593
زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھ
ورنہ یوں جیسے کبوتر کوئی شہباز کے ساتھ
بجلیاں ساتھ لیے زہر بھرے لمحوں کی
وقت چلتا ہے زمانے میں کس انداز کے ساتھ
آسماں جانے کہاں لے کے چلا ہے مجھ کو
اوپر اٹھتا ہے برابر مری پرواز کے ساتھ
آج تنہا ہوں تو کیا، دیکھتا رہنا کل تک
اور آوازیں بھی ہوں گی مری آواز کے ساتھ
ایک آغاز ابھرتا ہے ہر انجام کے بعد
ایک انجام بھی پلتا ہے ہر آغاز کے ساتھ
ایک لمحہ کہ گراں ہے مجھے تنہائی میں
ایک دنیا کہ جواں ہے مرے ہم راز کے ساتھ
جلیل عالی
