار پر دھُوپ جم جائے
تو کپڑے سُکھانے ہی پڑتے ہیں
میں نے ماں کو آخری نگاہ سے دیکھا
بِن موسم کی شاخ جلائی
اور مٹی کا قد ناپا
میں ایک مکمل انسان نہیں تھی
انسان کی آنکھیں ہمیشہ مکمل کنواری رہتی ہیں
سو میں اپنی راتوں کا شُمار نہیں کر سکتی
راکھ کتنے موسم رکھتی ہے ———–
پچاس رنگوں کے لباس پر ٹانکے لگاتی
شام پر سُورج کا پہرہ اچھا نہ لگا
میں نے رات کی چادر میں سُورج کی دُعا مانگی
محبتوں کے دروازوں پر آہٹ رہتی ہے
جس دن میرے ہاتھ تین ہوئے تھے
میرے آنچل پر سکوں کا پہرہ تھا
مجھے حاملہ آنچل کی قسم
میں اینٹوں کا مکان ہو گئی تھی
پھر بھی مکان ایک کُٹیا کی خواہش رکھتا
میں ایک قدم کی قَسم
کھا سکتی تھی کسی تیرے قدم کے لئے
زمین انکار کی صُورت ہاتھ آئی
ہم لباس کا رنگ جانتے تھے
جسم کا رنگ بھُول چکے تھے

شاموں میں دوپہر نظر آئی
جیسے ایک کمرے میں ہم نے چراغ بانٹ رکھا ہو
اُس کی آنکھوں کا رنگ پھیکا پڑتا
تو میں سمندر سے سُورج نکال پھینکتی
اُس کی شرمندگی مجھے نِگل رہی تھی
حیا میں ، مَیں پھنس گئی تھی
ہم دونوں میں کبھی انسانی مکالمہ نہیں ہوا
وہ فُٹ پاتھ سے ڈرا ہوا تھا
ہم چراغ کی حدود تک ساتھ ساتھ تھے

سیڑھیوں میں ہی میں اپنے قدم بھُول آئی
سرگوشیوں کا میں لباس پہنے ہوئی تھی
کہ بغیر قبر کے کتبے کو میں نے پڑھا !
مٹی ماں کہتی تھی
بغیر کفن کے میں ماں نہیں بنتی
تو پھر میں بے کفن بچے کی ماں بن گئی
دیکھنا ! میرا مذہب ہو گیا
گھر کسی چھاؤں میں نہیں ہوتا
اور لہو کی صدا نہیں ہوتی
گلیاں بے قدم ہو جاتی ہیں
وہ لفظ فروش سا شخص
میرے قدموں کو جگا گیا
جُڑواں آنکھوں نے کب جنم لیا
ہمارا درد کون سا اکٹھا تھا
ہم ہاتھوں میں ضرورت رکھتے
ہم ننگوں کے پاس ایک ہی چادر تھی
سو ماں نے پیدا ہونے والے
بچے کا نام راز رکھا
سمندر کی بیداری مٹی کی خاموشی نے بھانپ لی
ہر شخص اپنے لئے ایک کمرہ رکھ چھوڑتا ہے
اپنے تیسرے قدم کی خواہش
انسان اپنی تنہائیوں میں بھی نہیں دُہراتا
حالانکہ انسان رہتا ہی تیسرے قدم میں ہے ۔۔۔

مجھے شوہر کی مُفلِس نگاہوں سے
ایک لباس کی اُمید رہتی
کیونکہ !
مجھے خبر تھی کہ میں ایک ننگی بیوی ہوں ۔۔۔
ننگی نہ ہوتی تو ایک بے کفن بچے کی ماں کیسے ہوتی
زمین سے ہٹوں تو تمہاری طرف آؤں
عالم اتنا کہ کتابوں میں دفن تھا
اُس سے بات کرنے کے لئے
مجھے اُسے قبر سے نکالنا پڑتا

چونی ، اٹھنی میرے انکار و اقرار تھے
ہم دونوں لیٹے تھے
کہ احساس ہوا ہمارے نیچے بچھی چادر مر گئی ہے ۔۔۔
پیڑ کا سایہ مجھ سے ہمکلام ہوا
تیرا مرد چھاؤں سے چھوٹا ہے
سات پائی کو ٹاس کرتے ہوئے ، بولتی کم ہو !
ہاں کھوٹا سکہ چل گیا ہے
میں نے آنچل ہوا کے ہاتھ سے چھُڑایا
کمرہ اکیلا ہے اور انسان کا درد شدید ہے

میں نے مُردہ بچے سے پہلی بات کی !
تیرے باپ نے آج تک ایسا شعر نہیں کہا
جسے تیرا کفن کہتی
پیدائش اور موت کے ایک گھنٹے کے بعد
میرے پاس پانچ رُوپے اور مُردہ بچہ تھا
لاشہ سکوں کے عوض رکھا
جنم کے سکے تو مل گئے موت کا سکہ نہ ملا
ثواب کماؤ !
اور اِس بچے کی قبر کہیں بھی بنا دو
اِس کی اصل قبر تو میرے من میں ہے
میں قدم قدم گھر پہنچی !
کفن آنکھوں کے تھان بڑھا گیا
جس فرد کو دیکھتی قبر کی بُو آتی ۔۔۔
افسوس ! مرد نہ جان سکا اُس کے نطفے کی قبر کون سی ہے
میں گناہ اور ثواب سے رنگی باتیں کرتی
اور ایک ایک مرد سے پُوچھتی ، کفن کیسا ہوتا ہے !!
تو میرے پستانوں سے مُردہ دودھ بہنے لگتا
کیا ۔۔۔ کی ماں بھی کفن ڈھونڈ رہی ہے
مُردہ آنکھوں کی گواہی پر میں اپنے آپ کو رکھتی
پھر مرد بھونکا ، تم نے ” میں ننگی چنگی” لکھی ہے
پھر اپنی رات میں ہماری چادر کیوں نہیں بچھاتیں
اور لوگ اپاہج لفظ سے تکیہ کرتے
میرے معصُوم نے
شرم کے علاوہ عورت نہیں دیکھی تھی
ہر نوجوان اور بُوڑھا پتہ
میرے لئے خاص موسم رکھتا
میں مٹی سارے موسم جان چُکی تھی
تلاش صرف کفن کی تھی !
جنگل چراغوں سے نہیں بستا
اور نہ رات سے کوئی مرتا ہے
ہنسی میں انسان دفن ہونے لگے
تو چاند آسمان سا بین رکھتا ہے
میں ٹھہری مٹی کا کفن !
ماں زمین سے دُور نکل آئی
آواز میں انسان گونج گیا
سو میں جنگل نہ جا سکی
سمندر کے قدم میرے قدموں سے آن ملے
اور چاند میں آنکھیں سُکھاتی رہی
میں خواب سے کپڑے پہنتی
اور جاگتے میں لُٹ جاتی
میرے گُونگے بدن نے اشاروں کا لباس پہن لیا
وقت کے لئے میں اپنے دوستوں کی دائی تھی
یہ مجھ سے ۔۔۔ کے لئے مجھی سے اٹھنی طلب کرتے
کون سی لڑکیاں جاگ گئی ہیں
جو جنم دن کے بعد کنواری ہو جاتی ہیں
ان کی کوکھ سے قید جنم لیتی ہے
اور دار سے گھُونگھٹ نکالتی ہیں
پی گیا دودھ سانپ
آنکھوں کی مہندی رچاؤ
نہیں تو تمہارے بچے بے کفن رہ جائیں گے
میں نے لباس فروخت کر دیا ہے
کل تمہارے پاس دوپٹے نہ ہوں ،
تو سمجھ لینا میرے پاس پُورا لباس نہ تھا
بدن کی گواہی پر مت رہنا !
آنکھوں میں بس رہنا !
قبر بن جانا !
کہ آزادی کی خاک ہونا بہتر ۔۔۔
یوں ہم نے ایک غیرت مند ۔۔۔ تراشا !
سچ پُوچھو تو پھُول کتنی اذیت میں ہے
کانٹے پر کوئی موسم نہیں آتا

سارا شگفتہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میرے احساس کے آنگن میں اُتر جانے کا
  • عجب مذاق رَوا ہے
  • نظم – بنامِ ساقی
  • غموں کی دھوپ سے خود کو بچانا غیر ممکن ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پتھروں کا پیمان
پچھلی پوسٹ
کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !

متعلقہ پوسٹس

شفق گوں سبزہ

فروری 21, 2023

یہ مری اَنا کی شکست ہے

مارچ 15, 2026

بے نشان

جنوری 12, 2020

سورہ الماعون (منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا

جنوری 29, 2020

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

اپریل 15, 2020

کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

اگست 23, 2020

ہم شاعر ہوتے ہیں

دسمبر 13, 2019

بنگال

جون 9, 2020

کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا

جون 25, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت...

فروری 8, 2020

سود یاد آیا، زیاں یاد آیا

جون 22, 2020

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی...

مئی 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں