خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکچھ بدلا ؟
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کچھ بدلا ؟

ایک اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2014
از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2014 0 تبصرے 331 مناظر
332

کچھ بدلا ؟

کتے اور ہندوستانی اندر نہیں آسکتے !برطانیہ کی غلامی کے دنوں میں یہ نوٹس انگریز لگاکر ہندوستانیوں سے ( آج کے انڈین ، پاکستانی اور بنگالی ) اپنی نفرت اور حقارت کا اظہارکرتے تھے ۔ اور انکی یہ کھلم کھلا نفرت غلاموں کے دلوں میں جذبہء بغاوت بھڑکاتی تھی ۔ غلام ملک کے یہ شہری جب کینڈا اور سان فارنسسکو پہنچے تو وہاں بھی ان کے ساتھ نسلی تعصب کا برتاؤ کیا گیا ۔ اس رویے کے خلاف غدر اخبار اور پھر غدر تحریک چلی ۔سنگا پور میں آباد ایک ہندوستانی بابا گردیت سنگھ نے ایک بحری جہاز کاما گاٹا مارو کرایے پر لیا اور سنگا پور اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہندوستانیوں کو لے کر وینکور کینڈا پہنچا ۔وہاں کی انگریز سرکار نے جہاز کو داخل نہیں ہونے دیا۔دو ہفتے تک مذاکرات ہوتے رہے ، ناکامی کی صورت وہ جہاز 29ستمبر1914کو کلکتہ پہنچا ۔اس دوران برطانوی خفیہ پولیس نے اس کے مسافروں کو خطرناک انقلابی قرار دیا ۔ان مسافروں نے جو پہلے ہی اتنی ذلت اٹھا کر آئے تھے کلکتہ کی سڑکوں پر اس رویے کے خلاف جلوس نکالا اور ہندوستان ہی کی سر زمین پر ہندوستانیوں پر فائرنگ کی گئی اور اٹھارہ مسافر مارے گئے ۔ اس ہولناک واقعے کے بعدکرتار سنگھ بھی اور کئی لوگوں کے ساتھ غدر پارٹی میں کام کرنے کے لئے سان فرانسسکو چلا گیا ۔ اور جب وہ واپس آیا تو اسے “لاہور سازش کیس “کے تحت گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا ۔کرتار سنگھ کا عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے بیان تھا “اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور ناانصافی پر قائم ہے ۔اس نے لندن میں پھانسی کی سزا پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا کہ
“جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے ، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہوتا ہے “۔
کرتار سنگھ کو بیان بدلنے کے لئے کہا گیا لیکن اس نے انکار کر دیا ۔اسے 16 نومبر 1915کو صرف 19سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی اس نے پھانسی پر جانے سے پہلے کہا تھا کہ :
“میری آرزوصرف اتنی ہے کہ میرا ملک آزاد ہوجائے ۔میں نے جو کچھ بھی کیا ،اس کا مقصد یہی تھا ۔ میں نے کبھی کسی شخص، ملک ،مذہب یا طبقے سے متعلق نفرت کا اظہار نہیں کیا ۔میری صرف ایک تمنا ہے ۔۔۔۔آزادی ۔
یہ آرزو تنگ دلی اور تنگ نظری سے بہت اونچی تھی ۔ ا سکا نہ کوئی مذہب تھا نہ عقیدہ نہ فرقہ اور یہ کسی بھی سرمایہ دار اور دکاندار کی وقتی مصالحت سے مبرا ،مکمل بہادری اور بے غرضی کا نمونہ تھی ۔
آج جب شیخ رشید کا بیان پڑھا کہ مجھے پاکستان ائیر لائنیز سے اتار لیا گیا ہے،جب وہ کینڈا جانے کے لئے اس میں سوار ہوئے تھے اور یہ آذاد پاکستان کے ائیر پورٹ پر ہوا اور وجہ پوچھنے پر امریکہ کا حکم نامہ دکھایا گیا جس میں وہ شخص امریکی سپیس پر سے نہیں اڑ سکتا ۔۔پتہ نہیں کیوں “ہندوستانی اور کتوں کا داخلہ ممنوع والا “کئی دہائیوں پرانا نوٹس یاد آگیا ۔ کرتار سنگھ نے جس غیر ملکی سنگنی سے اپنے ہم وطنوں کو بچانے کے لئے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال لیا تھا ۔ وہ سنگنی آج بھی اپنی گردن پر ہی محسوس ہوئی ۔ کاماگاٹا مارو آج بھی شائد وہیں کھڑا اپنے حقوق کے لئے مذاکرات کر رہا ہے ۔
1925میں کاکوری ریلوے سٹیشن پر انقلابیوں نے روکا ، سرکاری تجوری توڑی اور اس میں سے 4679روپے نکالے ۔وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور بہت سے انقلابی پکڑے گئے ۔29پر مقدمے درج ہوئے ۔ایک سال مقدمہ بلکہ تماشا چلا اور چار نوجوانوں ،رام پرساد بسمل ،اشفاق اللہ خان ،روشن سنگھ اور راجندر ناتھ کو پھانسی کی سزا دی گئی ۔اشفاق خان کو فیض آباد جیل میں 18دسمبر 1927پھانسی دی گئی تو اس کی گردن پر قران پاک بندھا ہواتھا ۔وہ شاعر بھی تھا پھانسی سے پہلے اس نے یہ شعر پڑھا :
کچھ آرزو نہیں ہے،ہے آرزو تو یہ
رکھ دے کوئی ذرا سی خاکِ وطن کفن میں
پتہ نہیں کون سا وطن تھا جس کے لئے یہ سب نوجوان انقلابی جان سے گئے ۔ان لوگوں نے اپنے بدن کی موم بتی بنا لی تھی اور اسے پل پل جلاتے تھے ۔ مساوی حقوق اور سر اٹھا کر جینے کی بات کی اور موت کو بھی گلے لگانے سے گریز نہ کیا ۔ کیسی تاریک راہیں تھیں جن میں یہ سب لوگ بغیر ذات پات کا جھگڑا کھڑا کئے مارے گئے ۔۔ ایسی تاریک راہیں جو ان کی جان کی قربانیوں سے بھی روشن نہ ہوسکیں ۔
اشفاق اللہ خان آج ہوتا تو شائد کشمیری مسلمان دہشت گرد ہوتا ۔ جو اس کے آذاد ہندوستان میں پاکستان کی جیت پر خوشی سے بھنگڑا ڈالنے پر یو نیورسٹی سے نکالا جا چکا ہوتا ۔ جو پھر سڑکوں پر انڈین پولیس اور آرمی کے ہاتھوں اسی طرح پٹ رہا ہوتا ۔جیسے سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے پر لالہ لاجپت رائے کو انگریزایس پی نے لاٹھیاں مار مار کے مار دیا تھا۔ 1928کو نہ سہی آج کی کسی بھی تاریخ میں کسی بھی مقام پر چاہے وہ پاکستان ہو ، انڈیا ہو یا بنگلہ دیش ہو ۔۔عام آدمی کی حقوق کی بات کرنے پر کہیں بھی ایسی موت پا سکتا ہے ۔
جیتندر ناتھ داس کی حالت بگڑتی جارہی تھی ۔اس کے سب انقلابی ساتھی جیل میں اس عظیم بھوک ہڑتال کے بدلے اپنے ساتھی کی اس حالت کو دیکھ کر پریشان تھے ۔بھگت سنگھ جس نے خود بھی پھانسی پر لٹک جانا تھا مگر یہ سب لوگ ،یہ سب جنگی قیدی ( برطانوی حکومت کے مطابق ) قیدیوں سے بعدتر سلوک کی بنا پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے ۔ یہ وہ منفرد انقلابی تھے جنہوں نے اپنی جان پر تشدد کیا اور اپنی ہی جان کے بدلے انصاف اور معاشی استحصال کے خلاف جنگ لڑی ۔ سامراج کی جیل ہو یا عدالت انہوں نے ان جگہوں کو اپناپلیٹ فارم بنا کر عام آدمی کے لئے آواز اٹھائی ۔ جس اسمبلی میں انہوں نے “سامراج کے بہرے کانوں” کو اپنی آواز سنانے کے لئے بم کا دھماکہ کیا ( اس احتیاط سے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور خود ہی گرفتاری پیش کی ) ۔اسی دلی مرکزی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے محمد علی جناح نے کہا تھا “بھوک ہڑتال سے مرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔آپ آزما کر دیکھئے ۔آپ کو معلوم ہوجائے گا ۔بھوک ہڑتالی کا بھی ضمیر ہے ۔وہ اس ضمیر سے متاثر ہوتا ہے اور اپنے مقصد کے حق بجانب ہونے پر اعتبار کرتا ہے “۔
ایم آر جیکار جتندر کے آخری لمحوں کو یاد کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔
“وہ آہستہ آہستہ مرا ۔لمحہ بہ لمحہ ۔خوراک کی کمی سے ایک ہاتھ مفلوج ہوا ۔پھر کھانا نہ ملنے سے دوسرا ہاتھ بے کار ہوگیا ۔ایک پیر مفلوج ہوا ،پھر دوسرا پیر ۔اور قدرت کا آخری قیمتی تحفہ۔۔آنکھوں کی روشنی چلی گئی ۔ان آنکھوں کی چمک دھیمے دھیمے بجھی۔گلوٹائن کی اچانک اور رحم کرنے والی موت کی طرح نہیں ،بلکہ آہستہ آہستہ جیسے فطرت تعمیر و تخریب کرتی ہے “۔
جیتندر ناتھ داس کی موت ہند کی جنگِ آزادی میں ایک انقلابی بھوک ہڑتالی کی موت تھی ۔باسٹھ دن کی بھوک ہڑتال کے بعد جب داس ختم ہوگیا اور اس کی لاش لاہور جیل سے باہر لائی گئی تو جیل کے دروازے پر ہزاروں لوگ اپنے شہید بیٹے کو آخری سلام کرنے موجود تھے ۔گیتوں اور انقلابیوں کی سرزمین بنگال کا یہ بیٹا جن حقوق کی جنگ برطانوی سامراج کے ہاتھوں کرتا مارا گیا اور اس امید سے کہ آنے والی نسلیں وہ تعفن ، وہ گھٹن وہ نا انصافی نہ دیکھ سکیں ۔۔آج جینتدر ڈھاکہ سٹیڈیم میں پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں تھامے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ یا آسٹریلیا کے خلاف buck upکر رہا ہوتا تو اس بنگلہ دیش کی حکومت کا حکم نامہ اس کے ہاتھ میں بھی پہنچ گیا ہوتا کہ کسی بھی اور ملک کا جھنڈا بنگلہ دیش کے سٹیڈیم میں لہرانا منع ہے ۔
23اپریل1930کوقصہ خوانی بازار میں بے گناہوں پر گولی چلانے والے انگریز کرنل کو جب ایک نوجوان حبیب نور نے اس کی کوٹھی پر جا کر اسے گولی کا نشانہ بنایا ،وہیں پکڑا گیا ،اسی دن مقدمہ چلا اور اسی شام اسے چونے کی ایک بھٹی میں گرم پانی میں ڈال کر بھسم کر دیا گیا ۔بھگت سنگھ نے اپنی سکھ دیو اور راج گرو کی پھانسی کے لئے صرف یہ التجا کی تھی کہ ہمیں پھانسی نہ دی جائے بلکہ ہم جنگی قیدی ہیں ہمیں گولی سے اڑایا جائے ۔ یہ درخواست تب بھی قبول نہیں ہوئی تھی ۔اور یہ التجا آج بھی قبول نہیں ہورہی ۔اس خطے کے غریب عوام کو سہل اور اچانک موت نہیں دی جارہی بلکہ ان کی گردنوں میں غربت ، مہنگائی اور ناانصافی کا پھندا تنگ کیا جارہا ہے ۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • افغان باقی کہسار باقی
  • بادشاہ چیل
  • زندگی زندہ دلی کا نام ہے
  • افسانہ حسن ِ نظر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ ہے شریعت
پچھلی پوسٹ
کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے

متعلقہ پوسٹس

ٹین کے آدمی

نومبر 28, 2020

آلو

اپریل 6, 2020

الجھن

نومبر 15, 2019

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

سینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری

دسمبر 12, 2025

خلیل جبران اور آج کا پاکستان

دسمبر 4, 2019

روشن ستارہ

جون 28, 2020

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

کرونا: کہیں عید کا سماں کہیں شام ِغریباں!

مئی 13, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہمیں مزید تبدیلی نہیں چاہیے

جنوری 2, 2022

ساگر

اکتوبر 14, 2025

بے کاری

دسمبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں