خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025 0 تبصرے 105 مناظر
106

آج کا انسان معلومات کے طوفان میں جی رہا ہے۔ سوشل میڈیا اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ خبروں، تبصروں اور رائے کے تبادلے کا سب سے طاقتور پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ مگر جہاں اس نے اظہارِ رائے کے دروازے کھولے، وہیں اس نے ایک نیا اور خطرناک رجحان بھی جنم دیا ہے — مایوسی کے سوداگر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوامی ذہنوں میں شکست، خوف اور بے یقینی کے بیج بوتے ہیں۔

یہ افراد ہر واقعے کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ملک مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے، کبھی یہ کہ معیشت ختم ہو چکی ہے، اور بعض اوقات پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات پر ایسی بے بنیاد قیاس آرائیاں کرتے ہیں جو محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک تصدیق کی اہمیت ثانوی ہے، اصل مقصد سنسنی اور ہجوم کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مایوسی پھیلانے والے عموماً ایسی غیر مصدقہ خبریں، افواہیں اور جعلی بیانات پھیلاتے ہیں جو سوشل میڈیا پر لمحوں میں وائرل ہو جاتے ہیں۔ ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ قاری یا ناظر فوراً متاثر ہو جائے۔ وہ ہر بحران کو اس شدت سے پیش کرتے ہیں کہ حقیقت دب جاتی ہے اور جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ کسی خبر کی تصدیق کے بجائے اس پر ردعمل دینے میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی جلد بازی ان سوداگرانِ مایوسی کا اصل سرمایہ ہے۔

ان کا دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ قومی مباحثے کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔ حکومت کے ہر اقدام کو ناکامی قرار دیتے ہیں، اداروں کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ کبھی پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے بارے میں بے بنیاد مفروضے تراشتے ہیں، تو کبھی مذہبی یا لسانی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ قومی یکجہتی اور اعتماد کی فضا کو مجروح کرتے ہیں۔

یہ لوگ جانتے ہیں کہ خوف اور غصہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جذبات ہیں۔ اسی لیے ان کے پیغامات زیادہ "لائکس”، "شیئرز” اور "کمنٹس” حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ان پوسٹس کے پیچھے اکثر حقیقت نہیں، صرف تاثر ہوتا ہے۔ وہ عوامی اضطراب سے کھیل کر خود کو نمایاں کرتے ہیں، حالانکہ ان کے بیانات میں ٹھوس دلائل یا اعداد و شمار کا فقدان ہوتا ہے۔

مایوسی کے ان تاجروں کی ایک مشترکہ عادت یہ ہے کہ وہ مسئلہ تو نمایاں کرتے ہیں، مگر حل کی طرف کوئی رہنمائی نہیں دیتے۔ وہ سوال تو اٹھاتے ہیں، مگر جواب سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً عوام کے ذہنوں میں بے بسی اور مایوسی گہری ہوتی جاتی ہے۔ اس رویّے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قوم کے اندر امید اور عمل کا جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔

درحقیقت، سوشل میڈیا کی طاقت کو دو دھاری تلوار کہا جا سکتا ہے۔ اگر اسے مثبت سوچ، اصلاحِ معاشرہ اور سچائی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک تعمیری قوت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے مایوسی، تفرقہ اور نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی قوت معاشرتی زوال کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہے کہ ہم اس ہتھیار کو تعمیر کے لیے استعمال کریں گے یا تخریب کے لیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صارف میں ڈیجیٹل شعور پیدا کیا جائے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر خبر یا تبصرے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں، اور تبصرہ کرتے وقت یہ سوچیں کہ ہمارا جملہ کسی کے ذہن یا دل پر کیا اثر ڈالے گا۔ رائے دینے سے پہلے تحقیق، اور اشتراک کرنے سے پہلے ذمہ داری — یہی باشعور شہری کی علامت ہے۔

مایوسی کے سوداگر ہمیشہ رہیں گے، مگر ان کی منڈی اس وقت ٹوٹے گی جب ہم خود امید اور شعور کے خریدار بنیں گے۔ اگر ہم سچائی، مثبت فکر اور اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں، تو کوئی افواہ، کوئی منفی مہم ہمیں گمراہ نہیں کر سکتی۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
زہریلی رائے کا کاروبار اسی دن ختم ہوگا، جس دن شعور اور سچائی کو بازار میں سب سے بڑی قیمت ملے گی۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آخری الوداعی خدشے میں
  • ہماری مٹی ہماری غیرت کا مسئلہ ہے
  • نصاب تدریس
  • وفاؤں کے پیچھےجفاؤں کے پیچھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حوصلہ افزائی
پچھلی پوسٹ
ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

متعلقہ پوسٹس

سرسوں دوا بھی شفا بھی

مئی 1, 2022

ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے

اکتوبر 18, 2025

مکینوں کے دْکھ

دسمبر 12, 2025

چغد

فروری 11, 2020

جو کتابِ زیست کا باب تھا

جنوری 28, 2020

وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی

اکتوبر 31, 2025

کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی

مئی 15, 2020

فحاشی اور ہمارا سماج

اکتوبر 3, 2024

دریا کو کناروں میں سمٹ جانے کا دکھ ہے

نومبر 27, 2021

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) : نئے امکانات

مئی 14, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا...

اکتوبر 24, 2025

ڈاکٹر سلمان علی صاحب

اگست 9, 2026

کار دنیا سے یا اس کار...

نومبر 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں