خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبیمار
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بیمار

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 504 مناظر
505

بیمار

عجب بات ہے کہ جب بھی کسی لڑکی یا عورت نے مجھے خط لکھا بھائی سے مخاطب کیا اور بے ربط تحریر میں اس بات کا ضرور ذکر کیا کہ وہ شدید طور پر علیل ہے۔ میری تصانیف کی بہت تعریفیں کیں۔ زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ لڑکیاں اور عورتیں جو مجھے خط لکھتی ہیں بیمار کیوں ہوتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ میں خود اکثر بیمار رہتا ہوں۔ یا کوئی اور وجہ ہو گی۔ جو اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ میری ہمدردی چاہتی ہیں۔ میں ایسی لڑکیوں اور عورتوں کے خطوط کا عموماً جواب نہیں دیا کرتا، لیکن بعض اوقات دے بھی دیا کرتا ہوں آخر انسان ہوں۔ خط اگر بہت ہی دردناک ہو تو اس کا جواب دینا انسانی فرائض میں شامل ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے ایک خط موصول ہوا، جو کافی لمبا تھا۔ اس میں بھی ایک خاتون نے جس کا نام میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا یہ لکھا تھا کہ وہ میری تحریروں کی شیدائی ہے لیکن ایک عرصے سے بیمار ہے۔ اس کا خاوند بھی دائم المریض ہے۔ اس نے اپنا خیال ظاہر کیا تھا کہ جو بیماری اسے لگی ہے اس کے خاوند کی وجہ سے ہے۔ میں نے اس خط کا جواب نہ دیا لیکن اس کی طرف سے دوسرا خط آیا جس میں یہ گلہ تھا کہ میں نے اُس کے پہلے خط کی رسید تک نہ بھیجی۔ چنانچہ مجھے مجبوراً اس کو خط لکھنا پڑا۔ مگر بڑی احتیاط کے ساتھ۔ میں نے اس خط میں اس سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ اور بھی زیادہ علیل ہو گئی ہے اور مرنے کے قریب ہے۔ یہ پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا تھا۔ چنانچہ اسی تاثر کے ماتحت میں نے بڑے جذباتی انداز میں اُسے یہ خط لکھا اور اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ زندگی زندہ رہنے کے لیے ہے اس سے مایوس ہو جانا موت ہے اگر تم خود میں اتنی قوت ارادی پیدا کر لو تو بیماری کا نام و نشان تک نہ رہے گا میں پچھلے دنوں موت کے منہ میں تھا۔ سب ڈاکٹر جواب دے چکے تھے۔ لیکن میں نے کبھی موت کا خیال بھی نہیں کیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ڈاکٹر حیرت میں گُم ہوکے رہ گئے اور میں ہسپتال سے باہر نکل آیا۔ میں نے اُس کو یہ بھی لکھا کہ قوتِ ارادی ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہر ناممکن چیز کو ممکن بنا دیتی ہے۔ تم اگر بیمار ہو تو خود کو یقین دلا دو کہ نہیں تم بیمار نہیں اچھی بھلی تندرست ہو۔ میرے اس خط کے جواب میں اُس نے جو کچھ لکھا اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس پر میرے وعظ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ بڑا طویل خط تھا۔ پانچ صفحوں پر مشتمل۔ اس کی منطق اور اس کا فلسفہ عجیب قسم کا تھا۔ وہ اس بات پر مصر تھی کہ خدا کو یہ منظور نہیں کہ وہ زیادہ دیر تک اس دنیا میں زندہ رہے۔ اُس کے علاوہ اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ میں اپنی تازہ کتابیں اُسے بھیجوں۔ میں نے دو نئی کتابیں اس کو بھیج دیں۔ ان کی رسید آگئی۔ بہت بہت شکریہ ادا کیا گیا تھا اور میری تعریفیں ہی تعریفیں تھیں۔ مجھے بڑی کوفت ہوئی۔ جو کتابیں میں نے اس کو بھیجی تھیں، میری نظر میں ان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ اس لیے کہ وہ صرف ہر روز کچھ کمانے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ چنانچہ میں نے اُسے لکھا کہ تم نے میری دو کتابوں کی جو اتنی تعریف کی ہے، غلط ہے۔ یہ کتابیں محض بکواس ہیں تم میری پرانی کتابیں پڑھو۔ اس میں تم پوری طرح مجھے جلوہ گر پاؤ گی۔ میں نے اس خط میں افسانہ نویسی کے فن پر بہت کچھ لکھ دیا تھا۔ بعد میں مجھے افسوس ہوا کہ میں نے یہ جھک کیوں ماری۔ اگر لکھنا ہی تھا تو کسی رسالے یا پرچے کے لیے لکھتا۔ یہ کیا ہے ایک عورت کو جس کے تم صورت آشنا بھی نہیں اتنا طویل اور پُر مغز خط لکھ دیا ہے۔ بہر حال جب لکھ دیا تھا تو اُسے پوسٹ کرنا ہی تھا۔ اس کا جواب تیسرے روز آگیا۔ اب کے مجھے پیارے بھائی جان سے مخاطب کیا گیا تھا۔ اُس نے میری پرانی تصنیفات منگوالی تھیں اور وہ انھیں پڑھ رہی تھی۔ لیکن بیماری روز بروز بڑھ رہی تھی اس نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کسی حکیم کا علاج کیوں نہ کرائے، کیونکہ وہ ڈاکٹروں سے بالکل نا اُمید ہو چکی تھی۔ میں نے اُسے جواب میں لکھا، علاج تم کسی سے بھی کراؤ۔ خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا حکیم۔ لیکن یاد رکھو سب سے زیادہ اچھا معالج خود آدمی آپ ہوتا ہے۔ اگر تم اپنی ذہنی پریشانیاں دُور کر دو تو چند روز میں تندرست ہو جاؤ گی۔ میں نے اس موضوع پر ایک طویل لیکچر لکھ کر اُس کو بھیجا۔ ایک مہینے کے بعد اس کی رسید پہنچی، جس میں یہ لکھا تھا کہ اُس نے میری نصیحت پر عمل کیا۔ لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور یہ کہ وہ مجھ سے ملنے آرہی ہے۔ دو تین روز میں حیدر آباد سے بمبئی پہنچ جائے گی اور چند روز میرے ہاں ٹھہرے گی۔ میں بہت پریشان ہوا، چھڑا چھٹانک تھا۔ مگر ایک فلیٹ میں رہتا تھا۔ جس میں دو کمرے تھے۔ میں نے سوچا اگر یہ محترمہ آ گئیں تو میں ایک کمرہ اُن کو دے دوں گا۔ اس میں وہ چند دن گزارنا چاہیں گزار لیں۔ علاج کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ اس لیے کہ وہاں کا ایک بڑا حکیم میرا بڑا مہربان تھا۔ چھ روز تک آپ یہ سمجھیے کہ میں سولی پر لٹکا رہا۔ اخبار والے نے دروازے پردستک دی تو میں یہ سمجھا کہ وہ محترمہ تشریف لے آئیں۔ باورچی خانے میں نوکر نے اگر کسی برتن پر راکھ ملنا شروع کی تو میرا دل دھک دھک کرنے لگا کہ شاید یہ آواز اس عورت کے سینڈلوں کی ہے۔ میں ہندو مسلم فسادات کی خبریں پڑھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں یہ سمجھا کہ دُودھ والا ہے۔ چنانچہ میں نے نوکر کو آواز دی

’’دیکھو رحیم کون ہے؟‘‘

رحیم چائے بنا رہا تھا۔ وہ اُبلتی ہوئی کیتلی کو وہیں چولھے پر چھوڑ کر باہر نکلا اور دروازہ کھولا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے کمرے میں آیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا

’’ایک عورت آئی ہے‘‘

میں حیرت زدہ ہو گیا

’’عورت؟‘‘

’’جی ہاں۔ ایک عورت باہر کھڑی ہے۔ وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے‘‘

میں سمجھ گیا کہ یہ عورت وہی ہو گی۔ بیمار، جو مجھے خط لکھتی رہی ہے چنانچہ میں نے رحیم سے کہا اُس کو اندر لے آؤ اور بڑے کمرے میں بٹھا دو اور کہہ دو کہ صاحب ابھی آ جائیں گے۔ ‘‘

جی اچھا یہ کہہ کر رحیم چلا گیا۔ میں نے اخبار ایک طرف رکھ دیا اور سوچنے لگا کہ یہ عورت کس قسم کی ہو گی۔ دق کی ماری ہوئی یا فالج زدہ۔ میرے پاس کیوں آئی ہے؟۔ نہیں مجھ سے ملنے آئی ہے، غالباً یہاں کسی طبیب سے اپنا علاج کرانے آئی ہے۔ میں اُٹھا اور غسل خانے میں چلا گیا۔ وہاں دیر تک نہاتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ عورت جو اُس کو اتنے لمبے چوڑے خط لکھتی رہی اور جس کو کوئی خطرناک بیماری چمٹی ہوئی ہے کس شکل و صورت کی ہو گی؟ بے شمار شکلیں میرے تصور میں آئیں۔ پہلے میں نے سوچا اپاہج ہو گی اور مجھے اس کو کچھ دینا پڑے گا۔ اتفاق کی بات ہے کہ تین تاریخ تھی جب وہ آئی۔ میرے پاس تنخواہ کے تین سو روپے تھے جو اِدھر اُدھر کے بِل ادا کرنے کے بعد بچ گئے تھے۔ اس لیے میری پریشانی میں اضافہ نہ ہوا۔ میں نے نہاتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر اسے مدد کی ضرورت ہے تو میں اُسے ایک سو روپے دے دُوں گا۔ لیکن فوراً مجھے خیال آیا کہ شاید اس کو دق ہو اور مجھے اس کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑے۔ یہ کام کوئی مشکل نہیں تھا اس لیے کہ میرے کئی دوست جے جے ہسپتال میں کام کرتے تھے۔ میں ان میں کسی ایک سے بھی کہہ دُوں کہ اس معذور عورت کو داخل کر لو تو وہ کبھی انکار نہ کریں گے۔ میں کافی دیر تک نہاتا اور اس عورت کے متعلق سوچتا رہا۔ عورتوں سے ملتے ہوئے بڑی اُلجھن محسوس ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک جگہ نکاح تو کر لیا لیکن ڈیڑھ برس تک یہی سوچتا رہا کہ اُسے اگر اپنے گھر لے آؤں تو کیا ہو گا؟‘‘

جو ہونا تھا وہ تو خیر ہو ہی جاتا اگر سب سے بڑا مسئلہ جو مجھے پریشان کیے ہوئے تھا یہ تھا کہ جس نے ساری زندگی میں کسی عورت کی قربت حاصل نہیں کی تھی اپنی بیوی سے کس طرح پیش آتا۔ اب ایک عورت ساتھ والے کمرے میں بیٹھی میرا انتظار کررہی تھی اور میں ڈونگے پہ ڈونگے بھر کے اپنے بدن پر بیکار ڈال رہا تھا میں اصل میں خود کو اس عورت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار کررہا تھا۔ کافی دیر نہانے کے بعد میں غسل خانے سے باہر نکلا۔ کمرے میں جا کر کپڑے تبدیل کیے۔ بالوں میں تیل لگایا۔ کنگھی کی اور سوچتے سوچتے پلنگ پر لیٹ گیا۔ چندلمحات کے بعدرحیم آیا اور اُس نے مجھ سے کہا

’’وہ عورت پوچھتی ہے کہ آپ کب فارغ ہوں گے؟‘‘

میں نے رحیم سے کہا

’’ان سے کہہ دو بس پانچ منٹ میں آتے ہیں۔ کپڑے تبدیل کر رہے ہیں‘‘

رحیم

’’جی اچھا‘‘

کہہ کر چلا گیا۔ میں نے سوچا کہ اب اور زیادہ سوچنا فضول ہے۔ چلو اُس سے مل ہی لیں۔ اتنی خط و کتابت ہوتی رہی ہے اور پھر وہ اتنی دُور سے ملنے آئی ہے بیمار ہے۔ انسانی شرافت کا تقاضا ہے کہ اس کی خاطر داری اوردل جوئی کی جائے۔ میں نے پلنگ پر سے اُٹھ کر سلیپر پہنے اور دوسرے کمرے میں جہاں وہ عورت تھی داخل ہوا۔ وہ برقع پہنے تھی میں سلام کر کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ مجھے اس کے بُرقعے کے سیاہ نقاب میں صرف اس کی ناک دکھائی دی جو کافی تیکھی تھی۔ میں بہت اُلجھن محسوس کر رہا تھا کہ اس سے کیا کہوں۔ بہر حال میں نے گفتگو کا آغاز کیا

’’مجھے بہت افسوس ہے کہ آپ کو اتنی دیر انتظار کرنا پڑا۔ در اصل میں اپنی عادت کی وجہ سے۔ ‘‘

اُس عورت نے میری بات کاٹ کر کہا

’’جی کوئی بات نہیں۔ آپ خواہ مخواہ تکلیف کرتے ہیں۔ میں تو انتظار کی عادی ہو چکی ہوں۔ ‘‘

میری سمجھ میں کچھ نہ آیا میں کیا کہوں۔ بس جو لفظ زبان پر آئے اُگل دیے آپ کس کا انتظار کرتی رہی ہیں اُس نے اپنے چہرے پر نقاب تھوڑی سی اُٹھائی۔ اس لیے کہ وہ اپنے ننھے سے رومال سے اپنے آنسو پونچھنا چاہتی تھی۔ آنسو پونچھنے کے بعد اُس نے مجھ سے پوچھا

’’آپ نے کیا کہا تھا مجھ سے؟‘‘

اُس کی ٹھوڑی بڑی پیاری تھی جیسے بنارسی آم کی کیسری۔ جب اس کی نقاب اُٹھی تھی تو میں نے اُس کی ایک جھلک دیکھ لی تھی۔ میں تو اس کے سوال کا جواب نہ دے سکا اس لیے کہ میں اس کی ٹھوڑی میں گم ہو گیا تھا۔ آخر اُسے ہی بولنا پڑا

’’آپ نے پوچھا تھا تم کس کا انتظار کرتی رہی ہو۔ جواب سننا چاہتے ہیں آپ؟‘‘

’’جی ہاں۔ فرمائیے۔ لیکن دیکھیے کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے قنوطیت کا اظہار ہو‘‘

اُس عورت نے اپنی نقاب اُلٹ دی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کالی بدلیوں میں چاند نکل آیا ہے۔ اس نے نیچی نگاہوں سے مجھ سے کہا

’’جانتے ہیں آپ میں کون ہوں‘‘

میں نے جواب دیا

’’جی نہیں‘‘

اُس نے کہا

’’میں آپ کی بیوی ہوں۔ جس سے آپ نے آج سے ڈیڑھ برس پہلے نکاح کیا تھا۔ میں آپ کو لکھتی رہی ہوں کہ میں بیمار ہوں۔ میں بیمار نہیں لیکن اگر آپ نے اسی طرح مجھے انتظار میں رکھا تو یقیناًمر بھی جاؤں گی۔ ‘‘

میں دوسرے روز ہی اُس کو گھر لے آیا بڑے ٹھاٹ سے۔ اب میں بہت خوش ہوں۔ یہ واقعہ مجھے میرے ایک دوست نے جو افسانہ نگار اور شاعر ہے سُنایا تھا جسے میں نے اپنے انداز میں رقم کر دیا۔ سعادت حسن منٹو ۶اکتوبر۱۹۵۴ء

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوابوں کا آبشار
  • صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز
  • تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)
  • فطرت کا گمشدہ راز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بی زمانی بیگم
پچھلی پوسٹ
چوہے دان

متعلقہ پوسٹس

یک طرفہ محبت

جنوری 5, 2022

پاکستان میں خودکش دھماکے

مارچ 16, 2022

یودھا

مئی 23, 2023

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

بچھو پھوپھی

دسمبر 12, 2019

پسند کی شادی

جنوری 4, 2022

حقیقی حفاظت

جنوری 9, 2026

دھیان بٹائے رکھنا ہے!

اگست 26, 2023

’’بچوں کے اقبال‘‘ از پروفیسر خیال آفاقی

اکتوبر 25, 2025

جنت کی تلاش

مارچ 15, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

طلوع ماہتاب

مارچ 25, 2026

رضائی

دسمبر 29, 2019

گلزارِ دل

مئی 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں