369
دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کون
ان زمانوں میں جو تھے ہی نہیں جاتا پھرے کون
باغ میں ان سے ملاقات کا امکان بھی ہے
صرف پھولوں کے لیے لوٹ کے آتا پھرے کون
سیکھ رکھے ہیں پرندوں نے سب اشجار کے گیت
آج کل موڈ ہی ایسا ہے کہ گاتا پھرے کون
میں تو کہتا ہوں یہیں غار میں رہ لو جب تک
وقت پوچھو ہی نہیں شہر بساتا پھرے کون
بھیس بدلے ہوئے اک شخص کی خاطر ہے یہ سب
ہم فقیروں کے بھلا ناز اٹھاتا پھرے کون
خواب یعنی یہ شب و روز جسے چاہیے ہوں
آ کے لے جائے اب آواز لگاتا پھرے کون
اختلافات سروں میں ہیں گھروں سے بڑھ کر
پھر اٹھانی جو ہے دیوار گراتا پھرے کون
ادریس بابر
