خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامصحافت اور بلیک میلنگ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

صحافت اور بلیک میلنگ

از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 22, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

صحافت جو کبھی (شاید کبھی) ایک پاکیزہ جذبہ، مظلوم کی آواز اور معاشرے کا آئینہ ہوا کرتی تھی، آج کل بلیک میلنگ، دشنام طرازی اور گھٹیا ترین ذہنی پستی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں صحافی بننے کے لیے علم، مطالعے، زبان پر عبور اور ایک طویل فکری تربیت کی ضرورت ہوتی تھی، مگر آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اہلیت کا معیار بالکل بدل چکا ہے۔ آج ہر وہ شخص جس کے پاس ایک سستا سا موبائل فون ہے، جس کا انٹرنیٹ پیکج فعال ہے اور جسے یوٹیوب پر چینل بنانا یا فیس بک پر لائیو آنا آتا ہے، وہ راتوں رات خود کو ارسطوِ وقت، سینیئر تجزیہ نگار اور چیف رپورٹر سمجھنے لگا ہے۔ ان نوآموز اور خود ساختہ دانشوروں کی نظر میں رائی کے برابر کوئی عام سا واقعہ بھی ایک ایسا پہاڑ بن جاتا ہے جسے اچھال کر وہ سستی شہرت اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے، ایک کالج میں بارہویں جماعت کے طالب علموں کو امتحانی رول نمبر سلپس جاری کی گئیں اور انہیں امتحانات کی تیاری کے لیے کالج سے باقاعدہ فارغ (Free) کر دیا گیا۔ برسوں کی سخت محنت اور امتحانی دباؤ سے عارضی نجات پاتے ہی بچے فرطِ جذبات میں جھوم اٹھے۔ انہوں نے کالج کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی اپنی پرانی اور استعمال شدہ کاپیوں کے چند ورق ہوا میں اچھال دیے۔ یہ ایک ایسا فطری، معصومانہ اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں دیکھا جانے والا روایتی ردعمل تھا جسے کسی بھی صورت کوئی بڑا جرم یا اخلاقی زوال نہیں گردانا جا سکتا۔ مگر بدقسمتی دیکھیے کہ اسی دوران وہاں سے چند "موبائل بردار صحافی” گزرے۔ انہوں نے فوراً کیمرے نکالے، زمین پر بکھرے کاغذوں اور نعرے لگاتے بچوں کی ویڈیو بنائی، اور چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے سیدھے پرنسپل کے دفتر میں جا دھمکے۔ وہاں بیٹھ کر وہ ایک طویل تعلیمی و انتظامی تجربہ رکھنے والے سربراہِ ادارہ کو اخلاقیات اور بچوں کی تربیت کا درس دینے لگے کہ "دیکھیے! آپ نے بچوں کو یہ تربیت دی ہے؟ ہم یہ ویڈیو ابھی سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور حکامِ بالا کو دکھا کر آپ کی جواب طلبی کروائیں گے”۔ اور پھر آخر میں… بات وہی آ کر رکی جہاں اس پورے دھندے کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے، یعنی کوئی "لو لینی دے لینی” کی جائے، کوئی مک مکا ہو، ورنہ کیمرے کی توپ کا رخ ادھر ہی رہے گا۔

رائی کے ایسے مصنوعی پہاڑ روزانہ ہمارے آس پاس کھڑے کیے جاتے ہیں۔ کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں اگر کوئی ڈاکٹر کسی حادثے کے شدید زخمی مریض کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہو، اور اسی دوران کاؤنٹر پر بیٹھا کوئی کلرک کسی مریض کی پرچی کاٹنے میں دو منٹ کی تاخیر کر دے، تو یہ صحافی ڈاکٹر کی محنت کو پسِ پشت ڈال کر کلرک پر کیمرہ تان لیتے ہیں۔ "دیکھیے جی! غریبوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، ہسپتال تباہ ہو گئے، عملہ غائب ہے، وزیرِ اعلیٰ نوٹس لیں!”۔ ان کا مقصد نظام کی اصلاح نہیں، بلکہ انتظامیہ کو خوفزدہ کر کے اپنی مفت ادویات یا ذاتی اثر و رسوخ قائم کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی سرکاری دفتر میں اگر کوئی بوڑھا کلرک شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے عالم میں پسینے سے شرابور، فائلوں کے ڈھیر میں گم، محض سستانے کے لیے دو منٹ کے لیے کرسی پر ٹیک لگا لے، تو یہ چھپ کر اس کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر ٹائٹل چلتا ہے: "سرکاری ملازمین کے عیاشی کے مناظر، غریب عوام ذلیل و خوار، افسر شاہی سو رہی ہے”۔ وہ کلمہ گو یہ نہیں سوچتا کہ اس جھوٹی سنسنی خیزی سے ایک سفید پوش انسان کی نوکری اور عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ سڑک کنارے کوئی غریب ریڑھی بان، جو تپتی دھوپ میں دو وقت کی روٹی کے لیے پیاز بیچ رہا ہو، اگر وہ اپنے ترازو کو درست کرنے کے لیے دو سیکنڈ لیتا ہے، تو یہ مائیک اس کے منہ میں ٹھونس دیتے ہیں: "بولیے! آپ عوام کو لوٹ رہے ہیں؟ انتظامیہ کہاں سو رہی ہے؟”۔ اس غریب کی غربت کا تماشا بنا کر یہ اپنے چینل کے لیے ویوز بٹورتے ہیں، مگر دوسری طرف بڑے بڑے مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے ان کے مائیک کی بیٹری اچانک ختم ہو جاتی ہے۔

پرائمری اسکولوں کا حال دیکھ لیجیے، جہاں کوئی معصوم استانی بچوں کو پڑھانے کے بعد تھکن سے چور ہو کر میز پر سر رکھ لے، یا کوئی استاد کلاس روم کا پنکھا خراب ہونے پر بچوں کو درخت کے سائے میں بٹھا کر پڑھانے لگے، تو یہ تعمیری پہلو دیکھنے کے بجائے چیخنا شروع کر دیتے ہیں: "اسکول مویشی خانہ بن گیا، بچوں کا مستقبل اندھیرے میں، ہیڈ ماسٹر معطل کیا جائے!”۔

یہ بلیک میلنگ، یہ سستی شہرت کی بھوک اور اخلاقی دیوالیہ پن اس جدید صحافت کا اصل چہرہ بن چکا ہے۔ کیمرے اور انٹرنیٹ کی طاقت نے ان کچے ذہنوں کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جسے وہ معاشرے کے معززین، اساتذہ اور اداروں کے خلاف بلا خوف و خطر استعمال کر رہے ہیں۔ جب تک ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی نہیں کی جاتی، اور جب تک سنسنی خیزی کے اس کاروبار کا بائیکاٹ نہیں کیا جاتا، تب تک معاشرے کا کوئی بھی عزت دار شہری، استاد یا افسر ان ڈیجیٹل ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟
  • نسل نو میں عدم برداشت
  • کمہارن
  • کورونا ویکسین – دو سال زندگی کی ضمانت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وقت کی قدر اور انسان کی غفلت
پچھلی پوسٹ
محسن خالد محسن کی شخصیت اور شاعری

متعلقہ پوسٹس

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری کہانی

دسمبر 27, 2025

زندگی کی بقاء کیلئے!

اکتوبر 31, 2021

ناراض جیالوں کا مقدمہ

نومبر 27, 2019

چند تصویرِبُتاں

دسمبر 15, 2019

معنویت کا باغ

دسمبر 1, 2024

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

ننّھے فرشتوں کا نوحہ

مارچ 6, 2026

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

فروری 20, 2026

شجرکاری مہم کی افادیت اورضروری تجاویز

اگست 15, 2020

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ

مئی 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شعلۂ عشق کے اسرار

دسمبر 25, 2024

مجرم کون

اکتوبر 3, 2024

تاریکی میں ڈوبتی دنیا

مئی 2, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں