خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاموہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026 0 تبصرے 62 مناظر
63

شہر کی ایک خاموش گلی میں ایک وسیع گھر تھا۔ اس گھر کی کھڑکیاں بڑی تھیں مگر دل کی ایک کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ اس گھر کا مالک حارث تھا۔ لوگ اسے دولت مند کہتے تھے مگر گلی کے بچے اسے "بابا درخت” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی جیب میں ہمیشہ ٹافیاں ہوتیں۔ ہاتھ میں کبھی کتاب ہوتی اور کبھی رنگ برنگی پتنگ۔ وہ بچوں کو دیکھتا تو اس کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھتا جیسے صبح کی پہلی کِرن شبنم سے لِپٹے پھول کو جگا دے۔
لیکن اس کے دل میں ایک خاموش خلا تھا۔
وہ بےاولاد تھا۔
ہر رات یہ خلا اس کے سینے میں کنویں کی طرح گہرا ہوتا جاتا۔ ایک دن اس نے خود سے کہا۔
"میں دوسروں کے بچوں پر اپنا دل کیوں لٹاؤں۔ اگر اللہ نے مجھے اولاد عطا کی تو میری محبت صرف اسی کی امانت ہوگی۔”
یہ خیال پہلے ایک بیج تھا۔ پھر جھاڑی بنا۔ پھر ایک ایسا درخت جس کی کانٹوں بھری شاخوں نے اس کے دل کو ہی لپیٹ لیا۔
اگلے دن سے اس نے دروازہ بند کر دیا۔
گلی کے بچے آئے۔
کسی نے آواز دی۔
کسی نے دستک دی۔
کسی نے دیوار کے اس پار سے کہا۔
"بابا درخت۔ آج باہر نہیں آئیں گے؟”
مگر اندر خاموشی نے لب سی لیے تھے۔
رفتہ رفتہ بچوں کے قدم دوسری گلیوں کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔
جہاں کبھی قہقہوں کی ندیاں بہتی تھیں وہاں اب سناٹے نے خیمہ گاڑ دیا۔
حارث کے پاس سب کچھ تھا۔
سونے کے سکے۔
قیمتی قالین۔
بڑے بڑے کمرے۔
مگر خوشی کا پرندہ پنجرہ توڑ کر اُڑ چکا تھا۔
وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔
ایک دن بیماری آندھی کی طرح اس پر ٹوٹ پڑی۔
اس کا جسم خزاں رسیدہ درخت بن گیا۔
گھر کی دیواروں پر اداسی کائی کی طرح جم گئی۔
بیماری بڑھتی گئی۔
بدن سے ایسی ناگوار بو آنے لگی کہ اپنے بھی بیگانے ہو گئے۔
اس کی بیوی بھی بےبس ہو کر رخصت ہوگئی۔
اب اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے مگر پانی پلانے والا کوئی نہ تھا۔
سونے کے سکے اس کی پیشانی کا پسینہ نہ پونچھ سکے۔
قیمتی فرنیچر اس کی آہیں نہ سُن سکا۔
اس رات بارش ہو رہی تھی۔
کھڑکی سے چند بوندیں اندر آئیں اور اس کے ہاتھ پر گِریں۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اس سے بات کر رہا ہو۔
اس کے دل میں ایک روشنی جاگی۔
وہ ہچکیوں کے درمیان بولا۔
"اے میرے رب۔
میں نے تیری حِکمت کو اپنی خواہش کے ترازو میں تولنا چاہا۔
میں ایک چراغ کا منتظر رہا جبکہ تو نے میرے لیے پورا آسمان ستاروں سے بھر رکھا تھا۔
یہ بچے میرے نہیں تھے مگر ان کی مسکراہٹیں میری روزی تھیں۔
میں نے اپنے ہاتھ بند کیے تو میری قسمت بھی بند ہوگئی۔”
وہ دیر تک سجدے میں روتا رہا۔
اس کے آنسو پتھر دل زمین پر پڑنے والی پہلی بارش تھے۔
اگلی صبح ایک ننھا بچہ دروازے پر آیا۔
اس کے ہاتھ میں چند جنگلی پھول تھے۔
وہ بولا:
"بابا درخت۔ آپ بیمار ہیں نا۔ یہ پھول آپ کے لیے ہیں۔”
پھر ایک بچی آئی۔
اس نے پانی کا گلاس رکھا۔
پھر ایک اور بچہ آیا۔
اس نے قرآن کی چند آیات پڑھیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورا صحن بچوں سے بھر گیا۔
کوئی دُعا لایا۔
کوئی سوپ لایا۔
کوئی صرف اپنی مُسکراہٹ لے آیا۔
یوں لگتا تھا جیسے بہار نے خزاں کے سینے میں دوبارہ سانس بھر دی ہو۔
چند ہی ہفتوں میں بیماری کا اندھیرا چھٹنے لگا۔
حارث سمجھ گیا کہ محبت وہ دوا ہے جس کا نسخہ کسی حکیم کے پاس نہیں۔
اس دن کے بعد اس نے اپنی دولت کو تالوں میں بند نہیں رکھا۔
وہ یتیم بچوں کی فیس دیتا۔
مسکینوں کے لیے کھانا پکواتا۔
لاوارث بچوں کے لیے کپڑے خریدتا۔
اس کے گھر کے دروازے پھر کبھی بند نہ ہوئے۔
جب اس کی زندگی کا سورج غروب ہونے لگا تو اس نے وصیت لکھی۔
"میری تمام دولت ان بچوں کی امانت ہے جنہوں نے مجھے بتایا کہ رشتے خون سے نہیں بلکہ محبت سے جنم لیتے ہیں۔”
اس کے انتقال کے بعد اہلِ محلہ نے ایک کمیٹی قائم کی۔
انہوں نے اس کی جائیداد سے ایک شیلٹر ہوم تعمیر کیا۔
دروازے پر سنگِ مرمر کی ایک تختی نصب کی گئی۔
"بابا درخت شیلٹر ہوم”
آج بھی وہاں یتیم بچوں کی ہنسی گونجتی ہے۔
کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے۔
کوئی خواب بُن رہا ہوتا ہے۔
کوئی زندگی سے دوبارہ ہاتھ ملا رہا ہوتا ہے۔
لوگ جب اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہوا میں جھومتے درختوں کو دیکھ کر کہتے ہیں۔
"جو درخت اپنا سایہ بانٹ دیتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔”
اور شاید یہی محبت کی سب سے بڑی میراث ہے۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موتیے دے پھلاں جیہا کھڑیا اے روپ
  • واپسی
  • برصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو
  • غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محفلِ مسالمہ ٹیکسلا
پچھلی پوسٹ
دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

متعلقہ پوسٹس

پیمانِ شکنی

جنوری 10, 2025

افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر

مئی 2, 2020

ووٹ کا صحیح استعمال

اپریل 3, 2022

اس میں حسن ذرا کم ادا زیادہ

جون 3, 2020

اے ایس آئی (ASI) محمد بخش بڑور!

نومبر 25, 2020

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

کسی کو ڈھونڈتے پھرنا محبت

فروری 14, 2026

یقین کامل

مئی 22, 2024

یودھا

مئی 23, 2023

23مارچ: یومِ پاکستان!

مارچ 25, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جہاں کارواں ٹھہرا تھا

مارچ 3, 2013

سوری رانگ نمبر

دسمبر 16, 2019

سایہ در غبارِ شام

فروری 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں