خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامواقعۂ طائف کے تناظر میں ایک نعتیہ نظم کا جائزہ
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدسہیل احمد صمیم

واقعۂ طائف کے تناظر میں ایک نعتیہ نظم کا جائزہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2026 0 تبصرے 4 مناظر
5

ریاض حسین چوہدری: عصرِ حاضر میں ردِّ عمل نہیں بلکہ سیرتِ نبوی پر عمل پیرا ہونے والا شاعر۔ (واقعۂ طائف کے تناظر میں ایک نعتیہ نظم کا جائزہ)

تاریخِ اسلام میں وادیِ طائف کا واقعہ فقط ایک دردناک باب نہیں بلکہ صبر، حلم، رحمت اور اخلاق و تعلیماتِ نبوی ﷺ کا ایسا روشن استعارہ ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے کردار کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ جب مکہ کی زمین دعوتِ حق کے لیے بہت تنگ ہو گئی اور تو نبی کریم ﷺ چراغِ امید لے کر وادیِ طائف پہنچے۔ مگر وہاں آپ ﷺ کا استقبال محبت سے نہیں بلکہ نفرت، استہزا اور سنگ باری سے ہوا۔riaz hussain سرداروں نے شیریر بچوں کو اکسایا اور وہ پتھر مارتے رہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ نعلین مبارک خون سے بھر گئیں۔ یہ صرف جسمانی اذیت نہ تھی بلکہ انسانی بے حسی کی ایک المناک تصویر تھی۔ فرشتے اللہ کی طرف سے پیغام لائے کہ اس ساری بستی کو ہم نیست و نابود کر دیں گے اگر آپ اجازت دیں۔ مگر حضور پاک ﷺ نے عذاب کی اجازت دینے کی بجائے ان کے حق میں ہدایت اور آنے والی نسلوں کے ایمان کے لئے دعا فرمائی تھی۔
جناب ریاض حسین چوہدری صاحب نے اسی واقعۂ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان ہے "سوال، جس کا جواب تُو ہے”۔ (یہ نظم انکی کتاب "زرِ معتبر” میں شامل ہے)۔
ریاض حیسن چوہدری صاحب کا شمار نعت کے نمائندہ لکھاریوں میں ہوتا ہے جبکہ جدید نعتیہ منظر نامے میں ان کی شناخت نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن زیرِ نظر آج انکی ایک ایسی نظم ہے جو اُنہیں جدید موضوعات میں بھی باقی نعت گو شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔

اس نظم میں انہوں نے تین حوالے قلم بند کئے ہیں۔
اول: آرزو مندی / فدائیت۔
دوم: واقعہ طائف اور موجودہ عہد کا تقابلی جائزہ / مماثلت۔
سوئم: آنے والی نسلوں کی رہ نمائی۔
پہلا حصہ دیکھیں۔
"حضورﷺ آقا
میں سو چتا ہوں
دیارِ طائف کی وادیوں میں
اگر کہیں ہوتا توڈھال بنتا
تمام پتھر میں اپنے سینے پر روک لیتا
میں تیری راہوں سےچن کے کانٹے حریمِ جاں میں سنبھال رکھتا
میں بن کے بادل تجھے چھپا لیتا دشمنوں کی نظر سے آقا
میں تیرے قدموں میں جان دے کر سند غلامی کی مانگ لیتا
مرا تفاخر عظیم ہوتا”

یہ حصہ عشقِ رسول ﷺ کی ایسی تپش سے لبریز ہے جہاں محبت محض جذبہ نہیں رہتی بلکہ ڈھال بننے، زخم سہنے اور خود کو مٹا دینے کی آرزو میں ڈھل جاتی ہے۔ شاعر کے دل میں ایک حسرت سلگتی ہے کہ کاش دیارِ طائف میں موجود ہوتا تو پتھروں کی اذیت اپنے سینے پر سجا لیتا۔ یہ کیفیتِ عشق، وفا، بے بسی اور فدائیت کی بھیگی ہوئی روشنی سے جگمگاتی ہے۔ لفظ در لفظ عقیدت، عشقِ رسول ﷺ کی گہرائی اور روحانی وارفتگی محض رسمی کیفیت نہیں بلکہ خود سپردگی کے فلسفے میں ڈھل جاتی ہے۔

دوم، واقعہ طائف اور موجودہ عہد کا تقابلی جائزہ / مماثلت:
بند ملاحظہ فرمائیں۔

"خلیج لمحوں کی پاٹ اپنا وسیع تر کر رہی ہے ہر شب
میں عصرِ نو میں حدودِ طائف ؐمیں رہنے والے غلیظ لڑکوں کے
قہقہے سن رہا ہوں لیکن
مجھے سکھایا نہیں ہے تو نے
کسی سے بغض و عناد رکھنا
مگر اجازت
حضور اک دن
حرفِ صدق و صفا کے ان قاتلوں سے یوں انتقام لوں گا
میں تیری سنت کی روشنی میں کسی کو بھی بددعا نہ
دوں گا”

نظم کا یہ حصہ سب سے اہم ہے جہاں انہوں نے صرف ردِ عمل دینے کی بجائے ایک کامل حل نکالا ہے۔ ریاض حسین چوہدری صاحب کے کے نزدیک طائف کا سانحہ فقط ایک تاریخی باب نہیں بلکہ ایک دائمی استعارہ ہے۔ ایسا استعارہ جو ہر زمانے، ہر عہد میں نئے چہروں اور نئے ہتھیاروں کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ کل گلیوں گلیوں پتھر اچھالے جاتے تھے اور آج لفظوں کی نوکیلی تحریریں اور کی بورڈ کی بے رحم ضربیں ہیں جو دلوں کو زخمی کرتی ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیںکہ اذیت کی ہیئت بدل گئی ہے مگر اذیت کی روح وہی ہے۔ مگر یہاں انکا زاویۂ فکر محض شکوہ یا غصے کا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جو انہیں باقیوں سے قدرے مختلف کرتا ہے۔
نعت میں امت کا غم، ابتری کو بیان کرنا اور حالتِ زار پر نبی پاک سے کرم مانگنا ایک مکمل روایت ہے مگر یہاں پر ریاض صاحب صرف بیانیہ یا روایت کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اخلاق و تعلیماتِ نبوی ﷺ کی عظمت کو سمجھتے ہیں اور انتقام کے مفہوم کو ازسرِنو تشکیل دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں طائف سا سماں ہے۔ آج بھی “غلیظ و شیریر لڑکے ہیں”۔ مگر ہاتھ میں پتھر نہیں بلکہ قول و عمل میں پتھر ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ انتقام نفرت سے نہیں لیا جائے گا، بلکہ سنتِ مصطفی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر ، ان کے اخلاق سے روشنی لے کر، صدق و صفا کی خوشبو، اور کردار کی بلندی سے لیا جائے گا۔یوں وہ ایک نہایت بلند اخلاقی تصور پیش کرتے ہیں کہ میں بددعا کے بجائے دعا اور اذیت کے جواب میں کردارِ نبی پیش کروں گا۔ زندگی میں گفتار کی بجائے سنتِ نبی لاؤں گا۔ گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا انتقام یہ ہے کہ تاریکی کے عہد میں بھی انسان، مصطفوی اخلاق کا چراغ بجھنے نہ دے۔ یہی اس نظم کا اخلاقی پیغام و نکتہ ہے۔

سوئم: نسلوں کی رہ نمائی۔
پہلے بند ملاحظہ ہو۔
"میں تیرے ٹخنوں سے بہنے والے لہو کی سچی قسم اٹھا کر
ترے جمالِ سخن کی رم جھم سے شب کا چہرہ اجال دوں گا
کتابِ شر کے میں سرورق کو شبہہِ حرفِ زوال دوں گا
میں آنے والی نسلوں کو ایک ایسا سوال دوں گا
سوال، جس کا جواب تو ہے
مجھے یقیں ہے
یہ آنے والی اداس نسلیں
غبارِ صحرا میں لمس تیرے نقوشِ پا کا تلاش لیں گی
کہ ان کی قسمت میں روشنی ہو گی”۔

مذکورہ نظم کا تیسرا پہلو ایک روحانی و حقیقی اُفق کی مانند وا ہوتا ہے۔
وہ آنے والی نسلوں کو محض نصیحت نہیں دیتے بلکہ ایک ایسا سوال عطا کرتے ہیں جس کا جواب ذاتِ مصطفی ﷺ میں مضمر ہے۔ یہ نہایت عمیق، قابلِ عمل اور فکری استعارہ ہے۔ گویا وہ دینِ اسلام و رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو ہی اصل ماخذ سمجھتے ہیں۔ یعنی عہدِ جدید کی تھکی، بے سمت اور اداس نسلیں جب مادّی شور، انتشارِ فکر و زماں اور روحانی خلا سے زخمی ہوں گی تو بلاشبہ وہ دولتِ سکون ذاتِ مصطفی ﷺ سے ہی پائیں گے۔
“غبارِ صحرا میں لمس تیرے نقوشِ پا کا تلاش لیں گی”، یہ دراصل ایک عظیم یقین کا استعارہ ہے کہ وقت خواہ کتنا ہی بدل جائے۔ روحِ انسان آخرکار اسی روشنی کی متلاشی رہتی ہے جو وادیِ طائف کے زخموں سے بھی رحمت بن کر اُبھری تھی۔ یوں شاعر کا پیغام محض جذباتی عقیدت نہیں، بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا ایک روشن منشور بن جاتا ہے؛ ایک ایسا یقین کہ تاریکی کتنی ہی گہری ہو، روشنی کا سراغ آخرکار سیرتِ نبوی ﷺ ہی سے پھوٹے گا۔
ریاض حسین چوہدری صاحب کی یہ نظم بلاشبہ ایک بلند پایہ، فکری پختگی، اور پیغامِ نبی پاک ﷺ سے رچی بسی ہے۔ جو موجودہ اخلاقی بحران کا ایک نبوی حل بھی پیش کرتی ہے۔

سہیل احمد صمیم

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہمیں مزید تبدیلی نہیں چاہیے
  • چمنیوں کے دھوئیں سے اٹا
  • غیر قانونی مہاجرت
  • مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مری دھرتی، مرا ایمان، پاکستان پاکستان
پچھلی پوسٹ
اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

متعلقہ پوسٹس

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے

مارچ 15, 2026

جن کا پی سنگ بیتے ساون

اگست 23, 2020

واپسی

جون 2, 2026

جنرل (ر) فیض حمید کی سزا

دسمبر 14, 2025

کتنی دور سے چلتے چلتے

جنوری 12, 2026

ہم عظیم ، تم حقیر

نومبر 5, 2019

الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

دسمبر 23, 2021

سینما کا عشق

دسمبر 12, 2019

دیودار کے درخت

دسمبر 29, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اندھیر

نومبر 10, 2019

آلو

اپریل 6, 2020

کیا اتنا کافی ہے؟

دسمبر 4, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں