خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں
آپکا اردو بابااردو کالمزسید محمد زاہد

ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن فروری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 24, 2020 0 تبصرے 584 مناظر
585

ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں

یہ رواج تو اِس علاقے کا ہے ہی نہیں۔ ایسی قبریں تو میں نے سمر قند میں افراسیاب کے کھنڈرات کے کنارے واقع قدیم قبرستان ’شاہی زندہ‘ (زندہ بادشاہ) میں دیکھی تھیں۔ اس قبرستان کو یہ نام نبی پاکﷺ کے غسال، چچا زاد بھائی قثم بن عباس کی نسبت سے ملا ہے۔ آپ غسل دیتے وقت حضر ت علی کے ساتھ جسم اطہر کو کروٹیں بدلتے رہے تھے۔ ان کا روضہ مبارک اس قبرستان میں موجود ہے۔ وہاں بہت سی قبروں کے کتبے پر صاحب قبر کی مورت گودی ہوئی ملتی ہے۔

ہم نے اپنے ملک میں تو یہ کہیں بھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس دور اُفتادہ علاقے میں جہاں مذہبی انتہا پسندوں کی حکومت رہی ہے، جہاں عورتیں ٹوپی والا برقع پہنتی ہیں، ایک قبر پر تصویر اور وہ بھی صاحب قبر کے ساتھ ایک جوان عورت کی، میرے لئے انتہائی حیران کن تھا۔ عوام کا اس قبر پر تانتا بندھا ہوا تھا۔ پھولوں کے ڈھیر میں موجود، آبنوسی فریم میں جڑی ہوئی، کیا کمال کی تصویر تھی! فنکار نے انتہائی مہارت سے پھیکے پھیکے واٹر کلر کے ساتھ زندہ اعضأ تخلیق کر دیے تھے۔ یہ اس کا اعجاز تھا کہ موئے قلم کے ایک ایک بال نے بے جان لکیروں میں جان ڈال دی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ دونوں کسی کام میں مصروف ہیں اور ابھی ان کے ہاتھ ہلنا شروع ہو جائیں گے۔ اس قبر کی مجاور بھی ایک بوڑھی عورت تھی۔ اس کے سامنے نذرانوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔

اس علاقہ میں صدیوں سے پر امن لوگوں کا بسیرا رہا ہے۔ تمام مذاہب کے پیرو کاروں نے مل جل کر زندگی گزاری۔ نئے مذاہب نے اس دھرتی سے جنم لیا۔ یہاں کے باسیوں نے ہر ایک کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ اس خطے کی کائنات تکثریت پسند مقامی مذاہب کی بنیاد پر کھڑی تھی۔ یہ ان صوفیا کی زمین ہے جو کہتے تھے ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ وہ تو ’وحدت الوجود‘ کے ماننے والے تھے کہ وجود صرف ایک ہی ہے۔ اسی لئے اس دھرتی نے گوتم سے نانک تک، زرتشت سے رشبھ دیو تک ہر کسی کواپنا لیا۔ امن و آشتی کی اس دھرتی میں نہ جانے کب جاہلیت کے دور والی عرب و عجم کی لڑائی اور یورپی اقوام کی کھینچا تانی آ گئی اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والے ایک دوسرے کے سر کاٹنے لگے۔

شمالی ریچھ حملہ آور ہوا۔ پھرمغربی گدھے و ہاتھی کی جوڑی نے اس علاقے کو تاراج کرنا چاہا۔ ہمسائے میں آگ لگی تو لڑائی ہمارے آنگن میں بھی آ گئی۔ چہار سو خون کی ارزانی ہوئی۔ تین دہائیاں گزر گئیں۔ ہمارے شہر بم دھماکوں سے گونج اٹھے۔ بارودی مواد سے بھری گاڑیاں ہمارے سکولوں، ہسپتالوں سے لے کردرباروں تک سے ٹکرا دی گئیں۔ ہمارے نہتے ڈاکٹر، استاد، بے گناہ شہری، نمازی سب کے خون سے بازار کی گلیاں بھر گئیں۔ ہمارے بچے زندہ جلا دیے گئے، ہمارے جوانوں کے گلے کاٹے گئے لیکن ہم حلق بریدہ بھی چلاتے رہے کہ ہمیں یہ سب قبول نہیں۔ قوم نے انگڑائی لی اور ہر دہشت گرد اکھاڑ پھنکنے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔

حکمرانوں نے حوصلہ کیا، فوج نے ہمت اور علاقے آزاد کروا لئے گئے۔ اب باری تھی ان علاقوں میں سول حکومت کے قیام کی، وہ علاقے جہاں پولیو کے قظرے پلانے والی ورکرز کو گولیاں مار دی جاتی تھیں، جہاں سکول جلا دیے گئے تھے، ہسپتال اجڑ چکے تھے۔ بہت سے ڈاکٹرز اساتذہ اور ملازمین کی ضرورت تھی۔ ابھی بھی ٹارگٹ کلنگ جاری تھی۔ ابھی بھی حملے ہو رہے تھے۔ بم دھماکے ابھی بھی جاری تھے۔ لیکن قوم کا کوئی بھی فرد ہمت نہیں ہارا۔ سب نے اپنا حصہ ڈالا اور سب قربان ہوئے۔

جب ہم علاقے میں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ علاقے میں ویرانی کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اب مقامی لوگ واپس اپنے گھروں کو آ رہے تھے۔ زیادہ تر دکانیں جل کر خاکستر ہو چکی تھیں۔ دھوئیں اور راکھ سے اٹا بازار ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ویران دکانوں کے ٹوٹے چھجے، جلے ہوئے دروازے، رہی سہی بجلی کی تاروں پر خون آلودہ چیتھڑے جن میں انسانی گوشت بھی شامل تھا اور جو سڑ کر سیاہ ہو چکے تھے، پوری کہانی سنا رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو سیدھا کر رہے تھے۔

بازار میں واحد جگہ جہاں تھوڑی رونق نظر آئی، ایک نیلی ادھڑی ہوئی کاشیوں سے مزین مسجد تھی جس کا مینار چھت پر گر ا ہوا تھا، دروازہ ندارد۔ مسجد کے ادھڑے فرش پہ کچھ بچے بجری اور پتھروں پر بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ ہم جس بھی گھر میں گئے ہمیں کوئی فرد ایسا نہ ملا جس کا کوئی قریبی عزیز اس جنگ میں شہید نہ ہوا ہو۔ گھر اجڑ چکے تھے۔ بہت سے لوگ بیمار اور زخمی تھے۔ علاقے میں ایک ہسپتال کی اشد ضرورت تھی۔ عارضی طور پر قائم ٹینٹ ہسپتال میں بہادر ڈاکٹر اور نرسیں دن رات کام کر رہے تھے۔ ان پر حملے ہوتے تھے۔ لیکن رضاکاروں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پرانے ہسپتال تباہ ہو چکے تھے۔ ملک کے سب سے بڑے بلڈر ’سالک صاحب‘ کی فرم علاقے میں حکومت کے زیر انتظام سڑکوں کا جال بچھا چکی تھی۔ صاحب نے اپنی جیب سے کچھ رقم عطیہ کی۔ باقی رقم حکومت اور غیر ملکی ڈونر اداروں نے فراہم کی اور ایک بڑے ہسپتال کی تعمیر شروع کر دی گئی۔

ہسپتال مکمل ہو نے کے قریب تھا۔ اس کے افتتاح سے پہلے ملکی اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا۔

مقابلہ پینٹنگ –

ہسپتال کے داخلی ہال میں آویزاں کرنے کے لئے ملک کی مشہور شخصیات کی واٹر کلر پینٹنگ بنانے کا مقابلہ۔

شرائط:

مقابلہ میں حصہ لینے والا ہر شخص تین تصویریں بنائے گا۔ ( 1 ) ۔ با نی مملکت خداد د۔ ( 2 ) مفکر اعظم ( 3 ) اپنے پسندیدہ ہیرو کی

اول آنے والے کو تعریفی سند اور مبلغ ایک لاکھ روپیہ۔ جس مصور کی تصویر آویزاں کرنے کے لئے چنی جائے گی اسے تعریفی سند اور مبلغ بیس ہزار روپیہ

مرکزی ہال میں سات پینٹنگز لگائی جائیں گی۔ باقی تصاویر علاقے کے دوسرے سرکاری ادارے خرید سکتے ہیں۔ قیمت فروخت مبلغ ایک ہزارروپیہ بنانے والے کو دی جائے گی۔ جو تصویر فروخت نہ ہو سکی وہ بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔ نوٹ: سیاسی لیڈروں کی تصاویر ناقابل قبول ہوں گی۔

ہم علاقے کے مشہور مصور بہزادکے پاس گئے اور پو چھا کہ وہ کیا بنائے گا۔ کہنے لگا ”روز سوچتا ہوں۔ کس کی تصویر بناؤں؟ اتنے لوگ قربان ہو گئے۔ کس کی شبیہ پردے پرلکیروں اور کسے بھول جاؤں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ “

میں نے مشورہ دیا ”جس کی قربانی آپ کے نزدیک سب سے زیادہ ہے۔ “

بہت سوچنے کے بعد بولے ”کسی کی قربانی بھی کم نہیں۔ جنہوں نے اپنی جان قربان کر دی ان کو میں کیسے ترازو کے پلڑوں میں ڈال سکتا ہوں۔ ان کا حساب کتاب تو اللہ نے بھی نہیں کرنا۔ “

”یہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن کسی ایک کا تو چناؤ کرنا ہی ہے۔ “

”میں روز رنگ اور برش لے کر کینوس کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں ایک لکیر کھینچتا ہوں اور رونا شروع کر دیتا ہوں۔ تمام خیال گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ میں نے کئی شہدا دیکھے۔ ان گنت جنازے ان ناتواں کندھوں پر اٹھائے۔ شہید کی کھلی آنکھوں میں موجود جوت تو صورت پذیر ہو ہی نہیں سکتی، میں ان کو کیسے رنگوں سے لکیروں گا؟ “

”تو آپ کسی زندہ ہیرو کی تصویر بنا لیں۔ “

”تصویر تو میں کسی شہید کی ہی بناؤں گا۔ اگر چہ وہ زندہ ہی ہوتے ہیں لیکن تم دیکھنا میں اسے کینوس پر زندہ کر دوں گا۔ جو بھی بناؤں گا اس میں جان ڈال دوں گا۔ ”

مقررہ مدت میں بہت سی تصاویر موصول ہوئیں۔ افتتاح کے دن قریب آ رہے تھے۔ تصویروں کے چناؤ کی کمیٹی کا اجلاس جاری تھا۔ سلیکشن بہت مشکل تھی۔ پورے ملک سے مصوروں نے ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار بھیجا تھا۔

بانی مملکت اور مفکر اعظم کی تصاویر کا چناؤ جلدہو گیا۔ تیسری تصویر سپہ سالار کی متفقہ طور پر فوراً ہی سلیکٹ ہو گئی۔ وہ بانی مملکت کی دائیں طرف آویزاں کر دی گئی۔

چوتھی اور پانچویں تصویر کے لئے شہدا کا نام آیا۔ ایک تو اس شہید کی تصویر لگا دی گئی جس کو ملک کی پہلی جنگ میں سب سے بڑا فوجی اعزاز ملا تھا۔ اب کمیٹی کو سب سے مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ بہت دیر تک بحث جاری رہی اور مختلف تصویریں لگا کر دیکھی گئیں لیکن بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ کسی ایسے شہید کی تصویر لگائی جائے جو کہ چوتھی تصویر کی خوبصورتی کو متاثر نہ کرے اور اس جیسا ہی جوان ہو۔ انتہائی خوبصورت آنکھوں والے، دشمن کی فوج کے سامنے مسلسل کئی راتوں تک ڈٹے رہنے والے، ملک کے ایک بڑے شہر کے دفاع میں جان قربان کرنے والے، افسر کی تصویر لگا دی گئی۔

اب آخری دو کا چناؤ ہونا تھا۔ ایک تصویر اس علاقے میں پنپنے والے مذہب کے بانی کی تھی جو کہ کئی سو سال پہلے وفات پا چکا تھا۔ اس کو مختلف مذاہب کے پیرو کار اپنا مانتے تھے۔ اس کی آخری یادگار ادھر ہی تھی لیکن چونکہ اس کے پیرو کار ہجرت کر کے دشمن ملک چلے گئے تھے اس لئے اس کو ابھی ایک طرف کر دیا گیا۔ ایک اور تصویر جس پر بہت بحث ہوئی وہ تھی علاقے کے مشہور شاعر کی۔ تصویر میں ایک طرف اس کی نظم ’ہارٹ اٹیک‘ بھی لکھی گئی تھی۔

لیکن شاعر کے ہاتھ میں سگریٹ تھی اور اس کی تصویر لگانے سے دوست ملک کی ناراضگی بھی خطرہ تھا، اس لئے اسے بھی ایک طرف کر دیا گیا۔ پھر ایک ایسے بزرگ کی تصویر پر بحث شروع ہو گئی جس کے اس علاقے میں بہت سے مرید تھے اور اس نے ملک کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ اس کے دو مرید اس کمیٹی میں بھی موجود تھے۔ اس کے چناؤ پر کچھ دیر بحث جاری رہی اور پھر اسے متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔

اب آخری جگہ خالی بچی تھی۔ بہت سی اعلی پائے کی تصویریں موجود تھیں۔ کمیٹی کا سربراہ بولا ”میرا دل بہت دکھی ہے کہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اتنی اہم شخصیات کی تصویروں کا چناؤ نہ ہو سکا۔ کچھ پینٹنگ کی خوبصورتی دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ان کے لئے ایک اور ہسپتال بناناچاہیے تاکہ ان کو بھی شایان شان جگہ مل سکے۔ ہمارے پاس جگہ اگرچہ محدود ہے لیکن ہمارے دل بہت کشادہ ہیں اور یہ سب اس میں بستے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ہم نے مختلف طبقات کو نمائندگی دے دی ہے لیکن حکومت کے کسی بھی عوامی مدد گار کو ہم خراج تحسین پیش نہیں کر سکے اس لئے میری رائے ہے کہ اس ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ دینے والے سالک صاحب کی تصویر اس جگہ پر لگنی چاہیے۔ وہ اقلیت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور ان کے نام کا ملک کے بڑے شہر میں خیراتی ہسپتال بھی ہے۔ ان کی ہسپتال سے دو نسبتیں ہیں، اس لئے وہ سب سے موزوں شخصیت محسوس ہوتے ہیں۔”

ایک ممبر نے کچھ مخالفت کی تو اس کا ساتھ بیٹھا ممبر بولا ”کیا تمہیں حصہ نہیں ملا؟ “

آخری تصویر بھی متفقہ طور پر منتخب کر لی گئی۔

ہمیں افتتاحی تقریب کا دعوت نامہ مل چکا تھا۔ بہزاد کا شہپارہ دیکھنے کا شوق تھا۔ اس نے کس شہید کی تصویر بنائی اور وہ کیسی تھی؟ لیکن ہمیں اطلاع ملی کہ کمیٹی میں پیٹنگ کا معیار تو زیر بحث آیا ہی نہیں۔ ہم سب بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ بوڑھے بہزاد سے پو چھا تو وہ بھی خاموش رہا۔ ہم نے ایک نظر تمام پینٹگز کو دیکھا اور سیدھے واپس اپنے شہر کی طرف چل پڑے۔

اب کئی سالوں کے بعد ادھر دوبارہ آنا ہوا۔ بہزاد مر چکا تھا۔ اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے قبرستان آئے۔ اس دہشت گردی نے قبرستان کو بہت بڑا کر دیا تھا ہر قبر پر کوئی نہ کوئی بیٹھا اپنے پیارے کو یاد کر رہا تھا۔ بہزاد کی قبر کا پو چھا تو اس طرف اشارہ کر دیا گیا جہاں بہت زیادہ ہجوم جمع تھا۔ اس کو مرے تو کافی مہینے گزر چکے تھے۔ رش دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔

وہاں تین قبریں تھیں جن کے پیچھے ایک دیوار پر یہ تصویر آویزاں تھی۔ نیچے اس کے دائیں کنار ے پر ’بہزاد‘ لکھا صاف نظر آ رہا تھا۔

میں حیران تھا قبر پر تصویر لگانا تو اس علاقے کا رواج ہی نہیں؟

اور پھر قبریں کن کی ہیں؟ ہاتھ باندھے کھڑے ایک شخص نے بتایا:

”یہ جو بڑھیا ہے اس کے دو بچے بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔ علاج ہوا، ٹھیک ہو گئے۔ پھر ایک دن اس کے گھر پر ڈرون حملہ ہوا اور اس کا سارا خاندان شدید زخمی حالت میں نئے ہسپتال لایا گیا لیکن کوئی بھی جانبر نہ ہو سکا۔ یہ اسی ہسپتال کے باہر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک دن کوڑے کے ڈھیر سے اسے یہ تصویر ملی تو یہ اسے لے کر سیدھی قبرستان آ گئی اور اس دن سے یہ ادھر بیٹھی ہے اور بار بار پکارنا شروع کر دیتی ہے۔ “

ایک دم بوڑھیا نے چلانا شروع کردیا

” تم دونوں زندہ ہو، اٹھو! میرے بچوں کو بچاؤ۔ “

تصویر اس ڈاکٹر اور نرس کی ہے جنہوں نے لاکھوں زخمیوں کا علاج کیا اور خود بم دھماکے میں مارے گئے۔

( یہ افسانہ نارووال کے ضلعی ہسپتال میں لگی تصویریں دیکھ کر لکھا گیا)

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت
  • شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت
  • خوابوں کی تعبیر نہیں ہے
  • دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاس اپنے اک جان ہے سائیں
پچھلی پوسٹ
چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

دل پیا ہوکے بھردا اے

اکتوبر 12, 2025

کسی طرح مجھے گرداب سے نکلنا ہے

مئی 30, 2021

پی آئی اے کی نجکاری

دسمبر 25, 2025

نظام مملکت اور موکلین

مارچ 11, 2022

تہذیب کے دامن کو بشر چھوڑ چلا ہے

اکتوبر 6, 2025

بدلتے موسم

جون 22, 2025

 سمینٹ میں دفن آدمی

دسمبر 7, 2019

نسل نو میں عدم برداشت

اپریل 5, 2020

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

کالموں میں لکھے جانے والے غلط اشعار کا تعاقب

مئی 16, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

جون 17, 2022

چھٹیوں کے بغیر محبت

جنوری 27, 2025

‘یار’ اونچان ہوا جاتا ہے

جون 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں