خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامشائرم انور شاہی
آپ کا سلامتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

شائرم انور شاہی

از مدثر عباس فروری 28, 2026
از مدثر عباس فروری 28, 2026 0 تبصرے 91 مناظر
92

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصور وقت”

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت” کے تناظر میں اگر ہم اردو شاعری کی روایت کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ وقت محض ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک فکری، وجودی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ ادب چوں کہ زندگی کا ترجمان ہے، اس لیے سماجی تغیر، سیاسی بے یقینی اور تہذیبی بحران کے ادوار میں "وقت” ایک علامتی اور فلسفیانہ استعارے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

بیسویں صدی میں خصوصاً علامہ محمد اقبال اور مجید امجد نے وقت کو محض گردشِ لیل و نہار کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور کائناتی قوت کے طور پر پیش کیا۔ اقبال کے ہاں "سلسلۂ روز و شب” کائنات کا صَیرفی ہے—یعنی وقت انسان کے باطن کو پرکھتا اور اس کے وجود کی اصل قیمت متعین کرتا ہے۔ اقبال کے تصورِ وقت میں حرکت، ارتقا اور خودی کی تکمیل کا پہلو غالب ہے۔ وقت جامد نہیں بلکہ تخلیقی توانائی ہے جو انسان کو آزمائش کے عمل سے گزارتی ہے۔ اس لیے اقبال فرماتے ہیں

سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات

سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں
جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات

تُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

اسی روایت کا تسلسل ہمیں اکیسویں صدی کی شاعری میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں وجودی اضطراب، سماجی انتشار اور عورت کے استحصال جیسے موضوعات وقت کے وسیع تر تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ ان شعرا میں ایک اہم نام شائرم انور شاہی کا ہے، جو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں اظہار کرتی ہیں۔ ان کی نظم نگاری میں وقت ایک فعال اور جبر آمیز قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں وقت کا تصور اقبال کے ارتقائی اور تحریکی تصور سے مختلف ہے۔ وہ وقت کو ایک ایسی لوح قرار دیتی ہیں جس پر ہر لمحہ مٹتی ہوئی لکیر کی مانند ثبت ہوتا ہے وہ لکھتی ہیں:

کائنات کا بے کراں در
جہاں وقت اپنی لوح پر
ہر جیتے لمحے کو
ایک مٹی ہوئی لکیر کی طرح لکھتا ہے

یہاں وقت تخلیق سے زیادہ فنا کا استعارہ ہے۔ لمحہ جیتے ہی مٹ جاتا ہے۔ وجود کا تسلسل دراصل عدم کے تسلسل میں بدل جاتا ہے۔ وقت کا یہ تصور جدید وجودی فکر سے قریب تر معلوم ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ہستی کے عدم تحفظ کا شدید احساس رکھتا ہے۔

اسی طرح نظم "وقت کے صلیب پر” میں انسان وقت کی گرفت میں مصلوب ہے—وہ اس سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ یہاں وقت ایک جابر قوت ہے جو انسان کو مسلسل تحلیل کرتی رہتی ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں انسان "زمان و مکان” کے قیود میں مقید ہے۔ وہ کائنات کی طلسماتی ساخت—جو عدم سے وجود میں آئی—پر غور کرتا ہے مگر اس کے باوجود اس قید سے رہائی ممکن نہیں۔ یہ اضطراب دراصل جدید انسان کی ذہنی اور روحانی پراگندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یوںشائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت نہ صرف ایک فکری مسئلہ ہے بلکہ ایک وجودی تجربہ بھی ہے۔ ان کی شاعری میں وقت انسانی بے بسی، سماجی جبر اور کائناتی اسرار کا سنگم بن جاتا ہے۔اُن کی یہ نظم ملاحظہ ہو:

"وقت کے صلیب پر”
میں نے وقت کو
ایک سنگین طلسم کی صورت دیکھا
ایسا طلسم
جو لمحوں کو قید کر دیتا ہے
شعور کے قفس میں۔

میں نے وقت کو
ایک صلیب، بے چہرہ دیو کی مانند پایا
جو ہر لمحے کو
اپنی آبنوں انگلیوں سے چیر کر
اس کے بدن پر صدیوں کی زنجیریں ڈال دیتا ہے
اور پھر اسے صلیب پر گاڑ دیتا ہے۔

میں نے ان لمحوں کی چیخیں سنی ہیں
جو فضا میں گونجتی ہیں
مدہم اذان کی مانند
جسے کوئی سننے والا نہیں۔

میں نے دیکھا
اس طلسم کو توڑنے والا
میرا اپنا دل
جو وقت کے گناہ کا مجرم ہے۔

اس نے لمحوں کو
کسی بے چہرہ سوداگر کے ہاتھوں
ایک خواب کے عوض فروخت کیا تھا۔

اب وقت کی صلیب پر
میری بینائی
میرا شعور
اور میرا نغمہ
سب کچھ لٹکا ہوا ہے۔

مگر میں جانتی ہوں
یہ صلیب بھی
ایک دن ریزہ ریزہ ہو جائے گی
اور وقت کا دیو
اپنی لاش خود اٹھائے گا۔

اس نظم میں وقت کا پس منظر وجودی کرب، داخلی احتساب اور انسانی کمزوریوں سے جڑا ہوا ہے۔ وقت کو ایک جابر قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے شعور اور خوابوں کو آزمائش میں ڈالتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ یقین بھی دیا گیا ہے کہ اس جبر کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس نظم میں وقت محض گھڑی کی سوئیوں کی حرکت یا دن رات کا گزرنا نہیں، بلکہ ایک جابر اور استعاراتی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
نظم میں وقت کو "سنگین طلسم” اور "صلیب” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعرہ کے نزدیک وقت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے لمحوں، احساسات اور شعور کو قید کر دیتا ہے۔ یہ پس منظر اس احساسِ بے بسی سے جڑا ہے جو انسان کو حالات، سماج یا تقدیر کے سامنے محسوس ہوتا ہے۔

وقت کو ایسا دیو دکھایا گیا ہے جو لمحوں کو "شعور کے قفس” میں بند کر دیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ انسان ماضی کی یادوں اور فیصلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔ یہاں وقت کا پس منظر نفسیاتی ہے—یعنی یاد، پشیمانی اور داخلی کشمکش ہیں۔

"صلیب” قربانی، اذیت اور سزا کی علامت ہے۔ وقت کو صلیب کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اپنی خواہشوں، خوابوں اور خطاؤں کی سزا وقت کے ہاتھوں بھگتتا ہے۔ گویا وقت ایک منصف بھی ہے اور جلاد بھی۔
شاعرہ کہتی ہے کہ یہ صلیب بھی ایک دن ٹوٹ جائے گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت دائمی نہیں، بلکہ اس کا جبر عارضی ہے۔ پس منظر میں ایک انقلابی یا روحانی امید بھی موجود ہے۔

مدثر عباس
20 فروری 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی
  • پاکستانی یونیورسٹیوں کی بقا کا واحد راستہ
  • جسم میں گونجتا ہے روح پہ لکھا دکھ ہے
  • ماں کی خاموش دُعا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مدثر عباس

اگلی پوسٹ
آپریشن غضب للحق
پچھلی پوسٹ
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

متعلقہ پوسٹس

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا

ستمبر 23, 2026

کراچی کا جلتا ہوا سوال

جنوری 21, 2026

پوچھنا ہے مجھے پتہ میرا

فروری 21, 2026

یار کیا داستاں کو موڑ دیا

مارچ 22, 2026

کیا تاریخ خود کو دُہراتی ہے؟

اپریل 25, 2026

چین ہے دل کو میسّر

دسمبر 10, 2025

ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ

فروری 21, 2026

موبائل سے بڑھ کر کون

مئی 16, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی...

فروری 17, 2026

کتیں چڑھی سویر نیں

فروری 18, 2026

روح میں درد کی تاثیر اٹھا...

جون 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں