خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےاندھیر
اردو افسانےاردو تحاریرمنشی پریم چند

اندھیر

افسانہ از منشی پریم چند

از سائیٹ ایڈمن نومبر 10, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 10, 2019 0 تبصرے 499 مناظر
500

اندھیر

ناگ پنچمی آئی، ساٹھے کے زندہ دل نوجوانوں نے خوش رنگ جانگھیے بنوائے اکھاڑے میں ڈھول کی مرد انہ صدائیں بلند ہوئیں قرب و جوار کے زور آزما اکھٹے ہوئے اور اکھاڑے پر تمبولیوں نے اپنی دکانیں سجائیں کیوں کی آج زور آزمائی اور دوستانہ مقابلے کا دن ہے عورتوں نے گوبر سے اپنے آنگن لیپے اور گاتی بجاتی کٹوروں میں دودھ چاول لیے ناگ پوجنے چلیں۔

ساٹھے اور پاٹھے دو ملحق موضع تھے دونوں گنگا کے کنارے، زراعت میں زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی تھی اس لیے آپس میں فوج داریوں کی گرم بازاری تھی۔ ازل سے ان کے درمیان رقابت چلی آتی تھی۔ ساٹھے والوں کو یہ زعم تھا کہ انھوں نے پاٹھے والوں کو کبھی سر نہ اٹھانے دیا۔ علی ہذاپاٹھے والے اپنے رقیبوں کو زک دینا ہی زندگی کا مقدم کام سمجھتے تھے۔ ان کی تاریخ فتوحات کی روایتوں سے بھری ہوئی تھی پاٹھے کے چرواہے گیت گاتے ہوئے چلتے تھے۔

ساٹھے والے کایر سگرے

پاٹھے والے ہیں سردار

اور ساٹھے کے دھوبی گاتے:

ساٹھے والے ساٹھ ہاتھ کے جن کے ہاتھ سداتروار

ان لوگن کے جنم نسائے جن پاٹھے مان لیں اوتار

غرض رقابت کا یہ جوش بچوں میں ماں کے ساتھ داخل ہوتا تھا اور ان کے اظہار کا سب سے موزوں اور تاریخی موقع یہی ناگ پنچمی کا دن تھا۔ اس دن کے لیے سال بھر تیاریاں ہوتی رہتی تھیں۔ آج ان معرکے کی کشتی ہونے والی تھی ساٹھے کو گوپال پر ناز تھا ۔پاٹھے کو بلدیو کا غرّہ۔ دونوں سورما اپنے اپنے فریق کی دعائیں اور آرزو ئیں لیے ہوئے اکھاڑے میں اترے۔

تماشائیوں پر مرکزی کشش کا اثرہوا ۔موضع کے چوکیداروں نے لٹھ اور ڈنڈوں کا یہ جمگھٹ دیکھا اور مردوں کی انگار ے کی طرح لال آنکھیں تو تجربۂ سابقہ کی بنا پر بے پتّہ ہوگئے۔ ادھر اکھاڑے میں داؤں پیچ ہوتے رہے بلدیو الجھتا تھا گوپال پنیترے بدلتا تھا اسے اپنی طاقت کا زعم تھا اسے اپنے کرتب کا بھروسہ۔ کچھ دیر تک اکھاڑے سے خم ٹھوکنے کی آوازیں آتی رہیں تب یکایک بہت سے آدمی خوشی کے نعرے مارمار کر اچھلنے لگے کپڑے اور برتن اور پیسے اور بتاشے لٹائے جانے لگے کسی نے اپنا پرانا صافہ پھینکا کسی نے اپنی بوسیدہ ٹوپی ہوا میں اڑادی۔ ساٹھے کے منچلے جوان اکھاڑے میں پل پڑے اور گوپال کو گود میں اٹھالائے ۔بلدیو اور اس کے رقیبوں نے گوپال کو لہو کی آنکھوں سے دیکھا اور دانت پیس کر رہ گئے۔ دس بجے رات کا وقت اور ساون کا مہینہ آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ۔تاریکی کایہ عالم تھا گویا روشنی کا وجود ہی نہیں رہا۔ کبھی کبھی بجلی چمکتی تھی مگر تاریکی کو اورزیادہ تاریک کرنے کے لیے مینڈکوں کی آواز زندگی کا پتہ دیتی تھی ورنہ چاروں طرف موت تھی خاموش خوفناک اور متین ۔ساٹھے کے جھونپڑے اور مکانات اس اندھیرے میں بہت غور سے دیکھنے پر کالی بھیڑوں کی طرح نظر آتے تھے۔ نہ بچے روتے تھے نہ عورتیں گاتی تھیں پیران پارسارام نام بھی نہ جپتے تھے۔

مگر آبادی سے بہت دور کہیں پر شورنالوں اور ڈھاک کے جنگلوں سے گذر کر جوار اور باجرے کے کھیت تھے اور ان کی مینڈوں پر ساٹھے کے کسان جابجا منڈیا ڈالے ہوئے کھیتوں کی رکھوالی کررہے تھے۔ تلے زمین اوپر تاریکی میلوں تک سنّاٹا چھایا ہوا کہیں جنگلی سوروں کے غول، کہیں نیل گایوں کے ریوڑ۔ چلم کے سوا کوئی ساتھی نہیں آگ کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ ذراکھٹکا ہوا اور چونک پڑے ۔تاریکی خوف کا دوسرا نام ہے۔

جب ایک مٹّی کا ڈھیر،ایک ٹھونٹھا درخت اور ایک تودۂ کاہ بھی متحرک اور حساس بن جاتے ہیں تاریکی ان میں جان ڈال دیتی ہے۔ لیکن یہ مضبوط ارادے والے کسان ہیں کہ یہ سب سختیاں جھیلتے ہیں تاکہ اپنے سے زیادہ خوش نصیب بھائیوں کے لیے عیش اور تکلف کے سامان بہم پہنچائیں انھیں رکھوالوں میں آج کا ہیرو ساٹھے کا مایہ ناز گوپال بھی ہے جو اپنی منڈیّا میں بیٹھاہوا ہے اور نیند کو بھگانے کے لیے دھیرے سروں میں یہ نغمہ گارہا ہے۔

میں توتو سے نینا لگائے پچھتائی رے

دفعتاً اسے کسی کے پاؤں کی آہٹ معلوم ہوئی جیسے ہرن کتوں کی آوازوں کو کان لگا کر سنتا ہے اسی طرح گوپال نے بھی کان لگا کر سنا۔ نیند کی غنودگی دور ہوگئی لٹھ کندھے پر رکھا اور منڈیّا سے باہر نکل آیا چاروں طرف سیاہی چھائی ہوئی تھی اور ہلکی ہلکی بوندیں پڑرہی تھیں وہ باہر نکلا ہی تھا کہ اس کے سر پر لاٹھی کا بھر پور ہاتھ پڑا وہ تیوراکرگرا۔ اور رات بھروہیں بے سدھ پڑا رہا ۔معلوم نہیں اس پر کتنی چوٹیں پڑیں ،حملہ آوروں نے تو اپنی دانست میں اس کا کام تمام کر ڈالا لیکن حیات باقی تھی یہ پاٹھے کے غیرت مند لوگ تھے جنھوں نے اندھیرے کی آڑ میں اپنی ہار کا بدلہ لیا تھا۔

گوپال ذات کا اہیر تھا نہ پڑھا نہ لکھا بالکل اکھڑ دماغ ۔روشن ہی نہیں ہوا تو شمع جسم کیوں کھلتی پورے چھ فٹ کا قد گٹھا ہوابدن للکار کر گاتا تو سننے والے میل بھر پر بیٹھے ہوئے اس کی تانوں کا مزہ لیتے۔

گانے بجانے کا عاشق ہولی کے دنوں میں مہینہ بھر تک گاتا ساون میں ملہار، اور بھجن تو روزمرہ کا شغل تھا۔ نڈر ایسا کہ بھوت اور پشاچ کے وجود پر اسے عالمانہ شکوک تھے۔ لیکن جس طرح شیر اور پلنگ بھی سرخ شعلوں سے ڈرتے ہیں اسی طرح سرخ صافے سے اس کی روح لرزاں ہوجاتی تھی۔

اگر چہ ساٹھے جیسے جوان ہمّت ورسورما کے لیے یہ بے معنی خوف غیر معمولی بات تھی لیکن اس کا کچھ بس نہ تھا سپاہی کی وہ خوفناک تصویر جو بچپن میں اس کے دل پر کھینچی گئی تھی نقش کالحجر بن گئی تھی شرارتیں گئیں،بچپن گیا، مٹھائی کی بھوک گئی لیکن سپاہی کی تصویر ابھی تک قائم تھی آج اس کے دروازے پر سُرخ صافے والوں کی ایک فوج جمع تھی لیکن گوپال زخموں سے چور درد سے چور، درد سے بے تاب ہونے پر بھی اپنے مکان کے ایک تاریک گوشے میں چھپا ہوا بیٹھا تھا۔ نمبردار اور مکھیا، پٹواری اور چوکیدار مرغوب انداز سے کھڑے داروغہ کی خوشامد کررہے تھے۔ کہیں اہیر کی داد فریاد سنائی دیتی تھی کہیں مودی کی گریہ وزاری، کہیں تیلی کی چیخ پکار ،کہیں قصاب کی آنکھوں سے لہو جاری ، کلارکھڑااپنی قسمتوں کو رورہا تھا۔ فحش اور مغلظات کی گرم بازاری تھی داروغہ جی نہایت کارگذر افسر تھے گالیوں سے بات چیت کرتے تھے ۔صبح کو چار پائی سے اٹھتے ہی گالیوں کا وظیفہ پڑھتے مہتر نے آکر فریاد کی ہجورانڈے نہیں ہیں۔ داروغہ جی ہنٹر لے کر دوڑے اور اس غریب کا بھرکس نکال دیا ۔سارے گاؤں میں ہل چل پڑی ہوئی تھی ۔کانسٹبل اور چوکیدار راستوں پر یوں اکڑتے چلتے تھے گویا اپنی سسرال میں آئے ہیں۔ جب گاؤں کے سارے آدمی آگئے تو داروغہ جی نے افسرانہ اور اندازِتحکم سے فرمایا، ’’موضع میں ایسی سنگین واردات ہوئی اور اس بد قسمت گوپال نے رپٹ تک نہ کی۔‘‘

مکھیا صاحب بیدلرزاں کی طرح کانپتے ہوئے بولے، ’’ہجور اب ماپھی دی جائے۔‘‘

داروغہ جی نے غضب ناک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ کر کہا یہ اس کی شرارت ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ اخفا ء جرم ارتکابِ جرم کے برابر ہے۔ میں اس بدمعاش کو اس کو مزہ چکھادوں گا وہ اپنی طاقت کے زعم میں پھولا ہوا ہے اور کوئی بات نہیں ۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

مکھیا صاحب سربہ سجود ہوکر بولے۔’’ہجور اب ماپھی دی جائے۔‘‘

داروغہ جی چیں بہ چیں ہوگئے اور جھنجھلا کر بولے ۔’’ارے ہجور کے بچے کچھ سٹھیا تو نہیں گیا ہے اگر کسی طرح معافی دینی ہوتی تو مجھے کیا کتّے نے کاٹا تھا کہ یہاں تک دوڑآتا؟ نہ کوئی معاملہ نہ معاملے کی بات بس معافی کی رٹ لگا رکھی ہے۔ مجھے زیادہ فرصت نہیں ہے میں نماز پڑھتا ہوں جب تک تم صلاح مشورہ کرلواور مجھے ہنسی خوشی رخصت کرو ورنہ غوث خاں کو جانتے ہو اس کا مارا پانی بھی نہیں مانگتا۔

داروغہ تقویٰ و طہارت کے بڑے پابند تھے پانچوں وقت کی نماز پڑھتے اور تیسوں روزے رکھتے عیدوں میں دھوم دھام سے قربانیاں ہوتیں اس سے زیادہ حسنِ ارادت کسی انسان میں اور کیا ہو سکتا ہے۔

مکھیا صاحب دبے پاؤں رازدارانہ انداز سے گور اکے پاس آئے اور بولے، ’’یہ دروگا بڑا کاپھر ہے پچاس سے نیچے تو بات ہی نہیں کرتا درجہ اوّل کا تھانیدار ہے میں نے بہت کہا ، ہجور غریب آدمی ہے گھرمیں کچھ سبھیتا نہیں ۔ مگر وہ ایک نہیں سنتا۔‘‘

گورا نے گھونگھٹ میں منہ چھپا کر کہا، ’’داداا ن کی جان بچ جائے کوئی طرح کی آنچ نہ آنے پائے روپے پیسے کی کون بات ہے اسی دن کے لیے تو کمایا جاتا ہے۔‘‘

گوپال کھاٹ پر پڑا یہ سب باتیں سن رہا تھا اب اس سے ضبط نہ ہو سکا لکڑی گانٹھ پر ٹوٹتی ہے۔ نا کردہ گناہ دبتاہے مگر کچلا نہیں جا سکتا ۔وہ جوش سے اٹھ بیٹھا اور بولا پچاس روپے کی کون کہے میں پچاس کوڑیاں بھی نہ دوں گا کوئی گدر (غدر) ہے میں نے کسور (قصور) کیا کیا ہےِ۔ مکھیا کا چہرہ فق ہوگیا بزرگانہ لہجے میں بولے رسان رسان (آہستہ آہستہ) بولو۔ کہیں سن لے تو گجب ہوجائے گا۔ لیکن گوپال بپھراہوا تھا اکڑ کر بولا، ’’میں ایک کوڑی نہ دوں گا دیکھیں کون میرے پھانسی لگا دیتا ہے۔‘‘

گورا نے ملامت آمیز لہجے میں کہا، ’’اچھا جب میں تم سے روپے مانگوں تو مت دینا۔‘‘ یہ کہہ کر گورا نے جو اس وقت لونڈی کی بجائے رانی بنی ہوئی تھی چھپّر کے ایک کونے میں سے روپیوں کی ایک پوٹلی نکالی اور مکھیا کے ہاتھ میں رکھ دی۔ گوپال دانت پیس کر اٹھا لیکن مکھیا صاحب فوراًسے پہلے سرک گئے۔داروغہ جی نے گوپال کی باتیں سن لی تھیں اور دُعا کررہے تھے کہ اے خدا اس مردوو شقی کی تالیفِ قلب کر۔ اتنے میں مکھیا نے باہر آکر پچیس روپے کی پوٹلی دکھائی پچیس راستے ہی میں غائب ہوگئے تھے۔

داروغہ جی نے خدا کا شکر ادا کیا دعا مستجاب ہوئی، روپیہ جیب میں رکھا اور رسد پہنچانے والوں کے انبوہ کثیر کوروتے اور بلبلاتے چھوڑ کرہوا ہوگئے۔ موذی کا گلا گھٹ گیا، قصاب کے گلے پر چھری پھر گئی ،تیلی پس گیا، مکھیا صاحب نے گوپال کی گردن پر احسان رکھا گویا رسد کے دام گرہ سے دئیے گاؤں میں سرخ رو ہوگئے وقار بڑھ گیا ادھر گوپال نے گورا کی خوب خبر لی۔گاؤں میں رات بھر یہی چرچا رہا گوپال بہت بچا اور اس کا سہرا مکھیا کے سر تھا۔بلائے عظیم آئی تھی وہ ٹل گئی۔ پتروں نے ،دیوان ہرودل نے ،نیم تلے والی دیبی نے ،تالاب کے کنارے والی ستی نے، گوپال کی رکھشاکی یہ انھیں کا پرتاپ تھا ۔دیوی کی پوجا ہونی ضروری تھی ستیہ نارائن کی کتھا بھی لازمی ہوگئی۔

پھر صبح ہوئی لیکن گوپال کے دروازے پر آج سرخ پگڑیوں کے بجائے لال ساڑیوں کا جمگھٹ تھا۔ گورا آج دیوی کی پوجا کرنے جاتی تھی اور گاؤں کی عورتیں اس کا ساتھ دینے آئی تھیں اس کا گھرسوندھی مٹی کی خوشبو سے مہک رہا تھا جوخس اور گلاب سے کم دل آویز نہ تھی۔ عورتیں سہانے گیت گارہی تھیں۔ بچے خوش ہوہو کر دوڑتے تھے۔ دیوی کے چبوترے پر اس نے مٹی کا ہاتھی چڑھایا ستی کی مانگ میں سیندور ڈالا۔دیوان صاحب کو بتاشے اور حلوا کھلایا۔ ہنومان جی کو لڈو سے زیادہ رغبت ہے انھیں لڈو چڑھائے ۔تب گاتی بجاتی گھر کو آئی اور ستیہ نارائن کی کتھا کی تیاریاں ہونے لگیں۔مالن پھول کے ہار، کیلے کی شاخیں اور بندھن واریں لائی۔ کمہار نئے نئے چراغ اور ہانڈیاں دے گیا۔ باری ہرے ڈھاک کے تیل اور دونے رکھ گیا۔کمہار نے آکر مٹکوں میں پانی بھرا۔ بڑھئی نے آکر گوپال اور گورا کے لیے دونئی نئی پیڑھیاں بنائیں۔ نائن نے آنگن لیپا اور چوک بنائی دروازے پر بندھن واریں بندھ گئیں۔ آنگن میں کیلے کی شاخیں گڑ گئیں۔ پنڈت جی کے لیے سنگھاسن سج گیا۔ فرائض باہمی کا نظام خود بخود اپنے مقررہ دائرے پر چلنے لگا۔ یہی نظام تمدن ہے جس نے دیہات کی زندگی کو تکلفات سے بے نیاز بنارکھا ہے لیکن افسوس ہے کہ اب ادنی اور اعلیٰ کے بے معنی اور بیہودہ قیود نے ان باہمی فرائض کو امداد حسنہ کے رتبے سے ہٹا کر ان پرذلّت اور نیچے پن کا داغ لگادیا ہے۔ شام ہوئی پنڈت موٹے رام جی نے کندھے پرجھولی ڈالی، ہاتھ میں سنکھ لیا اور کھڑاؤں کھٹ پٹ کرتے گوپال کے گھر آپہنچے ۔آنگن میں ٹاٹ بچھا ہوا تھا گاؤں کے معززین کتھا سننے کے لیے آبیٹھے۔ گھنٹی بجی سنکھ پھوکا گیا اور کتھا شروع ہوئی۔ گوپال بھی گاڑھے کی چادر اوڑھے ایک کونے میں دیوار کے آسرے بیٹھا ہوا تھا۔مکھیا،نمبردار اور پٹواری نے ازراہ ہمدردی اس سے کہا، ’’ستیہ نارائن کی مہما تھی کہ تم پر کوئی آنچ نہ آئی۔‘‘

گوپال نے انگڑائی لے کر کہا ستیہ نارائن کی مہما نہیں یہ اندھیرہے۔

منشی پریم چند

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پُھولوں کی سازش
  • موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
  • سمرقند و بخارا اور آکسفورڈ
  • اُس روز مدینہ بھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں
پچھلی پوسٹ
انقلاب پسند

متعلقہ پوسٹس

گاف گُم

جنوری 13, 2020

جج صاحب سیاست میں

نومبر 15, 2025

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

سوچ کی غلامی

اگست 24, 2025

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

عربی زبان

مارچ 13, 2025

جوڑوں کا درد

ستمبر 18, 2025

کیپٹن۔عباس خان شہید

فروری 13, 2026

اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے

مارچ 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

فقیروں کی پہاڑی

جنوری 13, 2020

آنکھ میں مقدارِ خوش بینی زیادہ...

جون 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں