438
اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے
پر طرز تکلم ترا خوں ریز بہت ہے
گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر
اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے
محفل میں ترے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم
احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے
اک شخص جو الجھا ہے نئی فکر و نظر میں
وہ صاحب خوش فہم ہے اور تیز بہت ہے
جو بات تو کہتا ہے وہی بات ہو شاید
لیکن تری یہ بات غم انگیز بہت ہے
بھڑکے ہوئے شعلے ہی متاع دل و جاں ہیں
عالمؔ ترے کوچے میں ہوا تیز بہت ہے
افروز عالم
