379
پاس اپنے اک جان ہے سائیں
باقی یہ دیوان ہے سائیں
جس کا کوئی مول نہ گاہک
کیسی یہ دوکان ہے سائیں
آنسو اور پلک تک آئے
آنسو اگنی بان ہے سائیں
جوگی سے اور جگ کی باتیں
جوگی کا اپمان ہے سائیں
میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی
میرا یہ ایمان ہے سائیں
جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں
اللہ کا احسان ہے سائیں
رسا چغتائی
