خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامخوشامد کے جھولے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

خوشامد کے جھولے

از سائیٹ ایڈمن مئی 5, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 5, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

دنیا کی تاریخ میں اگر ایجادات کا تذکرہ چھڑے تو لوگ پہیہ، انجن اور انٹرنیٹ جیسی معمولی چیزوں کا نام لے کر اپنی علمی پیاس بجھا لیتے ہیں، حالانکہ انسانی ترقی کے کٹھن سفر میں جس "اوزار” نے خاموشی سے سب سے زیادہ وزن اٹھایا ہے، وہ انجن نہیں بلکہ "چمچہ” ہے۔ یہ وہ جادوئی آلہ ہے جو باورچی خانے میں تو صرف سالن چکھنے کے کام آتا ہے لیکن سماجی اور سیاسی کڑاہی میں یہ عقل کو نیم پکا کر کے اس پر "عظمت” کا ایسا تڑکا لگاتا ہے کہ اچھے بھلے انسان کو اپنی اصلیت بھول جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ "چاپلوسی عقل کا وہ جنازہ ہے” جسے اٹھانے کے لیے کندھے ہمیشہ تیار ملتے ہیں اور ان کندھوں پر سوار چمچوں کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ "بڑے” کے وزن سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ وہ عجیب الخلقت آئینہ ہیں جو کسی بھی بدصورت کو یوسفِ ثانی اور پیدائشی احمق کو بقراط و افلاطون بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کا "بڑا” جوشِ جذبات میں کہہ دے کہ "بھئی! آج تو سورج مغرب سے نکلا ہے”، تو چمچہ اپنی بتیسیاں نکال کر فوراً تصدیق کرے گا کہ "قبلہ! میں تو خود صبح سے حیران تھا کہ آج دھوپ اتنی ٹھنڈی اور خوشگوار کیوں ہے، اب سمجھ آیا کہ یہ کرشمہ تو سورج کے مغرب سے برآمد ہونے کا ہے”۔
چمچوں کی اس کہکشاں میں جب ہم ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ایک اور بھاری بھرکم اور پھیلی ہوئی مخلوق سے سامنا ہوتا ہے جسے عرفِ عام میں "کڑچھا” کہا جاتا ہے۔ کڑچھا دراصل ان تمام چھوٹے موٹے خوشامدیوں کا "سردار” یا یوں کہیے کہ "چیف آف اسٹاف” ہوتا ہے جو تعریف کے قطرے نہیں بلکہ پوری کی پوری بالٹی بھر کر صاحب کے سر پر انڈیل دیتا ہے۔ کڑچھے کا کام صرف خوشامد کرنا نہیں بلکہ وہ ان ننھے منے چمچوں کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی سچائی کی کوئی ہلکی سی ہوا صاحب کے عالی مقام تک نہ پہنچ جائے۔ جہاں کوئی سچ بولنے کی جسارت کرتا ہے، کڑچھا اسے "اونٹ کے منہ میں زیرہ” ثابت کر کے وہیں دفن کر دیتا ہے۔ یہی وہ کڑچھے ہیں جنہوں نے تاریخ کے بڑے بڑے بتوں کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ زمین پر خدا کے سائے ہیں، حالانکہ وہ بیچارے سائے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔
خوشامد کے اس میلے میں اب ذکر ہو اس "مالشیے” کا جو اس فن کا عملی اور جسمانی ایڈیشن ہے۔ یہ وہ ہنرمند ہے جو صاحب کے کندھے اور پیر دباتے دباتے ان کے دماغ کی بھی ایسی مالش کرتا ہے کہ تھکا ہوا وجود خود کو جنگل کا شیر سمجھنے لگتا ہے۔ جہاں چمچہ زبان کا سہارا لیتا ہے، وہاں مالشیا اپنے ہاتھوں کے جادو سے یہ باور کراتا ہے کہ حضور کی طاقت لا محدود ہے۔ یہ وہی کردار ہے جو کبھی بادشاہوں کے حمام اور نوابوں کے حجروں کی زینت ہوا کرتا تھا اور آج بھی نئے ناموں کے ساتھ ہر بڑے دفتر کی کرسی کے پیچھے دبے پاؤں موجود ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں ان کے لیے الگ الگ القابات رائج رہے ہیں، کوئی انہیں "جی حضوریہ” کہتا ہے، کوئی "درباری” تو کوئی "قصیدہ گو شاعر”۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ حقیقت کو سات پردوں میں چھپا کر "بڑے” کو رستمِ زماں ثابت کیا جائے، چاہے وہ رستم بیچارہ اپنے وزن سے خود ہی کیوں نہ دب رہا ہو۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جتنے بھی خوشامد پسند لوگ گزرے ہیں، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں بلکہ انہی چمچوں اور کڑچھوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے۔ یہ چمچے وہ مکھن لگاتے ہیں کہ ممدوح کو اپنی زمین پیروں تلے سے کھسکتی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ وہ کم بخت ہیں جو بڑے آدمی کو آسمان کی بلندیوں پر لے جا کر اس وقت ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں جب نیچے گرنے کا مقام قریب آ جاتا ہے۔ ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ جب "بڑا” زوال کی کھائی میں گر رہا ہوتا ہے، تو یہی چمچے کسی دوسری "دیگ” کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور پیچھے رہ جاتا ہے وہ شخص جو ان کی جھوٹی تعریفوں کے نشے میں خود کو ناگزیر سمجھ بیٹھا تھا۔ یزید کے دربار سے لے کر ہٹلر کے جنون تک، اور مغلوں کے زوال سے نوابوں کی بربادی تک، ہر جگہ ان چمچوں نے ہی اپنے آقاؤں کو اصلیت سے دور رکھ کر ان کی رسوائی کا سامان کیا۔ یہ وہ ظالم گروہ ہے جس نے انسانیت کو انسان رہنے نہیں دیا اور "بڑوں” کو ان کی اوقات سے اتنا بڑا دکھایا کہ آخرکار وہ اپنی ہی بڑائی کے بوجھ تلے دب کر تاریخ کا کوڑا بن گئے۔ خلاصہ کلام یہ کہ چمچہ دیگ کے ساتھ، مالشیا جسم کے ساتھ، اور چاپلوس عقل کے ساتھ ہوتا ہے، اور جب تک یہ تکون سلامت ہے، دنیا کی دیگ میں انصاف کا سالن کبھی نہیں پکے گا اور خوشامد پسند یونہی ذلیل ہوتے رہیں گے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موسیقی کی حرمت
  • یک طرفہ محبت
  • کتنے پل صراط
  • بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سکرین سے باہر کی دُنیا
پچھلی پوسٹ
بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ

متعلقہ پوسٹس

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

جہاں سے میں دیکھتا ہوں

اکتوبر 24, 2025

شراپتی ٹرین

اگست 3, 2019

اسرائیل اوردنیا کو لاحق خطرات؟

جون 20, 2025

سرنگ

جون 9, 2020

اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

جولائی 4, 2020

افسانہ 1919 کی ایک بات

دسمبر 6, 2019

غریب انسان رشتوں میں کمزور؟

مارچ 25, 2026

یہ پریشانی مبارک ہو!

اکتوبر 29, 2025

زندگی میں کام آنے والی باتیں

ستمبر 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گھر کا پتہ

جنوری 24, 2020

امن و سکون کا راستہ: سنتِ...

ستمبر 4, 2025

عطر کافور

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں