خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2026 0 تبصرے 62 مناظر
63

”بہ قول ایلیٹ ، ہر عظیم فن پارہ اپنے ساتھ نئے تنقیدی پیمانے لے کر آتی ہے اور ہر فن پارے کی تخلیق پچھلی قائم کردہ تمام درجہ بندیوں کو درہم برہم کردیتی ہے”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج تنقید کا معیار بہت بلند ہے، تنقید نے نئی نسل میں شعور پیدا کیا کہ وہ ادب کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں او ر اُن اُصولوں کے خلاف جاتے ہیں جو لوگوں کے اپنے قائم کردہ اُصول ہیں۔
اس لیے اُردو ادب میں بیسیوں نقاد گزر چکے ہیں اور اُس میں کئی ایک دوسروں کے تنقید پر اعتراض کرکے نئے فن پارے قائم کیے ہیں۔اُن نقادوں میں ایک نام پروفیسر گوہر نوید کا بھی ہے۔آپ کے بارے میں اسحاق وردگ کہتے ہیں:
”تنقید کی آزادی میں گوہر نوید کے قلم کی روشنی بھی شامل ہے ۔ اس جہانِ امکان میں کئی معجزے موجود ہیں۔بس اُسے ایک خاص قرینے سے تنقید کی خودی کو مزید دریافت کرنا ہے تاکہ پختون خوا کی اُردو تنقید کو سچ کہنے کا سلیقہ آجائے ۔یہ زمہ داری گوہر نوید کو ہم نے نہیں وقت اور تاریخ نے سونپی ہے”
پروفیسر گوہر نوید ادب کے ہر گوشے کے ساتھ انصاف کے لیے پر عزم ہیں اور یہ خوبی انھیں دوسرے نقادوں سے ممتاز کرلیتا ہے جس کی وجہ سے پروفیسر گوہر نوید ترقی پسندیت اور رومانویت کے سنگھم پر کھڑے نظر آتے ہیں اور یہ بات مردان کے تمام ناقدین مانتے ہیں ۔
پروفیسر گوہر نوید نے ن م راشد(نذر محمد راشد) کی شاعری پر دل کھول کر تنقید کی ہے ۔ انھوں نے ن م راشد کے کی شاعری پر جو تنقیدی مضامین لکھے ہیں اِ س سے پڑھنے والا صرف مردہ خیال سے اختلاف نہیں کرسکتا بلکہ یوں خیال کیا جاسکتا ہے کہ ایک سچے اور امین نقاد میں خصوصیت پائی جاتی ہیں یا جن خصوصیت کی ضروت ہو وہ تمام پروفیسر گوہر نوید میں پائے جاتے ہیں ۔ ن م راشد کی شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
”راشد کے داخل سے جب بغاوت کا لاوا اُگلتا ہے تو کُہنگی کے تصورات کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس لاوے سے نکلنے والے شرارے شعلے بن کر آسمان تک پہنچنتے ہیں۔ خاشاک غیراللہ کو پھونک ڈالنے کے بعد بغاوت کے آخری حدود کوپھلانگتے ہوئے وہ خُداکے حضور میں بھی گستاخی کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور ایسے شعر تخلیق کرنے لگتے ہیں جن میں مذہب ، تصوف م اور مروجہ تصورات کا مزاق اُڑایا جاتا ہے”
پروفیسر گوہر نوید نے اس مضمون میں جو زاویۂ نظر اختیار کیاہے اس اختلاف نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ نظم جدید کے شاعر ن م راشد کے ہاں ایسے موضوعات ملتے ہیں جن میں گمراہانہ سوچ اور توہین آمیز تصورات ملتے ہیں اور یہ سوچ ادب اور مذہب کے درمیان قائم کردہ فاصلوں کو ختم کرتی ہے۔ اس مضمون کے زاویہ نظر میں ن م راشد کی ایک نظم ”پہلی کرن میں کہتے ہیں :

خُدا کا جنازہ لیے جارہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا نہیں تھا

ن م راشد کا انسان باقاعدہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور راشد کا انسان جنس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ، سیاسی اور اجتماعی مسائل کا بھی شکار نظر آتا ہے ۔ ن م راشدکاانسان خارج کا مناظرہ و مشاہدہ کرکے واپس اپنے داخل کی طرف مڑ کر آتا ہے اور جب آتا ہے تو اُس کی واپسی مکمل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ راشد کا انسان خُدا کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

پروفیسر گوہر نوید کسی فن پارے کو پرکھنے کے لیے ادبی اور جمالیاتی قدروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس سے ادب کو کیا فائدہ ہوگا اور عام قاری اس سے کتنا فائدہ اُٹھا سکتا ہے ۔ یہاں یہ عرض بھی ضروری ہے کہ اُصولِ تنقید کے معاملے میں پروفیسر گوہر نوید کا رویہ کتنا ہی سخت اور بے لچک سہی لیکن عملی تنقید میں جب وہ کسی فن پارے پر تنقید کرتے ہیں تو یہ شدت کسی حد کم ہوجاتی ہے اور تنقید میں افادیت کے ساتھ دوسرے پہلووں کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ موصوف اُس ادب کے حق میں ہیں جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہواور عوام کے مقاصد کو پورا کرے اور اُن کی زندگی کو خوش گوار بنائے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ادب عوام کی ترجمان ہوتی ہے یا نہیں ؟ یعنی شعر و ادب میں حسن اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فنی تقاضو کو پورا کیا جائے ۔ ادب میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک وہ بات جو کہی جارہی ہے، دوسرا وہ انداز جس میں وہ بات کہی جارہی ہے۔ ایک کو موضوع اور دوسرے کو اسلوب و ہئیت کہتے ہیں۔ اس لیے پروفیسر گوہرنوید نے انتہائی آسان بھاشا میں تنقید پر بحث کرتے ہوئے قاری کو ایک آسان اور سلیس انداز میں تنقید کے عمل کو بیان کیا ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے احمد فراز کی مشکل پسندی پر اعتراض کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاعری میں رومانوی حجاز کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کا بھی قائل ہے وہ کہتے ہیں : شاعر اپنے روح عصر کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے شاعری جتنی حقیقت پسند ہوگی اتنا ہی اس کا معیار بلند ہوگا۔ مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ پروفیسر گوہر نوید مردان کا جئنوئن اور امین نقاد ہے ۔

مدثر عباس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آسمان، چاند، ستارے اور انسان کی تلاش
  • بادشاہت کا خاتمہ
  • مالٹے کی خوشبو اور پانی کا قطرہ
  • ایک تھا بجو کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خبر مسلم کی
پچھلی پوسٹ
بامِ غزل از افتخار شاہد

متعلقہ پوسٹس

حامد کا بچہ

جنوری 12, 2020

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

نومبر 23, 2019

عید کا ریشم یا جہنم کی تپش؟

مارچ 21, 2026

سودا کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

پاکستانی بچوں کا تحفظ

ستمبر 6, 2025

ہنستے ہنستے

دسمبر 4, 2019

گمراہی کا راستہ

جنوری 4, 2022

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023

پیٹرول کا نیا بوجھ – عوام کا مسئلہ

اپریل 3, 2026

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

اگست 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

مئی 31, 2020

شاہی محلہ کے سید

جون 28, 2020

پاکستان نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان

نومبر 24, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں