خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامجنگی حالات اورذرائع ابلاغ!
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

جنگی حالات اورذرائع ابلاغ!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 1, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 1, 2026 0 تبصرے 6 مناظر
7

امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کچھ روز قبل تک ساری دنیا میں اپنے امن پسند ہونے کا ڈھول دونوں ہاتھوں سے پیٹتے سنائی دے رہے تھے(اور اپنے آپ کو دنیا کی خوشحالی کا ٹرمپ کارڈ بتارہے تھے) جس کی وجہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال تھی(کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں)۔ اس صورتحال میں بھارت کو اپنی جان بچانے کیلئے امریکہ کا سہارا لینا پڑا، جس کا تذکرہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباًاپنی ہر تقریر میں کیا کہ کس طرح سے انہوں نے دونوں ممالک میں بیچ ثالثی کا کردار ادا کیا اور دنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے بچایا۔ اس ساری صورتحال کو بھارتی ذرائع ابلاغ نے ساری دنیا میں جھوٹ کا لبادہ پہنا کربڑھا چڑھا کر اپنی افواج کی کارگردگی کو پیش کیا، لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جھوٹ کا رنگ اترتا گیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی فوج کی طرح منہ کی کھانی پڑی اور ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب تقریباً پورا بھارت ہی بن کر رہ گیا، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کو بغیرت ہونا چاہئے عزت تو آنی جانی چیز ہے۔دوسری طرف پاکستانی افواج نے اپنی کارگردگی کا لوہا ساری دنیا میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کر کے منوایا، جس پر دنیا نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔یہاں ہم اپنے ذرائع ابلاغ کا بھی بھرپور مثبت کردار کو بھی سراہائیں گے کہ جنہوں نے حالات کو انتہائی تدبر اور فہم کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ سنگین نوعیت کی معاملات(خارجی ہوں یا داخلی) میں انتہائی بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔عوام ہو یا پھر سیاسی قیادت ملک کی بقاء کیلئے سب سرجوڑ کرایک ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایسا گٹھ جوڑ (ہم آہنگی)دیکھ کر کالی بھیڑوں کی بھی ہمت جواب دے جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہوں جس سے وہ نمایاں ہوجائیں اور کیفر کردار کو پہنچ جائیں۔ یہاں اس بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم سب پاکستانیوں کے دل اپنی فوج کے ہر قدم کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو ملک کی سلامتی کیلئے نا صرف سرحدوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں، داخلتی امن و آمان کو یقینی بناتے ہوئے،سفارتی محاذ پر بھی حکومت کی ہر ممکن مدد کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں نے ہر ہر مشکل وقت میں ایک ذمہ دار قوم ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور دشمن پر اپنی یکجہتی سے خوفناک تاثر چھوڑا ہے۔
آج ذرائع اور سماجی ابلاغ کی بنیاد پرساری دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے، کسی کو انصاف کے کٹھرے میں لانے سے لے کر کسی کو اس کے برے کام کی سزا دلوانے تک کی ذمہ داری ان ہی ذرائع کی مرہون منت سجھائی دیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہت سارے ایسے امور اچانک سے شامل کر دئیے جاتے ہیں جن کی نا تو ہم نے کوئی تربیت حاصل کی ہوتی ہے اور نا ہی اس کا تذکرہ درسگاہوں سے میسر ہوتا ہے، سماجی ابلاغ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی بہتات سے ہمارا معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرتی اقدار کو پہنچا ہے، ہماری نئی نسل اجتماعی زندگیوں سے نکل کر انفرادی ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف دیکھے جاسکتے ہیں اور تقریباً فیصلے سماجی ابلاغ پر ہی کرلئے جاتے ہیں۔
بظاہر حالات کی سنگینی میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کی جارہی، البتہ مذاکرات کا چرچا ضرور سنائی دے رہا ہے اورغیر مصدقہ اطلاعت کے مطابق امریکہ نے ایران کو اپنا پندرہ رنقاطی امن معاہدہ بھیج دیا ہے اور ایران نے اپنے چھ مطالبے ساری دنیا کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ ان حالات کی سنگینی کو انتہائی تدبر کیساتھ ہمارے ذرائع ابلاغ نے سنبھالا ہوا ہے اورہر قسم کی ہنگامی صورتحال کو بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور یہ کردار قابل ستائش ہے۔خبروں کا ایسا توازن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ جو طاقتور ہوتا ہے اسی کی خبریں اور اسی کی کامیابی دیکھائی اور بتائی جاتی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ جو بظاہر زمین پر طاقت کا منبہ سمجھے جاتے ہیں اور جہاں چاہتے رہے ہیں اپنی مرضی سے حملہ آور ہوجاتے رہے ہیں، اسی متکبر سوچ کے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے ایران پر چڑھائی کردی، ایک اندازے کے مطابق ان کا سمجھنا تھا دودن یا پھر زیادہ سے زیادہ تین دن میں ایران گھٹنے ٹیک دیگا اور ان سے امن کی بھیک مانگے گایا پھر ایران میں اندرونی خلفشار پیدا ہوجائے گا(جس طرح عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں ہوتا آیا ہے) لیکن وقت گواہی دے گا کہ ایک ایسا ملک جس پر تقریبا تین دہائیوں سے زیادہ سے بے شمار پابندیاں لگی ہوئیں تھیں ایسامقابلہ کر رہا ہے کہ حملہ آوروں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور انہیں اب اپنے ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ ایران نے عزم شہادت کا ایسا علم بلند کر رکھا ہے کہ ان کے رہنما شہید ہورہے ہیں لیکن علم کو نیچے نہیں گرنے دیا جا رہا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک اولولازم میدان میں تیار کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ایران کا نظریہ شھادت ہے جس کی بدولت کوئی خوف انہیں جھکنے پر آمادہ نہیں کرسکتا۔ ایران کے عزم اور حوصلے کی بدولت آمریکہ اور اسرائیل کو دنیا نے ان کی اس مسلط کی ہوئی جنگ میں پہلی دفعہ تنہا چھوڑ دیا ہے اوردنیا کے امن کی خاطر غیر جانبدار رہنے کا واضح فیصلہ کر لیا ہے۔اب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرنا چارہے ہیں انہیں اسرائیل کی پسپائی دیکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، لیکن اب ایران جو عرصہ دراز سے اس فیصلہ کن معرکہ کے انتظار میں تھا،جسکی وجہ سے ایران اس مسلط شدہ جنگ کو لمبا کرنا چاہتاہے اورانجام کیلئے اپنی شرائط منوانے تک جنگ کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔ایران دنیاکو واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران نا تو کسی کے خوف میں مبتلاء رہا ہے اور نا ہی کسی کے ساتھ کا محتاج ہے۔آبنائے ہرمز نے دنیا کی شہہ رگ کا کام کیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے یہاں ایران نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اور امریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ صورتحال کو کس خوبی اور بہترین جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔شائد اسی حکمت عملی کو سمجھنے کیلئے امریکی صدر نے کچھ وقت کیلئے حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔
آمریکہ کا یہ دعوی کے ایران اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے کہاں تک درست ہے آنے والے کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ کیا یہ جنگ امریکہ کے دئے گئے پندرہ نکاتی معاہدے کے تحت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی یا پھر ایران کے دئیے گئے چھ نکات اس جنگ پر اثر انداز ہونگے۔دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکہ نے جاپان پر جب ایٹم بم مارا تھا اس وقت جاپان مستحکم و منظم حکمت عملی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اگر ایٹم بم نا مارتا تو آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی اور طاقت کا توازن بھی۔ دنیا کو یہ ضرور ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر ایران جیسا ملک پسپائی کی طرف جائے گا تو وہ اپنی پوشیدہ بھرپور صلاحیت کے ساتھ جہاں تک ممکن ہوسکے گا حملہ کرے گا(ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبییں گے)۔ ایران کیلئے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تک مسلم دنیا اپنا ایک موقف واضح کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔کیا یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی، کیا قرب قیامت کی نشانیاں پوری ہوچکی ہیں، اسرائیل نے تو اپنی اس جنگ کو مذہبی لڑائی قرار دے دیا ہے اور وہ اسے اپنے نجات دہندہ (دجال) کے آنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔آمریکہ اس جنگ میں تیل پر قبضہ کرنے کی خواہش لے کر کھڑا ہوا ہے جبکہ اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے میں جن جن ممالک سے خطرہ ہے وہ ان سے لڑرہے ہیں۔ یعنی دواتحادی (امریکہ اور اسرائیل)پوشیدہ طور پر دو الگ الگ مقاصد کے حصول کیلئے دنیا کے امن کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی مانے یا نہ مانے
  • لگ کے بیٹھا تھا ایک کونے سے
  • دادی کی جوانی
  • چھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار
پچھلی پوسٹ
مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی

متعلقہ پوسٹس

سعادت حسن منٹو

جنوری 9, 2026

اسی طرح گر نمی کو

دسمبر 8, 2025

چشمۂ حیات اور زندگی کا دوراہا

دسمبر 19, 2024

کالی کلی

فروری 6, 2020

کبڑا داؤد

نومبر 23, 2019

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو

مئی 27, 2024

شہ نشین پر

فروری 8, 2020

سامنے بیٹھا رہا وہ شخص

دسمبر 7, 2025

نوجوان اور رہنمائی

مارچ 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جدید الحاد

دسمبر 25, 2025

ہم رہے چپ چپ ہماری بے...

فروری 8, 2026

مِری چمک دمک اب

فروری 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں